Thursday, 24 May, 2018
بزرگوں سے سوال مت کرو

بزرگوں سے سوال مت کرو
وسعت اللہ خان کا کالم

چونکہ ریاست ماں اور حکومت مائی باپ ہوتی ہے لہذا مشرقی اقدار کا تقاضا ہے کہ خطاِ بزرگان گرفتن خطا است‘‘۔ میری تو تربیت ہی ایسے ماحول میں ہوئی ہے کہ بزرگوں کی محفل میں اول تو بولنے کی ہمت ہی نہ ہوتی تھی اور جب کوئی بزرگ کہتا کہ میاں تم بھی توکچھ پھوٹو، منہ میں گھونگنیاں ڈالے بیٹھے رہتے ہو۔تب بھی گویا ہوتے ہوئے ایسی گھگھی بندھ جاتی کہ کوئی نہ کوئی بزرگ تنگ آ کے کہہ دیتا میاں تم چپ بیٹھے ہی زیادہ اچھے لگتے ہو۔

اور کسی بزرگ سے کوئی سوال یا بحث ؟ استغفراﷲ۔ بدتمیز بڑوں سے سوال کرتا ہے ؟ ابے تو کیا اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ اب اپنے سے بڑوں سے بحث کرے گا۔چل چپ بیٹھ۔بقراط بننے چلا ہے۔

اس تربیتی ماحول کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی بڑے نے کہہ دیا کہ یہ سیاہ ہے تو ہم نے منڈی ہلا دی۔ارے بیٹا معاف کرنا یہ سیاہ نہیں گہرا نیلا ہے ، ہم نے پھر کہہ دیا درست فرمایا۔ میاں نگاہ کمزور ہو گئی ہے ہماری ، یہ اودا ہے اودا ، بتقاضائے عمر اب تو اودا بھی سیاہ ٹپائی دینے لگا ہے کیا کہتے ہو تم ؟ جی بجا فرمایا یہ اودا ہی ہے۔اور پھر ہم اپنی سعادت مندی کی بزرگوار سے داد وصول کر کے گھر چلے آتے جہاں ایک اور بزرگ ہمیں کوئی کام تھمانے کے منتظر ہوتے۔
اسکول میں بھی یہی سعادت مند ساز ماحول اور ایسا ہی نصاب نصیب ہوا۔دوسری جماعت کے قاعدے میں لکھا تھا ’’ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان پاکستان کے صدر ہیں، انھیں ہر وقت ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔عوام ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں‘‘۔اگلے برس اس عبارت میں بس اتنی سی تبدیلی ہوئی کہ ’’ جنرل آغا محمد یحیی خان پاکستان کے صدر ہیں، انھیں ہر وقت ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔عوام ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں ‘‘۔تین برس بعد اسی قاعدے میں لکھا تھا ’’ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر ہیں انھیں ہر وقت ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔عوام ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں‘‘۔ہم نے کہا آمنا و صدقنا۔

یہی سعادت مندانہ درس تیسری جماعت کی معاشرتی علوم سے بھی چھلکا پڑتا تھا۔اس میں پینسٹھ کی جنگ کے بارے میں پورا باب تھا جو تقریباً ہر بچے کو زبانی رٹایا گیا تھا۔ جب بزدل دشمن نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر چوروں کی طرح پاکستان پر حملہ کردیا اور پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی ، مسلح افواج نے دشمن کے دانت کھٹے کردیے اور وہ دم دبا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ہم نے کہا آمنا و صدقنا۔

سن بہتر میں بھی تیسری جماعت کی معاشرتی علوم میں پینسٹھ کی جنگ کا باب جوں کا توں موجود تھا۔بس آخر میں ڈیڑھ سطر بڑھا دی گئی تھی کہ ’’ پینسٹھ کی جنگ کی شکستِ فاش کا بدلہ لینے کے لیے دشمن نے اپنی سازشیں تیز کر دیں جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہو گیا ‘‘۔ہم نے کہا آمنا و صدقنا۔

پھر بزرگوں نے کہا فخرِ ایشیا ، قائدِ عوام ، تیسری دنیا کا لیڈر، تہتر کے آئین کا خالق ، ایک لاکھ قیدی چھڑا کے باعزت لانے والا ، احمدیوں کو اقلیت قرار دینے والا ، گھاس کھا کے بھی ایٹم بم بنانے کا نعرہ لگانے والا جئیے ذوالفقار علی بھٹو صدا جئیے۔ہم نے کہا آمنا و صدقنا۔

پھر بزرگوں نے کہا بھٹو فاشسٹ ، ملک کو دولخت کرنے والا، مغربی ثقافت کا دلدادہ، عریانی و فحاشی کا سرپرست، اسلام دشمن ، معیشت کا دشمن۔نواب احمد خان کا قاتل۔بھٹو اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔پھانسی دو پھانسی دو۔۔۔ آمنا و صدقنا۔

پھر ہم سے کہا گیا روسی ٹینکوں کو بحیرہ عرب تک پہنچنے سے روکنے کے لیے جہاد ضروری ہے ، جہادی روح ، قانونِ شریعت کے نفاذ کے بغیر بیدار نہیں ہو سکتی۔افغان مجاہدین ہمارے بھائی ہیں ، مہاجرین کے لیے دروازے کھول دو ، روس کی کمر توڑ دو،امریکا زندہ باد، شاہ خالد زندہ باد، شاہ فہد زندہ باد، عرب مجاہدین زندہ باد۔

عالمِ اسلام کا بطلِ جلیل مردِ حق ضیا الحق، دیکھو ضیا شہید کے جنازے میں ہر آنکھ اشکبار، حسین حقانی اور اظہر لودھی بھی اشک بار، پاکستان یتیم ہوگیا۔ہم نے بھی اشکبار کہا آمنا و صدقنا۔

پھر ہم سے کہا گیا ضیا الحق کے دس سال پاکستان کے تاریک ترین سال تھا۔کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر، عرب جہادی، طالبان، القاعدہ ضیا الحق کے تحفے ہیں، افغان مہاجرین بوجھ ہیں۔طالبان ہمارے بچے ہیں، بے وفا امریکا مردہ باد، ہم پاکستان کو سعودی ایرانی جنگ کا اکھاڑہ نہیں بننے دیں گے۔

بے نظیر بھارتی ایجنٹ جس نے سکھ خالصتانی حریت پسندوں کی فہرستیں راجیو گاندھی کے حوالے کر دیں ، بے نظیر بھٹو کرپٹ ، آصف زرداری ٹین پرسنٹ، قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں، حمید گل زندہ باد۔آمنا و صدقنا۔

پھر ہم سے کہا گیا کہ نواز شریف اور بے نظیر لوٹ کے کھا گئے ، سب سے پہلے پاکستان،گڈ گورننس، اتاترک کا پاکستان، دہشت گردی کی جنگ ہماری جنگ،جہادی تنظیمیں غیر قانونی ، امریکا پھر زندہ باد، طالبان، القاعدہ مردہ باد،لال مسجد نہیں چلے گی، افتخار چوہدری نہیں چلے گا، شوکت عزیز چلے گا، چوہدری شجاعت چلے گا،ایم کیو ایم چلے گی، ایم ایم اے چلے گی،کشمیر کا نیا فارمولا چلے گا، نیا بلوچستان چلے گا، اعتدال پسند پاکستان چلے گا۔ہم نے کہا آمنا و صدقنا۔

بے نظیر بھٹو شہید، قاتل مشرف، عمران خان، نیا پاکستان، تیسری بار قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں، امریکا مردہ باد، پاک چین دوستی زندہ باد، پاک روس دوستی شاد باد،اینٹ سے اینٹ بجانے والا زرداری زندہ باد، صادق سنجرانی زندہ باد ، نیب زندہ باد، عدلیہ زندہ باد، ڈان لیکس مردہ باد ، سعودی عرب منزلِ مراد، خادم رضوی زندہ باد،ہم چالیس سال سے جاری پالیساں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں،آرمی چیف کا یہ بیان زندہ باد، منظور پشتین مردہ باد ،کرپٹ نواز شریف مردہ باد، مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔آمنا و صدقنا۔

مجھے یقین ہوا مجھ کو اعتبار آیا، ترکِ وفا یا عہدِ محبت جو چاہو سو آپ کرو، اپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤ گے؟ بڑوں سے چھوٹے سوال نہیں کرتے، بے ادبی ہوتی ہے، خطائے بزرگان گرفتن خطا است تو ہماری گھٹی میں ہے، ہماری سعادت مندی کی طرف سے بے فکر ہو جائیے مائی باپ۔ہم بہو بیٹیاں کیا جانیں ، جیسے رکھو کے ویسے رہ لیں گے۔ہمارا کیا ہے ؟ آج بابل کے تو کل کابل کے اور پھر بابل کے ، ہمارا بکنا کیا خریدنا کیا۔آمنا و صدقنا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  3574
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
بہت سال پہلے سیّد نور نے ’’عقابوں کا نشیمن‘‘ کے نام سے ایک فلم بنائی تھی۔ اس فلم کے ہیرو بابر علی اور ہیروئن ریما تھیں۔ اس فلم کا نام اتنا خوبصورت تھا کہ مجھے شک گزرا کہ شاید سیّد نور نے مستنصر حسین تارڑ کے کسی ناول پر اپنا دل ہار دیا ہے
میری پہلی محبت صحافت اور عشق اہل قلم تھے۔ عمر کا وہ حصہ جب میرے سارے دوست حسیناﺅں کی آمدورفت کا شیڈول ترتیب دیا کرتے تھے میں کتابوں میں کھویا رہتا تھا۔ کالج میں جوں ہی کوئی فارغ وقت ملتا لائبریری میں گھس جاتا
نوجوان کی آواز فرط جذبات سے رندھ گئی وہ بیس اکیس سال کا پختون تھا اکثر پٹھانوں کی طرح اردو بولتے ہوئے اس کے لہجے سے بھی پشتو جھلک رہی تھی وہ شہر اقتدار میں کھڑا گلہ پھاڑ پھاڑ کر حکمرانوں سے استفسار کررہا تھا
نقیب اللہ محسود کا خون قبائلیوں کے لیے اپنے سارے حساب یکبارگی بے باق کردینے کا وسیلہ بن گیا ے۔ تازہ صورت حال یہ ہے کہ راو انوار کسی گمنام سیارے پر دم سادھے ہوئے ہیں اورشملہ بلند پختون دارالحکومت میں بیٹھے ہرآتے جاتے

مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔

مقبول ترین
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فوزیہ قصوری نے پارٹی سے استعفٰی دے دیا۔ فوزیہ قصوری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین عمران خان اور دیگر پارٹی قائدین کو بھیج دیا ہے۔ فوزیہ قصوری نے سوشل میڈیا پر اپنے استعفے
گوگل کمپنی نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے 'گوگل نیوز ایپ' کو اَپ ڈیٹ کر دیا ہے جس سے صارفین کو خبروں کے حصول میں مزید آسانی ہوگی۔
ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا اور غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ میں 5 ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں کی مد میں ادا کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طورپر رواں مالی سال
دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں جہاں رمضان المبارک کا استقبال مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے وہیں بعض ممالک میں اس ماہ مقدس کو لے کر کچھ روایتیں بھی عام ہیں جس کے تحت سعودی عرب میں برتنوں کو دھونی دینے کی ایک خاص روایت ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں