Thursday, 19 July, 2018
روس سے اسلحے کا حصول

روس سے اسلحے کا حصول
نصرت مرزا کا کالم

 

2005ء میں بھارت اور امریکہ کے درمیان سول جوہری معاہدہ اور 2008ء میں امریکی کانگریس سے اس کی منظوری کے بعد پاکستان نے امریکہ کے علاوہ نئے دوست تلاش کرنے شروع کردیئے۔ 2010ء میں پاکستان یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات تو خراب نہیں کرے گا تاہم اس پر اسلحےکا انحصار ختم کردے گا۔ پاکستان F-17 تھنڈر طیارہ بنا چکا تھا، کروز و شاہین میزائل کی سیریز پر کام کررہا تھا، الخالد ٹینک خود بنا چکا تھا جو امریکی ٹینک A1 اور A2 کے ہم پلہ ہے، اس کے علاوہ یوکرائن سے بھی روسی ساختہ ٹینک حاصل کرچکا تھا، پاکستان کے شپ یارڈ نے تیزی کے ساتھ بحری جہازوں، گشتی کشتیوں اور دیگر بحری سازوسامان بنانے کی تیاری شروع کردی تھی، امریکہ کو ویسے پتہ چل چکا تھا کہ پاکستان اپنی راہیں امریکہ سے جدا کررہا ہے مگر جب پاکستان نے افغان صدر کو اس سلسلے میں اعتماد میں لیا تو انہوں نے اس کی اطلاع امریکہ کو دیدی، پھر 2011ء کے سال میں امریکہ نے ہم پر عملی طور پر دھاوا بول دیا، جنوری 2011ء میں ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ ہوا، 2 مئی 2011ء کو ایبٹ آباد کا آپریشن اور اسامہ بن لادن کو مردہ حالت میں لے جانا، اگرچہ اس پر اتفاق نہیں ہے کہ جس شخص کو مار کر لے جایا گیا وہ اسامہ بن لادن ہی تھا، پھر سلالہ پر بلاواسطہ حملہ کرنا اور پاکستان کے 26 فوجی شہید کرنا، امریکی حملہ کا

شاخسانہ تھا اگرچہ امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستان کو تنبیہ کی تھی کہ اگر اس نے بدلہ لیا تو جنگ چھڑ جائے گی مگر افغانستان میں وہ تمام سیل ختم کئے گئے جنہوں نے ایبٹ آباد کے آپریشن میں حصہ لیا تھا، یہ امریکی ہیلی کاپٹر چینوک کے گرنے کی وجہ سے ہوا، پھر جلال آباد میں 50 امریکی ،فوجی طالبان کے حملے میں مارے گئے اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوتے چلے گئے، پاکستان نے افغانستان جانے والی راہداری بند کردی تھی جو کئی مہینوں کے بعد کھولی گئی۔

جہاں تک اسلحہ کا تعلق ہے پاکستان اورین طیارہ طرز پر فریگیٹ بنا چکا ہے اور جدید اسلحہ اور ہمارے میزائلوں پر نشانے پرحملہ کرنے کی دھاک پوری دُنیا پر بیٹھی ہوئی ہے مگر سائبر اور لیزر جنگ کی تیاریوں کی ابھی تک پاکستان نے کوئی اطلاع ظاہر نہیں کی تاہم اب پاکستان نے اسلحہ کے حصول کیلئے روس سے رجوع کرنا شروع کیا ہے۔ اپریل کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے وزیردفاع خرم دستگیر خاں روس کے دورے پر گئے اور انہوں نے روس سے T-90 ٹینک کے حصول کی کوشش کی، T-90 ٹینک بہت جدید ہے تاہم یہ بھارت کے پاس ہے اور پاکستان اُس کی برابری کیلئے یہ ٹینک حاصل کرنا چاہتا ہے۔ روس بھارت کو اسلحہ سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس نے کبھی پاکستان کو اسلحہ نہیں دیا مگر جب سے امریکہ اور بھارت کے درمیان اسٹرٹیجک معاہدہ ہوا ہے وہ اب پاکستان کو اسلحہ بیچنے پر راضی ہوگیا ہے۔ پاکستان کو اسٹرٹیجک معاملات میں کافی سامانِ حرب کی ضرورت ہے جس میں Su-35 طیارہ جو بھارت کے پاس نہیں ہے تاہم وہ امریکی F-35 فائٹر جیٹ خریدنے کےلئے بات چیت کررہا ہے، F-35 خریدنے کیلئے بھارت نے فرانس سے رافیل طیارےکا سودا ختم کردیا، اس کے علاوہ پاکستان کو فضائی دفاعی نظام کی ضرورت ہے، اس کے پاس چین سے خریدا ہوا ایک نظام موجود ہے ، وہ خود بھی دفاعی نظام بنا رہا ہے، روس کے پاس کئی فضائی ڈیفنس نظام موجود ہیں جس میں ایک اِگلا ہے دوسرا اسٹرلو اور وربہ اِگلا کاجدید ترین نظام ہے، روسی انفراریڈ پوزیبل میزائل (SAM) 9K38 جس میںزمین سے فضا پر مارنے والے GRAU نظام لگا ہوا ہے۔ جو کندھے پر رکھ کر مارا جاتا ہے۔ دوسرا نظام Pantzir S1 (پینتیزر ایس 1) ہے،اس نظام کے حصول کی پاکستان کوشش کرسکتا ہے۔ پاکستان روس سے طویل رفاقت کا طلبگار ہے اور اسلحہ کی خریداری میں بھی طویل مدتی پالیسی کا خواہاں ہے۔ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کا سلسلہ افغانستان میں تقریباً یکساں موقف رکھنے پر ہے اور بھارت اور امریکہ کے درمیان اسلحے کی سپلائی روکنے کیلئے پاکستان کو روس اسلحہ فروخت کرکے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

ہمارے درمیان افغان جنگ کی تاریخ حائل ہے مگر اب پاکستان شنگھائی کارپوریشن کا ممبر بن گیا ہے جس سے امریکہ کافی ناراض ہے، پاکستان نے امریکہ کی طرف دیکھنے بجائے علاقائی ملکوں سے تعلقات بڑھانا شروع کئے ہیں، پاکستان افغانستان سے تعلقات اچھے کرنے میں لگا ہوا ہے، ایران سے تعلقات میں بہت بہتری آگئی ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات مگر برابری کی سطح پر رکھنا چاہتا ہے۔بھارت نے اپنی تباہی کے خود سامان کر لئے ہیں اور دہشت گرد تنظیمیں منظرعام پر آچکی ہیں اور عالمی پابندیاں لگ چکی ہیں اور دوست ممالک ان کو بچانے کیلئے ویٹو کرتے کرتے تھک گئے ہیں۔ روس کو پاکستان کے معاملے میں قدرے تذبذب ہے کہ پاکستانی اسلحہ مارکیٹ اتنی بڑی نہیں ہے جتنی کہ بھارت کی کیونکہ بھارت کی دو بلین سے زیادہ کی سالانہ اسپیئرپارٹس کی تجارت ہےجبکہ امریکہ روس کو بھارت کی مارکیٹ سے نکالنے کیلئے بھارت کو جدید ترین ہتھیار دے رہا ہے، روس کی پالیسی یہ ہے کہ وہ بھارت کو ناراض تو نہیں کریں گے مگر پاکستان یا کسی اور ملک کو اسلحہ فراہم کرنے کا موقع ملا تو اُس کو ضائع نہیں کرے گا مگر روس کو یہ فکر دامن گیر بھی ہےکہ پاکستان نہ جانے اسلحہ کی قیمت کی ادائیگی کا کیا طریقہ اختیار کرے گا، روس کو یہ مشورہ دیں گے کہ پاکستان کو اسلحہ سپلائی کا یہ موقع ضائع نہ کرے کیونکہ پاکستان ایک اچھا ملک ہے، پاکستان اور روس سینٹرل ایشیا کے علاوہ ایران کے ساتھ مل کر زمینی رابطہ بن جاتا ہے جو کسی وقت اسٹرٹیجک اتحاد کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ امریکی روس کا پیچھا کررہے ہیں وہ یوکرائن اور شام میں روس کو الجھا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ایران کو بھی سخت وارننگ دے رہے ہیں شام جنگ کا فلیش پوائنٹ بن گیا ہے۔ روس نے پاکستان کی سرزمین پر آ کر پاکستانی فوج کے ساتھ جو مشترکہ مشقیں کی تھیں وہ اسٹرٹیجک نوعیت کی تھیں، کیونکہ امریکہ بھارت مل کر افغانستان کو توسیع پسند ملک بنانا چاہتے ہیں اور خطے کا جغرافیہ تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام کررہے ہیں، جس کے اثرات روس پر بھی پڑیں گے اور پاکستان سے جو فوائد اُسے حاصل ہونے جارہے ہیں جو اسٹرٹیجک سطح پر بھی ہیں اور تجارتی سطح پر بھی وہ اس سے محروم ہوجائے گا۔ روس کو پاکستان کو سوخوئی 35 جو Su-35 کہلاتا ہے۔ وہ ایک اسکواڈرن کو فوری طور پر فراہم کر دینا چاہئے وہ بھارت کو روسی اسلحہ خریدنے پر مجبور کردے گا ،اگر امریکہ F-35 طیارہ خریدنے سے باز آئے تو پاکستان کیلئے مفید ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  95948
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
ذرا اپنے اردگرد نگاہ ڈالیے۔آپ کو بھانت بھانت کے آمرانہ اور جمہوری نمونے ٹپائی دیں گے۔کچھ کلی یا جزوی پسند آئیں گے،کچھ بالکل نہیںآئیں گے۔مگر ان دونوں طرح کے نمونوں میں ایک قدرِ مشترک ہے کہ یہ جیسے دکھائی دیتے ہیں
17 جولائی2017 ءکو ایک خبر نے سنسنی پھیلا دی تھی کہ بھارت کی سرحد سکم کی ایک چوکی پر چین نے ایک میزائل داغا جس سے 158 بھارتی مارے گئے، یہ خبر غلط ثابت ہوئی مگر اس خبر نے چین اور بھارت کے درمیان سکم کے تنازع کو نمایاں کردیا۔
آج دنیا بھرمیں تہذیبی تصادم کا فلسفہ روبہ عمل ہے، عظیم تر مشرق وسطیٰ کا نظریہ بھی لاگو ہے، جس میں فرقہ واریت کو ہوا دے کر ریاستوں کے درمیان تصادم کراکے مسلمانوں کو کمزور کرنا مقصود ہے، جس کے بعد عراق، شام، ایران، ترکی، پاکستان
وہ روسی بمبار ایس یو ٹوینٹی فور جو بشار الاسد کے مخالف ترکمان باغیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے مشن کے دوران شام میں گھسی ہوئی دس کلو میٹر کی ترک چونچ پر سے صرف سات سیکنڈ میں گزر جاتا اسے ترکوں نے مار گرایا۔ طیارے کا ملبہ شامی علاقے میں گرا

مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔

مقبول ترین
سینیٹ قائمہ کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے نمائندہ جی ایچ کیو نے بتایا پاک فوج کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں، آرمی صرف امن اومان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لئے کام کر رہی ہے، آرمڈ فورسز ہمیشہ سول اداروں کو سپورٹ دیتی رہی ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نوازشریف اورمریم نواز کی ان کے وکلا سے ملاقات منسوخ کردی گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق نوازشریف اورمریم نواز کا آج اڈیالہ جیل میں چھٹا روزہے جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکو جیل کا مکین ہوئے 11 دن ہوگئے۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں انتخابی امیدواروں پر دہشت گردانہ حملوں سے پاکستان خوفزدہ ہونے والا نہیں ملک میں جمہوری انتخابی عمل جاری رہے گا۔
ترکی کی حکومت نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد لگائی جانے والی ایمرجنسی دو سال بعد ختم کردی۔ 15 جولائی 2016 کو ترک فوج کے ایک دھڑے نے صدر رجب طیب اردوان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہوگئی تھی۔ اس بغاوت میں فوجیوں سمیت تقریب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں