Sunday, 31 May, 2020
امریکہ طالبان معاہدہ کی ناکامی کون چاہتا ہے!

امریکہ طالبان معاہدہ کی ناکامی کون چاہتا ہے!
تحریر: ظہیرالدین بابر


افغانستان میں قتل وغارت گری کے حالیہ واقعات نے طویل عرصے سے جنگ سے  تباہ حال  ملک بارے  امن کی امید کو ناامیدی میں بدل رہے ہیں، کابل میں  زچہ وبچہ وارڈ میں ماؤں اور نونہالوں کا قتل جاری خون ریزی کے بدترین واقعات میں اپنی جگہ بنا گیا ، ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہوا  کہ دہشت گرد عناصر کسی  مذہبی و اخلاقی اصول پر پورے نہیں اترتے، سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان کے حالات محض مذمت اور افسوس کرنے سے بہتر ہوجائیں گے یا پھر کوئی ٹھوس لائحہ عمل کی ضرورت بدستور موجود ہے، پوچھا جارہا کہ   امریکہ اور طالبان کے معاہدے کے نتیجے میں قیام امن کو درپیش خطرات کا آخر فائدہ کس کو ہوگا، آسان الفاظ میں یوں کہ  وہ کون سے علاقائی یا پھر  عالمی طاقتیں ہیں جن کے مفادات افغانستان کی بدامنی سے وابستہ ہیں، بادی النظر میں امریکہ طالبان معاہدے کے بعد جس ملک کی امیدوں پر اوس پڑگی وہ بجا طور پر بھارت ہے، آثار شاہد ہیں کہ  نئی دہلی میں براجمان پالیسی سازوں  کہ وہم وگمان میں بھی نہ تھا  کہ طالبان اور امریکہ مذاکرت کے ذریعہ کسی معاہدے پر دستخط کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، مودی سرکار  اشرف غنی پر اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کرتے رہے،  بھارتی پالیسی ساز طویل عرصہ تک خانہ جنگی کے شکار ملک کی سیاست ہی نہیں ثقافت اور معاشرت پر یوں اثر انداز میں ہونے میں کامیاب رہے کہ کابل میں جا بجا  پاکستان کے لیے نفرت اور حقارت  ہی حصہ میں آئی، چانکیہ سیاست کے پیروکار   افغانستان میں ایک تیر سے دوشکارکرنے کے لیے کوشاں ہیں ایک طرف وہ اسلام آباد کے مفادات کو  زد پہنچا رہے تو دوسری جانب بیجنگ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی بخوبی آگاہ ہے کہ سی پیک کی شکل میں پاکستان اور چین  کی قربتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوچکا، دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کے لیے ایک دوسرے پر انحصار کررہے   ہیں یوں اگر  کابل میں پاکستان کی طرف جھکاؤ رکھنے والی حکومت قائم ہوتی ہے تو لامحالہ طور پر نئی دہلی کے مفادات اس سے متاثر ہونگے، اسے جنوبی ایشیاء کی بدقسمتی سے تعبیر کیا جانا چاہئے کہ یہاں ایک دوسرے کو تسلیم کرکے آگے بڑھنے کی بجائے گردن پر پاؤں رکھنے کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے، یہ بات واضح ہے کہ پاکستان بھارت سے محاذآرائی اور تصادم سے ممکن حد تک احتراز چاہتا ہے، گزرے ماہ وسال میں اسلام آباد  دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ اور پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے کی بڑی قیمت چکا چکا، ایک نہیں کئی بار اسلام آباد  اس خواہش کا برملا اظہار کیا جاچکا  ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ کشمیر  سمیت تمام  تصفیہ طلب مسائل بات چیت کے ذریعہ حل کرنا چاہتا ہے، زمینی حقائق اسلام آباد  موقف کی  سچائی یوں بیان  کررہے  ہیں کہ  پاکستان اور بھارت ایٹمی قوت بن چکے ایسے میں ہمہ وقت رہنے والی کشیدگی  دونوں ریاستوں کو ہی نہیں پورے خطے کو تباہی کی جانب دھکیل سکتی ہے۔  باخبر مبصرین آگاہ ہیں کہ اگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کی کوئی بھی صورت رونما ہوتی ہے تو اس کا لامحالہ اثر افغانستان کی جاری صورت حال پر بھی پڑ سکتا ہے۔ 

 نئی دہلی کو سمجھ لینا چاہئے کہ مستقبل قریب میں  طالبان  کو کابل میں اقتدار میں لانے میں  اسلام آباد سے کہیں بڑھ کر امریکہ کا کردار ہے،  حالیہ دنوں میں کوئی اور نہیں واشنگٹن ہی ہے جس نے  غیر اعلانیہ نہیں اعلانیہ طور پر  افغان جنگجوؤں کی سیاسی طاقت کو تسلیم کیا، سچ یہ ہے کہ  اگر  امریکہ  کی واضح یقین دہانی  نہ ہوتی تو پاکستان ہرگز  امریکہ  اور طالبان میں پل کا کردار ادا نہ کرتا۔ مودی سرکار  نہ جانے کیونکر اس سچائی سے صرف نظر کررہی  ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوا کرتا، یہ دماغ اور صرف دماغ کا کھیل ہے چنانچہ یہاں  دوستی دشمنی اور دشمنی دوستی میں تبدیلی ہوتے دیر نہیں لگتی۔  ادھر افغان سرزمین  پر امریکہ اور طالبان دونوں کو یہ احساس ہوچکا کہ وہ ایک دوسر ے کو مکمل طور پر شکست  دینے میں کامیاب نہیں ہوسکتے چنانچہ دس سال سے زائد جاری جنگ کا سبق یہی ہے کہ کچھ لو اور کچھ دو کے تحت مسئلہ حل کرلیا جائے، حال ہی میں امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کا نئی دہلی کا دورہ  مودی کو ایک پیغام یہ بھی دے گیا کہ  وہ طالبان سے روابط استوار کرے، واشنگٹن آگاہ ہے کہ  افغان سرزمین پر داعش  کی سرپرستی کون اور کیوں کررہا ہے، زلمے خلیل زاد کی جانب سے نئی دہلی کو طالبان سے بات چیت کرنے کا مشورہ ہرگز عجلت میں نہیں دیا گیا، سچ یہ  ہے کہ امریکہ کے لیے  کہ افغانستان میں بھارت کا اثررسوخ کئی حوالوں سے سودمند ثابت ہوسکتا ہے، سیاست کا پرانا اصول ہے کہ دشمن کا دشمن دوست ہوا کرتا ہے چنانچہ  بیجنگ کی شکل میں  واشنگٹن اور نئی دہلی کا مشترکہ ہدف ایک ہی ہے،  افغانستان میں رونما ہونے والے حالیہ  واقعات  بجا طور پر اسلام آباد کے لیے تشویش کا باعث ہیں، پاکستان سمجھتا ہے کہ امریکہ اور طالبان  معاہدے کی کامیابی ہی کابل میں پرامن انتقال اقتدار میں معاون بن سکتی ہے، مگر  ستم ظریفی یہ ہے کہ اشرف غنی پاکستان، امریکہ اور بیجنگ سے کہیں بڑھ کر بھارت پر انحصار کررہے ہیں، مودی سرکار  کو اس حد تک”خراج تحیسن“ پیش کیا جاسکتا ہے کہ وہ حامد کرزئی کے بعد اشرف غنی کو اپنے زیر اثر لانے میں کامیابی رہی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  95110
کوڈ
 
   
مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

مقبول ترین
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو جاتا ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیر ریلوے شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں ایٹمی دھماکے انہوں نے، گوہر ایوب اور
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ساری قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایٹمی دھماکا راجا ظفر الحق، گوہر ایوب اور میں نے کیا، نواز شریف سمیت ساری کابینہ ایٹمی دھماکے کے خلاف تھی۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید احمد نے
معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کی شرح 92 فیصد ہے لہٰذا عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔ وزیراعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور
وزیر مملکت برائے امور کشمیر شہریار آفریدی بھی کورونا کا شکار ہوگئے ہیں۔ وزیر مملکت نے قوم کے لیے دعا دی اور کہا رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ وطن عزیز کو موذی وباء سے محفوظ بنائے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں