Sunday, 21 April, 2019
عمران پر تنقید ضرور کریں مگر

عمران پر تنقید ضرور کریں مگر
تنویر قیصر شاہد کا کالم

 

دُنیا میں کوئی ایسی حکومت یا کوئی ایسا حکمران بھی ہے جس سے ملک کے سارے عوام خوش اور مطمئن ہوں؟ عوام حکومتوں اور حکمرانوں کے فیصلوں، پالیسیوں اور اقدامات سے یقینا ناراض ہوتے ہیں۔ تنقید اور تنقیص بھی سامنے آتی ہے۔ حکومت اور حکمرانوں کے خلاف جلسے جلوس بھی نکلتے ہیں۔ اخبارات میں حکمرانوں کی غلط روش کے خلاف سخت ناقدانہ کالم اور تجزئیے بھی شایع ہوتے ہیں اور ٹی وی کے ٹاک شوز میں حکومت کی پالیسیوں کے لتّے بھی لیے جاتے ہیں۔ جمہوری معاشرے کے مروّجہ ضوابط کے مطابق حکومتی چلن کے بارے میں اپنے دل کی بھڑاس نکالی جاتی ہے۔ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ مخالفانہ میڈیا یلغار میں کہیںناانصافی سے کام لیا گیا ہے تو حکومت کے ترجمانوں کی طرف سے متعلقہ میڈیا کو اپنا نقطہ نظر بھیج دیا جاتا ہے۔

یہ شایع بھی ہوجاتا ہے اور نشر بھی ۔ مگر مہذب جمہوری معاشروں میں حکومت یا حکمران کو نہ تو دشنام دیا جاتا ہے اور نہ ہی نقادوں کی طرف سے حکمرانوں کی مخالفت میں ملک کی مخالفت کا پہلو نکلتا ہے۔ بدقسمتی سے مگر ہمارے ہاں بعض اوقات حکمرانوں اور حکومت کی مخالفت کرتے ہُوئے ملک پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ خیال رکھا جانا چاہیے کہ حکمران تو چلے جاتے ہیں، کوئی حکومت ختم ہو کر نئی آ جاتی ہے لیکن ملک کا وجود تو وہیں رہتا ہے۔ اسے ہدف کیوں بنایا جائے؟ اس تمہید کی وجہ یہ ہے کہ ابھی ابھی میری نظر سے ایک انگریزی مضمون گزرا ہے۔ پڑھ کر دِلی رنج ہُوا ہے۔ عنوان دیکھا جائے تو اس میں کوئی قابلِ اعتراض عنصر نظر نہیں آتا مگر اسے پڑھا جائے تو دکھ ہوتا ہے۔ بظاہر تو اس مضمون یا کالم یا آرٹیکل میں عمران خان کی حکومت، اُن کی پالیسیوں ، اُن کے وزیروں مشیروں اور اُن کے فیصلوں کا پھلکا اُڑانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مذکورہ مضمون کے اسلوبِ تحریر کو Satire (فکاہیہ یا طنزیہ) بھی کہا جا سکتا ہے لیکن طنز اور ہجو (اور دل آزاری) میں فرق کا خیال رکھا جاناچاہیے تھا۔ بنیادی طور پر ہمیں افسوس اس بات کا ہے کہ اس مضمون میں عمران خان کو ہدف بنانے اور اُن کی حکومتی پالیسیوں کاٹھٹھہ اُڑانے کے نام پر پاکستان کو بھی ہدف بنا یا گیا ہے۔

فکاہیہ تحریر کا مطلب و معنی ہی یہ ہے کہ ظرافت اور خوش طبعی سے ، پُر لطف انداز میں مقابل پر چوٹ کرنا۔ یہ ایک عظیم فن ہے جسے بروئے کار لا کر ہماری کلاسیکی اُردو صحافت میں فکاہیہ کالم نگاروں نے بڑی شہرت بھی پائی اور احترام بھی۔ فکاہیہ کالموں اور مضامین میں مخالف پر چوٹ کرتے ہُوئے تہذیب اور تمیز کا دامن نہیں چھوٹنا چاہیے۔ فکاہت اور ہجو میں فرق کو ملحوظِ خاطر رکھنا بنیادی صحافت کی ضرورت ہے۔ مگر بعض لکھاریوں کا یہ دامن ہاتھ سے پھسلتا ہُوا محسوس ہوتا ہے۔ حکومت اور حکمران تو بوجوہ ہمارے لیے ناپسندیدہ ہو سکتے ہیں لیکن ہم اپنے وطن کی حرمت پر کمپرومائز یا سمجھوتہ نہیں کر سکتے ۔ کرنا بھی نہیں چاہیے۔ کسی کو حکمران پر اگر غصہ ہے تو ملک پر یہ غصہ نہیں نکلنا چاہیے۔ ہمارا خیال ہے کہ ہر محبِ وطن لکھاری کو یہ اخلاقیات پیشِ نگاہ رکھنی چاہیے۔ حکمران اور حکومت سے عناد کو ملک و ملّت سے معاندت کی شکل دینے سے پرہیز ہم سب پر لازم ہے۔ اگر کسی کو عمران خان کی حکومت پسند نہیں ہے تو اس کا یہ معنی کہاں سے نکل آیا کہ پاکستان بھی پسند نہیں ہے؟

وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت کی مخالفت کرتے ہُوئے ایسے صاحبانِ قلم بھی اُٹھے ہیں جنہوںنے ملک کی مخالفت پر بھی کمر باندھ لی ہے۔ ایسے طرزِ فکر اور ایسی تحریروں کی ہر گز ہمت افزائی نہیں کی جا سکتی ہے ۔ مثال کے طور پر بیرون ملک مقیم ایک پاکستانی صاحب کی ایسی تحریر حال ہی میں مشہور امریکی اخبار میں شایع ہُوئی ہے ۔موصوف کے اس آرٹیکل کا ذکر یہاں اُس کے عنوان سے بھی کیا جا سکتا ہے لیکن دانستہ اس سے اعراض کیا گیا ہے۔ پڑھ کر افسوس ہُوا ۔ مضمون نگار آجکل پیرس میں بطورِ خود ساختہ جلاوطن رہائش پذیر ہیں لیکن چند دن پہلے وہ واشنگٹن میں تھے۔

انھیں موجودہ پاکستانی حکومت اور حکام سے اختلاف کرنے ، اُن پر نکتہ چینی اور اُن کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن انھیں بہرحال یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پاکستان کو بھی نقصان پہنچانے کی جسارت کریں۔ مذکورہ آرٹیکل سے چونکہ ہمارے ازلی دشمن، بھارت، کے بھی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے؛ چنانچہ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بھارتی میڈیا نے بھی خوشی خوشی یہی آرٹیکل اُٹھایا اور تعارفی مرچ مصالہ لگا کر اسے ’’بطورِ قندِ مکرر‘‘ شایع اور نشر کر دیا ہے۔ بھارت اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اُن کے کام کی ’’چیز‘‘ وہ عنصر ہے جو اس آرٹیکل میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔

پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف لفظی بارُود۔ مناسب تو یہ تھا کہ پاکستان کی طرف سے اس کا مناسب جواب سامنے آتا لیکن کئی دن گزر چکے ہیں لیکن ہنوز خاموشی ہے۔ اسے کیا نام دیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ رواں لمحوں میں جو قوتیں پاکستان اور عمران خان کی حکومت سے بوجوہ عناد رکھتی ہیں ، وہ پاکستان میں شکوک و شبہات پھیلانا اپنا کارگر ہتھیار سمجھتی ہیں۔ اس حربے اور ہتھکنڈے سے دراصل اس تاثر کو فروغ دینا ہے کہ پاکستان ایک استبدادی ملک ہے اور خانصاحب کی حکومت جابرانہ ہے۔معروف برطانوی جریدے(دی اکانومسٹ) نے بھی 12جنوری2019ء کی اشاعت میں اپنے ایک آرٹیکل میں پاکستان کے خلاف یہی معاندانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ غیروں کی بات تو الگ رہی لیکن افسوس ایسے پاکستانی لکھاریوں پر ہوتا ہے جو حکومت پر تنقید کرتے ہوئے پاکستان مخالفت بھی کر جاتے ہیں۔ بہتر ہے آپ عمران خان کی مخالفت کریں لیکن پاکستان کو معاف فرمادیں ۔ پلیز!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  65402
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
بائیس جنوری کو ’’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ کے زیرعنوان اپنے کالم میں استاد محترم سہیل وڑائچ نے جو لطیفہ تحریر کیا ، وہ مجھے محترم محمد علی درانی نے تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ایک اور پیرائے میں سنایا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک نابینا سردار جی
تاریخ میں پہلی بار۔یہ فقرہ عمران خان نے اپنا تکیہ کلام بنالیا تھا۔ وہ کوئی بھی کام کرتے تو کہتے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے حالانکہ وہ کام اس سے پہلے بھی ہورہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے ترجمانوں اور خادمین نے بھی یہ فقرہ دہرانا شروع کیا۔
ہم 1947میں ہجرت سے بچ گئے مگر ہمارا گائوں تقسیم ہوگیا۔ ہمارے گائوں میں سکھ اور مسلمان آباد تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو زمینوں کا ایسا بٹوارہ ہوا کہ ہماری کچھ زمین بھارت میں چلی گئی اور سردار مولا سنگھ کی کچھ زمین
کوئی سے دو ملکوں کے درمیان جنگ نہیں ہو رہی یا یوں کہیں کہ باقاعدہ جنگ نہیں ہو رہی لیکن اس سر زمین پر کئی ایسے مقام مل جاتے ہیں جہاں کسی نہ کسی صورت میں جنگ ہو رہی ہے اور دو ملک ایک دوسرے کے خلاف برسر جنگ ہیں۔

مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 18 اپریل کو سرحد پار سے 15 دہشت گرد داخل ہوئے، دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور کی وردی پہن رکھی تھی ، جنہوں نے بس کو روکا اورشناخت کرکے 14 پاکستانی شہید کیے
وزیراعظم نے اپنی حکومتی ٹیم میں مزید تبدیلیوں کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ کپتان کا مقصد ٹیم کو جتانا ہوتا ہے اور بطور وزیراعظم ان کا مقصد اپنی قوم کو جتانا ہے اس لیے جو وزیر ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اسے تبدیل کردیا جائے گا۔
وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے فواد چوہدری سمیت دیگر وزراء سے ان کے قلمدان واپس لے لیے۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق فواد چوہدری سے وزارت اطلاعات واپس لے کر
وزیر خزانہ اسد عمر نے وزارت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزرا کے قلمدانوں میں ردو بدل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ مجھ سے وزارت خزانہ واپس لے کر وزارت توانائی کا قلمدان دینا چاہتے تھے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں