Thursday, 28 May, 2020
پاکستان کے بارے میں ایران کیا سوچ رہا ہے؟

پاکستان کے بارے میں ایران کیا سوچ رہا ہے؟
تنویر قیصر شاہد کا کالم

پچھلے دنوں اسلام آباد میں بروئے کار ایرانی سفارتخانے کے ایک سینئر رکن سے چائے پر ملاقات ہُوئی۔ وہ ایمبیسی مذکور کے پریس سیکشن سے وابستہ ہیں۔ ملاقات کی دعوت اُن کی طرف سے آئی تھی۔ایسے شیریں لہجے میں دعوت دی گئی تھی کہ انکار ممکن ہی نہیں تھا۔ مجھے دو ایک بار ایران جانے کے مواقع میسر آئے ہیں۔

جناب آئت اللہ روح اللہ خمینی کی روحانی و سیاسی قیادت میں انقلاب ِ ایران کو آئے زیادہ دن نہیں ہُوئے تھے کہ لاہور کے کئی صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں کے ایک وفد کے ساتھ ہمیں بھی تہران، مشہد اور اصفہان کی سیر کا موقع ملا۔ لاہور کے ممتاز عالمِ دین حضرت مولانا قبلہ احمد علی قصوری صاحب اور کئی کتابوں کے مصنف مشہور دانشور صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی صاحب بھی اسی وفد کا وقیع حصہ تھے۔

تہران کا بازارِ بزرگ ہو یا مشہد میں حضرت امام رضا علیہ رحمہ کا مزار شریف، ہر جگہ ہم تینوں نے اکٹھے ہی روحانی لطف اٹھایا۔ ایران میں جہاں بھی گئے،ہم تینوں ایک بڑے سے کمرے میں رہائش پذیر رہے۔ اللہ اللہ،کیا شاندار اورخوبصورت لوگ تھے یہ!! دونوں ہی اپنے ربّ کے حضور پہنچ چکے ہیں۔

یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گیلانی صاحب اور قصوری صاحب کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائی ہوگی۔ ایرانی مذہبی انقلاب، جس نے شہنشاہِ ایران کو دَر بدر کر کے رکھ دیا تھا، اُس وقت جوان اور منہ زور تھا۔ ایران کے ہر کوچہ و بازار میں اس کے اثرات اور نشانات واضح طور پر دکھائی اور سنائی دیتے تھے۔

عالمِ اسلام نے اس انقلاب سے بلند توقعات وابستہ کی تھیں۔ اس کا اندازہ پاکستان کی جماعتِ اسلامی کے اُس اعلیٰ سطح کے وفد سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو قبلہ میاں طفیل محمد صاحب کی قیادت میں انقلاب کے فوراً بعد تہران پہنچا تھا تاکہ امام خمینی صاحب اور اُن کے ساتھیوں کو تہنیت دی جا سکے۔

جماعتِ اسلامی سے وابستہ محترم سید اسعد گیلانی صاحب نے انقلابِ ایران پر ایک نہایت دلکشا کتا ب بھی لکھی تھی۔ حالات مگر رفتہ رفتہ تیزی سے بدلتے چلے گئے۔ جنرل ضیاء الحق چونکہ انقلابِ ایران کے ابتدائی ایام کے دوران امریکا کے ساتھی اور اتحادی تھے، اس لیے ایران بوجوہ پاکستان کو شک اور شبہے کی نظر سے دیکھتا تھا۔ یہاں سے کئی غلط فہمیوں نے بھی جنم لیا جو آگے چل کر بگاڑ کی شکل اختیار کر گئیں۔

اگر ہم ریٹائرڈ بریگیڈئر ارشاد ترمذی صاحب (جو کچھ عرصہ ایران میں پاکستان کے دفاعی اتاشی بھی رہے)کی کتاب Profiles of Intelligence اور سابق پولیس آفیسر طارق کھوسہ صاحب کی تازہ ترین کتابThe Faltering state کا مطالعہ کریں تو کئی ایسے واقعات کی شہادت ملتی ہے جنہوں نے پاک، ایران تعلقات کو شدید زک اور نقصان پہنچایا۔

بہت عرصہ بعد جب لاہور میں ایرانی قونصل جنرل صادق گنجی اور کراچی میں ایرانی کیڈٹس کے ساتھ سانحات پیش آئے تو پاک، ایران تعلقات میں بہت تلخی آگئی تھی۔ وہ عالمی قوتیں جو پاکستان اور ایران ایسی نظریاتی اسلامی مملکتوں کے نزدیک آنے کے خلاف تھیں، یقیناً وہ بھی جلتی پر تیل چھڑک رہی تھیں۔بلکہ یوں کہنا زیادہ بجا ہوگا کہ یہی غیر ملکی طاقتیں پاکستان اور ایران میں خلیج پیدا کرنے کی سازشیں کررہی تھیں۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مملکتِ خداداد میں بھڑکائی گئی وہ فرقہ وارانہ آگ اب بجھ چکی ہے۔

ایرانی سفارتکار سے ہماری حالیہ ملاقات کے دوران، کسی نہ کسی شکل میں، یہ باتیں زیر بحث آئیں۔ میرے مخاطب ایرانی مگر بہت محتاط تھے۔ وہ غالباً اِس کوشش میں تھے کہ ہم سے ایران کے بارے میں پاکستانی ذہن پڑھا اور جانا جائے جب کہ ہماری کوشش اور تمنا یہ تھی کہ تازہ ترین ماحول میں پاکستان کے بارے میں ایرانی سوچ کے بارے میں جانکاری حاصل کی جائے۔ یہ مشکل مراحل تھے۔ہمارے ہاں کہا جا رہا ہے کہ ایران کی چاہ بہار بندر گاہ، جس کے پہلے کامیاب فیز (شہید بہشتی پورٹ)کا افتتاح چند دن پہلے ہی ایرانی صدر جناب حسن روحانی نے کیا ہے،کی تعمیرو تشکیل میں بھارت نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

ہمارے مخاطب ایرانی سفارتکار کا مگر بصد اصرار کہنا تھا کہ بھارت نے چابہار کی بندرگاہ پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں کی ہے۔ بظاہر یہ بات ذہن کو لگتی نہیں ہے لیکن جب متعلقہ ملک کا کوئی ذمے دار آدمی یہ بات کہے تواُسے تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے۔ بھارت نے شہید بہشتی پورٹ کے افتتاح، جس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج بھی شریک تھیں، پر خصوصی مسرت کا اظہار کرتے ہُوئے کہا ہے کہ اب پاکستان کو بائی پاس کرتے ہُوئے براہ راست افغانستان، بھارت اور ایران میں تجارت ہو سکے گی۔

واقعہ یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایران کا بھلا چاہا ہے اور اہلِ ایران کے بارے میں پاکستانیوں کے جذبات و احساسات ہمیشہ مثبت رہے ہیں، اپنے سگے بھائیوں کے مانند۔ ہم ایران کا یہ تاریخی احسان کبھی فراموش نہیں کر سکتے کہ تشکیلِ پاکستان کے وقت ایران ہی دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے فوراً پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔ جب ایران اور عراق باہم متصادم تھے، اور یہ تصادم بد قسمتی سے برسوں جاری رہا، تو یہ پاکستان تھا جس نے آگے بڑھ کر کوشش کی کہ دو مسلمان ممالک کے درمیان بہتے خون کو روکا جائے۔

صدام حسین کے زیر نگیں عراق نے بہرحال ایران سے زیادتی کی تھی۔ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اگر انقلابِ ایران کے فوراً بعد عراق، امریکیوں کے اشارے پر، ایران پر جنگ مسلّط نہ کرتا تو ایرانی ترقی کا پہیہ زیادہ تیزی کے ساتھ گردش میں آتا۔ صدر صدام حسین مگر اُس وقت امریکیوں کے کندھے پر سوار تھے۔ وہ جان ہی نہ سکے کہ امریکی تو کبھی کسی کے سگے نہیں ہوتے۔ وہ صرف اپنے مفادات کے سگے ہوتے ہیں۔ دنیا نے پھر یہ بھی تماشہ دیکھا کہ اُسی امریکا نے جب صدام حسین کو پھانسی پر لٹکایا تو عالمِ اسلام کچھ بھی نہ کر سکا تھا۔

معزز و محترم ایرانی سفارتکار سے بات چیت کے دوران معلوم ہُوا کہ ایران بھی پاکستان سے، ہر شعبہ حیات میں، تعاون اور اعانت کا خواہشمند ہے۔ ایران نہیں چاہتا کہ پاک، ایران تعلقات میں کشیدگی برقرار رہے۔ چا بہار بندرگاہ کے پہلے فیز کے افتتاحی موقع پر پاکستان کے ایک وفاقی وزیر بھی وہاں موجود تھے۔

یہ درست ہے کہ حالیہ ایام میں ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں، بوجوہ، تلخی موجود ہے لیکن اِس کے باوصف پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات خوشگوار رکھے جاسکتے ہیں۔ اِس میں مگر سفارتی مہارت اور اخلاص درکار ہے۔ایران کو بہرحال یہ رنج ضرورہے کہ سعودی قیادت میں 41 اسلامی ممالک کا جو فوجی اتحاد معرضِ عمل میں آیا ہے، ایران کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔

ایران یہ بھی سمجھتا ہے کہ اگر دنیا کے باقی ممالک کے ساتھ پاکستان ایک جوہری قوت بن سکتاہے تو ایران کو بھی یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ بھی غیر فوجی اور پُر امن ایٹمی طاقت حاصل کر سکے۔ مجھے یہ تاثر ملا کہ پاکستانی میڈیا سے ایرانی اسٹیبلشمنٹ خوش نہیں ہے۔

پچھلے سال جب ایرانی صدر جناب حسن روحانی نے پاکستان کا دَورہ کیا تو اُنہی ایام میں (دو ہفتے قبل) بھارتی خطرناک جاسوس، کلبھوشن یادیو، کو مبینہ طور پر ایران سے نکل کر بلوچستان میں داخل ہوتے ہُوئے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اِس حوالے سے ہمارے میڈیا میں بار بار ایران کا نام گونجتا رہا۔

ایرانی سفارتکار سے گفتگو کے دوران مجھے یہ بھی تاثر ملا، اور میرا یہ تاثر غلط بھی ہو سکتا ہے، کہ ایران کو یہ اچھا نہیں لگا تھا۔ یہ بڑے نازک مقامات ہیں۔ دونوں ممالک کی حکومتوں اور دونوں برادر اسلامی ممالک کے میڈیا کو ایک دوسرے کے نازک وحساس معاملات کو پیشِ نگاہ رکھنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  96196
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
افغانستان میں قتل وغارت گری کے حالیہ واقعات نے طویل عرصے سے جنگ سے تباہ حال ملک بارے امن کی امید کو ناامیدی میں بدل رہے ہیں، کابل میں زچہ وبچہ وارڈ میں ماؤں اور نونہالوں کا قتل جاری خون ریزی کے بدترین واقعات میں اپنی جگہ بنا گیا ، ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دہشت گرد عناصر کسی مذہبی و اخلاقی اصول پر پورے نہیں اترتے،
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2017ء میں سعودی عرب کی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا اور مہنگا منصوبہ پیش کیا، جس کا عنوان وژن 2030ء رکھا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ پراجیکٹ جدید معیارات کے مطابق اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا۔ اس کے ذریعے سعودی عرب کی آمدنی کا تیل پر انحصار ختم کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت بحیرہ احمر کے کنارے 12 شہروں کو بسایا جانا ہے، اسے نیوم پراجیکٹ کہتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ جولائی کے وسط تک پاکستان میں 2 لاکھ کورونا وائرس کے کیسز ہوسکتے ہیں، ڈبیلو ایچ او کو اس پر بھی تشویش ہے کہ سندھ اور پنجاب میں عالمی وبا سے متاثر افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ،اس پر یہ دلیل بھی سامنے آچکی کہ لاک ڈاؤن میں مذید 2 ہفتوں کی توسیع کی ایک وجہ دراصل یہی ڈبلیو ایچ او کی وارننگ ہے
قارئین! معاف کیجئے گا ہم سدھرنے والے ہرگز نہیں، شاید دعائیں آسمانوں سے پلٹائی جارہی ہیں اس لئے بے اثر ہیں۔ اچھا ایسا ہے تو پھر ہمیں انفرادی و اجتماعی معاملات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینا ہوگا۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

مقبول ترین
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت خطے کے امن کو داﺅ پر لگا رہا ہے ‘ بھارت متنازعہ علاقوں میں تعمیراتی کام ‘سڑکیں اور فوجی بنکرز بنا رہا ہے جو کہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے ‘لداخ کے متنازعہ علاقے میں تعمیرات سے بھارت عالمی قوانین کی خلاف ورزیاںکر رہا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعدادوشمار کے مطابق کورونا س کے وار تیز ہوگیاہے ،60ہزار پاکستانی متاثر‘ اب تک 1240 جاں بحق ،مجموعی طور پر 19 ہزار142 مریض صحت یاب ‘ 24 گھنٹوں میں مزید ایک ہزار446 کیسز رپورٹ ہوئے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شدید مہنگائی کے باعث عوام حکومت سے تنگ آچکی ہے مو جودہ حکومت کاخاتمہ ہی عوام کے لئے ریلیف ہو گا،عوام نا اہل نیازی حکومت سے نجات چاہتی ہے ۔ کورونا وباءاور ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے حکو مت کی کو ئی پا لیسی نظر نہیں آئی ، ڈنگ ٹپاو¿ نظام چل رہا ہے ۔
پاکستان مسلم لیگ(ن)کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران کے حکم پر چینی بر آمد کی گئی‘ مقدمہ بنایا جائے ،وزیراعظم کے لاپتہ ہونے پر تشویش ہے وزیراعظم کی گمشدگی کا اشتہار شائع کرنا چائیے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں