Friday, 18 October, 2019
پاکستان کے بارے میں ایران کیا سوچ رہا ہے؟

پاکستان کے بارے میں ایران کیا سوچ رہا ہے؟
تنویر قیصر شاہد کا کالم

پچھلے دنوں اسلام آباد میں بروئے کار ایرانی سفارتخانے کے ایک سینئر رکن سے چائے پر ملاقات ہُوئی۔ وہ ایمبیسی مذکور کے پریس سیکشن سے وابستہ ہیں۔ ملاقات کی دعوت اُن کی طرف سے آئی تھی۔ایسے شیریں لہجے میں دعوت دی گئی تھی کہ انکار ممکن ہی نہیں تھا۔ مجھے دو ایک بار ایران جانے کے مواقع میسر آئے ہیں۔

جناب آئت اللہ روح اللہ خمینی کی روحانی و سیاسی قیادت میں انقلاب ِ ایران کو آئے زیادہ دن نہیں ہُوئے تھے کہ لاہور کے کئی صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں کے ایک وفد کے ساتھ ہمیں بھی تہران، مشہد اور اصفہان کی سیر کا موقع ملا۔ لاہور کے ممتاز عالمِ دین حضرت مولانا قبلہ احمد علی قصوری صاحب اور کئی کتابوں کے مصنف مشہور دانشور صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی صاحب بھی اسی وفد کا وقیع حصہ تھے۔

تہران کا بازارِ بزرگ ہو یا مشہد میں حضرت امام رضا علیہ رحمہ کا مزار شریف، ہر جگہ ہم تینوں نے اکٹھے ہی روحانی لطف اٹھایا۔ ایران میں جہاں بھی گئے،ہم تینوں ایک بڑے سے کمرے میں رہائش پذیر رہے۔ اللہ اللہ،کیا شاندار اورخوبصورت لوگ تھے یہ!! دونوں ہی اپنے ربّ کے حضور پہنچ چکے ہیں۔

یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گیلانی صاحب اور قصوری صاحب کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائی ہوگی۔ ایرانی مذہبی انقلاب، جس نے شہنشاہِ ایران کو دَر بدر کر کے رکھ دیا تھا، اُس وقت جوان اور منہ زور تھا۔ ایران کے ہر کوچہ و بازار میں اس کے اثرات اور نشانات واضح طور پر دکھائی اور سنائی دیتے تھے۔

عالمِ اسلام نے اس انقلاب سے بلند توقعات وابستہ کی تھیں۔ اس کا اندازہ پاکستان کی جماعتِ اسلامی کے اُس اعلیٰ سطح کے وفد سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو قبلہ میاں طفیل محمد صاحب کی قیادت میں انقلاب کے فوراً بعد تہران پہنچا تھا تاکہ امام خمینی صاحب اور اُن کے ساتھیوں کو تہنیت دی جا سکے۔

جماعتِ اسلامی سے وابستہ محترم سید اسعد گیلانی صاحب نے انقلابِ ایران پر ایک نہایت دلکشا کتا ب بھی لکھی تھی۔ حالات مگر رفتہ رفتہ تیزی سے بدلتے چلے گئے۔ جنرل ضیاء الحق چونکہ انقلابِ ایران کے ابتدائی ایام کے دوران امریکا کے ساتھی اور اتحادی تھے، اس لیے ایران بوجوہ پاکستان کو شک اور شبہے کی نظر سے دیکھتا تھا۔ یہاں سے کئی غلط فہمیوں نے بھی جنم لیا جو آگے چل کر بگاڑ کی شکل اختیار کر گئیں۔

اگر ہم ریٹائرڈ بریگیڈئر ارشاد ترمذی صاحب (جو کچھ عرصہ ایران میں پاکستان کے دفاعی اتاشی بھی رہے)کی کتاب Profiles of Intelligence اور سابق پولیس آفیسر طارق کھوسہ صاحب کی تازہ ترین کتابThe Faltering state کا مطالعہ کریں تو کئی ایسے واقعات کی شہادت ملتی ہے جنہوں نے پاک، ایران تعلقات کو شدید زک اور نقصان پہنچایا۔

بہت عرصہ بعد جب لاہور میں ایرانی قونصل جنرل صادق گنجی اور کراچی میں ایرانی کیڈٹس کے ساتھ سانحات پیش آئے تو پاک، ایران تعلقات میں بہت تلخی آگئی تھی۔ وہ عالمی قوتیں جو پاکستان اور ایران ایسی نظریاتی اسلامی مملکتوں کے نزدیک آنے کے خلاف تھیں، یقیناً وہ بھی جلتی پر تیل چھڑک رہی تھیں۔بلکہ یوں کہنا زیادہ بجا ہوگا کہ یہی غیر ملکی طاقتیں پاکستان اور ایران میں خلیج پیدا کرنے کی سازشیں کررہی تھیں۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مملکتِ خداداد میں بھڑکائی گئی وہ فرقہ وارانہ آگ اب بجھ چکی ہے۔

ایرانی سفارتکار سے ہماری حالیہ ملاقات کے دوران، کسی نہ کسی شکل میں، یہ باتیں زیر بحث آئیں۔ میرے مخاطب ایرانی مگر بہت محتاط تھے۔ وہ غالباً اِس کوشش میں تھے کہ ہم سے ایران کے بارے میں پاکستانی ذہن پڑھا اور جانا جائے جب کہ ہماری کوشش اور تمنا یہ تھی کہ تازہ ترین ماحول میں پاکستان کے بارے میں ایرانی سوچ کے بارے میں جانکاری حاصل کی جائے۔ یہ مشکل مراحل تھے۔ہمارے ہاں کہا جا رہا ہے کہ ایران کی چاہ بہار بندر گاہ، جس کے پہلے کامیاب فیز (شہید بہشتی پورٹ)کا افتتاح چند دن پہلے ہی ایرانی صدر جناب حسن روحانی نے کیا ہے،کی تعمیرو تشکیل میں بھارت نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

ہمارے مخاطب ایرانی سفارتکار کا مگر بصد اصرار کہنا تھا کہ بھارت نے چابہار کی بندرگاہ پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں کی ہے۔ بظاہر یہ بات ذہن کو لگتی نہیں ہے لیکن جب متعلقہ ملک کا کوئی ذمے دار آدمی یہ بات کہے تواُسے تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے۔ بھارت نے شہید بہشتی پورٹ کے افتتاح، جس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج بھی شریک تھیں، پر خصوصی مسرت کا اظہار کرتے ہُوئے کہا ہے کہ اب پاکستان کو بائی پاس کرتے ہُوئے براہ راست افغانستان، بھارت اور ایران میں تجارت ہو سکے گی۔

واقعہ یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایران کا بھلا چاہا ہے اور اہلِ ایران کے بارے میں پاکستانیوں کے جذبات و احساسات ہمیشہ مثبت رہے ہیں، اپنے سگے بھائیوں کے مانند۔ ہم ایران کا یہ تاریخی احسان کبھی فراموش نہیں کر سکتے کہ تشکیلِ پاکستان کے وقت ایران ہی دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے فوراً پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔ جب ایران اور عراق باہم متصادم تھے، اور یہ تصادم بد قسمتی سے برسوں جاری رہا، تو یہ پاکستان تھا جس نے آگے بڑھ کر کوشش کی کہ دو مسلمان ممالک کے درمیان بہتے خون کو روکا جائے۔

صدام حسین کے زیر نگیں عراق نے بہرحال ایران سے زیادتی کی تھی۔ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اگر انقلابِ ایران کے فوراً بعد عراق، امریکیوں کے اشارے پر، ایران پر جنگ مسلّط نہ کرتا تو ایرانی ترقی کا پہیہ زیادہ تیزی کے ساتھ گردش میں آتا۔ صدر صدام حسین مگر اُس وقت امریکیوں کے کندھے پر سوار تھے۔ وہ جان ہی نہ سکے کہ امریکی تو کبھی کسی کے سگے نہیں ہوتے۔ وہ صرف اپنے مفادات کے سگے ہوتے ہیں۔ دنیا نے پھر یہ بھی تماشہ دیکھا کہ اُسی امریکا نے جب صدام حسین کو پھانسی پر لٹکایا تو عالمِ اسلام کچھ بھی نہ کر سکا تھا۔

معزز و محترم ایرانی سفارتکار سے بات چیت کے دوران معلوم ہُوا کہ ایران بھی پاکستان سے، ہر شعبہ حیات میں، تعاون اور اعانت کا خواہشمند ہے۔ ایران نہیں چاہتا کہ پاک، ایران تعلقات میں کشیدگی برقرار رہے۔ چا بہار بندرگاہ کے پہلے فیز کے افتتاحی موقع پر پاکستان کے ایک وفاقی وزیر بھی وہاں موجود تھے۔

یہ درست ہے کہ حالیہ ایام میں ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں، بوجوہ، تلخی موجود ہے لیکن اِس کے باوصف پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات خوشگوار رکھے جاسکتے ہیں۔ اِس میں مگر سفارتی مہارت اور اخلاص درکار ہے۔ایران کو بہرحال یہ رنج ضرورہے کہ سعودی قیادت میں 41 اسلامی ممالک کا جو فوجی اتحاد معرضِ عمل میں آیا ہے، ایران کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔

ایران یہ بھی سمجھتا ہے کہ اگر دنیا کے باقی ممالک کے ساتھ پاکستان ایک جوہری قوت بن سکتاہے تو ایران کو بھی یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ بھی غیر فوجی اور پُر امن ایٹمی طاقت حاصل کر سکے۔ مجھے یہ تاثر ملا کہ پاکستانی میڈیا سے ایرانی اسٹیبلشمنٹ خوش نہیں ہے۔

پچھلے سال جب ایرانی صدر جناب حسن روحانی نے پاکستان کا دَورہ کیا تو اُنہی ایام میں (دو ہفتے قبل) بھارتی خطرناک جاسوس، کلبھوشن یادیو، کو مبینہ طور پر ایران سے نکل کر بلوچستان میں داخل ہوتے ہُوئے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اِس حوالے سے ہمارے میڈیا میں بار بار ایران کا نام گونجتا رہا۔

ایرانی سفارتکار سے گفتگو کے دوران مجھے یہ بھی تاثر ملا، اور میرا یہ تاثر غلط بھی ہو سکتا ہے، کہ ایران کو یہ اچھا نہیں لگا تھا۔ یہ بڑے نازک مقامات ہیں۔ دونوں ممالک کی حکومتوں اور دونوں برادر اسلامی ممالک کے میڈیا کو ایک دوسرے کے نازک وحساس معاملات کو پیشِ نگاہ رکھنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  56724
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یہ الفاظ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے 2016میں کہے تھے جس پر کچھ محبِ وطن بھڑک اُٹھے اور اُنہوں نے اسفند یار ولی پر غداری کا الزام لگا کر اُنہیں افغانستان جانے کا حکم دیا لیکن اے این پی کے صدر نے یہ حکم نظر انداز کر دیا تھا۔
دسمبر کا مہینہ طلوع ہوتے ہی پشاور، جسے پیار سے ’’گلابوں کا شہر‘‘ کہا جاتا ہے، ہمارے جوان شہدا کے خون سے گلگوں ہو گیا ہے۔ یکم دسمبرکی صبح پونے نو بجے،جب سارے عالمِ اسلام کے ساتھ مملکتِ خداداد پاکستان
یہ درست ہے میاں نواز شریف نے چار برسوں میں اتنا کام کیا جتنا چالیس برسوں میں نہیں ہواتھا‘ حکومت نے چار برسوں میں دہشتگردی 90 فیصد کم کر دی‘ لوگ یہ کریڈٹ فوج کو دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے فوج 2013ء سے پہلے بھی موجود تھی
ہم پاکستانیوں کی بھی عجب زندگی ہے جو تقسیم کر دی گئی ہے اس کا ایک حصہ بڑے لوگوں کی زندگی پر مشتمل ہے جس میں سوائے عیش و عشرت اور ضیاع وقت کے اور کچھ نہیں۔ ان عیاش لوگوں کو یہ فکر رہتی ہے

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔
نیویارک میں ایک کمپنی نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بازار میں بوتھ بنادیا ہے جس کا سن کر ہی انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اس کمپنی نے مردوں کو خودلذتی کا موقع فراہم کرنے کے لیے بازار کے بیچ یہ بوتھ بنایا ہے

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں