Monday, 28 September, 2020
پاکستان میں کرونا کا ایپی سینٹر

پاکستان میں کرونا کا ایپی سینٹر
سید اسد عباس کا کالم

پاکستانی حکومت اور محکمہ صحت کے افراد کرونا کے بارے میں بہت محتاط تھے، ہم نے اس وقت احتیاطی تدابیر کا آغاز کیا جب یہ وائرس ہمارے شمال یعنی چین میں آیا۔ چین سے تو ہمارے ملک میں کوئی کیس نہ آسکا، حتی کہ ہمارے وہ طلبہ جو چین میں زیر تعلیم تھے، وہ بھی وطن واپس نہ آسکے، تاہم جب کرونا پوری دنیا بالخصوص ہمارے ہمسایہ ملک ایران، جزیرۃ العرب، یورپ اور امریکا میں پھیلا تو اس کو کنٹرول کرنا یا اپنے شہریوں کو اس سے محفوظ رکھنا ہمارے لیے ممکن نہ رہا۔ یہ بدیہی تھا کہ ہمارے کئی ایک شہری جو ان ممالک میں موجود ہیں، ضرور کرونا وائرس سے متاثر ہوں گے۔ یہی ہوا برطانیہ، امریکا، یورپ، عرب امارات سے آنے والے افراد میں کرونا کے آثار ظاہر ہوئے، تاہم اصل مصیبت تو ہمیں ایران سے آنے والے افراد کی جانب سے درپیش ہے، جہاں ہزاروں کی تعداد میں زائرین تفتان میں جمع کیے گئے اور ان کو وہیں پر قرنطینیہ کیا گیا ہے۔

تفتان سے آنے والی اطلاعات، تصاویر اور ویڈیو رپورٹس انتہائی پریشان کن ہیں۔ وسائل کی عدم دستیابی کہیں یا ہماری نااہلی، ایران سے آنے والے زائرین انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں مہاجرین کی مانند تفتان میں ایک مختصر سے مقام پر مقیم ہیں، جسے حکومت قرنطینیہ قرار دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نام نہاد قرنطینہ میں اس وقت 2300 سے زیادہ زائرین موجود ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے دو ہزار زائرین کو ان کے متعلقہ صوبوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ زائرین کو فوری طور پر ان کے علاقوں میں بھیجنے کا فیصلہ پیر کو وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ہوا تھا۔ یاد رہے کہ یہ زائرین جب ایران سے پاکستان داخل ہوئے تو ان میں سے اکثر صحت مند تھے، تاہم جیسے جیسے یہ اپنے صوبوں اور وہاں قائم قرنطینیہ سینٹرز تک پہنچ رہے ہیں اور ان کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں، پاکستان میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بلوچستان حکومت کی جانب سے تفتان پر کئے گئے انتظامات پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے، جسے حکومت بلوچستان نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام متاثرین ایران کے ان علاقوں سے آئے تھے، جو کہ کرونا سے زیادہ متاثر ہیں۔ بی بی سی کے مطابق تفتان کے کمشنر ایاز خان مندوخیل کا کہنا ہے کہ زائرین کی روانگی کے سلسلے میں بسوں کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ پہلے جن بسوں میں زائرین کو پنجاب لے جایا گیا تھا، انہیں قرنطینیہ کی شرائط کے باعث واپس نہیں آنے دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ زائرین کو ایک ساتھ پہنچانے کے لیے 65 بسوں کی ضرورت ہے، جو کہ کوششوں کے باوجود فوری طور پر دستیاب نہیں، تاہم پی ڈی ایم نے پہلے مرحلے میں 15 بسوں کا انتظام کیا ہے، جن میں پہلے سندھ سے تعلق رکھنے والے زائرین کو بھیجا جائے گا۔

اس قدر سریع طور پر دنیا میں پھیلنے والی وبا جس سے نمٹنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ممالک ناکام ہیں، خیمہ بستی بنا کر اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کرنا بے وقوفی کی علامت نہیں تو اور کیا ہے، 2300 صحت مند انسانوں میں اگر فقط ایک کرونا کیس چھوڑ دیا جائے تو ہمارے خیال میں اس وبا کو ان 2300 افراد میں پھیلنے کے لیے کتنی مدت درکار ہوگی، جبکہ یہ افراد ایک محدود سے علاقہ میں قرنطینیہ کے نام پر محصور ہوں۔ قرنطینیہ کا اگلا مرحلہ بھی نہایت مضحکہ خیز ہے۔ ڈی جی خان پہنچنے والے چھبیس زائرین میں کرونا نکل آیا ہے، جن کو کل ہی تفتان سے ڈی جی خان لایا گیا تھا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ٹوئٹر پر نئے مریضوں کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حکام پنجاب کے شہر ڈی جی خان میں قرنطینیہ میں رکھے گئے تمام 736 زائرین کا ٹیسٹ کر رہے ہیں جبکہ وہاں تفتان سے آنے والے مزید 1276 زائرین کا بھی ٹیسٹ کیا جائے گا۔ درازندہ کے مقام پر قائم قرنطینیہ مرکز جو تفتان کے قرنطینیہ سے مختلف نہیں ہے، میں ان زائرین کو مزید چودہ روز کے لیے رکھا گیا ہے، جو تفتان میں قائم قرنطینیہ میں مقررہ مدت گزارنے کے بعد پنجاب میں داخل ہوئے تھے۔ خیبرپختونخوا میں تفتان سے لائے جانے والے انیس میں سے پندرہ افراد میں کرونا کے آثار ظاہر ہوچکے ہیں۔

صورتحال نہایت گھمبیر ہے، تازہ ترین اطلاعات تک جب یہ تحریر قلمبند ہو رہی ہے، پاکستان میں کرونا سے متاثرہ افراد کی مصدقہ تعداد 236 تک پہنچ گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سندھ میں 170، پنجاب میں 26، بلوچستان میں 16، خیبر پختونخوا میں 15، اسلام آباد میں چار اور گلگت بلتستان میں کورونا کے تین مریض موجود ہیں۔ خطرناک امر یہ ہے کہ حکومت کا پورا زور تفتان اور وہاں سے آنے والے زائرین پر ہے، جبکہ فضائی سفر کے ذریعے ملک میں آنے والے افراد کو کسی ایسے قرنطینیہ سے نہیں گزارا جا رہا۔ وہ مریض جو خود ہسپتال آرہے ہیں، وہی مصدقہ قرنطینیہ مریضوں کی فہرست میں شامل ہیں، باقی کے افراد متاثرہ ملکوں سے آنے کے باوجود معاشرے میں اپنی نارمل سرگرمیاں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

کرونا کے طبی اثرات کے ساتھ ساتھ اس کے معاشی اثرات بھی ناقابل تلافی ہیں۔ چین کی معیشت دو ماہ کے تعطل کے بعد بحال ہو رہی ہے، اس بحالی کو بھی مکمل بحالی نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ دنیا بھر میں کرونا کے لاک ڈاون کے سبب اب چین کی مصنوعات کی وہ مانگ نہیں رہی، جو عام حالات میں ہوتی ہے۔ امریکا، یورپ، آسٹریلیا کی سٹاک مارکٹس مندی کا شکار ہیں، جن کو سنبھالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے میں غریب ممالک کی کیا صورتحال ہوگی، یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ مجھے توقع نہیں ہے کہ گرتی ہوئی اس معاشی صورتحال کے تناظر میں بڑی معیشتیں غریب ممالک کے قرضوں کو معاف کرنے یا اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا سوچیں گی۔ انسانیت کا تقاضا تو یہی ہے، جو جس قدر مدد کرسکتا ہے کرے، تاکہ اس عالمی آفت سے پوری انسانیت مل کر نبرد آزما ہوسکے، خدا بھی ہم پر رحم فرمائے اور اس آفت سے انسانیت کو نجات بخشے۔ (آمین)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’اسلام ٹائمز‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  15506
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یوں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ افراد یا گروہ نئے سرے سے فرقہ واریت کو پھیلانے میں سرگرم ہوگئے ہیں یا فرقہ واریت کے سلیپر سیلز پھر سے متحرک کیے جارہے ہیں۔ اس کے لیے وہ تمام افراد جنھوں نے پاکستان میں فرقہ واریت کے خلاف سالہا سال جدوجہد کی ہے انھیں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اپنی طاقتوں کو نئے سرے سے مجتمع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فرقہ واریت کی نئی لہر کا مقابلہ کیا جاسکے۔
25 مئی 2020 امریکی ریاست مینیسوٹا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے امریکہ بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی پولیس کے ایسے مظالم طویل عرصے سے جاری ہیں۔
افغانستان میں قتل وغارت گری کے حالیہ واقعات نے طویل عرصے سے جنگ سے تباہ حال ملک بارے امن کی امید کو ناامیدی میں بدل رہے ہیں، کابل میں زچہ وبچہ وارڈ میں ماؤں اور نونہالوں کا قتل جاری خون ریزی کے بدترین واقعات میں اپنی جگہ بنا گیا ، ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دہشت گرد عناصر کسی مذہبی و اخلاقی اصول پر پورے نہیں اترتے،
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2017ء میں سعودی عرب کی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا اور مہنگا منصوبہ پیش کیا، جس کا عنوان وژن 2030ء رکھا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ پراجیکٹ جدید معیارات کے مطابق اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا۔ اس کے ذریعے سعودی عرب کی آمدنی کا تیل پر انحصار ختم کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت بحیرہ احمر کے کنارے 12 شہروں کو بسایا جانا ہے، اسے نیوم پراجیکٹ کہتے ہیں۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

مقبول ترین
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اہم بین الاقوامی اورعلاقائی امور پرپاکستان کا موقف وضاحت، جرات وتدبر اوربصیرت سے بیان کیا۔ ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ نے وزیراعظم عمران خان کے اقوام متحدہ کی
سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر ٹوئٹر کے ذریعے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ مجھے سزا دیتے دیتے ملک کو ڈبو دیا۔ اپنے تازہ ٹوئیٹ میں انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کی تقریر، معزول کیے گئے احتساب عدالت کے جج
سانحہ اے پی ایس کی جوڈیشل انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں دھمکیوں کے بعد سکیورٹی گارڈز کی کم تعداد اور درست مقامات پر عدم تعیناتی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سانحہ اے پی ایس پر بننے والی جوڈیشل انکوائری کمیشن نے سانحے کی رپورٹ پبلک کردی ہے
24 ممالک کے دفاعی اتاشیوں، سفیر اور سفارتکاروں کے وفد نے ایل او سی کا دورہ کیا جہاں انہیں بھارتی فورسز کی خلاف ورزیوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ میڈیا کے مطابق 24 ممالک کے سفیر، سفارتکار اور دفاعی اتاشیوں نے ایل او سی کا دورہ کیا

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں