Friday, 18 October, 2019
جمہوریت؛ نفی کا نتیجہ

جمہوریت؛ نفی کا نتیجہ
زاہدہ حنا کا کالم

 

16 دسمبر کی تاریخ گزر گئی۔ وہ تاریخ جس نے پاکستان کو دولخت کرکے اس کھیل کا کام تمام کیا جس میں پاکستان کی حکمران اشرافیہ شروع سے مصروف تھی۔ وہ ملک جو مشرقی بنگال کے لوگوں کے ووٹوں سے قائم ہوا تھا، پہلے دن سے اس کی اکثریت اور حاکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا اور ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ مغربی پاکستان کا رویہ درشت تر ہوتا چلا گیا۔

مجھے ارمان رہا کہ میں مشرقی پاکستان جاؤں اور ڈھاکا، سلہٹ، چٹاگانگ اور رانگا ماٹی سے گزروں لیکن یہ 2011 کا نومبر تھا جب ’’ساؤتھ ایشین پیپلز فورم‘‘ کے گیارہویں اجلاس میں ’’پائلر‘‘ کے کرامت علی کی دعوت پر میں نے ڈھاکا کی سرزمین پر قدم رکھا۔ میں ایک بڑے وفد کا حصہ تھی۔ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب کی یونیورسٹیوں کے طلبہ اور مختلف این جی اوز سے تعلق رکھنے والے اس وفد میں شامل تھے۔

خوشی اس بات کی تھی کہ چند ذاتی دوست بھی ساتھ تھے، ان میں ڈاکٹر جعفر احمد، ثمینہ پیرزادہ، نصیر میمن اور بلوچستان کے سینیٹر عبدالمالک سامنے کے نام ہیں۔ عبدالمالک اس سفر کے کچھ دنوں بعد بلوچستان کے وزیراعلیٰ ہوئے۔ واپس آکر میں نے اس سفر کے بارے میں لکھا کہ ’’شام کی سنہری روشنی میں سیکڑوں فٹ کی بلندی سے وہ شہر اپنی جھلک دکھا رہا ہے جس پر کیسے کیسے ستم نہ توڑے گئے۔ اس پر قدم رکھنے والے جرنیل نے غرور و نخوت سے کہا ’’مجھے انسان نہیں، زمین چاہیے‘‘ اس حکم کے بعد زمین پر انسان فرش کی طرح بچھا دیے گئے اور پھر صرف چند مہینوں میں اپنے ہی ملک کو فتح کرنے کے جنون میں گرفتار جرنیلوں کو وقت نے ایک تماشا بنادیا۔ جس شہر کو فتح کرنے کی قسم کھائی گئی تھی اسی کے ایک ہرے بھرے اور دور دور تک پھیلے ہوئے سبزہ زار میں انھوں نے اپنے ہتھیار فاتحین کی خدمت میں رکھ دیے۔

کیا دانش مند اور دانش جُو اقلیت تھی جس نے اپنی اکثریت کی جائز جمہوری خواہشوں اور مطالبوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے بہتر یہ جانا کہ ان کے سامنے ہتھیار ڈالیں جنھیں وہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ جمہوریت اور جمہوری رائے کے احترام سے اتنی شدید نفرت شاید ہی کہیں اور کی جاتی ہو۔ اس صورتحال کا تجزیہ پاکستان کے معتبر تاریخ داں کے کے عزیز نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ انھوں نے کہا ’’میں سمجھتا ہوں کہ مغربی پاکستان کے لوگ مجموعی طور پر پاگل ہوگئے تھے۔

انھوں نے اس بات کا اہتمام کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ہمارے بنگالی بھائی ہمیں چھوڑ جائیں۔ پریس بھی برابر کا ذمے دار ہے۔ کاروباری لوگوں نے بھی بنگالیوں کا استحصال کیا۔ جو سرکاری ملازم مشرقی پاکستان میں متعین تھے وہ بنگالیوں کو ’’کمّی‘‘ سمجھتے تھے۔ اور یقیناً فوج جو بعد میں وارد ہوئی، اور سیاستدان جو کسی طور اس پر یقین رکھتے تھے کہ مشرقی پاکستان سے نوآبادی کا سا سلوک جاری رکھا جائے۔ مغربی پاکستان کی سیاسی جماعتیں شاید کسی پہلو پر اختلاف کریں، کسی مسئلہ پر، کسی اصول پر، مگر ان میں سے کوئی بھی اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا کہ بنگالیوں کی اکثریت ان پر حکمرانی کرے جو کہ جمہوریت کا تقاضا تھا۔‘‘

بنگلہ دیش کی پیدائش کے خونیں واقعات سے یہ نوجوان واقف تو ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ یکم مارچ 1970ء سے 16 دسمبر 1970ء تک اس خطۂ ارض پر کیا گزری تھی جسے مغربی پاکستان کی فوجی اور سول نوکر شاہی نے 14 اگست 1947ء سے اپنی نوآبادی تصور کیا تھا اور اس کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا تھا جو فاتح، مفتوحین کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔

پاکستان کی بنیادوں میں باردو بچھانے اور دراڑیں ڈالنے کاکام ہمارے مقتدرین روز اول سے کرتے چلے آئے ہیں اور آج تک خشوع وخضوع سے اس کام میں مصروف ہیں۔ یہی کام مشرقی پاکستان میں ہوا۔ شہید اللہ قیصر، ریحان ظہیر اور متعدد دوسرے بنگلہ دانشور، ادیب، مصور اور شاعر جو مشرقی پاکستان پر قابض مقتدر طاقتوں کے نقطہ نظر سے اختلاف رکھتے تھے ’’غائب‘‘ ہوگئے تھے۔ شاید مجھے ’’غائب کردیے گئے‘‘ لکھنا چاہیے۔ لیکن بزدلی میرے قلم کو روک لیتی ہے۔ سنا ہے ایک اجتماعی قبر بھی تھی جس میں بہت سے غائب ہوجانے والوںنے آرام کیا۔ عرصے سے بلوچستان میں بھی اختلاف رائے کرنے والے ’’غائب‘‘ ہوجاتے ہیں اور سال چھ مہینے بعد پردۂ غیب سے ان کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوجاتی ہیں اور کچھ ہمیشہ کے لیے غائب ہوجاتے ہیں۔

1971ء میں جب تک کہ ہمارے بنگالی ہم وطنوں نے ہماری جمہوریت دشمنی اور جاگیردارانہ ذہنیت سے تنگ آکر ہم سے نجات حاصل نہیں کرلی اس وقت تک ہم انھیں کیسے کیسے خطاب سے نوازتے رہے۔ وہ ’’ٹنکو‘‘ (پستہ قامت) تھے۔ کچھ انھیں ’’بلڈی بنگو‘‘ کہتے رہے۔ کسی کو ان کی رنگت پر اعتراض تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہندوؤں کے ساتھ ان کی رواداری اور ان کے مقامی رسم و رواج ہمارے یہاں حقارت سے دیکھے جاتے اور انھیں ’’ہندو‘‘ کہا جاتا۔ کہنے والوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ ڈھاکا مسجدوں کا شہر کہلاتا ہے یہاں مغل شہزادوں، صوبیداروں اور مالدار زمینداروں کی بنائی ہوئی مسجدوں کا سلسلہ سترہویں صدی سے شروع ہوگیا تھا۔

اسلام خان، شائستہ خان، ملک امبر، موسیٰ خان کی مسجدیں، ست گنبد مسجد جو سترہویں صدی میں بنی، اٹھارہویں، انیسویں اور بیسویں صدی میں نئی اور شاندار مسجدوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہا۔ مغل دور ختم ہوچکا تھا۔ شہزادوں اور صوبیداروں کی سرپرستی قصۂ پارینہ ہوچکی تھی۔ اب بیوپاریوں کا زمانہ تھا۔ انھوںنے نئی مسجدیں بنائیں، پرانی تعمیر شدہ مسجدوں کو آراستہ و پیراستہ کیا اور 1960ء میں حاجی لطیف باوانی کی بنائی ہوئی مسجد بیت المکرم شہر کی پہچان بن چکی ہے۔ 60 ہزار اسکوائر فٹ پر پھیلی ہوئی یہ مسجد فراخی اور سادگی کا نمونہ ہے۔ اس کی بلند وبالا محرابیں، اس کے سبک ستون ہسپانوی طرز تعمیر کی یاد دلاتے ہیں۔

اس کے برابر کی گلی ٹھیلوں اور چھوٹی دکانوں سے پٹی پڑی ہے۔ پرانی کتابیں، لنگیاں، ساڑیاں، بچوں کے سستے کھلونے، اگربتیاں، شمعیں، جو جی چاہیے خریدیے اور دل شاد کیجیے۔ مسجد کے گرد کھوے سے کھوا چھلتا ہے اور وہ بنگالی جسے ہم ’’حقیقی مسلمان‘‘ بھی نہیں مانتے تھے۔ اذان ہوتے ہی مسجد بیت المکرم اور شہر کی دوسری تمام مسجدوں کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ بنگلہ دیش وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہوتا ہے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ اس میں حج سے زیادہ زائرین جمع ہوتے ہیں۔ چاقو چھری نہیں چلتی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اس بڑے اجتماع کی نگرانی نہیں کرتا۔ مانجھی، مچھیرا، مزدور جاتا ہے اور اپنے رب سے سب کچھ مانگ کر آجاتا ہے۔ جو نہ ملے اس پر ناراض نہیں ہوتا اور جو مل جائے اس پر شکرانے کی نمازیں ادا کرتا ہے۔

یہاں کی نئی نسل بلند عزائم رکھتی ہے۔ بنگالیوں کو پستہ قامت کہنے اورگہری رنگت کا طعنہ دینے والے اب انھیں دیکھیں تو حیران رہ جائیں۔ متوسط اور طبقۂ اعلیٰ کی لڑکیاں اور لڑکے بالا قامت ہوچکے۔ ان کے چہروں کی ملاحت اور صباحت نگاہوں میں کھبتی ہے۔ ادب، سائنس اور سماجی علوم میں تخلیقی کام زور شور سے ہورہا ہے۔ ان کے بہت سے ناول نگار اب براہ راست انگریزی میں لکھتے ہیں اور بین الاقوامی ادبی برادری میں اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ بہت سے لکھنے والوں کی شاعری اور ناول بنگلہ سے انگریزی میں ترجمہ ہورہے ہیں۔

پیروں کے نیچے سے مسافتیں گزرتی چلی جاتی ہیں۔ یہ توپ خانہ روڈ ہے۔ چلیں چاندنی چوک چلیں۔ ایک پھیرا نیو مارکیٹ اور بائیسکل اسٹریٹ کا لگائیں۔ سینٹرل جیل کی دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بخشی بازار میں حسینی دالان جائیں۔ امام باڑے کی زیارت کریں۔ اس کے ساتھ ہی وہ چھوٹا سا قبرستان دیکھیں جہاں صدی ڈیڑھ صدی پرانی قبریں ہیں جن پر چند شمعیں روشن ہیں۔ ان قبروں پر شمع روشن کرتے ہوئے میری آنکھیں نم ہیں۔

ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ متحدہ پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ ہماری مقتدر اشرافیہ نے کیا۔ تاریخ کے اس خونیں باب کی جھلکیاں ڈاکٹر جعفر نے اور میں نے ’’لبریشن وار میوزیم‘‘ میں دیکھیں۔ 25 مارچ 1971 سے دسمبر 71ء میں ہتھیار ڈالنے کے لمحے تک مشرقی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ جس سفاکی کا سلوک ہوا، اس کی روداد تصویروں، اخباری صفحوں، کھوپڑیوں اور بازوں کی ہڈیوں کے ڈھیر کی صورت میں موجود ہے۔

عورتیں، مرد، بچے، کٹی پھٹی لاشیں، وہ استاد، دانشور، ادیب، شاعر، فنکار جو اس خطا میں مار دیے گئے کہ وہ اپنے لوگوں کے جمہوری حقوق کی جدوجہد میں فوجی جنتا کے مخالف تھے۔ وہ انورا بی بی جو اپنے شیر خوار بچے کو گود میں لے کر حکومت مخالف جلسے میں شرکت کے لیے نکلی تھی اور دودھ پلاتے ہوئے قتل کی گئی تھی۔ ماں کو گولی مارنے والے نے بچے پر رحم کیا اور دوسری گولی اسے بھی ماردی۔ بن ماں کا بچہ در بہ در بھٹکتا رہتا۔ اچھا ہے کہ وہ بھی ماں کے ساتھ سوئے۔

مقتولین کے دربار میں ہم بہ چشم نم ہاتھ باندھے سر جھکائے کھڑے رہے۔ ہم جو قاتل نہ تھے لیکن اس قبیلے سے تو تھے۔ آج یہ تمام باتیں کس شدت کے ساتھ یاد آرہی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  28101
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
این اے 120لاہور کے ضمنی انتخابات میں نون لیگ نے کامیابی حاصل کرلی۔ تحریک انصاف نے 2013ء کے مقابلہ میں 6ہزار ووٹ کم لئے تو نو ن لیگ کے ووٹوں میں بھی 30ہزار کے قریب کمی ہوئی۔
قذافی اسٹیڈیم’’گونواز گو‘‘ کے نعروں سے گونج رہا تھا اور میں اپنی نشست پر بیٹھا تلملا رہا تھا۔ نواز شریف کے ساتھ اختلاف کے ایک سو ایک دوسرے طریقے ہیں لیکن پاکستان اور ورلڈ الیون کے کرکٹ میچ سے چند منٹ قبل اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں
شہزادہ سلیم کو اپنے کبوتروں سے بہت پیار تھا، کنیز کے ہاتھ میں وہ کبوتر تھے ۔۔ کہ اچانک ایک کبوتر اس کے ہاتھ سے نکلا اور اڑن چھو ہو گیا۔۔
کسی زمانے میں جب کسی کام میں وقت ضائع ہوتا تھا تو کہتے تھے کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔۔۔ آج یہ محاورہ بہت شدت سے یاد آیا جب سر شام کچھ شرفاء نے سفر کا قصد کیا۔مگر محاورہ میں کچھ ترمیم یار لوگوں نے کردی ہے: کھایا پیا حلوہ مانڈا، میٹرو سٹیشن کا گلاس توڑا بارہ لاکھ۔۔۔

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔
نیویارک میں ایک کمپنی نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بازار میں بوتھ بنادیا ہے جس کا سن کر ہی انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اس کمپنی نے مردوں کو خودلذتی کا موقع فراہم کرنے کے لیے بازار کے بیچ یہ بوتھ بنایا ہے

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں