Sunday, 26 May, 2019
فریادی ننھی پری! خواب ریاست ِمدینہ کے

فریادی ننھی پری! خواب ریاست ِمدینہ کے
عرفان اطہر قاضی کا کالم

 

ہمیں تو کوئی تحفظ دو، ہمیں بھی کوئی پوچھے، تم سے کوئی بھیک تو نہیں مانگ رہے، ہر دور میں ہر حکومت نے وعدہ کیا، تم کچھ کر نہیں سکتے سرکاری نوکری دے نہیں سکتے لیکن ہمیں اپنا کاروبار تو کرنے دو۔ یہ قرضے تو ہم نے ہی پورے کرنے ہیں۔ اوہ بھائی! ہوٹل میں بارہ بندے کام کررہے ہیں ان کا چولہا نہیںجل رہا۔12 کو 12 سے ضرب دو144 بندے ہوگئے نا ، اور تم ہو کہ ہمیں اندرسے(ہوٹل سے) اٹھا کر لے جارہے ہو، بھائی! تم لوگ کہہ رہے ہو کہ تم کاروبار کیوں کررہے ہو؟ تم لوگ ہمیں مجبور کررہے ہو کہ فٹ پاتھوں پرنکل جائیں، چوریاں کریں، ڈاکے ماریں اور جو آتا ہے اسے لوٹیںاور چھینیں، ہمیں ادھر گودام میں ذخیرہ کرو (قید کرو) تم ختم کرو عوام کو، جائو دے دو یہ ملک کسی غلام پرست قوم کو۔ جدھر جائو دھکے کھاتا ہے یہ غریب۔ جدھر جائو ذلیل ہو کر آتا ہے یہ غریب۔ کبھی کسی حکمران نے پوچھا ہے کہ یار! تم کیا ہو؟ کیسے ہو؟ کیا کررہے ہو؟

آج اگر میڈیا ہماری مدد کو آجاتا تو کیا جاتاتھا میڈیا کا؟ جائو خبر نامہ دیکھو، نیوز سنو، بیٹھ جائو کسی چینل کے سامنے۔ آج ’’اسحاق ڈار’’ کو پکڑ لیا، آج فلانے ڈار کو پکڑ لیا۔ آج ایک اور چور پکڑا گیا، کل دوسرا موالی پکڑا گیا۔ کوئی ہمیں بھی پکڑ کے لائو نا(ہماری مدد کو آئونا)۔ کسی دن ہمیں بھی کھینچ کر لائو نا(ہمارا حال پوچھو نا) کہ بھائی! تم کیوں اتنی بھری جوانی میںرو رہے ہو؟ آنسو کیوں بہا رہے ہو؟ سنو! جوان کا آنسو موت ہوتا ہے موت۔ آج میں ہزاروں بندوں کے سامنے رو رہا ہوں یہ میری موت ہے۔آج میں بے بس ہو کراپنے مال کے لٹنے پر رو رہا ہوں۔

چنیوٹ کی ایک ننھی پری میری آنکھوں کے سامنے ہے جسے ایک پھل فروش نے اس کی ریڑھی سے چند روپے چوری کرنے پر پکڑ کر موٹی موٹی دو رسیوں سے ہاتھ پائوں باندھ کر بیچ چوراہے بٹھا دیا ہے۔ وہ ننھی پری بے حس لوگوں کے سامنے چیخیں مار رہی ہے ، فریاد کررہی ہے، اپنی ماں کو یاد کرکے لوگوں سے التجا کررہی ہے کہ مجھے جانے دو۔ اس کے آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے اور بے حس لوگ یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ آخر چار پانچ سال کی یہ بچی پیسے چوری کرنے پر مجبور کیوں ہوئی؟

کوئی یہ نہیں سوچتااس ننھی پری کو بیچ چوراہے رسیوں سے باندھ کر جو تماشا لگایا گیا ہے کیا یہ ہمارا انصاف ہے، عدل ہے اور اسے کیا نام دیں گے آپ،کیا یہ ہمارا مستقبل ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ سرعام تماشا دیکھنے کی بجائے اس کو سینے سے لگائے اس کو پیار کرے ، اس کو نئے کپڑے لے کر دے، سکول میں داخل کرائے، چاکلیٹ کھلائے، وہ تمام ارمان پورے کرے جو ہم ماں باپ اپنے بچوں کی خواہشات پوری کرنے کی خاطر کرتے ہیں۔ حکمران تو حکمران بحیثیت انسان ہم سب ہی بے حس ہو چکے ہیں۔ کسی دم توڑتے شخص کو سہارا دینے کی بجائے اس کی تڑپتی لاش کے ساتھ سیلفیاں بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ عجیب بے حس معاشرہ ہے اپنی ہی بیٹیوں کو بیچ چوراہے تماشا بنانے پر خوشی محسوس کرنے لگا ہے۔ اگر آج ہم بحیثیت مجموعی بے حس نہ ہوتے تو ہمارے معاشی، سماجی حالات بھی ایسے ابتر نہ ہوتے۔ ہماری بدحالی کی وجہ صرف حکمران نہیں ہم خود بھی ہیں۔ ہمارے ضمیر کی بے حسی ہے جو ہمارے اندر چپے چپے پر پھیلی ہے۔ ہم اپنی ہی زنجیروں میں جکڑے ہیں اور توقع رکھتے ہیں حکمرانوں سے۔ وہ تو آتے ہی مال بنانے ہیں۔ ایک نوجوان کی جمع پونجی لٹنے اور چار پانچ سال کی معصوم پری کو رسیوں سے باندھ کر تماشا دیکھنے والی قوم کو راحت، سکون، آسودگی کیسے میسر آسکتی ہے۔ ایسی قوم پر صرف تنگیاں اور مشکلات ہی آتی ہیں۔ آپ محل مانگتے ہیں، بھرے خزانوں کے خواب دیکھتے ہیں۔ آپ ہی قومی خزانے لوٹنے والوں کوفرشی سلام پیش کرتے ہیں۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز کرتے ہیں لیکن یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ آپ بھی بے ضمیرہیں۔ 

دوسروں کی بے بسی کا تماشا دیکھنے والے ہمیشہ محکوم ہی رہتے ہیں، عزت و وقار ان کے مقدر میں نہیں ہوتے بلکہ ذلت و رسوائی کے گڑھے ان کے منتظر ہوتے ہیں۔ جب تک ہم اپنا حق مانگنے سے پہلے اپنا فرض ادا کرنے کی روش اختیار نہیںکریں گے اسی طرح چلاتے رہیں گے۔ رسیوں میں بندھی ننھی پری ایک لڑکی نہیں بلکہ پوری قوم کی بیٹی ہے۔ اگر اس کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بھی اہل علاقہ کا دل نہیں پسیجا، ان کی غیرت نہیں جاگی تو پھر آج کی انسانیت گئی گھاس چرنے۔ کہاں تھے اُس وقت وہاں کے حاجی نمازی؟ جھوٹا وقار، جھوٹی عزت اور اونچا شملہ اندر کے جانور کو تھپکی دے کر سلایا نہیںکرتے بلکہ اسے جھنجھوڑ کر اس کی آنکھیں کھلی رکھتے ہیں تاکہ اپنی حیوانیت سے وہ اپنی انا کی تسکین کرتا رہے۔ بے حسی کی ان حدوں کو چھونے کے بعد بھی کیا ہم انسان کہلانے کے حق دار ہیں، کیا ہمیں پھر بھی شور مچانا چاہئے کہ ہمیں ہمارے حقوق دو۔ کیا ہماری بے حسی کی ذمہ دار بھی استعماری طاقتیں ہیں؟ 

جانے دیجئے جناب جانے دیجئے! اپنے چہرے سے انسانیت کا نقاب اتاریئے۔ آپ کا ووٹ بھی بے ضمیری کا، آپ کے ووٹ سے منتخب ہونے والے حکمران بھی بے ضمیر۔ آپ چند روپے چرانے والی معصوم بچی کو رسیوں سے باندھ کر بیچ چوراہے اپنے حقوق کی کیسے بات کرسکتے ہیں؟ معصوم بچوں، نوجوانوں کا حق چھین کر کون سے روشن مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہیں؟ معاشرے کا ایک آدھ بندہ بے حس ہوتا تو کوئی اور بات تھی یہ تو ممکن ہے کہ ہزار انسانوں میں سے کوئی ایک آدھ بے حس نکل آئے لیکن ایک مہذب معاشرے میں یہ کس طرح ممکن ہے کہ پورے کا پورا ہجوم ہی معصوم بچی کا تماشا دیکھنے بیٹھ جائے۔ چنیوٹ کی معصوم کلی اور کراچی کے نوجوان کی چیخیں، 

فریادیں سن کر اگر کسی حکمران ، کسی شخص ، کسی ماں، کسی باپ، کسی بہن، کسی بھائی کو اپنے گھر میں بیٹھی ماں، بہن، بیٹی یاد نہیں تو تف ہے ایسے معاشرے اور اس کی ترقی کے خوابوں پر اور ہم دیکھ رہے ہیں خواب ریاست مدینہ کے۔ آپ تو اس ریاست کی خاک کے برابر بھی نہیں جس کا تذکرہ اپنی زبان پر لاتے ہوئے آپ اپنے معاشرہ کی حالت ِزار سے اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  4611
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
سیاسیات اور عالمی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کبھی خودمختار نہیں رہا، امریکہ نے اِس براعظم کے ملکوں کے دفاع کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے کر اس کو خودمختار دفاعی نظام سے دور رکھا اگرچہ دوسری عالمی جنگ
فرید خان طوفان اب تو لڑھکتے لڑھکتے تحریک انصاف کا حصہ بن گئے ہیں لیکن آج بھی دل سے پختون قوم پرست ہیں ۔ دور طالب علمی میں اے این پی کی طلبہ تنظیم پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ اور اس کے رہنما رہے ۔ اس دور سے باچا خان
گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب حکومت نے پٹرول کی قیمتوںمیں بھی اضافہ کر دیا ہے یہ اضافہ حکومت کو بہت پہلے ہی کر دینا تھا لیکن عوامی دبائو کے باعث اس میں تاخیر ہوتی رہی اور اب عوام کے دبائو کے باوجود ملکی خسارے میں کمی
گزشتہ دس دن بڑے سکون سے گزرے ۔ پاکستانی ٹی وی ٹاک شوز سے بھی نجات ملی رہی اور پاکستانی سیاست پر قابض سیاسی نابالغوں کی تو تو میں میں سے بھی۔ نہ کوئی کفر کا فتویٰ سننے کو ملا اور نہ غداری کا الزام ۔ نہ زبان درازی دیکھنے کو ملی

مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی آڈیو ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی کرداروں کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا گیا۔ نیب کی طرف سے دائر کیا جانے والا ریفرنس 630 صفحات پر مشتمل ہے جس میں آڈیو
لاڑکانہ میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے رتو ڈیرو میں بچوں سمیت سیکڑوں افراد کے ایڈز مبتلا ہونے کے مسئلے پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی اور ایڈز میں بہت فرق ہے، ایچ آئی وی کا علاج نہ ہو تو دس
اسلام آباد میں وفاقی وزراء اور چیئرمین ایف بی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ موجود حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معاشی حالت بہت بری تھی، جب حکومت آئی تو قرضہ 31 ہزار ارب روپے سے زیادہ تھا، برآمدات گر رہی تھیں
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں