Thursday, 26 November, 2020
’’سعودی کے خلاف پروپیگنڈہ: ہوشیار رہنا ہوگا‘‘

’’سعودی کے خلاف پروپیگنڈہ: ہوشیار رہنا ہوگا‘‘
جاوید ملک / شب وروز

 

یہ خبر ہر پاکستانی کیلئے اتنی تکلیف دہ تھی کہ جیسے اسے زندہ کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا گیا ہو اس خبر کو سوشل میڈیا پر انتہائی منظم طریقے سے پھیلایا گیا لمحوں میں یہ افواہ ٹاپ ٹرینڈ بن گئی کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملہ میں سعودی عرب نے پاکستان کے خلاف ووٹ دے دیا میں نے پوری قوم کو کراہتے دیکھا لوگ اس پر غم غصے اور برہمی کا اظہار کر رہے تھے پھر اچانک اس جھوٹ پر تیل چھڑکنے کیلئے کئی خود ساختہ کہانیاں سامنے آنے لگیں ایک صاحب فرما رہے تھے کہ سعودی عرب نے نہ صرف خود ووٹ نہیں دیا بلکہ باقی ممالک سے بھی گذارش کی کہ پاکستان کے حق میں ووٹ نہ دیا جائے ایک صحافی نے تو یہاں کہہ دیا کہ اس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک خصوصی ایلچی ترکی کے صدر طیب اردوان کے پاس بھیجا اور انہیں پاکستان کے خلاف ووٹ دینے کی اپیل کی تا کہ پاکستان کو پنجوں میں دبوچا جا سکے جتنے منہ اتنی باتیں کتا کان لے گیا سب کتے کے پیچھے دوڑ رہے تھے اور اپنا کان کوئی نہیں دیکھ رہا تھا معاملہ کی نذاکت کو سمجھتے ہوئے جمعرات کے دن پاکستان کی وزارت خارجہ کو یہ بیان جاری کرنا پڑا کہ یہ ساری خبریں من گھڑت جھوٹ اور کسی مکروہ منصوبہ کا حصہ ہیں ایف اے ٹی ایف کے حالیہ جاری اجلاس میں پاکستان کا مدعا جمعہ کے روز زیر بحث آنا ہے تو اس سے دو دن قبل ہی سعودی عرب نے پاکستان کے خلاف ووٹ کیسے دے دیا۔

اس افواہ کو جس منظم طریقے سے پھیلایا گیا اس کو دیکھتے ہوئے کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی لازوال دوستی میں دراڑ ڈالنے کیلئے سازشی عناصر انتہائی دیدہ دلیری سے اپنا مکروہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں ممالک کی دوستیاں اتار چڑھاؤ دیکھتی رہتی ہیں لیکن پاکستان سعودی عرب کی دوستی صرف حکومتی سطح کے تعلقات کی دوستی نہیں ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے عوام کی ایک دوسرے سے محبت عقیدت اور بھائی چارہ کے مضبوط ستونوں پر کھڑی ہے اور یہ مضبوط دوستی پاکستان اور سعودی عرب دونوں کے مخالفین کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھبتی ہے اس لیئے اپنی انا کو تسکین دینے کیلئے مخالفین ایسے گھٹیا اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں مجھے ذرائع ابلاغ کے ان نمائندوں پر بھی حیرت ہوتی ہے جو ایسی افواہوں کو اپنی جھوٹی کہانیوں کا ایندھن فراہم کرتے ہیں کیا ان کو معلوم نہیں ہے کہ یہ کہانیاں وہ اس ولی عہد کیلئے گھڑ رہے ہیں جو ببانگ دہل یہ کہہ چکا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر میں خود ہوں۔

یہ پروپیگنڈہ کا دور ہے جس کا بنیادی تقاضہ احتیاط ہے ہماری مذہبی تعلیمات بھی یہی ہیں کہ سنی سنائی باتوں پر کان نہ دھرا جائے بلکہ ہر خبر کی تصدیق لازم کی جائے ابھی دو روز قبل ہی ہمارے پڑوسی دشمن ملک ہندوستان کا میڈیا چھنگاڑ رہا تھا کہ کراچی میں سول وار شروع ہوچکی ہے وہ جھوٹ کو مصالحہ لگا لگا کر بیان کر رہا تھا اور ایسا ماحول تخلیق کر رہا تھا جیسے پتا نہیں پاکستان میں کیا افتاد آ گئی کراچی کے مکینوں نے اس جھوٹ کا جس طرح مقابلہ کیا اور سوشل میڈیا پر انڈیا کا لمحوں میں جو تمسخر بنا وہ ریکارڈ پر ہے اس حزیمت کے بعد بھی ہمارے بے شرم دشمن اپنی اوچھی حرکتوں سے باز نہیں آ رہے ہیں اور آئے دن نئی افواہ تخلیق کر کے گھٹیا کھیل کھیلتے رہتے ہیں جس کا جواب صرف ہوش مندی ہے

مجھے یقین ہے کہ جمعہ کے روز ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوگا اور یہ یقین اتنا مستحکم ہے کہ کوئی افواہ اس میں دراڑ نہیں ڈال سکتی یہ صرف میرا نہیں بائیس کروڑ پاکستانی عوام کا یقین ہے یہ یقین غرور اور مان کی مٹی میں گوندھا ہوا ہے سعودی عرب نے ماضی میں جس طرح ہر مشکل اور کھٹن گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا ہے وہ ایک روشن تاریخ ہے اور تاریخ بدلا نہیں کرتی دنیا میں دوستی اور دشمنی کے معیار بدلتے رہیں ہیں اور بدلتے رہیں گے مفادات ملکی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں نئے اتحاد وقوع پذیر ہوتے ہیں نئے بلاکس کی تشکیل ہوتی ہے لیکن دنیاوی نفع نقصان مفادات اور غرض سے بلند پاک سعودی دوستی انشااللہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گی ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہوگی اور اس دوستی میں دراڑ ڈالنے کے ارمانوں پر خاک ڈالتی رہے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  91797
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2017ء میں سعودی عرب کی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا اور مہنگا منصوبہ پیش کیا، جس کا عنوان وژن 2030ء رکھا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ پراجیکٹ جدید معیارات کے مطابق اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا۔ اس کے ذریعے سعودی عرب کی آمدنی کا تیل پر انحصار ختم کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت بحیرہ احمر کے کنارے 12 شہروں کو بسایا جانا ہے، اسے نیوم پراجیکٹ کہتے ہیں۔
سعودی اور اماراتی معیشت دن بدن زبوں حالی کا شکار ہورہی ہے۔ ایسے میں انصار اللہ کے سپاہیوں نے مختلف محاذوں پر کامیابی حاصل کی ہے لہٰذا یمن پر آگ برساتی جنگ بندی تو اس جنگ کے خاتمے کا ذریعہ بنتی دکھائی نہیں دیتی لیکن دست قدرت کی کار فرمائی سے مظلوموں کو آخرکار نجات ضرور ملے گی۔
کرونا وائرس ایک ایسا نام جسے دور حاضر میں وائرسز کی دنیا کے سب سے بڑے اورطاقت ور وائرس کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ جانوروں سے پھیلنے والے اس خطرناک وائرس نے بالخصوص عالمی دنیا میں ایک تہلکہ مچا رکھا ہے۔
2018 میں سرکاری حج کی فیس دو لاکھ اسی ہزار روپے تھی جو افراد اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب تھے انہوں نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے جمع تفریق شروع کردی تھی۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

مقبول ترین
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی قضائے الہیٰ سے انتقال کر گئے ہیں۔ میڈیا کے مطابق وہ چند دنوں‌سے شدید علیل تھے۔ مولانا خادم حسین رضوی صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں قران پاک حفظ کیا ہوا تھا۔
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے جلسوں پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ جلسے اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے ہم حکومتی پابندی کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ بات اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل
ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار نے خبردار کیا ہے کہ نومبر اور دسمبر میں کراچی، لاہور اور پشاور میں بھارتی دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابر افتخار نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مشترکہ
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارت نے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ایل او سی پر محاز کھول دیا ہے، 7 اور 8 نومبر کو مبینہ طور پر بھارتی فوج کی ضلع کپواڑہ میں حریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی، جھڑپ حریت پسندوں

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں