Saturday, 08 August, 2020
مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکی صدر کی پیشکش

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکی صدر کی پیشکش
طاہر یاسین طاہر کا کالم

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان آج کل سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں شریک ہیں، جہاں انھوں نے خطاب بھی کیا، اور مختلف سربراہان مملکت سے ملاقاتیں بھی کیں۔ان ہی ملاقاتوں کے دوران میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیووس میں ایک بار پھر 'مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر دونوں رہنماوں کے درمیان انتہائی خوشگوار ماحول میں سائڈ لائن ملاقات ہوئی۔باضابطہ ملاقات سے قبل دونوں رہنماوں نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو کی، اس دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے دوبارہ مل کر خوشی ہوئی، امریکی صدر کے ساتھ افغان امن عمل پر بھی بات ہوگی۔انہوں نے  مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔ افغانستان کے معاملے پر امریکا اور پاکستان ایک صفحے پر ہیں جبکہ افغانستان میں قیام امن، طالبان اور حکومت کے معاملات کا مذاکرات سے حل چاہتے ہیں۔

عمران خان نے مزیدکہا کہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ بھارت کے ساتھ معاملات ہیں، امید ہے کہ امریکا اس معاملے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا کیونکہ بھارت کے ساتھ معاملات کوئی دوسرا ملک حل نہیں کر سکتا۔اس موقع پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان میرے دوست ہیں، ان سے دوبارہ ملاقات پر خوشی ہوئی۔امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اچھے تعلقات ہیں جبکہ دونوں ممالک آج سے پہلے اتنے قریب کبھی نہ تھے۔امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ 'عمران خان سے ملاقات میں کشمیر کی صورتحال پر بات کریں گے، پاکستان اور بھارت کے درمیان جو کچھ ہو رہا ہے اس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں جبکہ میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کردار ادا کرسکتا ہوں۔
اس امر میں کلام نہیں کہ کشمیر کا مسئلہ گزشتہ سات دہائیوں سے پاک بھارت تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مگر مسئلہ کشمیر کی موجودہ  صورتحال یا مقبوضہ وادی کی موجودہ ناکہ بندی، کرفیو کا نفاذ اور مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی پارلیمان میں قانون سازی نے عالمی برادری کے کان کھڑے کر دیے ہیں۔ صرف یہہی نہیں بلکہ بھارت کے " شہریت بل" اور اس پر ہونے والے احتجاج نے بھی بھارتی ریاست کے  منہ پر سے اس کا نام نہاد سیکولر نقاب کھینچ لیا ہے اورنقاب کے نیچے سے اصل ہندو توا کا انتہا پسندانہ نظریہ سامنے آ گیا ہے۔بھارت داخلی سطح پر انتہائی دباؤ کا شکار ہے،اقلیتوں سے ناروا اور غیر انسانی سلوک  بھارتی جمہوری نظام کی ناکامی اورمودی حکومت کی انتہا پسندانہ سرگرمیوں کا نکتہ عروج ہے۔مقبوضہ وادی، وادی کشمیر کی  حیثیت کے حوالے سے بھارتی پارلیمان نے جو قانون پاس کیا ہے اس کے بعد سے تا دمِ تحریر مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت مقبوضہ وادی کے باسیوں کو حق خود ارادیت کے تحت یہ حق حاصل ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ الحاق کریں یا پاکستان کے ساتھ۔ مگر بھارت نے جو کہ خود اس کیس کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا، اس  نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو کبھی بھی در خورِ اعتنا نہیں سمجھا۔بھارت اگر آج مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹا لے تو اسے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنے پاس کیے گئے قانون کی اصلیت کا علم ہو جائے۔ یہ بھارتی سرکار کا اندرونی خوف ہی ہے کہ اس نے آج کئی ماہ سے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذکیا ہوا ہے۔مقبوضہ وادی کے باسی جبری زندگی گزار رہے ہیں، یا یوں کہیے کہ انھیں ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔اگرچہ نظر بندی میں نظر بند فرد یا افراد کو کچھ رعایتیں بھی حاصل ہوتی ہیں مگر مقبوضہ وادی کے لوگ بے یارو مددگار ہیں۔

یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ امریکہ یا دنیا کے دیگر فیصلہ ساز ممالک نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے لیے" ثالثی" کی پیشکش کی ہو۔لیکن بھارت کبھی بھی اس عالمی پیشکش پر مثبت جواب نہیں دیتا،اور سچ تو یہ ہے کہ عالمی برادری بھی اس انتہائی سنگین مسئلہ کو حل کرانے میں گہری  اور سنجیدہ دلچسپی نہیں لیتی۔چند دن پہلے بھارتی جنرل کا بیان تھا کہ اگر انھیں سول قیادت نے حکم دیا تو وہ آزاد کشمیر پر حملہ کر دیں گے۔ یہ بیان بھارتی عزائم اور کشمیر و پاکستان کے حوالے سے بھارتی جارحانہ پالیسی کا کھلم کھلا اظہار ہے۔ بھارتی جنرل کے بیان کے جواب میں پاکستان نے بھی دوٹوک الفاط میں کہا کہ اگر بھارت نے کوئی شرارت کی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا۔ قبل ازیں شاہ محمود قریشی بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے عالمی برادری کو بتا دیا ہے کہ بھارت نے اگر گڑ بڑ کی تو پاکستان تحمل کا مظاہرہ کرنے کے بجائے بھر پور جوابی کارروائی کرے گا۔اسی طرح وزیر اعظم عمران خان بھی گزشتہ کچھ دنوں میں کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ انھیں بھارت کی جانب سے جعلی حملے کا خطرہ ہے۔اور اگر بھارت نے اندرونی سیاسی بحران سے توجہ ہتانے کے لیے ایسا کوئی ایڈونچر کیا تو پاکستان بھر پور جواب دے گا۔

بے شک عالمی برادری خطے کی موجودہ سیاسی و عسکری سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ کو اس وقت جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ایرانی رد عمل کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔امریکہ جانتا ہے کہ مسلم دنیا میں اب امریکی جارحیت کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا  ہے۔شاید موجودہ حالات کے تناظر میں ہی امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ بات خوش آئند ہے لیکن کیا بھارت بھی امریکہ کی یہ پیشکش قبول کرے گا؟ اور مسئلہ کشمیر کو بارود کے بجائے سفارتی آداب کے تحت سیاسی انداز میں حل کرنے پر آمادہ ہو جائے گا؟بھارتی وزیر اعظم کی سیاسی جماعت،مودی کی اپنی جارحانہ و انتہا پسندانہ طبیعت اور ہندو توا کے پرچارکر آر ایس ایس کے غنڈے کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ یہ مسئلہ سفارتی آداب اور عالمی برادری کی ثالثی سے حل ہو،یہاں تک کہ عالمی برادی بھارتی حکومت پر سخت سفارتی دباؤ ڈالے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرانے میں واقعی سنجیدگی دکھانے میں کامیاب ہو جائے۔بہ صورت دگرمقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم جاری رہیں گے اور عالمی برادری صرف بیانات کی حد تک اس مسئلے کو حل کرانے میں اپنی ثالثی کی پیشکشیں کرتی رہے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  85803
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
وطن عزیز میں ایک ہی دن کورونا وائرس سے 96 سے زائد افراد کا جان بحق ہونا ان ملکی و عالمی ماہرین کی پیشنگوئی سچ ثابت کررہا ہے جو تواتر سے عالمی وبا کی تباہ کاریوں بارے تنبیہہ کر رہے،ادھر اہل پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ اکثریت اس وبا کے مضمرات پر سنجیدگی سے غور کرنے آمادہ نہیں، سرکار کی جانب سے عیدالفطر پر”جزوی لاک ڈاؤن“ کھولنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی قابل ذکر تعداد نے لاپرواہی برتی
ایک طرف امریکا کو کرونا وائر س کی وجہ سے شدید مشکلات درپیش ہیں اور دوسری طرف ایسی خبریں آرہی ہیں جن کے مطابق امریکی افواج عراق میں کسی نئی مہم جوئی کی تیاری کررہی ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکا یہ غلطی کرے گا؟
بہت سادہ سے سوالات ہیں۔ ان پر سنجیدگی سے غور کریں۔ شاید آپ کے اندر سے کوئی آواز آئے اور آپ کو ان سوالات کا جواب مل جائے اور پھر آپ یہ بھی جان جائیں گے کہ آپ تاریخ کی رائٹ سائیڈ پر کھڑے ہیں یا رانگ سائیڈ پر۔
دنیا میں تقریباً دو سو سے زائد ملک ہیں، ان ملکوں میں حکمرانی کے پانچ قسم کے ماڈل رائج ہیں، جمہوریت، بادشاہت، آمریت، یک جماعتی نظام اور ہائبرڈ جمہوریت۔

مزید خبریں
سید منور حسن مسلم امہ کا اثاثہ و سرمایہ تھے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء پر نہیں ہو سکے گا۔
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔

مقبول ترین
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل نجی ٹی وی چینل پر کشمیر اور مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے متعلق ایک بیان دیا جسے بعدازاں چینل نے سینسر کر دیا گیا۔
احتساب عدالت نے پارک لین ریفرنس میں نیب کے دائرہ اختیار کیخلاف آصف زرداری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پیر کے روز فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تحریری حکم نامہ آج ہی جاری کریں گے جس میں ضروری ہدایات دی جائیں گی۔
اس میں شک نہیں کہ مختلف دینی مسالک کے ماننے والوں کا عمومی رویہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کی بات نہیں سنتے بلکہ اپنی محفلوں میں دوسروں کو آنے کی دعوت تک نہیں دیتے ۔ اس غیر صحت مندانہ رجحان سے غیر صحت مندانہ معاشر ہ تشکیل پاچکا ہے ۔ اس صورت حال کا ازالہ بحیثیت قوم بقا کے لیے ناگزیر ہے ۔ اس سلسلے میں ہم ذیل میں چند معروضات پیش کرتے ہیں :
احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کردی۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا صحت جرم سے انکار کردیا، عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب گواہوں کو طلب کرلیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں