Monday, 20 January, 2020
کپتان فنکاروں کے چنگل میں ہیں

کپتان فنکاروں کے چنگل میں ہیں
جاوید ملک / شب و روز

 

اعزاز سید میرے قابل قدر دوست اور شہر اقتدار کے با خبر صحافی ہیں وہ خبر کی تلاش میں کسی بھی حد تک جانے کے قائل ہیں اوکھلی میں سر دیتے ہیں اور دھمکیوں سے گھبراتے نہیں ہیں ۔ ہرروز اپنے لیئے ایک تازہ مصیبت گھڑنے میں اس قدر مہارت حاصل کرچکے ہیں کہ اب شاید بغیر تنازع کے ان کو دن بے رونق لگتا ہے میں ہمیشہ سے ان کی جرا ¿ت کا قائل اور اپنے پیشے سے ایمانداری کا معترف رہا ہوں ۔ انہوںنے چند ماہ قبل موجودہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے دوران پس پردہ کھیل کے پردے چاک کئے اس کھیل سے واقف اس شہر کے نصف درجن صحافی ضرور تھے مگر اس حق گوئی کے بیان کا حوصلہ صرف اعزاز کے پاس ہی تھا ۔
چند روز قبل جاوید چوہدری کا دو اقساط پر مبنی کالم چیئرمین نیب سے ملاقات چھپا تو اعزاز سید کے اُٹھائے گئے سوالات بھی گردجھاڑھ کر پھر تازہ ہوگئے ۔ جاوید چوہدری کے اس کالم کے بھی کئی مخفی راز ہیں اور چونکہ وہ لفظوں کے کھلاڑی ہیں اس لیئے انہوں نے اپنے مقاصد بہ خوبی حاصل کئے ہیںاور آنے والے چند دنوں میں ان کے ہر جملے کی اصل شکل سامنے آجائے گی ۔ اس کالم کے دوسرے حصے میں جاوید چوہدری نے خود اقرار کیا کہ نیب کے بعض لوگوں نے تحریف بھی کروائی لیکن اس کالم نے چیئرمین نیب کو سخت پریشان کیا ہے ۔

اتوار کے دن چیئرمین نیب نے اس حوالہ سے پریس کانفرنس طلب کی اس سے قبل نیب کے ترجمان اس کالم کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دے چکے تھے لیکن ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ اور بااعتماد نظر آنے کی اداکاری کرنے کے باوجود صاف دکھائی دے رہا تھا کہ چیئرمین نیب کا بیانیہ انتہائی پھیکا ہے بلکہ درحقیقت وہ کالم کے کئی مندرجات کی تصدیق کرتے چلے جارہے ہیں ان کی اس بوکھلاہٹ کو ایک بار پھر اعزاز سید نے اس وقت تڑکہ لگایا جب چیئرمین نیب بغیر صحافیوں کے سوال سنے رخصت ہورہے تھے انہوں نے ایک بار پھر سوال دوہرایا کہ چیئرمین نیب نے اپنی تعیناتی کیلئے کس کاروباری شخصیت سے ملاقات کی تھی ۔ وہ حسب توقع اس سوال پر کوئی جواب نہ دے پائے ۔ کچھ واقفان حال تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کاروبار ی شخصیت نے صرف سفارش نہیں کی تھی بلکہ وہ ضامن بنے تھے اور آج کل اسی ضمانت کا بوجھ ان کی برداشت سے باہر ہورہا ہے ۔اب چیئرمین نیب اپنے ضامن کی خلاصی نہیں کرپارہے ہیں ذرائع بتاتے ہیں کہ اس میں رکاوٹ شاید ان کی بعض غیر نصابی سرگرمیاں ہیں جو کچھ ایسے اداروں کے ہاتھ لگ گئیں ہیں جو ان کے استعمال میں انتہائی مہارت اور غضب کی شہرت رکھتے ہیں ۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر علی زید ی نے بھی اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں انکشاف کیا کہ ان کی وزارت کے افسران نیب کے خوف سے کام کرنے کو تیار نہیں ہیں اور باقی وزارتوں کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے یہ ہی سبب ہے کہ نظام مملکت چل نہیں پارہا خسارہ بڑھ رہا ہے اور حالات کشیدہ ہورہے ہیں ۔ان کا یہ موقف حقیقت پر مبنی ہے اور مملکت کو چلانے کیلئے افسران کو اعتماد دینا پڑتا ہے ۔بیوروکریسی تو کام روک کر بیٹھی ہے بیرونی سرمایہ کارناموافق حالات کی بناءپر ملک سے جانے پر مجبور ہے جبکہ ہمارا اپنا سرمایہ دار بھی اڑنے کی فکر میں ہے اور انکی دلیل بھی درست ہے کہ وہ بھی پیسہ لگا کر نظام کی خرابیوں کا الزام اپنے سرکیوں لیں ،ملک کا معاشی پہیہ بھی چلائیں اور کل انکوائریاں بھی بھگتیں ........کیوں ؟

برادر خوشنود علی خان عرصہ دراز سے اپنے کالموں میں نشاندہی کررہے ہیں کہ میڈیا انڈسٹری کی تباہی کا سبب بھی نیب کے مضحکہ خیز مقدمات ہیں ،انعام اکبر کی طویل گرفتاری نے اس شعبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور نیب کی بے حسی اس صنعت کو اس دلدل میں دھکیلتی جارہی ہے جہاں سے پھر مستقبل قریب میں نکلنا شاید ناممکن ہو میں ان سے ایک اضافے کے ساتھ مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ میڈیا انڈسٹری کی اس تباہی کی پہلی ذمہ دار نیب اور دوسرے ایک غیر ذمہ دار، کرپٹ اور بے حس وفاقی سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل ہیں ۔

 وزیر اعظم عمران خان کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھا گیا ہے وہ جذباتی ضرور ہیں مگر سفاک انسان نہیں ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ فردوس عاشق اعوان نے وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد جب اصل تصویر ان کے سامنے رکھی تو صنعت کی حالت زار سے ان کا دل دہل گیا انہوں نے فوری طور پر میڈیا کو بقایاجات کی ادائیگی کا حکم جاری کیا تاکہ کارکن صحافیوں کے گھر کا چولہا جلتا رہے مگر اب ایک بار پھر سیکرٹری اطلاعات فنکاری دکھاگئے ہیں میرے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کو جن اشتہاری ایجنسیوں کے بقایا جات کی لسٹ بھیجی گئی ہے اس میں دانستہ انعام اکبر کی تینوں اشتہاری ایجنسیوں کی رقوم اس لیئے متنازعہ کرکے روک لی گیئںکہ مقدمات نیب میں ہیں یہ بات سب جانتے ہیں کہ جتنا کام باقی ساری ایجنسایاں مل کر کرتی ہیں انعام اکبر کی ایک اشتہاری ایجنسی تنہاان سے زیادہ کام کرتی ہے اس لیئے اگر ان ایجنسیوں کو نکال کر ادائیگیاں کی جاتی ہیں تو اس سے بڑے پیمانے پر کوئی بہتری ممکن نہیں ہے ۔اس لیئے یہ کہنا درست ہوگا کہ کپتان کی نیک نیتی اپنی جگہ مگر ماہر سیکرٹری اطلاعات ایک بار پھر پورے نظام سے ہاتھ کرگیا ہے ۔رضیہ تو شاید غنڈوں کے چنگل سے نکل گئی تھی مگر کپتان ان فنکاروں سے بچتے دکھائی نہیں دے رہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  26018
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
مجھے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انگریز کس ملک سے آئے، میں برطانیہ انگریز اور فرنگی کو الگ الگ خانے میں رکھتا تھا۔ کیونکہ صادق بازار میں ہر اتوار کو گورے صاحبوں اور میموں کی ایک بس بھر کے گڈو پاور پلانٹ سے آتی تھی اور سب دکان
شہر قائد کے گلی کوچوں میں سانس لینے والو! اُردو، سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، بلتی بولنے والو آپ کو یاد ہے نا! آج کتاب میلے میں ملنا ہے۔ ایکسپو سینٹر میں کتابیں حروف کے آنچل لیے معانی کے حجاب اوڑھے۔ دانش کی اجرک لپیٹے۔
بہت سادہ سے سوالات ہیں۔ ان پر سنجیدگی سے غور کریں۔ شاید آپ کے اندر سے کوئی آواز آئے اور آپ کو ان سوالات کا جواب مل جائے اور پھر آپ یہ بھی جان جائیں گے کہ آپ تاریخ کی رائٹ سائیڈ پر کھڑے ہیں یا رانگ سائیڈ پر۔
یہ الفاظ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے 2016میں کہے تھے جس پر کچھ محبِ وطن بھڑک اُٹھے اور اُنہوں نے اسفند یار ولی پر غداری کا الزام لگا کر اُنہیں افغانستان جانے کا حکم دیا لیکن اے این پی کے صدر نے یہ حکم نظر انداز کر دیا تھا۔

مزید خبریں
اسپیکٹیٹر انڈیکس نے سال 2019 کی د نیا میں رہائش کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس فہرست کے مطابق بھارت رہائش کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیا ہے جبکہ پہلے نمبر پر برازیل، دوسرے پر ساؤتھ افریقہ، تیسرے پر نائجیریا اور چوتھے پر ارجنٹینا ہے۔
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
چینی دفترخارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک تاریخی مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں پر امن طریقے
سوشل میڈیا کے اس دور میں پروپیگنڈہ کرنا اور عوام الناس کو متاثر کرنا انتہائی آسان ہو چکا ہے۔ نیم خواندہ یا ان پڑھ لوگ تو درکنار انتہائی پڑھے لکھے افراد بھی بآسانی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مقبول ترین
بنگلہ دیش اور افغانستان نے بھارت کے متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کی مخالفت کردی۔ مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے اور 3 ممالک کے ہندو، سکھ، جین، بدھ مت، مسیحی اور پارسیوں کو شہریت دینے کا کہا گیا ہے۔
وزیر اعلی پنجاب نے آٹے بحران کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس طلب کر لیا، اجلاس آج ایوان وزیر اعلیٰ میں عثمان بزدار کی زیر صدارت ہو گا۔
وزیراعظم, عمران خان, ملائشین وزیراعظم, مہاتیر محمد, اسلامی دنیا, تجربہ کار, حکمران, مسائل,
وزیرِ اعظم عمران خان کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ میڈیا پر آٹا سپلائی سے متعلق منفی پروپیگنڈا چل رہا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں