Sunday, 16 June, 2019
کپتان فنکاروں کے چنگل میں ہیں

کپتان فنکاروں کے چنگل میں ہیں
جاوید ملک / شب و روز

 

اعزاز سید میرے قابل قدر دوست اور شہر اقتدار کے با خبر صحافی ہیں وہ خبر کی تلاش میں کسی بھی حد تک جانے کے قائل ہیں اوکھلی میں سر دیتے ہیں اور دھمکیوں سے گھبراتے نہیں ہیں ۔ ہرروز اپنے لیئے ایک تازہ مصیبت گھڑنے میں اس قدر مہارت حاصل کرچکے ہیں کہ اب شاید بغیر تنازع کے ان کو دن بے رونق لگتا ہے میں ہمیشہ سے ان کی جرا ¿ت کا قائل اور اپنے پیشے سے ایمانداری کا معترف رہا ہوں ۔ انہوںنے چند ماہ قبل موجودہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے دوران پس پردہ کھیل کے پردے چاک کئے اس کھیل سے واقف اس شہر کے نصف درجن صحافی ضرور تھے مگر اس حق گوئی کے بیان کا حوصلہ صرف اعزاز کے پاس ہی تھا ۔
چند روز قبل جاوید چوہدری کا دو اقساط پر مبنی کالم چیئرمین نیب سے ملاقات چھپا تو اعزاز سید کے اُٹھائے گئے سوالات بھی گردجھاڑھ کر پھر تازہ ہوگئے ۔ جاوید چوہدری کے اس کالم کے بھی کئی مخفی راز ہیں اور چونکہ وہ لفظوں کے کھلاڑی ہیں اس لیئے انہوں نے اپنے مقاصد بہ خوبی حاصل کئے ہیںاور آنے والے چند دنوں میں ان کے ہر جملے کی اصل شکل سامنے آجائے گی ۔ اس کالم کے دوسرے حصے میں جاوید چوہدری نے خود اقرار کیا کہ نیب کے بعض لوگوں نے تحریف بھی کروائی لیکن اس کالم نے چیئرمین نیب کو سخت پریشان کیا ہے ۔

اتوار کے دن چیئرمین نیب نے اس حوالہ سے پریس کانفرنس طلب کی اس سے قبل نیب کے ترجمان اس کالم کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دے چکے تھے لیکن ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ اور بااعتماد نظر آنے کی اداکاری کرنے کے باوجود صاف دکھائی دے رہا تھا کہ چیئرمین نیب کا بیانیہ انتہائی پھیکا ہے بلکہ درحقیقت وہ کالم کے کئی مندرجات کی تصدیق کرتے چلے جارہے ہیں ان کی اس بوکھلاہٹ کو ایک بار پھر اعزاز سید نے اس وقت تڑکہ لگایا جب چیئرمین نیب بغیر صحافیوں کے سوال سنے رخصت ہورہے تھے انہوں نے ایک بار پھر سوال دوہرایا کہ چیئرمین نیب نے اپنی تعیناتی کیلئے کس کاروباری شخصیت سے ملاقات کی تھی ۔ وہ حسب توقع اس سوال پر کوئی جواب نہ دے پائے ۔ کچھ واقفان حال تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کاروبار ی شخصیت نے صرف سفارش نہیں کی تھی بلکہ وہ ضامن بنے تھے اور آج کل اسی ضمانت کا بوجھ ان کی برداشت سے باہر ہورہا ہے ۔اب چیئرمین نیب اپنے ضامن کی خلاصی نہیں کرپارہے ہیں ذرائع بتاتے ہیں کہ اس میں رکاوٹ شاید ان کی بعض غیر نصابی سرگرمیاں ہیں جو کچھ ایسے اداروں کے ہاتھ لگ گئیں ہیں جو ان کے استعمال میں انتہائی مہارت اور غضب کی شہرت رکھتے ہیں ۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر علی زید ی نے بھی اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں انکشاف کیا کہ ان کی وزارت کے افسران نیب کے خوف سے کام کرنے کو تیار نہیں ہیں اور باقی وزارتوں کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے یہ ہی سبب ہے کہ نظام مملکت چل نہیں پارہا خسارہ بڑھ رہا ہے اور حالات کشیدہ ہورہے ہیں ۔ان کا یہ موقف حقیقت پر مبنی ہے اور مملکت کو چلانے کیلئے افسران کو اعتماد دینا پڑتا ہے ۔بیوروکریسی تو کام روک کر بیٹھی ہے بیرونی سرمایہ کارناموافق حالات کی بناءپر ملک سے جانے پر مجبور ہے جبکہ ہمارا اپنا سرمایہ دار بھی اڑنے کی فکر میں ہے اور انکی دلیل بھی درست ہے کہ وہ بھی پیسہ لگا کر نظام کی خرابیوں کا الزام اپنے سرکیوں لیں ،ملک کا معاشی پہیہ بھی چلائیں اور کل انکوائریاں بھی بھگتیں ........کیوں ؟

برادر خوشنود علی خان عرصہ دراز سے اپنے کالموں میں نشاندہی کررہے ہیں کہ میڈیا انڈسٹری کی تباہی کا سبب بھی نیب کے مضحکہ خیز مقدمات ہیں ،انعام اکبر کی طویل گرفتاری نے اس شعبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور نیب کی بے حسی اس صنعت کو اس دلدل میں دھکیلتی جارہی ہے جہاں سے پھر مستقبل قریب میں نکلنا شاید ناممکن ہو میں ان سے ایک اضافے کے ساتھ مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ میڈیا انڈسٹری کی اس تباہی کی پہلی ذمہ دار نیب اور دوسرے ایک غیر ذمہ دار، کرپٹ اور بے حس وفاقی سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل ہیں ۔

 وزیر اعظم عمران خان کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھا گیا ہے وہ جذباتی ضرور ہیں مگر سفاک انسان نہیں ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ فردوس عاشق اعوان نے وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد جب اصل تصویر ان کے سامنے رکھی تو صنعت کی حالت زار سے ان کا دل دہل گیا انہوں نے فوری طور پر میڈیا کو بقایاجات کی ادائیگی کا حکم جاری کیا تاکہ کارکن صحافیوں کے گھر کا چولہا جلتا رہے مگر اب ایک بار پھر سیکرٹری اطلاعات فنکاری دکھاگئے ہیں میرے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کو جن اشتہاری ایجنسیوں کے بقایا جات کی لسٹ بھیجی گئی ہے اس میں دانستہ انعام اکبر کی تینوں اشتہاری ایجنسیوں کی رقوم اس لیئے متنازعہ کرکے روک لی گیئںکہ مقدمات نیب میں ہیں یہ بات سب جانتے ہیں کہ جتنا کام باقی ساری ایجنسایاں مل کر کرتی ہیں انعام اکبر کی ایک اشتہاری ایجنسی تنہاان سے زیادہ کام کرتی ہے اس لیئے اگر ان ایجنسیوں کو نکال کر ادائیگیاں کی جاتی ہیں تو اس سے بڑے پیمانے پر کوئی بہتری ممکن نہیں ہے ۔اس لیئے یہ کہنا درست ہوگا کہ کپتان کی نیک نیتی اپنی جگہ مگر ماہر سیکرٹری اطلاعات ایک بار پھر پورے نظام سے ہاتھ کرگیا ہے ۔رضیہ تو شاید غنڈوں کے چنگل سے نکل گئی تھی مگر کپتان ان فنکاروں سے بچتے دکھائی نہیں دے رہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  89688
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یہ الفاظ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے 2016میں کہے تھے جس پر کچھ محبِ وطن بھڑک اُٹھے اور اُنہوں نے اسفند یار ولی پر غداری کا الزام لگا کر اُنہیں افغانستان جانے کا حکم دیا لیکن اے این پی کے صدر نے یہ حکم نظر انداز کر دیا تھا۔
بائیس جنوری کو ’’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ کے زیرعنوان اپنے کالم میں استاد محترم سہیل وڑائچ نے جو لطیفہ تحریر کیا ، وہ مجھے محترم محمد علی درانی نے تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ایک اور پیرائے میں سنایا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک نابینا سردار جی
تاریخ میں پہلی بار۔یہ فقرہ عمران خان نے اپنا تکیہ کلام بنالیا تھا۔ وہ کوئی بھی کام کرتے تو کہتے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے حالانکہ وہ کام اس سے پہلے بھی ہورہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے ترجمانوں اور خادمین نے بھی یہ فقرہ دہرانا شروع کیا۔
سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک برطانوی سفارت کار نے میرے انگریزی کے کالموں پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ سوال پوچھا کہ آپ کے پاس سوالیہ نشانوں کا کتنا بڑا ذخیرہ ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ ان کا اشارہ میری تحریر میں سوالوں کی گردش یا تکرار کی جانب تھا۔

مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جتنے کیس بنانے ہیں بنا لیں، میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ، سول کورٹس اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم کو طلب کر لیا ہے، انھیں کل احتساب عدالت میں پیش
سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا وقت پورا ہوچکا ہے اور وہ جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر رہنماؤں سے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اننت ناگ سے گزرنے والے بھارتی سیکیورٹی فورس (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) کے قافلے پر 2 مسلح افراد نے فائرنگ کردی، ملزمان فائرنگ کے بعد فورسز کی گاڑی پر دستی بم بھی پھینک گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں