Tuesday, 15 October, 2019
کپتان فنکاروں کے چنگل میں ہیں

کپتان فنکاروں کے چنگل میں ہیں
جاوید ملک / شب و روز

 

اعزاز سید میرے قابل قدر دوست اور شہر اقتدار کے با خبر صحافی ہیں وہ خبر کی تلاش میں کسی بھی حد تک جانے کے قائل ہیں اوکھلی میں سر دیتے ہیں اور دھمکیوں سے گھبراتے نہیں ہیں ۔ ہرروز اپنے لیئے ایک تازہ مصیبت گھڑنے میں اس قدر مہارت حاصل کرچکے ہیں کہ اب شاید بغیر تنازع کے ان کو دن بے رونق لگتا ہے میں ہمیشہ سے ان کی جرا ¿ت کا قائل اور اپنے پیشے سے ایمانداری کا معترف رہا ہوں ۔ انہوںنے چند ماہ قبل موجودہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے دوران پس پردہ کھیل کے پردے چاک کئے اس کھیل سے واقف اس شہر کے نصف درجن صحافی ضرور تھے مگر اس حق گوئی کے بیان کا حوصلہ صرف اعزاز کے پاس ہی تھا ۔
چند روز قبل جاوید چوہدری کا دو اقساط پر مبنی کالم چیئرمین نیب سے ملاقات چھپا تو اعزاز سید کے اُٹھائے گئے سوالات بھی گردجھاڑھ کر پھر تازہ ہوگئے ۔ جاوید چوہدری کے اس کالم کے بھی کئی مخفی راز ہیں اور چونکہ وہ لفظوں کے کھلاڑی ہیں اس لیئے انہوں نے اپنے مقاصد بہ خوبی حاصل کئے ہیںاور آنے والے چند دنوں میں ان کے ہر جملے کی اصل شکل سامنے آجائے گی ۔ اس کالم کے دوسرے حصے میں جاوید چوہدری نے خود اقرار کیا کہ نیب کے بعض لوگوں نے تحریف بھی کروائی لیکن اس کالم نے چیئرمین نیب کو سخت پریشان کیا ہے ۔

اتوار کے دن چیئرمین نیب نے اس حوالہ سے پریس کانفرنس طلب کی اس سے قبل نیب کے ترجمان اس کالم کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دے چکے تھے لیکن ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ اور بااعتماد نظر آنے کی اداکاری کرنے کے باوجود صاف دکھائی دے رہا تھا کہ چیئرمین نیب کا بیانیہ انتہائی پھیکا ہے بلکہ درحقیقت وہ کالم کے کئی مندرجات کی تصدیق کرتے چلے جارہے ہیں ان کی اس بوکھلاہٹ کو ایک بار پھر اعزاز سید نے اس وقت تڑکہ لگایا جب چیئرمین نیب بغیر صحافیوں کے سوال سنے رخصت ہورہے تھے انہوں نے ایک بار پھر سوال دوہرایا کہ چیئرمین نیب نے اپنی تعیناتی کیلئے کس کاروباری شخصیت سے ملاقات کی تھی ۔ وہ حسب توقع اس سوال پر کوئی جواب نہ دے پائے ۔ کچھ واقفان حال تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کاروبار ی شخصیت نے صرف سفارش نہیں کی تھی بلکہ وہ ضامن بنے تھے اور آج کل اسی ضمانت کا بوجھ ان کی برداشت سے باہر ہورہا ہے ۔اب چیئرمین نیب اپنے ضامن کی خلاصی نہیں کرپارہے ہیں ذرائع بتاتے ہیں کہ اس میں رکاوٹ شاید ان کی بعض غیر نصابی سرگرمیاں ہیں جو کچھ ایسے اداروں کے ہاتھ لگ گئیں ہیں جو ان کے استعمال میں انتہائی مہارت اور غضب کی شہرت رکھتے ہیں ۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر علی زید ی نے بھی اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں انکشاف کیا کہ ان کی وزارت کے افسران نیب کے خوف سے کام کرنے کو تیار نہیں ہیں اور باقی وزارتوں کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے یہ ہی سبب ہے کہ نظام مملکت چل نہیں پارہا خسارہ بڑھ رہا ہے اور حالات کشیدہ ہورہے ہیں ۔ان کا یہ موقف حقیقت پر مبنی ہے اور مملکت کو چلانے کیلئے افسران کو اعتماد دینا پڑتا ہے ۔بیوروکریسی تو کام روک کر بیٹھی ہے بیرونی سرمایہ کارناموافق حالات کی بناءپر ملک سے جانے پر مجبور ہے جبکہ ہمارا اپنا سرمایہ دار بھی اڑنے کی فکر میں ہے اور انکی دلیل بھی درست ہے کہ وہ بھی پیسہ لگا کر نظام کی خرابیوں کا الزام اپنے سرکیوں لیں ،ملک کا معاشی پہیہ بھی چلائیں اور کل انکوائریاں بھی بھگتیں ........کیوں ؟

برادر خوشنود علی خان عرصہ دراز سے اپنے کالموں میں نشاندہی کررہے ہیں کہ میڈیا انڈسٹری کی تباہی کا سبب بھی نیب کے مضحکہ خیز مقدمات ہیں ،انعام اکبر کی طویل گرفتاری نے اس شعبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور نیب کی بے حسی اس صنعت کو اس دلدل میں دھکیلتی جارہی ہے جہاں سے پھر مستقبل قریب میں نکلنا شاید ناممکن ہو میں ان سے ایک اضافے کے ساتھ مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ میڈیا انڈسٹری کی اس تباہی کی پہلی ذمہ دار نیب اور دوسرے ایک غیر ذمہ دار، کرپٹ اور بے حس وفاقی سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل ہیں ۔

 وزیر اعظم عمران خان کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھا گیا ہے وہ جذباتی ضرور ہیں مگر سفاک انسان نہیں ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ فردوس عاشق اعوان نے وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد جب اصل تصویر ان کے سامنے رکھی تو صنعت کی حالت زار سے ان کا دل دہل گیا انہوں نے فوری طور پر میڈیا کو بقایاجات کی ادائیگی کا حکم جاری کیا تاکہ کارکن صحافیوں کے گھر کا چولہا جلتا رہے مگر اب ایک بار پھر سیکرٹری اطلاعات فنکاری دکھاگئے ہیں میرے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کو جن اشتہاری ایجنسیوں کے بقایا جات کی لسٹ بھیجی گئی ہے اس میں دانستہ انعام اکبر کی تینوں اشتہاری ایجنسیوں کی رقوم اس لیئے متنازعہ کرکے روک لی گیئںکہ مقدمات نیب میں ہیں یہ بات سب جانتے ہیں کہ جتنا کام باقی ساری ایجنسایاں مل کر کرتی ہیں انعام اکبر کی ایک اشتہاری ایجنسی تنہاان سے زیادہ کام کرتی ہے اس لیئے اگر ان ایجنسیوں کو نکال کر ادائیگیاں کی جاتی ہیں تو اس سے بڑے پیمانے پر کوئی بہتری ممکن نہیں ہے ۔اس لیئے یہ کہنا درست ہوگا کہ کپتان کی نیک نیتی اپنی جگہ مگر ماہر سیکرٹری اطلاعات ایک بار پھر پورے نظام سے ہاتھ کرگیا ہے ۔رضیہ تو شاید غنڈوں کے چنگل سے نکل گئی تھی مگر کپتان ان فنکاروں سے بچتے دکھائی نہیں دے رہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  36937
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یہ الفاظ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے 2016میں کہے تھے جس پر کچھ محبِ وطن بھڑک اُٹھے اور اُنہوں نے اسفند یار ولی پر غداری کا الزام لگا کر اُنہیں افغانستان جانے کا حکم دیا لیکن اے این پی کے صدر نے یہ حکم نظر انداز کر دیا تھا۔
اپنے ہی وطن میں اب تو ہم وطنوں سے خوف آنے لگا ہے۔ کچھ پتا نہیں کہ کب کون مار دے کافر کہہ کر۔ لگتا ہے ہم انسانوں کے درمیان نہیں، خون کے پیاسے درندوں کے درمیان رہتے ہیں، جو آپ کی حرکات و سکنات پر خونخوار
دسمبر کا مہینہ طلوع ہوتے ہی پشاور، جسے پیار سے ’’گلابوں کا شہر‘‘ کہا جاتا ہے، ہمارے جوان شہدا کے خون سے گلگوں ہو گیا ہے۔ یکم دسمبرکی صبح پونے نو بجے،جب سارے عالمِ اسلام کے ساتھ مملکتِ خداداد پاکستان
یہ درست ہے میاں نواز شریف نے چار برسوں میں اتنا کام کیا جتنا چالیس برسوں میں نہیں ہواتھا‘ حکومت نے چار برسوں میں دہشتگردی 90 فیصد کم کر دی‘ لوگ یہ کریڈٹ فوج کو دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے فوج 2013ء سے پہلے بھی موجود تھی

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔
نیویارک میں ایک کمپنی نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بازار میں بوتھ بنادیا ہے جس کا سن کر ہی انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اس کمپنی نے مردوں کو خودلذتی کا موقع فراہم کرنے کے لیے بازار کے بیچ یہ بوتھ بنایا ہے

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور
اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف انسانی زنجیر بنائی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس تقریب میں شرکت کی اور قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں
برطانوی پولیس نے 2016 میں برطانیہ سے بیٹھ کر پاکستان میں نفرت انگیز تقریر کرنے سے متعلق تفتیش میں متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین پر دہشت گردی کی دفعہ کے تحت فرد جرم عائد کردی۔
وزیراعظم کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور علاقائی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں