Tuesday, 11 August, 2020
چین بھارت کو تنہا کررہا ہے

چین بھارت کو تنہا کررہا ہے
ظہیر الدین بابر کا کالم

اس میں دوآراء نہیں کہ ایران اور بھارت کے درمیان  تعلقات میں حالیہ  سردمہری کی بڑی وجہ چین ہی ہے، تازہ پیش رفت میں تہران نے چاہ بہار بندرگارہ سے افغانستان کی سرحد کے نزدیک زاہدان تک ریلوے لائن بھارت  کی مدد کے بغیر خود تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بتایا گیا ہے کہ ایران نے یہ مذکورہ فیصلہ نئی دہلی کی جانب سے منصوبہ کے لیے فنڈز کی عدم  دسیتابی اور منصوبہ میں  کی جانے والی تاخیر کے سببب کیا، ابتدائی طور پر ایران نے قومی ترقی فنڈز سے 40کروڈ ڈالر  مختص کیے ہیں، ایران کے نقل وحمل اور شہری ترقی کے وزیر محمد اسلامی نے گذشتہ ہفتے 628 کلومیڑ لمبی چاہ بہار، زاہدان  ریلوے لائن بچھانے کا افتتاح کیا،  مسقبل میں یہ ریلوے لائن افغانستان کے زارانج  خطے تک جائے گی، منصوبہ مارچ  2020 تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔

چین اور ایران میں معاشی تعلقات میں ہونے والی پیش رفت میں نئی دہلی کی بے چینی سمجھ میں آنے والی بات ہے،بادی النظر میں یہ کہنا غلط نہیں کہ دو علاقائی قوتیں تیزی سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آرہی ہیں، زیادہ پرانی بات نہیں جب لداخ کے معاملہ پر چین اور بھارت میں کشیدگی عروج پر پہنچی، وادی گلوان میں دونوں ممالک کی فوجوں میں ہونے والا تصادم اور پھر بھارت فوج کے افسروں اور جوانوں کی ہلاکت نے بھی  کئی سنجیدہ سوالوں کو جنم دیا،  گذشتہ ہفتوں  ترجمان چینی وزارت خارجہ کے تواتر سے سامنے آنے بیانات سے یہ نتیجہ  اخذ کیا گیا گہ بیجنگ اب وادی گلوان کے معاملہ پر بھارتی ملکیتی دعوی تسلیم کرنے کو تیار نہیں، 
 ادھر جنوبی ایشیائی ممالک میں یہ تاثر ہے کہ امریکہ بھارت کی مسلسل  سرپرستی کررہا ہے، واشنگٹن کے عزائم اب ڈھکے چھپے نہیں کہ علاقائی ہی نہیں عالمی سطح پر بجینگ کے اثر رسوخ کا توڈ کرنے کے لیے واشنگٹن اورنئی دہلی میں تعاون کو بڑھایا جائے،  مبصرین کے مطابق نئی دہلی کے پالیسی ساز حلقے سمجھتے ہیں کہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر تب ہی قابو پایا جاسکتا ہے جب واشنگٹن  ان کی دادرسی  کرے، دوسری جانب  مودی سرکار پر بے چین ہے کہ امریکہ افغانستان سے فوجوں کے انخلاء کا اعلان کرچکا، درحقیقت   افغانستان میں بھارت نے طالبان سے ہمیشہ فاصلہ رکھا جس کی بظاہر وجہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان  بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلقات کو قرار دیا جاسکتا ہے، اب امریکہ و طالبان  معاہدے کے نتیجے میں بھارت  کی پریشانی بلاوجہ نہیں، کہنے کو طالبان اور امریکہ  معاہدہ مشکلات کا شکار ہے مگر اس کے ناکام کے امکانات کسی طور پر روشن نہیں،
 بعض باخبر مبصرین کا دعوی ہے  کہ آنے والے دنوں میں سفارتی محاذ پر بھارت کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے، مثلا نیپال اور سری لنکا کی جانب سے نئی دہلی کی ہاں میں ہاں ملانے کی باتیں پرانی ہوچکیں، سچ تو یہ ہے کہ بنگہ دیش کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات مثالی نہیں رہے  چنانچہ   بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ بجینگ  سوچی سمجھی سکیم کے تحت  اندرونی مسائل کے شکار بھارت کو سفارتی سطح پر  تنہائی کا شکار کررہا ہے، یقینا بڑی معاشی منڈی ہونے کی حثیثت سے نئی دہلی  کو علاقائی ہی نہیں عالمی سطح پر نظر انداز کرنا مشکل ہے  مگر  یہ خدشہ اب حقیقت بنتا جارہا  کہ قوی امکان ہے کہ  مسقبل قریب میں بھارت اپنی شرائط پر علاقائی یا عالمی سطح پر کردار ادا نہ کرسکے۔ 
سیاسی پنڈتوں کے بعقول  نریندر مودی  بھارت کی مشکلات میں کئی گنا  اضافہ کرچکے ، مثلا  ایک طرف مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیثت ختم کردی گی تو دوسری جانب شہریت کے متنازعہ قانون نے  مسلمان ہی نہیں دیگر اقلتیوں کو بھی احتجاج پر مجبور کرڈالا، بھارتیہ جنتا پارٹی کی مشکل یہ ہے کہ وہ  اکھنڈ بھارت کے فلسفہ سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں،  آر ایس ایس کے نظریات کو عملی شکل دینے کے لیے کوشاں مودی سرکار یہ سمجھنے سے قاصر ہے  کہ سیکولر ازم ہی اس کی اصل طاقت ہے،در حقیقت ہندو انتہاپسندی نے جہاں اندرونی طور پر بھارت کو کمزور کیا وہی خارجہ محاذ پر اس کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوچکا۔  سنجیدہ سفارتی حلقے اس پر متفق ہیں  کہ چین اور بھارت کو سیاسی  محاذ پر کبھی نہ کبھی  ایک دوسرے کے مد مقابل تو آنا ہی تھا مگر مودی سرکار  دونوں ملکوں میں کشیدگی کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرگی، کسی زمہ دار  ریاست کی خارجہ پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی کا امکان کم ہوا کرتا ہے چنانچہ  یہ آسان نہ ہوگا کہ  مودی سرکار کے  بعد نئی برسر اقتدار آنے والی جماعت جاری پالیسوں سے بالکل ہی یو ٹیرن لے لیں۔  
خطے میں آنے والی تبدیلیاں یقینا پاکستان کے لیے مسرور کن ہیں، ہم جانتے ہیں کہ پاکستان تواتر کساتھ بھارت سے تعلقات کی بہتری کا خواہش کا اظہار کرتا رہا مگر  مودی سرکار نے اسے محض اسلام آباد کی کمزوری سے تعبیر کیا،اب چین کا علاقائی سطح پر   بڑھتا ہوا اثر رسوخ پاکستان کو بجا طور پر  فائدہ پہنچا سکتا ہے، سی پیک  منصوبہ اسلام آباد کی معاشی ہی نہیں سفارتکاری مشکلات میں بھی کمی لانے میں معاون بن سکتا ہے، افغان طالبان کو مذاکرت کی میز پر لانا ہو یا دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اسلام آباد نے خلوص اور صلاحیت دونوں ثابت کردکھائیں چنانچہ آئندہ دنوں میں پاکستان کے لیے مذید اچھی خبروں کا ظہور ہرگز خارج ازمکان نہیں،      
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  18849
کوڈ
 
   
مزید خبریں
سید منور حسن مسلم امہ کا اثاثہ و سرمایہ تھے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء پر نہیں ہو سکے گا۔
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔

مقبول ترین
ادارہ التنزیل اور خادمان قرآن کے زیر اہتمام قرآنی ویبینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے قرآنی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ ویبینار میں قرآنی معاشرے کی تشکیل اور اس کے خدوخال کے موضوع پہ مقررین نے خطاب کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے کہا ہے کہ دنیا کو کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس سے نمٹنا دنیا بھر کےممالک کے لیے چیلنج ہے۔
شہر قائد میں مسلسل تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے جب کہ اس دوران پیش آنے والے حادثات و واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد ۹ ہوگئی ہے۔ کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل نجی ٹی وی چینل پر کشمیر اور مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے متعلق ایک بیان دیا جسے بعدازاں چینل نے سینسر کر دیا گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں