Monday, 21 October, 2019
بوڑھی سیاسی جماعتوں کا بچپنا

بوڑھی سیاسی جماعتوں کا بچپنا
وسعت اللہ خان کا کالم

نوابزادہ نصراللہ خان کی زندگی میں کسی ستم ظریف نے تبصرہ کیا کہ نوابزادہ کاپورا سیاسی کیرئیر دورِ جمہوریت میں آمریت اور آمرانہ دور میں جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد  میں گزرا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ نوابزادہ پر یہ پھبتی کس قدر حقیقت پسندانہ تھی۔ مگر جب میں اپنے اردگرد دیکھتا ہوں تو جو بات نوابزادہ کے لیے کہی گئی وہ موجودہ سیاسی پیڑھی پر زیادہ فٹ بیٹھتی ہے۔بلکہ نوابزادہ کی سیاسی نیت اس اعتبار سے مثبت تھی کہ انھوں نے کبھی ذاتی مفاد کی سیاست نہیں کی مگر سیاستدانوں کی موجودہ پیڑھی کو دیکھ کر یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا۔

آج بھی دو طرح کی اقسام دکھائی دیتی ہیں۔ وہ سیاستداں جو صرف دورِ آمریت میں پھلتے پھولتے ہیں اور جمہوری دور میں ثانوی درجے پر رہتے ہیں۔ اور وہ سیاستداں جو جمہوریت کے طفیل پھلتے ہیں مگر اپنی نادانیوں یا تنگ نظری کے نتیجے میں تمام تر اخلاص کے باوجود درست وقت پر غلط فیصلے یا پالیسیاں اپنا کر دانستہ یا نادانستہ طور پر نہ صرف اپنے بلکہ جمہوری عمل کے لیے بھی طویل المیعاد نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ اور جب غلطی کا احساس ہوتا بھی ہے تو کھلے دل سے غیر مشروط تسلیم کرنے کے بجائے اگر مگر سے آلودہ اعتراف کر کے اس اعتراف میں بھی خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

جیسے اس وقت فوری مسئلہ یہ درپیش ہے کہ کیا عام انتخابات وقت پر ہو سکیں گے؟ کیونکہ جب تک یہ آئینی شرط پوری نہیں ہوتی کہ نئی مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں تازہ حلقہ بندیاں ہوں تب تک الیکشن نہیں ہو سکتے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان پچھلے تین ماہ سے چیخ رہا ہے کہ وہ تب تک اگلے عام انتخابات کی تیاری شروع نہیں کر سکتا جب تک پارلیمنٹ اس بابت کسی قانونی نتیجے پر نہ پہنچ جائے۔ یہ مسئلہ کسی ایک پارٹی کا نہیں تمام سیاسی جماعتوں کا سانجھا ہے۔ اگر انھیں انتخابی سیاست کرنی ہے تو یہ آئینی اڑچن دور کرنی پڑے گی۔

مگر ہر جماعت اسے قومی و جمہوری مستقبل کی عینک سے دیکھنے کے بجائے انفرادی مفادات کے عدسے سے دیکھ رہی ہے۔ یا تو اس معاملے میں حمایت بھی بطور احسان کر رہی ہے یا پھر ماضی کے آئینے میں کھڑی بال سنوار رہی ہے کہ چونکہ فلاں پارٹی نے پچھلی بار میرے ساتھ یہ کیا تو اس بار حساب برابر کرنے کی میری باری ہے۔جیسے پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں تو نئی حلقہ بندیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو اختیار دینے کے بل کی عشوے غمزے دکھانے کے بعد حمایت کر دی مگر اب سینیٹ میں یہ بل پھنسا ہوا ہے کیونکہ وہاں پیپلز پارٹی کی عددی اکثریت مسلم لیگ ن سے زیادہ ہے اور اس کا رویہ اس بوڑھی عورت کا سا ہے کہ اگر میں اپنا آذان دینے والا مرغا بغل میں داب کے نکل گئی تو گاؤں میں صبح نہیں ہو گی۔

اس بابت پیپلز پارٹی کے ایک گرگِ باران ِ دیدہ  میاں منظور وٹو نے عجیب و غریب تاویل پیش کی۔فرماتے ہیں ’’قومی اسمبلی میں تو ہم نے اس لیے بل کی حمایت کر دی کیونکہ ہم جانتے تھے کہ وہاں ہماری عددی اکثریت نہیں ہے۔مگر سینیٹ میں ہم اپنے کارڈز مہارت سے کھیلیں گے جہاں ہماری اکثریت ہے۔اور ہماری قیادت وہی فیصلہ کرے گی جو ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہوگا‘‘۔ آگے فرماتے ہیں کہ حکمران مسلم لیگ کا یہ خدشہ بے بنیاد ہے کہ انتخابات کے انعقاد میں تاخیر ہو جائے گی۔یہ انتخابات 1998ء کی مردم شماری کی بنیاد پر بھی تو ہو سکتے ہیں۔

یعنی کسی بھی بل کی حمایت یا مخالفت آئینی و اصولی بنیاد پر نہیں بلکہ اڑنگے کی بنیاد پر ہے۔ جب 2014ء میں عمران خان اور طاہر القادری پارلیمنٹ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تب پیپلز پارٹی نے اپنا سارا وزن میاں صاحب کے پلڑے میں یہ کہتے ہوئے ڈال دیا تھا کہ ہم نواز شریف کو نہیں بلکہ جمہوری عمل کو بچانے کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مگر نئی حلقہ بندی کی آئینی ضرورت کو پیپلز پارٹی فروغِ جمہوریت کے بجائے آج شائد شعوری یا لاشعوری انداز میں اس نظر سے دیکھ رہی ہے کہ اگر ہم اگلے عام انتخابات میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں نہیں تو یہ انتخابات موجودہ مردم شماری کی بنیاد پر ہوں یا پرانی کی بنیاد پر ہماری بلا سے۔

تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کو جمہوری اقدار پیپلز پارٹی سے زیادہ عزیز ہیں؟ ہرگز نہیں۔ اگر اس وقت پیپلز پارٹی اقتدار میں ہوتی اور اسے یہی حلقہ بندیوں والا بل منظور کروانے کا مرحلہ درپیش ہوتا تو نون بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ وہی کرتی جو پیپلز پارٹی اس وقت کر رہی ہے۔

مسلم لیگ ن نے الیکشن ایکٹ کا ترمیمی مسودہ  چابکدستی کے ساتھ پہلے تو خراٹے لیتی سینیٹ کی الماری سے نکال لیا اور پھر عددی اکثریت کے اعتبار سے قومی اسمبلی سے منظور کروا کے نواز شریف کی عدالتی نااہلی کے باوجود پارٹی صدارت کے لیے راہ ہموار کر دی۔ اس چلتر پن کے بعد اسے یہ توقع نہیں باندھنی چاہیے کہ حزبِ اختلاف بالخصوص پیپلز پارٹی کی جانب مفاہمتی ہاتھ بڑھانے کے بھی خاطر خواہ نتائج حاصل ہو پائیں گے۔کیونکہ جہاں اسکور برابر کرنے کی سیاست ہو وہاں بڑے کینوس کے سیاسی کلچر کا عادی ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔

دونوں جماعتوں کو اگرچہ عمران خان درپیش ہیں مگر دونوں جماعتیں نوے کی دہائی کا باہم سیاسی سلوک ، چارٹر آف ڈیموکریسی پر عمل نہ کرنے کی رنجش، این آر او قبول کر کے ڈکٹیٹر سے سودے بازی کے طعنے، عدلیہ بحالی کے وعدوں سے ’’وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے‘‘ کہہ کر پھر جانے، کالا کوٹ پہن کر یوسف رضا گیلانی کی بطور وزیرِ اعظم نااہلی میں عدالت کی مدد کرنے اور ڈاکٹر عاصم کیس سمیت لاتعداد چھوٹے بڑے معاملات سے باہر نکلنے اور انھیں پسِ پشت ڈالنے اور یہ تمیز کرنے پر بھی آمادہ نہیں کہ کون سی قانون سازی کے مرحلے میں پوائنٹ اسکورنگ اور مفاداتی سیاست آگے بڑھانا جائز ہے اور کس قانون سازی کو سیاسی تلخیوں کے قرضے اتارنے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ملک، قوم اور جمہوریت کے بڑے کینوس میں دیکھنے اور جانچنے کی ضرورت ہے۔

یقین نہیں آتا کہ یہ پاکستان کی دو سب سے معمر گرم و سرد چشیدہ پارٹیاں ہیں جو اس عمر میں بھی چھپن چھپائی اور ٹام اینڈ جیری کے دور سے باہر نہیں نکل پارہیں اور طعنے عمران خان کو دیتی ہیں کہ اسے سیاست کی الف ب کا بھی پتہ نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  46979
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یہ الفاظ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے 2016میں کہے تھے جس پر کچھ محبِ وطن بھڑک اُٹھے اور اُنہوں نے اسفند یار ولی پر غداری کا الزام لگا کر اُنہیں افغانستان جانے کا حکم دیا لیکن اے این پی کے صدر نے یہ حکم نظر انداز کر دیا تھا۔
سرزمین فلسطین پر شاطر اور سفاک یہودیوں کا قبضہ عالمی سازش کا ایک حصہ ہے جو صدیوں سے مسلمانوں کے خلاف جاری ہے۔ اسرائیل کے قیام میں مغربی استعمارکا کردار روایتی اسلام دشمنی کی عکاسی کرتا ہے
چین پاکستان اکنامک کوریڈور، جسے عرفِ عام میں ’’سی پیک‘‘(CPEC) کے نام سے یاد کیاجاتا ہے، میں چینی سرمایہ کاری ساٹھ ارب ڈالر کے ہندسے کو چھُورہی ہے۔ پاکستان کی پچھلی سات عشرہ کی تاریخ میں دنیا کے
ہمیں ایک بار پھر پیچھے جانا پڑے گا‘ 12 اکتوبر 1999ء ہو گیا‘ میاں نواز شریف خاندان سمیت گرفتار ہو گئے‘ یہ اٹک قلعہ پہنچے‘ اسمبلیاں معطل تھیں‘پاکستان مسلم لیگ ن اپنی دو تہائی اکثریت کے ساتھ بوکھلائی پھر رہی تھی

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔
نیویارک میں ایک کمپنی نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بازار میں بوتھ بنادیا ہے جس کا سن کر ہی انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اس کمپنی نے مردوں کو خودلذتی کا موقع فراہم کرنے کے لیے بازار کے بیچ یہ بوتھ بنایا ہے

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں