Wednesday, 12 August, 2020
بوڑھی سیاسی جماعتوں کا بچپنا

بوڑھی سیاسی جماعتوں کا بچپنا
وسعت اللہ خان کا کالم

نوابزادہ نصراللہ خان کی زندگی میں کسی ستم ظریف نے تبصرہ کیا کہ نوابزادہ کاپورا سیاسی کیرئیر دورِ جمہوریت میں آمریت اور آمرانہ دور میں جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد  میں گزرا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ نوابزادہ پر یہ پھبتی کس قدر حقیقت پسندانہ تھی۔ مگر جب میں اپنے اردگرد دیکھتا ہوں تو جو بات نوابزادہ کے لیے کہی گئی وہ موجودہ سیاسی پیڑھی پر زیادہ فٹ بیٹھتی ہے۔بلکہ نوابزادہ کی سیاسی نیت اس اعتبار سے مثبت تھی کہ انھوں نے کبھی ذاتی مفاد کی سیاست نہیں کی مگر سیاستدانوں کی موجودہ پیڑھی کو دیکھ کر یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا۔

آج بھی دو طرح کی اقسام دکھائی دیتی ہیں۔ وہ سیاستداں جو صرف دورِ آمریت میں پھلتے پھولتے ہیں اور جمہوری دور میں ثانوی درجے پر رہتے ہیں۔ اور وہ سیاستداں جو جمہوریت کے طفیل پھلتے ہیں مگر اپنی نادانیوں یا تنگ نظری کے نتیجے میں تمام تر اخلاص کے باوجود درست وقت پر غلط فیصلے یا پالیسیاں اپنا کر دانستہ یا نادانستہ طور پر نہ صرف اپنے بلکہ جمہوری عمل کے لیے بھی طویل المیعاد نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ اور جب غلطی کا احساس ہوتا بھی ہے تو کھلے دل سے غیر مشروط تسلیم کرنے کے بجائے اگر مگر سے آلودہ اعتراف کر کے اس اعتراف میں بھی خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

جیسے اس وقت فوری مسئلہ یہ درپیش ہے کہ کیا عام انتخابات وقت پر ہو سکیں گے؟ کیونکہ جب تک یہ آئینی شرط پوری نہیں ہوتی کہ نئی مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں تازہ حلقہ بندیاں ہوں تب تک الیکشن نہیں ہو سکتے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان پچھلے تین ماہ سے چیخ رہا ہے کہ وہ تب تک اگلے عام انتخابات کی تیاری شروع نہیں کر سکتا جب تک پارلیمنٹ اس بابت کسی قانونی نتیجے پر نہ پہنچ جائے۔ یہ مسئلہ کسی ایک پارٹی کا نہیں تمام سیاسی جماعتوں کا سانجھا ہے۔ اگر انھیں انتخابی سیاست کرنی ہے تو یہ آئینی اڑچن دور کرنی پڑے گی۔

مگر ہر جماعت اسے قومی و جمہوری مستقبل کی عینک سے دیکھنے کے بجائے انفرادی مفادات کے عدسے سے دیکھ رہی ہے۔ یا تو اس معاملے میں حمایت بھی بطور احسان کر رہی ہے یا پھر ماضی کے آئینے میں کھڑی بال سنوار رہی ہے کہ چونکہ فلاں پارٹی نے پچھلی بار میرے ساتھ یہ کیا تو اس بار حساب برابر کرنے کی میری باری ہے۔جیسے پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں تو نئی حلقہ بندیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو اختیار دینے کے بل کی عشوے غمزے دکھانے کے بعد حمایت کر دی مگر اب سینیٹ میں یہ بل پھنسا ہوا ہے کیونکہ وہاں پیپلز پارٹی کی عددی اکثریت مسلم لیگ ن سے زیادہ ہے اور اس کا رویہ اس بوڑھی عورت کا سا ہے کہ اگر میں اپنا آذان دینے والا مرغا بغل میں داب کے نکل گئی تو گاؤں میں صبح نہیں ہو گی۔

اس بابت پیپلز پارٹی کے ایک گرگِ باران ِ دیدہ  میاں منظور وٹو نے عجیب و غریب تاویل پیش کی۔فرماتے ہیں ’’قومی اسمبلی میں تو ہم نے اس لیے بل کی حمایت کر دی کیونکہ ہم جانتے تھے کہ وہاں ہماری عددی اکثریت نہیں ہے۔مگر سینیٹ میں ہم اپنے کارڈز مہارت سے کھیلیں گے جہاں ہماری اکثریت ہے۔اور ہماری قیادت وہی فیصلہ کرے گی جو ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہوگا‘‘۔ آگے فرماتے ہیں کہ حکمران مسلم لیگ کا یہ خدشہ بے بنیاد ہے کہ انتخابات کے انعقاد میں تاخیر ہو جائے گی۔یہ انتخابات 1998ء کی مردم شماری کی بنیاد پر بھی تو ہو سکتے ہیں۔

یعنی کسی بھی بل کی حمایت یا مخالفت آئینی و اصولی بنیاد پر نہیں بلکہ اڑنگے کی بنیاد پر ہے۔ جب 2014ء میں عمران خان اور طاہر القادری پارلیمنٹ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تب پیپلز پارٹی نے اپنا سارا وزن میاں صاحب کے پلڑے میں یہ کہتے ہوئے ڈال دیا تھا کہ ہم نواز شریف کو نہیں بلکہ جمہوری عمل کو بچانے کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مگر نئی حلقہ بندی کی آئینی ضرورت کو پیپلز پارٹی فروغِ جمہوریت کے بجائے آج شائد شعوری یا لاشعوری انداز میں اس نظر سے دیکھ رہی ہے کہ اگر ہم اگلے عام انتخابات میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں نہیں تو یہ انتخابات موجودہ مردم شماری کی بنیاد پر ہوں یا پرانی کی بنیاد پر ہماری بلا سے۔

تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کو جمہوری اقدار پیپلز پارٹی سے زیادہ عزیز ہیں؟ ہرگز نہیں۔ اگر اس وقت پیپلز پارٹی اقتدار میں ہوتی اور اسے یہی حلقہ بندیوں والا بل منظور کروانے کا مرحلہ درپیش ہوتا تو نون بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ وہی کرتی جو پیپلز پارٹی اس وقت کر رہی ہے۔

مسلم لیگ ن نے الیکشن ایکٹ کا ترمیمی مسودہ  چابکدستی کے ساتھ پہلے تو خراٹے لیتی سینیٹ کی الماری سے نکال لیا اور پھر عددی اکثریت کے اعتبار سے قومی اسمبلی سے منظور کروا کے نواز شریف کی عدالتی نااہلی کے باوجود پارٹی صدارت کے لیے راہ ہموار کر دی۔ اس چلتر پن کے بعد اسے یہ توقع نہیں باندھنی چاہیے کہ حزبِ اختلاف بالخصوص پیپلز پارٹی کی جانب مفاہمتی ہاتھ بڑھانے کے بھی خاطر خواہ نتائج حاصل ہو پائیں گے۔کیونکہ جہاں اسکور برابر کرنے کی سیاست ہو وہاں بڑے کینوس کے سیاسی کلچر کا عادی ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔

دونوں جماعتوں کو اگرچہ عمران خان درپیش ہیں مگر دونوں جماعتیں نوے کی دہائی کا باہم سیاسی سلوک ، چارٹر آف ڈیموکریسی پر عمل نہ کرنے کی رنجش، این آر او قبول کر کے ڈکٹیٹر سے سودے بازی کے طعنے، عدلیہ بحالی کے وعدوں سے ’’وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے‘‘ کہہ کر پھر جانے، کالا کوٹ پہن کر یوسف رضا گیلانی کی بطور وزیرِ اعظم نااہلی میں عدالت کی مدد کرنے اور ڈاکٹر عاصم کیس سمیت لاتعداد چھوٹے بڑے معاملات سے باہر نکلنے اور انھیں پسِ پشت ڈالنے اور یہ تمیز کرنے پر بھی آمادہ نہیں کہ کون سی قانون سازی کے مرحلے میں پوائنٹ اسکورنگ اور مفاداتی سیاست آگے بڑھانا جائز ہے اور کس قانون سازی کو سیاسی تلخیوں کے قرضے اتارنے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ملک، قوم اور جمہوریت کے بڑے کینوس میں دیکھنے اور جانچنے کی ضرورت ہے۔

یقین نہیں آتا کہ یہ پاکستان کی دو سب سے معمر گرم و سرد چشیدہ پارٹیاں ہیں جو اس عمر میں بھی چھپن چھپائی اور ٹام اینڈ جیری کے دور سے باہر نہیں نکل پارہیں اور طعنے عمران خان کو دیتی ہیں کہ اسے سیاست کی الف ب کا بھی پتہ نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  43401
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
بظاہر وطن عزیز میں جہاں مسائل کے حجم میں اضافہ ہوا وہی ستم یہ دیکھنے میں آیا کہ کئی شعبوں میں امید کی جگہ ناامیدی نے ڈیرے جمالیے ، جمہوریت کا ایک فائدہ یہ ہوا کرتا ہے کہ اس میں شکایات یا پھر مسائل کو چھپانا آسان نہیں ہوا کرتا،
25 مئی 2020 امریکی ریاست مینیسوٹا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے امریکہ بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی پولیس کے ایسے مظالم طویل عرصے سے جاری ہیں۔
تندرستی ہزارنعمت ہے صحت مندجسم صحت منددماغ ہوتا ہے اس لئے اچھی صحت کے لئے درج ذیل ہدایات اورپرہیزپرعمل کیجئے اوربیماریوں سے دوررہیں اورصحت مندوتوانازندگی گزاریں۔ اچھی صحت کے لئے حیوانات سے حاصل ہونے والی اشیا ء کم سے کم استعمال کریں۔ چربی لگا گوشت بہت کم کھائیں۔ دخانی عمل سے پکائی ہوئی غذا /فاسٹ فوڈبالکل نہ کھائیں۔
وقت کے گرد وپیش سے بچنا یہ حالات کے نشیب و فراز سے مستثنٰی ہونا نہ صرف ناممکن بلکہ محال ہے مگر اسی طرح حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے زندگی کو ایک بہترین ڈگر پر چلانا انتہائی آسان ہے __

مزید خبریں
سید منور حسن مسلم امہ کا اثاثہ و سرمایہ تھے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء پر نہیں ہو سکے گا۔
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔

مقبول ترین
قومی اسمبلی سے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، شرکت داری محدود ذمہ داری سمیت پانچ بلز منظور کرلئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جس میں کمپنیز ترمیمی بل اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کا بل بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ اسرائیل میں موساد کی ایک خاتون جعلی اکاؤنٹ سے فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے۔ یہ خاتون فرقہ وارانہ موادسوشل میڈیا پربھیج دیتی ہے اورپھر آگے شیعہ اور سنی خود سے اسے پھیلاتے ہیں۔
سعودی عرب کے سابق انٹیلجنس افسر کی شکایت پر واشنگٹن کی ایک امریکی عدالت نے سعودی بن سلمان ولی عہد کو طلب کرلیا ہے۔ سابق سعودی انٹیلی جنس ایجنٹ کو مبینہ طور پر ناکام قاتلانہ حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی غیر قانونی اراضی کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) میں پیشی منسوخ ہوگئی۔ نون لیگی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ مجھے نقصان پہنچانے کے لیے گھر سے نیب آفس بلایا گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں