Sunday, 16 June, 2019
ہرلباس میں ننگ ِوجود

ہرلباس میں ننگ ِوجود
عطا ء الحق قاسمی کا کالم

 

بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا ایک محاورہ ہے اور ہم لوگ گزشتہ 70برس سے مختلف ادوار میں اس محاورے کو فقرے میں استعمال ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ متذکرہ محاورے کو فقرے میں استعمال کرنے والے امتحانی نقطہ نظر سے ایسا نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ طبقہ کبھی کسی امتحان سے نہیں گزرتا۔بس ہر دور میں بہتی گنگا سے ہاتھ دھونا جانتا ہے۔ جب امتحان کا وقت آتا ہے تو اس طبقے کے لوگ اپنی جگہ کسی اور کو ’’کمرہ امتحان‘‘ میں بھیج دیتے ہیں اور یوں اگلی ’’کلاس‘‘ میں پہنچ جاتے ہیں۔ جمپ لگا کر نئی ’’کلاس میں شامل ہونے والے اس طبقے کے افراد پھر سے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے محاورے کو اپنے عمل سے پبلک کو یہ تماشا دکھاتے ہیں اور حق تو یہ ہے کہ حق ادا کر دیتے ہیں۔‘‘

لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں ایک اور گروہ سامنے آیا ہے جس نے اس معاملے میں پہلے طبقے کے افراد کو بھی مات دے ڈالی ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس نے آغاز بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے نہیں کیا بلکہ درمیان کے تمام مراحل بیچ ہی میں چھوڑ کر انہوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ ڈبونے کی بجائے ڈائریکٹ اشنان شروع کر دیا۔ ان کے اس اقدام سے عوام کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی چنانچہ وہ جو ہاتھ دھونے پر اکتفا کر رہے تھے انہوں نے بھی ایک ہی جست میں اشنان کی کوششیں شروع کر دیں’’گنگا‘‘ ایک تھی اور اس سے مستفید ہونے والوں کی تعداد اس کے کناروں سے بھی بڑھ گئی چنانچہ وہ دھکم پیل شروع ہو ئی کہ خدا کی پناہ،چنانچہ جس کا زور چلا اس نے ہاتھ دھوئے اور جس کا زیادہ زور چلا اس نے کپڑے اتارے اور اشنان کر لیا۔

اس ضمن میں تازہ ترین صورتحال یہ تھی کہ لوگ اشنان کی توقع میں پہلے ہی کپڑے اتار دیتے تھے چنانچہ اس عرصے میں بڑے بڑے معززین کو دیکھا گیا کہ وہ ننگ دھڑنگ قطار میں کھڑے ہیں اور اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں بلکہ بعض ایک کو تو باقاعدہ دھکم پیل کرتے پایا گیا۔ ان میں سے کئی ایک ساحل سے ریت اٹھا اٹھا کر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھونکتے تھے ۔ کیچڑ اچھالتے تھے تاکہ اشنان میں سبقت لے سکیں۔ چنانچہ جنہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی تھی وہ عریاں اپنی جگہ پر کھڑے لوگوں کی چبھتی نظروں کا نشانہ بنتے اور اس وقت کا انتظار کرتے رہے جب بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے یا اشنان کرنے کے بعد وہ اپنی برہنگی چھپا سکیں اور پھر عزت مآب کہلائیں۔

یہ سب لوگ فائدے میں رہے کیونکہ انہوں نے جلد یا بدیر اپنے بے لباس جسم کو خلعتوں میں چھپا لیا اور شرفاء میں شمار ہونے لگے لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کے ساتھ بہت ٹریجڈی ہوئی ہے اور ان کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو بہاتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اگرچہ اشنان کے لئے بہت عرصہ سے ہاتھ پائوں مار رہے تھے اور اس کے لئے انہوں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے کپڑے بھی اتار پھینکے تھے مگر ان کی باری کچھ عرصہ پیشتر آئی چنانچہ انہوں نے فرط مسرت سے بہتی گنگا میں غوطہ لگایا اور اشنان سے فراغت کے بعد جب کپڑے پہنے اور یوں معززین کی صف میں شامل ہونے کے لئے ساحل کی طرف بڑھے تو انہوں نے دیکھا کہ کوئی ستم ظریف ان کے کپڑے اٹھا کر لے گیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ ان کے کپڑے وہاں سے غائب ہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں عوام ساحل پر کھڑے ہیں اور انہیں دیکھ کر اپنی دو انگلیوں سے سیٹیاں بجا رہے ہیں اور قہقہے لگا رہے ہیں۔ ادھر گنگا کا پانی بھی اتر گیا ہے اور یوں معززین اپنی برہنگی چھپانے کی بے سود کوشش کر رہے ہیں۔ سو اب صورت حال یہ ہے کہ عوام انہیں دیکھ کر سیٹیاں بجا رہے ہیں اور وہ دونوں ہاتھوں سے برہنگی چھپانے میں مشغول ہیں۔ نہ ان سے پانی کے اندر کھڑا ہوا جاتا ہے اور نہ وہ باہر آسکتے ہیں۔

افسوس کہ ان مظلوموں میں سے کوئی میرے پاس نہیں آیا ورنہ میں انہیں بآسانی شرمندگی سے بچا سکتا تھا میں انہیں مشورہ دیتا کہ یہ کسی راہگیر کو روکتے ،اپنا تعارف کراتے اور یہ تعارف معمولی نہیں ہونا تھا۔ کیونکہ ’’گنگا‘‘ تک رسائی کسی عام سے بندے کے لئے ممکن نہیں تھی بلکہ یہ خواص تھے اور یہ خواص ایسے ہی نہیں بنے تھے بلکہ ’’گنگا‘‘ میں اشنان کے لئے انہیں کئی بار اس عمل سے گزرنا پڑا تھا۔اس کے بعد منزل مراد تک ان کی رسائی ہوئی تھی۔ اس بار کچھ لوگوں کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ، وہ یقیناً ان کے حریف تھے۔ جو ان کے کپڑے اٹھا کر لے گئے تھے۔اصل بات درمیان میں رہ چلی تھی ۔ میں بتارہا تھا کہ ان میں سے کوئی معزز شخص کسی ’’غیر معزز‘‘ شخص کو کہتا کہ تم مجھے اپنے کپڑے تھوڑی دیر کے لئے مستعار دو۔ میں گھر جا کر تمہیں اعلیٰ کپڑے بھجواتا ہوں تم اتنی دیر میری جگہ ’’برہنگی‘‘ کی ڈیوٹی دو۔ مجھے میری خدمات کا بدلہ ملنا ہی ملنا ہے۔ اس کے بعد تم بھی عام آدمی نہیں رہو گے ۔ اسے یہ حسین خواب دکھائو اور اسے برہنہ کر کے گھر چلے جائو ۔ من کی مرادیں پائو گے۔

میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ شخص انکار نہیں کرے گا کیونکہ ان دنوں برہنگی عیب نہیں۔ بلکہ جنہوں نے ساری عمر ایمانداری کا لباس پہنا ، ان کا لباس اتارنا کچھ لوگوں کا پیشہ ہے۔ یہ ’’پیشہ ور‘‘ ہیں اور ’’پیشہ ور‘‘ میں غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  69686
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یہ الفاظ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے 2016میں کہے تھے جس پر کچھ محبِ وطن بھڑک اُٹھے اور اُنہوں نے اسفند یار ولی پر غداری کا الزام لگا کر اُنہیں افغانستان جانے کا حکم دیا لیکن اے این پی کے صدر نے یہ حکم نظر انداز کر دیا تھا۔
بائیس جنوری کو ’’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ کے زیرعنوان اپنے کالم میں استاد محترم سہیل وڑائچ نے جو لطیفہ تحریر کیا ، وہ مجھے محترم محمد علی درانی نے تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ایک اور پیرائے میں سنایا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک نابینا سردار جی
تاریخ میں پہلی بار۔یہ فقرہ عمران خان نے اپنا تکیہ کلام بنالیا تھا۔ وہ کوئی بھی کام کرتے تو کہتے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے حالانکہ وہ کام اس سے پہلے بھی ہورہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے ترجمانوں اور خادمین نے بھی یہ فقرہ دہرانا شروع کیا۔
ہم 1947میں ہجرت سے بچ گئے مگر ہمارا گائوں تقسیم ہوگیا۔ ہمارے گائوں میں سکھ اور مسلمان آباد تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو زمینوں کا ایسا بٹوارہ ہوا کہ ہماری کچھ زمین بھارت میں چلی گئی اور سردار مولا سنگھ کی کچھ زمین

مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جتنے کیس بنانے ہیں بنا لیں، میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ، سول کورٹس اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم کو طلب کر لیا ہے، انھیں کل احتساب عدالت میں پیش
سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا وقت پورا ہوچکا ہے اور وہ جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر رہنماؤں سے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اننت ناگ سے گزرنے والے بھارتی سیکیورٹی فورس (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) کے قافلے پر 2 مسلح افراد نے فائرنگ کردی، ملزمان فائرنگ کے بعد فورسز کی گاڑی پر دستی بم بھی پھینک گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں