Thursday, 28 May, 2020
سازشوں کے سامنے باڑ

سازشوں کے سامنے باڑ
حا مد میر کا کالم

 

یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس پیش رفت پر پاکستان میں خاموشی ہے لیکن افغانستان میں شور اُٹھ رہا ہے۔ جب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اسلام آباد میں پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت پر یہ زور دے رہے تھے کہ افغانستان میں بدامنی پھیلانے والوں کے پاکستان میں ٹھکانے ختم کئے جائیں تو افغانستان کی پارلیمنٹ میں یہ شور مچایا جا رہا تھا کہ پاک افغان بارڈر پر باڑ کیوں لگائی جا رہی ہے؟ 

افغان پارلیمنٹ کے رکن شیر محمد اخونزادہ نے الزام لگایا کہ افغان حکومت نے ڈیورنڈ لائن کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ ایک خفیہ سمجھوتہ کر لیا ہے۔ ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگائی جا رہی ہے اور صدر اشرف غنی خاموش ہیں۔ رحمت اللہ اچکزئی، محمد عالم ازدیار اور فضل ہادی مسلم یار نے بھی جنوبی ہلمند سے تعلق رکھنے والے شیر محمد اخونزادہ کی حمایت کی۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف افغانستان کی اشرافیہ پاکستان پر الزام لگاتی ہے کہ اُن کے ملک میں بدامنی پاکستان سے کرائی جاتی ہے اور جب پاکستان اس الزام کا مداوا کرنے کے لئے بارڈر کو محفوظ بنا کر غیر قانونی آمد و رفت کو روکنے کی کوشش کرتا ہے تو شور مچایا جاتا ہے۔ 

1947ءکے بعد سے پاکستان ڈیورنڈ لائن کو ایک باقاعدہ بارڈر بنانا چاہتا ہے لیکن کوئی افغان حکومت راضی نہیں ہوتی۔

1976ءمیں سردار دائود اور ذوالفقار علی بھٹو ڈیورنڈ لائن کو مستقل بارڈر بنانے پر راضی ہو گئے تھے۔ سردار دائود نے پاکستان میں نیپ کے گرفتار رہنمائوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور بدلے میں ڈیورنڈ لائن کو مستقل بارڈر تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن اُس وقت جنرل ضیاء الحق نے کچھ تحفظات ظاہر کئے تھے۔ بہرحال قیام پاکستان کے 70سال کے بعد اڑھائی ہزار کلومیٹر لمبے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ 

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے پاکستان آنے سے پہلے کراچی میں ایک اہم واقعہ ہوا۔ کراچی میں افغان طالبان کے کچھ اہم رہنمائوں کو اکٹھا کیا گیا اور بتایا گیا کہ انہیں پاکستان کے راستے سے افغانستان میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس ملاقات کا اہتمام جن پاکستانی علماء کے ذریعہ ہوا انہوں نے افغان طالبان کو یہ بھی بتایا کہ آپ کا ایران کے ساتھ خفیہ تعاون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن پوری دنیا پاکستان پر الزامات لگاتی ہے۔ دنیا کہتی ہے کہ افغان طالبان کی کوئٹہ شوریٰ افغانستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہے حالانکہ آپ کی اصل شوریٰ تو ہلمند میں بیٹھی ہوئی ہے جسے افغان ایران بارڈر کی طرف سے امداد مل رہی ہے۔ 

پاکستان میں موجود افغان طالبان رہنمائوں سے کہا گیا کہ وہ یہاں سے اپنے خاندانوں کو لے جائیں یا قانون کے مطابق مہاجر بن کر پرامن زندگی گزاریں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو میری باتوں پر یقین نہ آئے لیکن پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت نے باہمی مشورے سے کچھ اہم فیصلے کئے ہیں جن پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ اس نئی حکمت عملی کا اصل مقصد مغربی سرحد کو محفوظ بنانا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے کیونکہ پاکستان کی سرزمین سے کسی دوسرے ملک میں مداخلت کرنے والے دراصل دوسرے ممالک کو پاکستان میں مداخلت کا جواز مہیا کرتے ہیں۔ 

آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ ریکس ٹلرسن اسلام آباد آئے تو پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت نے یک زبان ہو کر اُن سے بات کیوں کی۔ ایک طرف پاکستان کی سلامتی کے خلاف غیرملکی سازشیں بڑھ رہی ہیں دوسری طرف پاکستان میں سیاسی بے یقینی اور انتشار ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ پاکستان کی کچھ سیاسی جماعتوں کو ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے خلاف شور مچانے پر اکسایا جا رہا ہے۔ اس مرتبہ رقم ڈالروں میں نہیں پائونڈز میں آئی ہے جس کے ثبوت موجود ہیں۔ پاکستان کے خلاف اندر اور باہر سے اتنی زیادہ سازشیں ہو رہی ہیں لیکن میڈیا پر سیاسی بیان بازیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ ایک افغان سفارتکار نے پوچھا کہ آپ لوگ بھارت کو پاکستان کے لئے اتنا بڑا خطرہ کیوں سمجھتے ہیں؟ یہ سوال سُن کر میں نے اسے بتایا کہ 1947ءمیں جس قبائلی لشکر نے مظفر آباد کو آزاد کرایا تھا اُسے جہاد کے لئے ملا شوربازار نے کابل سے حکم جاری کیا تھا لہٰذا بھارتی حکومت نے بھی افغانستان کے راستے سے پاکستان میں مداخلت کے منصوبے بنانے شروع کر دیئے۔ 

پاکستانی فوج کے ایک افسر میجر جنرل اکبر خان (رنگروٹ) قائد اعظمؒ کے بہت قریب تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’میری آخری منزل‘‘ میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان کا سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا پاکستان سے زیادہ انگریز سرکار کا وفادار تھا۔

سکندر مرزا نے میجر جنرل اکبر خان کو کراچی سے کوئٹہ ٹرانسفر کردیا تاکہ اُن کا قائد اعظمؒ سے رابطہ نہ رہے۔ میجر جنرل اکبر خان لکھتے ہیں کہ 1948ءمیں قندھار کا گورنر پاکستان کی سرحد کے قریب ایک لشکر تیار کر رہا تھا اور اس لشکر کی تیاری میں ایک انگریز آئی سی ایس افسر اُس کی معاونت کر رہا تھا جسے بھارت سے بھیجا گیا تھا۔ ایک انگریز بریگیڈیئر اس لشکر کے لئے منصوبہ بندی کر رہا تھا یہ دونوں انگریز افسر تقسیم ہند سے قبل بلوچستان میں تعینات رہے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب قلات کے شہزادہ عبدالکریم نے پاکستان کے خلاف بغاوت کر دی اور افغانستان روپوش ہو گئے۔ 

میجر جنرل اکبر خان لکھتے ہیں کہ افغانستان کے راستے سے پاکستان میں گڑبڑ کا منصوبہ ناکام بنانے کے لئے بلوچستان کے جن عمائدین نے میری مدد کی ان میں نواب محمد اکبر خان بگٹی بھی شامل تھے۔ دوسری طرف وزیرستان میں فقیر ایپی کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ میجر جنرل اکبر خان کی کتاب میں بہت سے تاریخی حقائق رونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کو اپنے قیام کے فوراً بعد بڑی بڑی سازشوں کا سامنا تھا اور ان سازشوں میں سرکار برطانیہ کے علاوہ بھارت کی حکومت، پاکستانی فوج کا انگریز کمانڈر اور سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا سرفہرست تھے۔ اسکندر مرزا بنگال کا رہنے والا تھا۔ میر جعفر علی خان نجفی کا پڑپوتا تھا۔ میجر جنرل اکبر خان کے بقول قائد اعظمؒ میر جعفر کے پوتے سے خوش نہ تھے لیکن اس کی تقرری وزیراعظم لیاقت علی خان نے کی تھی اس لئے خاموش رہے۔ اسی اسکندر مرزا نے 1954ء میں مشرقی پاکستان کا گورنر بننے کے بعد وہاں اتنا ظلم کیا کہ بنگالی پاکستان کے خلاف نعرے لگانے لگے۔
 
پاکستان کی عمر ستر سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ ستر سال سازشوں کا مقابلہ کرنے میں گزر گئے۔ کچھ سازشیں اپنوں نے کیں کچھ غیروں نے کیں لیکن پاکستان آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ ستر سال بعد پاک افغان بارڈر پر باڑ لگائی جا رہی ہے لیکن صرف باڑ لگانے سے سازشیں ناکام نہیں بنائی جا سکتیں۔ سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سیاسی و فوجی قیادت کو قومی معاملات پر متفقہ پالیسی اختیار کرنی ہو گی اور ایک دوسرے کا احترام کرنا ہو گا لیکن اس احترام کی بنیاد آئین کے احترام پر ہونی چاہئے جو آئین کا احترام نہ کرے وہ کسی احترام کا مستحق نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  11270
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
افغانستان میں قتل وغارت گری کے حالیہ واقعات نے طویل عرصے سے جنگ سے تباہ حال ملک بارے امن کی امید کو ناامیدی میں بدل رہے ہیں، کابل میں زچہ وبچہ وارڈ میں ماؤں اور نونہالوں کا قتل جاری خون ریزی کے بدترین واقعات میں اپنی جگہ بنا گیا ، ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دہشت گرد عناصر کسی مذہبی و اخلاقی اصول پر پورے نہیں اترتے،
یہ بات ایک دنیا کو معلوم ہے کہ حزب اللہ کا جرم امریکا اور اسکے حواریوں کی نظر میں اسکے سوا کچھ نہیں کہ اس نے اسرائیل کو لبنان کی سرزمین سے نکل جانے پر مجبور کیا اور وہ علاقے میں صہیونی مقاصد کیخلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی حیثیت رکھتی ہے۔ حزب اللہ نے شام میں بھی دہشتگرد گروہوں کا مقابلہ کیا۔ اس نے شامی سرزمین کو امریکا اور اسکے لے پالک خون خوار دہشتگرد حواریوں سے آزاد کروانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرمنی کے حزب اللہ کے خلاف اقدام کو شامی حکومت نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے مسترد کر دیا ہے۔
قارئین! معاف کیجئے گا ہم سدھرنے والے ہرگز نہیں، شاید دعائیں آسمانوں سے پلٹائی جارہی ہیں اس لئے بے اثر ہیں۔ اچھا ایسا ہے تو پھر ہمیں انفرادی و اجتماعی معاملات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینا ہوگا۔
سعودی اور اماراتی معیشت دن بدن زبوں حالی کا شکار ہورہی ہے۔ ایسے میں انصار اللہ کے سپاہیوں نے مختلف محاذوں پر کامیابی حاصل کی ہے لہٰذا یمن پر آگ برساتی جنگ بندی تو اس جنگ کے خاتمے کا ذریعہ بنتی دکھائی نہیں دیتی لیکن دست قدرت کی کار فرمائی سے مظلوموں کو آخرکار نجات ضرور ملے گی۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

مقبول ترین
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت خطے کے امن کو داﺅ پر لگا رہا ہے ‘ بھارت متنازعہ علاقوں میں تعمیراتی کام ‘سڑکیں اور فوجی بنکرز بنا رہا ہے جو کہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے ‘لداخ کے متنازعہ علاقے میں تعمیرات سے بھارت عالمی قوانین کی خلاف ورزیاںکر رہا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعدادوشمار کے مطابق کورونا س کے وار تیز ہوگیاہے ،60ہزار پاکستانی متاثر‘ اب تک 1240 جاں بحق ،مجموعی طور پر 19 ہزار142 مریض صحت یاب ‘ 24 گھنٹوں میں مزید ایک ہزار446 کیسز رپورٹ ہوئے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شدید مہنگائی کے باعث عوام حکومت سے تنگ آچکی ہے مو جودہ حکومت کاخاتمہ ہی عوام کے لئے ریلیف ہو گا،عوام نا اہل نیازی حکومت سے نجات چاہتی ہے ۔ کورونا وباءاور ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے حکو مت کی کو ئی پا لیسی نظر نہیں آئی ، ڈنگ ٹپاو¿ نظام چل رہا ہے ۔
پاکستان مسلم لیگ(ن)کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران کے حکم پر چینی بر آمد کی گئی‘ مقدمہ بنایا جائے ،وزیراعظم کے لاپتہ ہونے پر تشویش ہے وزیراعظم کی گمشدگی کا اشتہار شائع کرنا چائیے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں