Tuesday, 11 August, 2020
حرمت جان کے تصور سے عاری معاشرہ

حرمت جان کے تصور سے عاری معاشرہ
ظہیر الدین بابر کا کالم

اسلامی جمہوری پاکستان کہلانے والے ملک کے باسی کے طور پر یہ یقینا تکلیف دہ ہے کہ دیگر کئی اور مسائل کی طرح  پسند کی شادی کرنے والی لڑکی یا لڑکے یا پھر دونوں کو قتل کرنے جیسے جرائم تھمنے کا نام نہیں لے رہے ، ستم بالا ستم یہ ہے کہ مارنے والے غیر نہیں بلکہ اکثرو بیشتر دولہ،ا دلہن کے قریبی رشتہ دار ہی ہیں، حیرت اور ملال  یہ کہ قتل کے  واقعات کسی خاص شہر یا  صوبے تک محدود نہیں، ایسا  نہیں کہ یہ گھناؤنا فعل محض پسماندہ علاقوں میں ہی نہیں ہورہا  بلکہ بدترین کارروائیاں کم وبیش ہر چھوٹے بڑے شہر میں جاری وساری ہیں، بظاہر مذکورہ  واقعات کا پیش خیمہ ایسی پسماندہ سوچ ہے جو بڑی  عقل وشعور سے عاری ہے،  بادی النظر میں ان ہی  خاندانوں میں ان کا ارتکاب ہورہا ہے جن کے لیے  انا ہی سب کچھ ہے، چنانچہ ہمارے ہاں تعمیر وترقی کے کھوکھلے نعروں کے باوجود  معاشرے میں حیوانیت  کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا، ترقی پذیر و ترقی ممالک کے امتیاز سے قطع نظر  سماج کے لیے جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ قانون کی حکمرانی ہے، قتل کیے جانے بیوی، بیٹی یا بہو کہلائے  بہرکیف مظلوم ہی ہے،
بلاشبہ ہم اس سماج کے باسی ہیں جہاں محبت کی سزا موت ہے، سوال تو یہ ہے کہ جب مذہب شادی کرنے والے لڑکے یا لڑکی کو جیون ساتھی کو پسند کرنے کی اجازت دیتا ہے تو رائج  سفاکانہ روایت  انکی موت  کا فیصلہ کیونکر کر ڈالتی ہے، یعنی  جب قانون ہر جان کو تحفظ دینے کا دعویدار ہے  تو پھر کون سے ہاتھ ہیں جو اس کو ختم کرنے میں کامیاب رہتے ہیں،ایک نقطہ نظر ہے کہ اگر سماج میں  میں لڑکے اور لڑکی کو  یوں آزادی دے دی جائے تو وہ آئے روز  اپنی مرضی  سے جیون ساتھی کا انتخاب عمل میں لے آئیں ،  حقیقت تو یہ بھی ہے کہ  پسند کی شادی پر قتل کرنے کا رجحان  معاشرے کے مخصوص طبقہ میں ہی فروغ پذیر ہے، اس تلخ سچائی کو  یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ مرضی کی زندگی گزارنے کا حق نہ دینے پر جان سے مار دینے کے دلخراش واقعات اکثروبیشتر غریب اور مڈل کلاس خاندانوں میں ہی رونما ہوتے ہیں، کیا اس کا مطلب یوں کیا جائے کہ جہاں علم کی بجائے جہالت کی اجارہ داری ہے مسئلہ وہیں پر ہے،  قبائلی ذہنیت کا خاتمہ کیونکر ہوگا تاحال اس سوال کا جواب میسر نہیں، معاملہ  یہ نہیں کہ لڑکے یا لڑکی کو پسند کی شادی کی اجازت ہونی چاہئے یا نہیں مشکل یہ ہے کہ کیا یہ عمل کسی بیٹی، بہن کا کسی اور قریبی عزیز کی  جان لینے کی اجازت د یتا ہے،  دین کہتا ہے کہ ایک بے گناہ انسان کو قتل کرنا گویا پوری انسانیت کو قتل کرنا ہے اور  ایک انسان کی زندگی بچانا یوں ہے گویا پوری انسانیت کو بچانا ہے، افسوس کہ اہل مذہب دین کو  پورے سیاق وسباق کی روشنی میں عوام کے سامنے  پیش کرنے پر آمادہ نہیں چنانچہ ہم آئے روز ایسے واقعات کا  باآسانی  مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ کس طرح سے مسلمان  مسلمان ہی کا خون کرنے میں  تامل کا مظاہرہ نہیں کررہا۔
وطن عزیز میں جمہوریت رائج ہے  چنانچہ  پختہ جمہوری معاشروں میں یہ تصور کرنا محال ہے کہ کوئی کسی کی بھی جان لے لیں چاہے وہ اس  کا انتہائی قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ درحقیقت انسانی کی جان کی حرمت کسی بھی مہذب معاشرے کی اساس  ہے ایسی ریاست میں ہی قانون کی حکمرانی کا پتہ ملتا ہے جہاں طاقتور ہی نہیں کمزوروں کے حقوق کو بھی تحفظ ملے، بدقسمتی کیساتھ ہی  مملکت خداداد میں حرمت کا جان تصور راسخ نہیں ہوسکا، پاکستانی معاشرے بارے یہ کہنا شائد غلط نہ ہوگا کہ اس میں انسانی جان کی کوئی قدر وقیمت نہیں،ریاستی  اعتبار سے جان لینے کا اختیار کسی فرد یا گروہ نہیں بلکہ حکومت  کے پاس  ہی ہونا چاہئے، اس پس منظر میں یہ کہنا  خلاف حقیقت نہیں کہ وطن عزیز کے اہل فکر ونظر کو   معاشرے کی بہتری کے لیے انتھک کوششوں کا سلسلہ جاری وساری رکھنا ہوگا۔ معاشرے کے ہر فرد کو اصلاح احوال کے کردار ادا کیے بغیربات نہیں بننے والی، ناکامیوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرنے کی بجائے ہر شخص کو خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرے، گھر، خاندان اور پھر محلے کی سطح پر مثبت کردار ادا کیا جائے،
بلاشبہ  کہ کسی بھی سماج میں بہتری کا عمل آناً فاناً پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتا  یہی سبب ہے  کہ انفرادی ہی نہیں اجتماعی کردار  کی اہمیت بھی مسلمہ ہے، گلوبل ویلیج بن جانے والی اس دنیا میں دوسروں سے سیکھنے کا عمل  اب کسی طور پر مشکل نہیں ہورہا مگر جس کی ضرورت ہے وہ یہ کہ  کسی قوم کو ایسی قیادت میسر آجائے جو ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر سوچنے اور عمل کرنے کی اہلیت سے مالا مال ہو، وطن عزیز میں جہاں ایک طرف موجودہ حالات سے بیزاری ہے وہی کچھ کر گزرنے کا جذبہ بھی بدستور متحرک ہے، ہمارے ہاں پسند کی شادی  پر قتل کا معاملہ ہو یا پھر لسانی، مذہبی اور سیاسی اختلافات پر  آئے روز ایک دوسرے کی جان لینے کے دلخراش  واقعات ہر مسئلہ دین ہی نہیں  جدید علوم سے دوری ظاہر کرتا ، قومی شاعر اقبال نے شائد ہمارے بارے ہی کہا تھا 
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  81497
کوڈ
 
   
مزید خبریں
سید منور حسن مسلم امہ کا اثاثہ و سرمایہ تھے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء پر نہیں ہو سکے گا۔
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔

مقبول ترین
ادارہ التنزیل اور خادمان قرآن کے زیر اہتمام قرآنی ویبینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے قرآنی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ ویبینار میں قرآنی معاشرے کی تشکیل اور اس کے خدوخال کے موضوع پہ مقررین نے خطاب کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے کہا ہے کہ دنیا کو کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس سے نمٹنا دنیا بھر کےممالک کے لیے چیلنج ہے۔
شہر قائد میں مسلسل تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے جب کہ اس دوران پیش آنے والے حادثات و واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد ۹ ہوگئی ہے۔ کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل نجی ٹی وی چینل پر کشمیر اور مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے متعلق ایک بیان دیا جسے بعدازاں چینل نے سینسر کر دیا گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں