Sunday, 24 March, 2019
ہم پر امن ہیں

ہم پر امن ہیں
عبدالقادر حسن کا کالم

کوئی سے دو ملکوں کے درمیان جنگ نہیں ہو رہی یا یوں کہیں کہ باقاعدہ جنگ نہیں ہو رہی لیکن اس سر زمین پر کئی ایسے مقام مل جاتے ہیں جہاں کسی نہ کسی صورت میں جنگ ہو رہی ہے اور دو ملک ایک دوسرے کے خلاف برسر جنگ ہیں۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امن کا نام تو بہت لیا جاتا ہے لیکن حقیقی اور اجتماعی امن مفقود ہے۔ نہ جانے کتنے انسانوں نے دلوں میں کسی نہ کسی کے خلاف جنگ کا منصوبہ بنا رکھا ہے اور جب بھی انھیں موقع ملتا ہے وہ جنگ شروع کر دیتے ہیں۔

آج کے زمانے میں جنگ کو ہر گز پسند نہیں کیا جاتا جہاں بھی جنگ کا خطرہ نظر آتا ہے وہاں کے باشندے اس جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ آج کے زمانے میں جنگ ایک تباہ کن معاملہ ہے اور جس خطے میں جنگ برپا ہوتی ہے اس میں پھر انسانی زندگی دائو پر لگ جاتی ہے۔ جنگ یہ نہیں دیکھتی کہ اس کی زد میں اسکول آ رہے ہیں یا مدرسے یا عام انسان جنگ ہر جگہ پھیل جاتی ہے اور سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جنگ چھوٹی ہو یا بڑی اس کی تباہی سے انکار ممکن نہیں ہے۔

جنگ کے آسان معنی ہیں انسانوں کی آپس میں جنگ و جدل اور آج کے انسان کے پاس انسانی تباہی کا کون سا اسلحہ موجود نہیں ہے۔ پاکستان کی مثال لے لیجیے ایک پرانا ملک ہے جس کے باشندوں کے پاس کلہاڑی اور تلوار ہی ہوا کرتی تھی جس کا خوف محدود ہوا کرتا تھا لیکن اب ان کلہاڑی اور تلوار کے اسلحے سے آراستہ انسانوں کے پاس کیا کچھ نہیں ہے اب یہی پاکستان ایٹمی اسلحہ کا مالک ہے کیونکہ اس کے روایتی دشمنوں نے بھی ایٹمی اسلحہ حاصل کر لیا ہے اور پاکستان کے پاس یہ کچھ نہیں تھا مگر زندہ رہنے کے لیے پاکستان نے بھی ایٹمی اسلحہ حاصل کر لیا ہے کیونکہ دشمنوں نے اپنے آپ کو ایٹمی طاقت بنا لیا ہے اور دشمن بھی ایسے جن کی جارحیت سے بچنا ہر وقت کا خطرہ ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ یہ جارحیت کب زندہ ہو جائے اور دونوں قدیمی دشمن ملکوں کے عوام کی دشمنی کو بھی زندہ کر دے اور یہ دشمنی اگر دبی رہی تو اس میں برصغیر کے ملکوں کی سلامتی ہے ورنہ ان ملکوں کے عوام کی پرانی دشمنی زندہ ہو سکتی ہے جو اس خطے کے لیے تباہی کا باعث بن سکتی ہے اور برصغیر کے ان ملکوں کے درمیان دشمنی اور بد اعتمادی کا پرانا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس کے تصور سے ہی بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے، انسانی جسم اس لرزے کو برداشت نہیں کر سکتا۔

برصغیر کے ان ملکوں کے درمیان مدت سے لرزہ بر اندام قسم کے تعلقات جاری ہیں اور جب تک یہ موجود ہیں یہاں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ایک مغل بادشاہ نے سچ کہا تھا کہ یہ میرا سب سے بڑا کارنامہ برصغیر کے اس خطے میں امن کا قیام ہے کیونکہ یہاں کی بدا منی صرف چند انسانی جانوں کی قربانی کا باعث ہی نہیں بن سکتی بلکہ دنیا کے اس خطے میں بد امنی کا زلزلہ بھی برپا کر سکتی ہے جس کے اثرات انسانی زندگی کے لیے ایسی تباہی لا سکتے ہیں جس کی مثال اس خطے کے کئی سابقہ واقعات میں مل سکتی ہے جس نے ہندوستان کے اس وسیع خطے کو خاک و خون میں نہلا دیا اور جس کے برے اور سخت بھیانک اثرات مدتوں سے جاری ہیں اور نہ جانے کب تک جاری رہیں گے۔

پاکستان نے اپنے روایتی دشمن بھارت کی طرف ایک بار پھر امن کا ہاتھ بڑھایا ہے ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی پہلی ہی تقریر میں بھارت کو امن کا پیغام دیا یعنی انھوں نے دو ہمسائیوں میں امن کی جانب پہل کر دی مگر اس کا کوئی مثبت جواب ابھی تک نہیں ملا۔

اب پاکستان نے بھارتی سکھوں کی مذہبی عبادت میں آسانی پیدا کرنے کے لیے کرتار پور بارڈر کھولنے کا اعلان کیا ہے جس کی بھارت کی سکھ برادری میں پذیرائی کی جا رہی ہے بھارت نے کرتار پور بارڈر کھولنے کے لیے بھارتی زمین پر سنگ بنیاد رکھ دیا ہے جب کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان آج پاکستان میں اس کا باقاعدہ سنگ بنیاد رکھنے جا رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے اس کے اپنے ہمسائے کے ساتھ تعلقات بہتر رہیں حتیٰ کہ ہماری ایک سابقہ حکومت تو بھارتیوں کو پسندیدہ ترین قوم قرار دینے بھی جا رہی تھی۔

ایک بات پر پاکستانی قوم متفق ہے کہ ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے چاہئیں لیکن بھارت کے معاملے میں قوم کے جذبات مختلف ہیں اور ہمارے سیاستدان جو کچھ بھی کہتے اور عمل کرتے رہیں یہ بات واضح ہے کہ بھارت ہمارا دشمن ہمسایہ ہے اور دشمن ہی رہے گا اس لیے بارڈر کھولنے سے دنیا میں آپ کا امن کی خواہش کا تاثر جا رہا ہے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں جن کے بارے میں سب کو معلوم ہے اور کراچی میں چینی قونصل خانے پر حالیہ حملہ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش ہے۔

بہر حال دو دشمن نظریات کو ماننے والوں میں امن قائم رکھنا بہت مشکل ہے۔ یہ ہیں مسلمان اور ہندو ان دونوں نظریات اور طبقوں کے درمیان امن اگر کسی حکومت نے قائم رکھا تو وہ تھی انگریزوں کی حکومت جس کی حکمت عملی نے اس خطے میں امن کو زندگی کا ایک مصرف بنا دیا اور اسی کی طاقت پر بدیسی انگریز حکومت کرتے رہے۔ ان کی حکومت نے اس خطے کا رنگ ہی بدل دیا اور برطانوی دور کا ہندوستان ایک نیا ملک بن کر نمودار ہوا۔

انگریزوں کے بعد ایک تو ہندوستان کے عوام کو کسی حد تک غیر جانبدار حکومت نہ مل سکی دوسرے یہاں کے مذہبی اختلافات بھی زندہ رہے اور پہلے سے زیادہ ابھر کر سامنے آئے جس کی وجہ سے برطانوی دور کا ہندوستان رفتہ رفتہ مدہم پڑنے لگا لیکن پھر بھی انگریز حکومت نے ہندوستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا کر دیا جو غیر جانبدار سمجھا جاتا تھا اور اب تک اسی طبقے کے زیر اثر کوئی حکومت زیادہ دیر تک باقی رہتی ہے۔

یوں کہیں کہ برطانوی دور کی اصلاحات کسی حد تک زندہ رہیں اور ان کی اس غیر جانبداری کی وجہ سے ہندوستان میں قدرے امن باقی رہا جو اب تک باقی چلا آ رہا ہے اور یوں لگتا ہے کہ یہ امن اب چلتا ہی رہے گا ہم ہندوستانی اس امن کے عادی ہو چکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  37027
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
بائیس جنوری کو ’’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ کے زیرعنوان اپنے کالم میں استاد محترم سہیل وڑائچ نے جو لطیفہ تحریر کیا ، وہ مجھے محترم محمد علی درانی نے تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ایک اور پیرائے میں سنایا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک نابینا سردار جی
تاریخ میں پہلی بار۔یہ فقرہ عمران خان نے اپنا تکیہ کلام بنالیا تھا۔ وہ کوئی بھی کام کرتے تو کہتے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے حالانکہ وہ کام اس سے پہلے بھی ہورہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے ترجمانوں اور خادمین نے بھی یہ فقرہ دہرانا شروع کیا۔
ہم 1947میں ہجرت سے بچ گئے مگر ہمارا گائوں تقسیم ہوگیا۔ ہمارے گائوں میں سکھ اور مسلمان آباد تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو زمینوں کا ایسا بٹوارہ ہوا کہ ہماری کچھ زمین بھارت میں چلی گئی اور سردار مولا سنگھ کی کچھ زمین
آپ سب کو مبارک ہو۔ پاکستان پھر آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹارہا ہے۔ میاں شہباز شریف حراست میں لے لئے گئے۔ آغاز ہفتہ کراچی اسٹاک ایکسچینج بہت نیچے چلی گئی۔ لوگ سمجھے کہ یہ گرفتاری کا ردّ عمل ہے۔ لیکن اسٹاکس کے ایک بڑے بروکر

مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
یوم پاکستان کی مرکزی تقریب میں صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد سمیت دیگر ممالک کی معزز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، وفاقی وزراء، وزرائے اعلی، شوبز ستارے
نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے ایک ہفتے بعد نہ صرف سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی بلکہ مسجد النور کے سامنے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی۔
ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ آزادی کے وقت ملائیشیا غریب ملک تھا۔ آزادی کے وقت طے کیا تھا کہ ملائیشیا ترقی کے مراحل طے کرے گا۔ ہم نے کوریا اور جاپانی لوگوں سے سبق لیا اور کام کیا۔
کراچی کی نیپا چورنگی پر ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے جب کہ ان کے دو گارڈ جاں بحق ہو گئے۔ ابتدائی طور پر اطلاعات تھیں کہ مختلف مقامات پر فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے ہیں لیکن ایس ایس پی گلشن اقبال طاہر

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں