Thursday, 22 August, 2019
روک سکو تو روک لو

روک سکو تو روک لو
جاوید ملک / شب وروز

 

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلیت کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر ماہرین قانون کی آراء منقسم ہیں اکثریتی طبقہ اس فیصلہ پر حیرت کا اظہار کررہا ہے پانامہ سے اقامہ تک کو ایک ایسا کھیل قرار دے رہا ہے جس کا واحد مقصد نوازشریف اور ان کے اہل خانہ کو نکڑے لگانا تھا نواز شریف اور ان کے قریبی رفقاء گزشتہ کئی ماہ سے جس سازش کا رونا رورہے تھے اگر شیخ رشید احمد کے اس ذو معنی جملے کو سچ مان لیا جائے کہ اس فیصلے پر سب سے زیادہ لڈو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے من میں پھوٹے ہیں تو پھر یقیناًنقب بھی گھر کے اندر سے لگی ہے ۔

اقتدار کی غلام گردشوں میں ساز شوں کے جال ہمیشہ سے بنے جاتے رہے ہیں اُکھاڑ پچھاڑ کا نہ یہ کھیل نیا ہے اور نہ ہی نوازشریف نے پہلی بار سیاسی شطرنج کی بساط پر مات کھائی ہے تاہم اس بار انہوں نے چوہدری نثار کے مشورے پر بہت دیر سے سہی مگر عمل کرلیا کہ محاذ آرائی کا راستہ نہ اپنایا جائے اگر وہ اس مشورے کو پہلے مان لیتے تو شاید آج اس قدر سیاسی بدحالی کا شکار نہ ہوتے ۔ مریم نواز نے درست کہا کہ نوازشریف ایک بار پھر پوری طاقت سے واپس لوٹیں گے ۔۔۔اس کا امکان موجود ہے اگر اس سازش نے رائے ونڈ کے محلات سے باہر جنم لیا ہوا کیونکہ سارے زخم بھر جاتے ہیں لیکن بروٹس کے خنجر سے زخمی ہونے والے کو تاریخ نے پھر کبھی اپنے قدموں پر کھڑے ہوتے نہیں دیکھا وہ آہ ’’بروٹس یو ٹو‘‘ بھی بہ مشکل ہی کہہ پاتا ہے ۔

عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کو تاریخ کن الفاظ میں یاد کرے گی اس کے بارے میں ابھی تو کچھ کہنا قبل از وقت ہے تاہم اس کا اندازہ مستقبل قریب کے اقدامات سے ہوگا اگر نوازشریف کی نااہلی کے بعد احتساب کا نعرہ دم توڑ جاتا ہے اور تلوار صرف شیر یف خاندان پر ہی چلتی ہے تو یقیناًیہ فیصلہ بھی ماضی کے سیاسی فیصلوں کی طرح متنازعہ رہے گا اور اگر اس فیصلے کی کوکھ سے غیر جانبدارانہ احتساب جنم لیتا ہے اور قوم کی برسوں کی یہ تمنا پوری ہوتی ہے کہ اس ملک کے وسائل کو بے دردی سے لوٹنے والے سارے مافیا قانون کے شکنجے میں آئیں تو یقیناًیہ ایک نئی صبح کا آغاز ہوگا اور قومیں جب کھٹن رستوں پر سفر کا آغاز کرتی ہیں تو زیرو پوائنٹ کی ہا ہا کار کی تاریخ میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ لیکن اگر ماضی کی طرح یہ کہانی بھی ایک وزیر اعظم کی نا اہلی تک ہی محدود رہی تو ہماری تاریخ ایسے فیصلوں کے معاملہ میں خود کفیل ہے اور آج انہیں ہم کن الفاظ سے یاد کرتے ہیں یہ بھی کسی سے بھولا ہر گز نہیں ہے ۔

یوسف رضا گیلانی کو عدالت عظمیٰ نے توہین عدالت کے جس مقدمہ میں سزا دی اور جس کے نتیجہ کے طور پر انہیں وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے اس کا پس منظر کیا تھا؟۔۔۔اس وقت کے چیف جسٹس چوہدری افتخار بہ ضد تھے حکومت سوئس اکاؤنٹس کے حوالے سے مذکورہ حکومت کو ایک خط تحریر کرے حکومت نے اس عدالتی حکم پر تاریخی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا ۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ عدالت عظمیٰ اور اس وقت کی حکومت کے درمیان اختلافات کی ایک خلیج حائل ہوتی گئی ۔ ملک سپریم کورٹ اور حکومت وقت کی اس رسہ کشی سے ایک طویل عرصہ ہیجان میں مبتلا رہا آخر کار وزیر اعظم کی طلبی ہوئی اور چند سیکنڈ کی سزا نے یوسف رضا گیلانی کو ایوان اقتدار سے بوریا بستر باندھنے پر مجبورکردیا ۔ یوسف رضاگیلانی کے بعد مخدوم شہاب کو پارٹی وزیر اعظم بنانا چاہتی تھی مگر ان کے نام پر اتفاق کی خبر نکلتے ہی مخدوم شہاب کا کچہ چھٹہ سامنے آگیا اور مجبوراً یا ضرورتاً وزارت عظمیٰ کا تاج راجہ پرویز اشرف کے سر کی زینت بنادیا گیا ۔ وہ سارا معاملہ جس کے نتیجہ میں ایک منتخب وزیر اعظم کو نا اہلی کا زخم سہنا پڑا بعد میں ایسے غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ ،سوئس حکومت کو خط لکھنے کا اس کے بعد کسی نے نہ سنا گویا سارا کھیل ایک وزیر اعظم کی نا اہلی اور راجہ پرویز اشرف کو اقتدار کا جھولا جھلانے کا تھا ۔ مخدوم شہاب کے بعد دوچار اور نام بھی سامنے آتے تو ان کا حشر بھی مخدوم جیسا ہی ہونا تھا ۔

اب نوازشریف کی نا اہلی کے بعد منظر ماضی جیسا ہی ہے خواجہ آصف سمیت جو بھی ممکنہ وزیر اعظم کا نام سامنے آتا ہے اس کی خرابیوں کا ڈھول بھی فوراً پیٹ دیا جاتا ہے اور آج کل مشہور خرابی اقامہ ہے ۔ اب اس کھیل کی پس پشت قوتیں اگر شہباز شریف کو ہی وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کرچکی ہیں تو مسلم لیگ (ن)ہزار مشاورتیں کرلے گھوم پھر کر انہیں وزیر اعظم تو شہباز شریف کو ہی بنا نا پڑے گا ۔مریم نواز کے اس جملے کہ روک سکو تو روک لو کے جواب میں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے والوں نے ان ہی کا جملہ ان ہی کو لوٹادیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  83863
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
ہمیں ایک بار پھر پیچھے جانا پڑے گا‘ 12 اکتوبر 1999ء ہو گیا‘ میاں نواز شریف خاندان سمیت گرفتار ہو گئے‘ یہ اٹک قلعہ پہنچے‘ اسمبلیاں معطل تھیں‘پاکستان مسلم لیگ ن اپنی دو تہائی اکثریت کے ساتھ بوکھلائی پھر رہی تھی
یہ اگر چہ اس نوعیت کی پہلی نہیں بلکہ انیسویں قرارداد تھی جسے اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے‘یونیسکو‘ کی جانب سے بیت المقدس کی حیثیت کے بارے میں پیش کی گئی اور اس کو دوتہائی اکثریت سے منظور کیا گیا
بچپن کے دن کتنی پیاری باتوں سے بھرے ہوتے ہیں،کیا آپ کو اپنا بچپن یاد ہے؟ کیسی میٹھی یادیں ذہن کے کسی گوشے میں چھپی ہوئی ہیں،زندگی اب کتنی مشکل ہو چکی ہے لیکن پھر بھی اپنا بچپن یاد آتے ہی دل میں گھنٹیاں سی بجنے لگتی ہیں۔

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔
نیویارک میں ایک کمپنی نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بازار میں بوتھ بنادیا ہے جس کا سن کر ہی انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اس کمپنی نے مردوں کو خودلذتی کا موقع فراہم کرنے کے لیے بازار کے بیچ یہ بوتھ بنایا ہے

مقبول ترین
ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان آرمی کے زبردست سپہ سالار ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ اس حوالے سے پاکستان کے دیرینہ دوست
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سفاک مودی سرکار تمام انسانی و بین الاقوامی قوانین و ضوابط روند رہی ہے اور کشمیریوں کو نشانہ ستم بنانے کی تیاریوں میں ہے۔ میڈیا کے مطابق تحریک انصاف نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے اور اہل کشمیر
پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دیا جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 6 بھارتی فوجی ہلاک اور 2 بنکرز تباہ ہوگئے۔
پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق آئندہ ماہ جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن اجلاس بلانے کیلئے وزارت خارجہ نے تیاری شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں سابق سیکرٹری

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں