Monday, 18 February, 2019
روک سکو تو روک لو

روک سکو تو روک لو
جاوید ملک / شب وروز

 

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلیت کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر ماہرین قانون کی آراء منقسم ہیں اکثریتی طبقہ اس فیصلہ پر حیرت کا اظہار کررہا ہے پانامہ سے اقامہ تک کو ایک ایسا کھیل قرار دے رہا ہے جس کا واحد مقصد نوازشریف اور ان کے اہل خانہ کو نکڑے لگانا تھا نواز شریف اور ان کے قریبی رفقاء گزشتہ کئی ماہ سے جس سازش کا رونا رورہے تھے اگر شیخ رشید احمد کے اس ذو معنی جملے کو سچ مان لیا جائے کہ اس فیصلے پر سب سے زیادہ لڈو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے من میں پھوٹے ہیں تو پھر یقیناًنقب بھی گھر کے اندر سے لگی ہے ۔

اقتدار کی غلام گردشوں میں ساز شوں کے جال ہمیشہ سے بنے جاتے رہے ہیں اُکھاڑ پچھاڑ کا نہ یہ کھیل نیا ہے اور نہ ہی نوازشریف نے پہلی بار سیاسی شطرنج کی بساط پر مات کھائی ہے تاہم اس بار انہوں نے چوہدری نثار کے مشورے پر بہت دیر سے سہی مگر عمل کرلیا کہ محاذ آرائی کا راستہ نہ اپنایا جائے اگر وہ اس مشورے کو پہلے مان لیتے تو شاید آج اس قدر سیاسی بدحالی کا شکار نہ ہوتے ۔ مریم نواز نے درست کہا کہ نوازشریف ایک بار پھر پوری طاقت سے واپس لوٹیں گے ۔۔۔اس کا امکان موجود ہے اگر اس سازش نے رائے ونڈ کے محلات سے باہر جنم لیا ہوا کیونکہ سارے زخم بھر جاتے ہیں لیکن بروٹس کے خنجر سے زخمی ہونے والے کو تاریخ نے پھر کبھی اپنے قدموں پر کھڑے ہوتے نہیں دیکھا وہ آہ ’’بروٹس یو ٹو‘‘ بھی بہ مشکل ہی کہہ پاتا ہے ۔

عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کو تاریخ کن الفاظ میں یاد کرے گی اس کے بارے میں ابھی تو کچھ کہنا قبل از وقت ہے تاہم اس کا اندازہ مستقبل قریب کے اقدامات سے ہوگا اگر نوازشریف کی نااہلی کے بعد احتساب کا نعرہ دم توڑ جاتا ہے اور تلوار صرف شیر یف خاندان پر ہی چلتی ہے تو یقیناًیہ فیصلہ بھی ماضی کے سیاسی فیصلوں کی طرح متنازعہ رہے گا اور اگر اس فیصلے کی کوکھ سے غیر جانبدارانہ احتساب جنم لیتا ہے اور قوم کی برسوں کی یہ تمنا پوری ہوتی ہے کہ اس ملک کے وسائل کو بے دردی سے لوٹنے والے سارے مافیا قانون کے شکنجے میں آئیں تو یقیناًیہ ایک نئی صبح کا آغاز ہوگا اور قومیں جب کھٹن رستوں پر سفر کا آغاز کرتی ہیں تو زیرو پوائنٹ کی ہا ہا کار کی تاریخ میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ لیکن اگر ماضی کی طرح یہ کہانی بھی ایک وزیر اعظم کی نا اہلی تک ہی محدود رہی تو ہماری تاریخ ایسے فیصلوں کے معاملہ میں خود کفیل ہے اور آج انہیں ہم کن الفاظ سے یاد کرتے ہیں یہ بھی کسی سے بھولا ہر گز نہیں ہے ۔

یوسف رضا گیلانی کو عدالت عظمیٰ نے توہین عدالت کے جس مقدمہ میں سزا دی اور جس کے نتیجہ کے طور پر انہیں وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے اس کا پس منظر کیا تھا؟۔۔۔اس وقت کے چیف جسٹس چوہدری افتخار بہ ضد تھے حکومت سوئس اکاؤنٹس کے حوالے سے مذکورہ حکومت کو ایک خط تحریر کرے حکومت نے اس عدالتی حکم پر تاریخی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا ۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ عدالت عظمیٰ اور اس وقت کی حکومت کے درمیان اختلافات کی ایک خلیج حائل ہوتی گئی ۔ ملک سپریم کورٹ اور حکومت وقت کی اس رسہ کشی سے ایک طویل عرصہ ہیجان میں مبتلا رہا آخر کار وزیر اعظم کی طلبی ہوئی اور چند سیکنڈ کی سزا نے یوسف رضا گیلانی کو ایوان اقتدار سے بوریا بستر باندھنے پر مجبورکردیا ۔ یوسف رضاگیلانی کے بعد مخدوم شہاب کو پارٹی وزیر اعظم بنانا چاہتی تھی مگر ان کے نام پر اتفاق کی خبر نکلتے ہی مخدوم شہاب کا کچہ چھٹہ سامنے آگیا اور مجبوراً یا ضرورتاً وزارت عظمیٰ کا تاج راجہ پرویز اشرف کے سر کی زینت بنادیا گیا ۔ وہ سارا معاملہ جس کے نتیجہ میں ایک منتخب وزیر اعظم کو نا اہلی کا زخم سہنا پڑا بعد میں ایسے غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ ،سوئس حکومت کو خط لکھنے کا اس کے بعد کسی نے نہ سنا گویا سارا کھیل ایک وزیر اعظم کی نا اہلی اور راجہ پرویز اشرف کو اقتدار کا جھولا جھلانے کا تھا ۔ مخدوم شہاب کے بعد دوچار اور نام بھی سامنے آتے تو ان کا حشر بھی مخدوم جیسا ہی ہونا تھا ۔

اب نوازشریف کی نا اہلی کے بعد منظر ماضی جیسا ہی ہے خواجہ آصف سمیت جو بھی ممکنہ وزیر اعظم کا نام سامنے آتا ہے اس کی خرابیوں کا ڈھول بھی فوراً پیٹ دیا جاتا ہے اور آج کل مشہور خرابی اقامہ ہے ۔ اب اس کھیل کی پس پشت قوتیں اگر شہباز شریف کو ہی وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کرچکی ہیں تو مسلم لیگ (ن)ہزار مشاورتیں کرلے گھوم پھر کر انہیں وزیر اعظم تو شہباز شریف کو ہی بنا نا پڑے گا ۔مریم نواز کے اس جملے کہ روک سکو تو روک لو کے جواب میں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے والوں نے ان ہی کا جملہ ان ہی کو لوٹادیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  24509
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
پاکستان سے باہر جانے ا ور دنیا گھومنے کا موقع تو ملتا رہا ہے،لیکن ذہنی اور جذباتی طور پر پاکستان کو چند دنوں کے لئے بھی فراموش کردینے کی کوشش میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ یہ میں اپنی بات کررہا ہوں کیونکہ میں ایک صحافی ہوں
اس دنیا میں اگر کسی شے کا سب سے زیادہ ریپ ہوا ہے تو وہ دلیل ہے اور پھر اس ریپ زدہ دلیل کے ساتھ تہذیب کا جیسا ریپ ہوا اور ہو رہا ہے اس کا کوئی توڑ کم ازکم مجھے تو ٹپائی نہیں دے رہا ۔حل تو خیر لاینحل ہے۔
ہمیں ایک بار پھر پیچھے جانا پڑے گا‘ 12 اکتوبر 1999ء ہو گیا‘ میاں نواز شریف خاندان سمیت گرفتار ہو گئے‘ یہ اٹک قلعہ پہنچے‘ اسمبلیاں معطل تھیں‘پاکستان مسلم لیگ ن اپنی دو تہائی اکثریت کے ساتھ بوکھلائی پھر رہی تھی
یہ اگر چہ اس نوعیت کی پہلی نہیں بلکہ انیسویں قرارداد تھی جسے اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے‘یونیسکو‘ کی جانب سے بیت المقدس کی حیثیت کے بارے میں پیش کی گئی اور اس کو دوتہائی اکثریت سے منظور کیا گیا

مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ون آن ون ملاقات کی۔ وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی۔ ملاقات میں پاک سعودی تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا طیارہ جیسے ہی پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا تو معززمہمان کا شایان استقبال شروع کر دیا گیا۔ پاک فضائیہ کے ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے شاہی طیارے کو اپنے حصار میں لے لیا۔
چین کے ڈپٹی چیف آف مشن چاؤ لی جیان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سمیت کوئی بھی ملک چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کا حصہ بن سکتا ہے۔ میڈیا کے مطابق جیو ٹی وی کے پروگرام جیو پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی چیف
ترجمان قومی اسمبلی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے پیر کو ہونے والے اجلاس کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کا پیر کی شام 4 بجے ہونے والا اجلاس اب بدھ کی شام 4 بجے ہو گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں