Wednesday, 14 November, 2018
ذرا رُکیے، پہلےسُنیے، جَائزہ لیجئیے اور پھر ردِعمل دیں!!

ذرا رُکیے، پہلےسُنیے، جَائزہ لیجئیے اور پھر ردِعمل دیں!!
تحریر: ارباب جہانگیر ایدھی

 

ہم ایک اسلامی جمہوری ملک ریاست کے باشندے ہیں جو کہ ایک اسلامی و جمہوری اصولوں پر قائم کیا گیا. جس کے مروجہ قانون کے مطابق ریاست کو چلانے کیلئے جمہوری طریقوں سے عوام میں سے حکمران اور منظم نظام چلانے کیلئے ریاستی اداروں کو قائم کیا گیا جن کی اساس بلاامتیاز پاکستانی شہریوں کی فلاح و بہبود، پرامن معاشرے کا قیام اور عدل و انصاف کی فراہمی ہے.

ہم گزشتہ سات دہائیوں سے ترقی پزیر ملک کے درجے سے آگے نہیں بڑھ سکے اور ہمیں شدت پسندی، انتہاپسندی، دہشت گردی، انتشار پسندی، عدم برداشت، عدم معیار و توازن کے باعث، قدرتی وسائل کے ہونے کے باوجود غیرترقی یافتہ اور غیر محفوظ ملک کی گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں. اس کی بنیادی وجوہات ہم عوام، ہمارے حکمران اور ارباب اختیار و اقتدار کے وہ رویے ہیں جو ریاست اور عوام کو ترقی کے قرینوں پر چڑھانے کی بجائے پے در پے نیچے گراتے چلے جارہے ہیں.

دنیا بھر میں کسی معاشرے کی تعمیر وترقی کا راز اس کے منظم نظام کے قوانین و اصولوں کا ریاست کی عوام و حکمران کیلئے مساوی لاگو ہونے کے پیچھے ہے. اسی سے تمام شہریوں کیلئے ایک پرامن ترقی یافتہ سوچ اور معاشرہ جنم لیتا ہے.

لیکن جن معاشروں میں کوئی خاص طبقہ یا خاص گروہ کسی بھی معاشرتی پہلوؤں پر ریاست پر اکتفا کرنے کی بجائے بلا سوچے سمجھے و تحقیق کے بغیر معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے کر معاشرے کو ناہمواری کی جانب لے جائیں وہاں نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور ریاست کے ستون کمزور ہوجاتے ہیں جس سے اس ریاست اور اس کے باسیوں کی ساکھ اپنے ملک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں متاثرکن اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے جس کے اثرات حال و مستقبل دونوں میں نئی نسل کو بھگتنا پڑتے ہیں. جس سے ایک غیرمحفوظ ملک کا اثر ظاہر ہونے لگتا ہے، جس سے شہریوں کو پرائے دیسوں میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

اسی تناظر میں اگر سپریم کورٹ پاکستان کے "آسیہ کیس" کے آج فیصلے کا جائزہ لیں اور عوام کا ردعمل دیکھ کر تو بہت افسوس اور دکھ ہوا ہے کہ ہماری عوام کتنی سادہ اور بے وقوف ہے جو بلا سوچے سمجھے کسی بھی معاملے پر چند نام نہاد مفاد پرست لوگوں کے پیچھے کھڑی ہوجاتی ہے اور ریاست کو کمزور کرنے اور اپنی ہی عوام نقصان و تنزلی کا باعث بننے میں بھرپور کردار ادا کرتی ہے. 

ہم اگر خود کو اچھے انسان و مسلمان اور اسلامی ریاست جیسا پرامن سکون و معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویے اور سوچ کو بھی ویسے ہی ڈھالنا ہوگا جس سے عقل ودانش، برداشت، صبر، امن پسند سوچ جنم لے نہ کہ ان سب سے عاری شرپسند و جاہلانہ سوچ حاوی ہوجائے.

اس تناظر میں سب پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ ریاست پاکستان کے اداروں پر اپنا اعتماد رکھیں کہ فیصلہ کرنے والے کوئی غیرمسلم یا فرنگی نہیں بلکہ ہمارے ہی معاشرے کے ایک قابل شہری ہیں جنہوں نے پوری ذمہ داری سے کیس کی تحقیق کی اور اس پر بغیر کسی امتیاز کے مکمل عدل کے ساتھ فیصلہ دیا جو کہ ڈھکا چھپا نہیں بلکہ تمام عوام کے سامنے ترجمے کے ساتھ موجود ہے لیکن اگر آپ اداروں پر بھی اعتماد نہیں کرتے تو آپ اس فیصلے کو بغور پڑھیں، سمجھ نہ آئے تو کسی مثبت سوچ کے حامل قابل فہم دوست احباب سے مشورہ کرکے رائے لیں تاکہ آپ کو معاملے کی سمجھ بوجھ آئے اس کے بعد آپ اس پر ردعمل دیں کہ بطور شہری آپ کو اس پر کیا کردار ادا کرنا چاہیے اور اپنے اردگرد عوام.کو بھی اس سے آگاہ کرنا چاہیے تاکہ آگاہی فراہم کرنے سے انتشار سے بچا جائے.

چند ایک افراد کے علاوہ کسی کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ دراصل اس معاملے کی حقیقت کیا ہے اور کیسے اس واقعے نے جنم لیا اور قانونی کاروائی کیسے عمل میں لائی گئی.

ایسا کرنے سے ہی ہم ایک اچھی پرامن اسلامی ریاست کا قیام ممکن بنا سکتے ہیں اور ایک اچھے ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں وگرنہ ہم ایسے ہی دہشت گردی، انتشارپسندی، قتل و غارت، مالی خسارے  اور معاشرتی بھوک و بے روزگاری کا شکار ہوکر روز بروز تنزلی کی منزلیں پار کرت چلے جائیں گے.

ریاست یہ نہیں کہتی کہ جس شہری کے بنیادی و مذہبی حقوق متاثر ہوں تو اس پر احتجاج نہ کیا جائے! احتجاج کریں مگر ایک اچھے انسان، مسلمان، پڑھے لکھے شہری کی طرح کریں وہ بھی پہلے معاملات کی تحقیق کے بعد! کیونکہ یہ آپ کی بطور مسلمان، بطور ذمہ دار شہری بنیادی ذمہ داری ہے کہ سنی سنائی بات یا افواہ کو بغیر تحقیق کے قبول مت کریں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں مت لیں بلکہ اپنے حق کیلئے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کریں نہ کہ کوئی ایسی ہڑتال، احتجاج یا انتشار کا حصہ بنیں جس سے اپنے شہریوں کے جان و مال کے نقصان کا اندیشہ ہو یا کسی مسلمان کو اذیت پہنچے. 

تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ ایک ذمہ دار شہری، انسان اور مسلمان ہونے کا ثبوت دیں. شکریہ.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادار

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  87920
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
’’اختلاف‘‘ کا لفظ اتنا منفی مفہوم اختیار کر گیا ہے کہ بہت سے لوگ ہر قسم کا اختلاف ختم کرنے کے درپے ہوگئے ہیں حالانکہ اختلاف کے بعض خوبصورت اور اچھے پہلو بھی ہیں۔ تاہم بعض اختلافات ایسے ہوتے ہیں کہ جنھیں ختم کرنا چاہیے یا پھر جنھیں برداشت کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر 27 جولائی سے جس شخصیت کو سب سے زیادہ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے یقینا وہ جناب مولانا فضل الرحمان ہی ہیں۔ ہر دوسرا تبدیلی کا دعوے دار، مخالف مسلک کا پیروکار، مولانا کا سیاسی مخالف، بس مولانا پر ہی لعن طعن کر کے ملک کے تمام مسائل حل اور نئی
پروردگار کا احسان عظیم ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو قیام میں آئے 71برس ہو رہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کی اساس ان گنت قربانیوں پر استوار ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے لہو سے بنائی ہے اور ان قربانیوں کے ضمن میں مرد و خواتین دونوں نے
بلوچستان بیک وقت قدرتی، ساحلی، صحرائی اور پہاڑی معدنیات کے تحفظ کی دعویدار ہے۔ جہاں پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہنگول نیشنل پارک بھی موجود ہے اورنایاب ہونے والے جنگلی جانوروں کی متعدد اقسام پائے جاتے ہیں۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
خیبر پختون خوا پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی افغانستان نے پاکستان کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی جلال آباد میں پاکستان قونصل خانے کے اعلیٰ عہداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے
سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں صفائی کا بیان قلمبند کرانا شروع کر دیا۔ پہلے روز 50 عدالتی سوالات میں سے 45 کے جواب ریکارڈ کرا دیئے۔ باقی سوالات پر وکیل خواجہ حارث سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔
فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا بند کمرا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ میڈیا کے مطابق غزہ میں قابض اسرائیلی فوج نے ظلم وبربریت کی انتہا کررکھی ہے، آئے دن نہتے فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ
چند روز قبل اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں