Sunday, 31 May, 2020
آن لائن ایجوکیشن سسٹم اور طلبہ کو درپیش مسائل

آن لائن ایجوکیشن سسٹم اور طلبہ کو درپیش مسائل
تحریر: زنیرا رفیع

کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔اور دوسری جانب  ایچ ای سی نے طلبہ  کے وقت کے ضیاع کو بچانے کےلیے آن لائن ایجوکیشن سسٹم کو متارف کروایا ہےمگر طلبہ نے اس آن لائن سسٹم پر سخت رد عمل کا مظاہرہ کیاہے۔ کورونا وائرس کے تحت لاک ڈاؤن سے تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا آغاز طلبہ کیلئے کڑا امتحان ثابت ہورہا ہے کیونکہ دنیا بھر میں آن لآئن ایجوکیشن سسٹم کی وجہ سے انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں کافی کمی آئی ہے. انٹرنیٹ کی بہترین سروس نہ ہونے پر طلبہ کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہےگویاطلبہ کیلئے آن لائن تعلیم حاصل کرنا کسی امتحان سے کم نہیں ہے۔ اس حوالے سےطلبہ کی بہت ساری شکایات سامنے آرہی ہیں۔ جیسا کہ طلبا کی ایک بڑی تعداد دیہاتوں سے تعلق رکھتی ہےجہاں وائی فائی تو دور کی بات 3جی انٹرنیٹ کی سہولت بھی بہت مشکل سے  میسر ہے۔ اعلی تعلیمی ادارے طلبہ کو آن لائن مواد تو بھیج رہے ہیں مگر طلبہ کو نہ ہی تو سمجھ آرہا ہے اور نہ ہی ٹیچرز انکے  ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

اساتذہ سے سوالات پوچھنے پر وہ ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہر آن لائن کلاس گوگل کلاس روم یا زووم جیسی ایپس پر نہیں ہورہیں جہاں طلبہ اور اساتذہ آپس میں لائیو ایک دوسرے سے سوال و جواب کر سکیں بلکہ بہت سے اداروں میں اساتذہ نے اپنے کام کو آسان کرنے کیلئے واٹس ایپ پر گروپس بنا دیے ہیں اور وہاں مواد بھیج دینے کہ بعد کہا جاتا ہے کہ طلبہ خود اسکو پڑھیں اور جو سوال ہو استاد سے پوچھ لیں اور کچھ اساتذہ تو واٹس ایپ گروپس میں پرائیویسی لگا کر بس مواد بھیج دیتے ہیں اور ان تک رسائی صرف کلاس کے سی آر کو ہوتی ہے۔ ایچ ای سی اور اساتذہ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر طالب علم اس قابل نہیں ہوتا کے وہ بنا سمجھے سب کچھ پڑھ لے اور اسے سمجھ بھی آ جائے.  اس لیے صرف مواد بھیج دینا کافی نہیں ہے۔

سائنس سے تعلق رکھنے والے طلبہ گھر بیٹھ کر پریکٹیکل نہیں کر سکتےطلبہ کا کہنا ہے کہ حکومت انکے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہے۔
یاد رہےہر کسی کے پاس مہنگے موبائیل فون اور لیپ ٹاپس نہیں ہیں جو کہ ہیوی ایپلیکیشنز کو اسپورٹ کریں اور نہ ہی طلبہ اس سسٹم سے پہلے سے متعارف ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آن لائن سسٹم سے طلبہ کولیکچرز سمجھنے میں کافی مشکل ہو رہی ہے۔

مزیدبہت سے طلبہ اسکالرشپ پر پڑھتے ہیں یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو اپنی فیس خود ادا نہیں کر سکتے انکے پاس موبائل,لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ جیسی سہولتیں ہونا ناممکن ہے اور نہ ہی طلبہ ہر روز مہنگے انٹرنیٹ پیکچز کا خرچہ برداشت کر سکتےہیں۔
اسی حوالے سےطلبہ نے سوشل میڈیا پر مختلف ٹرینڈ چلا کر اپنی مشکلات کو سر عام پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ بہت مشکل سے یونیورسٹیوں کی فیس ادا کرتے ہیں, ان کے والدین کی آمدنی اتنی نہیں کے فیسیں ادا کرنے کے بعد بچوں کے دیگر اخراجات بھی ادا کریں بالخصوص جب سب کاروبار بند ہو چکے ہوں۔ یہاں گھر کا نظام مشکل سے چل رہا ہے طلبہ اپنے والدین کو پریشان نہیں کرنا چاھتے کہ انھیں انٹرنیٹ پیکجز کروا کر آن لائن کلاسز میں شمولیت اختیار  کرنی ہے۔ آگر یہ سب یونہی جاری رکھنا مقصود ہے تو طلبہ کوآن لائن کلاسز کے لیے ڈیوائسز اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کریں۔

 تاہم توجہ طلب بات یہ ہے کہ طلبہ کے سب سے مشہور ٹرینڈ wewantsembreak#کے بعدبھی ایچ ای سی نے تمام جامعات کو آن لائن کلاسز کو جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔اگرچہ کچھ تعلیمی اداروں نے طلبہ کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئےآن لائن کلاسز تو ختم کر دی ہیں مگر اسائنمنٹس لینےکاسلسلہ اب بھی معمول کے مطابق جاری ہے۔

وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو طلبہ کے مسائل کا صحیح ادراک کرتے ہوئے طلبہ دوست پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  85955
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
امریکہ کی انتہائی خطرناک صورتحال پر مولانا سخاوت سندرالوی کا خصوصی مضمون: نرسنگ ہومز میں جگہ نہیں ہے۔ گھروں میں رکھیں توشودر سا سلوک ہو رہا ہے۔ آج پیارے نہ زندہ کو دیکھ سکتے ہیں نہ مردہ کو ۔لاشوں کیلئے فیونرل ہومز میں فریزرز نہیں ہیں۔ قبرستانوں میں دفنانے کی جگہ نہیں مل رہی۔ مل بھی جائے چار سے پانچ دن کا ویٹنگ پیریڈ ہے ۔مریض کو شفا خانہ نہیں مل رہا ۔ بیمار کو دوا خانہ نہیں مل رہا۔
مسیح علیہ السلام کا جنم دن ان سب کو مبارک ہو جو خود کو مسیح کا پیروکار کہتے ہیں۔ مسیح کیا تھے کیوں آئے تھے اور ان کے ساتھ کیا ہوا؟ اس کا جاننا ہر دور میں ضروری تھا مگر اب تو بے حد ضروری ہے۔ انجیل کا پڑھنا ہر شخص کے لیے لازم ہونا چاہیے۔
حضرت سید محبوب عالم المعروف حضرت پیر شاہ جیونہ کروڑیہ کے 459 سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کا آغازبدھ کے روز سے دربار عالیہ حضرت شاہ جیونہ تحصیل و ضلع جھنگ میں شروع ہو گئیں جبکہ حضرت شاہ جیونہ کے دربار
حکومتِ پاکستان نے ایک بریگیڈ فوج سعودی عرب بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک بہت بڑی اور غیر متوقع پیش رفت ہے ۔ خاموشی سے ہونے والی بات چیت کے بعد اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر ایک تجویز ریاض سے موصول ہو گئی ہے۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو جاتا ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیر ریلوے شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں ایٹمی دھماکے انہوں نے، گوہر ایوب اور
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ساری قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایٹمی دھماکا راجا ظفر الحق، گوہر ایوب اور میں نے کیا، نواز شریف سمیت ساری کابینہ ایٹمی دھماکے کے خلاف تھی۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید احمد نے
معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کی شرح 92 فیصد ہے لہٰذا عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔ وزیراعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور
وزیر مملکت برائے امور کشمیر شہریار آفریدی بھی کورونا کا شکار ہوگئے ہیں۔ وزیر مملکت نے قوم کے لیے دعا دی اور کہا رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ وطن عزیز کو موذی وباء سے محفوظ بنائے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں