Wednesday, 14 November, 2018
مولانا سمیع الحق کون تھے؟؟؟

مولانا سمیع الحق کون تھے؟؟؟

جمعیت علمائے اسلام(سمیع الحق) کے سربراہ مولانا سمیع الحق 1937 میں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے اور دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی جس کی بنیاد ان کے والد مولانا عبدالحق نے رکھی تھی۔

انہوں نے مدرسہ حقانیہ سے فقہ، اصول فقہ، عربی ادب، منطق، عربی گرامر، تفسیر اور حدیث کا علم سیکھا۔ انہیں اردو کے ساتھ ساتھ عربی اور پشتو سمیت دیگر علاقائی زبانوں پر بھی مکمل عبور حاصل تھا۔

سند فضیلت و فراغت اور سند دورہ تفسیر قرآن کے ساتھ ساتھ شیخ الحدیث بھی تھے اور علما میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔

1988 میں مولانا عبدالحق کی وفات کے بعد مولانا سمیع الحق دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم بن گئے تھے، یہ بھی مانا جاتا ہے کہ طالبان کے متعدد سرکردہ رہنماؤں نے ان کے مدرسے سے تعلیم حاصل کی، جس کی وجہ سے انہیں ’فادر آف طالبان‘ بھی کہا جاتا تھا۔

سیاست میں قدم رکھنے کے بعد مولانا سمیع الحق جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کا اہم حصہ تھے اور اس جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے سے قبل 1970، 1977 اور 1985 کے انتخابات کی کامیابی سے مہم چلائی اور رکن اسمبلی بھی منتخب ہوئے۔

لیکن سابق فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں جمعیت علمائے اسلام میں اختلافات پیدا ہوئے، ان کے نتیجے میں مولانا سمیع الحق نے اپنی سابقہ جماعت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام(سمیع الحق گروپ) کی بنیاد رکھی۔

آپ 1974 کی تحریک ختم نبوت اور 1977 کی تحریک نظام مصطفیٰﷺ کا بھی اہم حصہ تھے۔ وہ 83-1985 تک جنرل ضیا الحق کی مجلس شوریٰ کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی امور کی صدارتی کمیٹی کے رکن بھی تھے۔

آپ 1985 میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور سینیٹ میں تاریخی شریعت بل پیش کیا۔ 1991 میں وہ ایک مرتبہ پھر اگلے 6سال کے لیے سینیٹر منتخب ہوئے اور کئی اہم کمیٹیوں کے رکن کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں۔

مولانا سمیع الحق کا سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں بھی اہم کردار رہا اور وہ طالبان کے تمام دھڑوں میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

ان کے مدرسہ حقانیہ سے افغان طالبان کے امیر ملا عمر نے بھی تعلیم حاصل کی جبکہ ان کے ملا عمر سے انتہائی قریبی مراسم تھے۔

آپ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے بانی اراکین میں شامل تھے جبکہ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین بھی تھے۔

مولانا سمیع الحق نے پولیو کے خلاف حکومتی مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا اور جب 2013 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پولیو کے حفاظتی قطروں کی مہم کو غیراسلامی قرار دیا تھا, تو اس وقت مولانا سمیع الحق نے اس مہم کے حق میں فتویٰ جاری کیا تھا۔

دسمبر 2013 میں سمیع الحق کی جانب سے دیئے گئے فتوے میں کہا گیا تھا کہ مہلک بیماریوں کے خلاف حفاظتی قطرے پولیو کے خلاف بچاؤ میں مددگار ہوتے ہیں اور طبی ماہرین کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ان بیماریوں سے بچاؤکے قطرے کسی بھی طرح سے مضر نہیں ہیں۔

مولانا سمیع الحق کی سابق امیر جماعت اسلامی منور حسن کے ساتھ یادگار تصویر— فوٹو: اے پی
طالبان پر اثرورسوخ کے سبب افغانستان کی جانب سے مولانا سمیع الحق سے مستقل مطالبہ کیا جاتا تھا کہ وہ افغانستان میں امن اور سیاسی حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

وزیر اعظم عمران خان کا بھی مولانا سمیع الحق سے قریبی تعلق رہا جس کی وجہ سےموجودہ وزیر اعظم کو کئی مرتبہ ’طالبان خان‘ ک لقب دیا گیا۔

رواں سال سینیٹ الیکشن میں عمران خان نے جمعیت علمائے اسلام(س) کے سربراہ کی حمایت کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود مولانا سمیع الحق کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مولانا سمیع الحق کی عمر 80سال سے زائد تھی اور آج راولپنڈی کی نجی سوسائٹی میں واقع گھر میں انہیں چھریوں کے وار کر کے ہلاک کردیا اور وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ بشکریہ ڈان نیوز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  55129
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ہماری بد قسمتی کہ پچھلے کئی سالوں سے ملک میں پھیلی دہشتگردی کی لہر نے نہ صرف قوم کے جریں سپوتوں کے سروں کے ساتھ فٹ بال کھیلے بلکہ کئی اہل علم بھی اس کی بھلی چڑھ گئے اور نجانے کتنی مزید جانیں درکار ہوں گی ان خون کے پیاسوں کو مگر
بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بنگلہ دیش کاقیام ہی بذات خودبھارتی عسکریت کامرہون منت ہے۔
سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کی بنیادی وجہ بننے والے شیخ نمر النمرکون تھے؟ آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ شیخ نمر النمرکون تھے- سعودی عرب میں جن درجنوں افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا ان میں شیخ نمر النمر بھی شامل تھے

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
خیبر پختون خوا پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی افغانستان نے پاکستان کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی جلال آباد میں پاکستان قونصل خانے کے اعلیٰ عہداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے
سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں صفائی کا بیان قلمبند کرانا شروع کر دیا۔ پہلے روز 50 عدالتی سوالات میں سے 45 کے جواب ریکارڈ کرا دیئے۔ باقی سوالات پر وکیل خواجہ حارث سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔
فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا بند کمرا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ میڈیا کے مطابق غزہ میں قابض اسرائیلی فوج نے ظلم وبربریت کی انتہا کررکھی ہے، آئے دن نہتے فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ
چند روز قبل اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں