Monday, 18 November, 2019
ٹویٹ لیکس اور چوہدری نثار

ٹویٹ لیکس اور چوہدری نثار
مفتی ابوبکر چشتی

 

کیا وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے غلط کہا ہے کہ اداروں میں ٹوئیٹس کے ذریعے ایک دوسرے کو مخاطب نہیں کیا جاتا،ادارے ٹویٹس کے ذریعے نہیں چل سکتے۔ ٹوئٹس پاکستانی جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہیں۔

کیا کسی ریاستی ادارے کو اختیارات سے تجاوز کا حق دیا جا سکتا ہے، یقینا نہیں۔ جس طرح ڈان لیکس غلط ہے اور اس ایک خبر نے ملکی قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔ بالکل اسی طرح آئی ایس پی آر کے ٹویٹ نے بھی منفی اثر دکھایا ہے۔ پوری دنیا میں پاکستانی نظام حکومت کی بے بسی کا تمسخر اڑایا گیا ہے۔

ڈان لیکس کے بارے میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فوادحسن فواد کی جانب سے ڈان انکوائری کی منظوری کے بارے میں سیکریٹری داخلہ کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔

اس خط کے نوٹیفیکشن کی شکل میں میڈیا پر آنے کے بعد ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے ایک ٹویٹ آگیا جس میں کہا گیا ’’ڈان لیکس پر نوٹیفیکیشن نامکمل ہے، انکوائری بورڈ کی سفارشات کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا گیا لہذا یہ نوٹیفکیشن مسترد کیا جاتا ہے۔‘‘ 

آئی ایس پی آر کے ٹویٹ کے وقت وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کراچی میں موجود تھے اور انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران آئی ایس پی آر کے مذکورہ ٹویٹ کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ’’ اس معاملے پر اتنا بھونچال کیسے آگیا جبکہ ابھی تک وزارت داخلہ کی طرف سے کوئی نوٹیفکیشن ہی جاری نہیں کیا گیا۔ یہ نوٹیفکیشن جاری کرنا وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے‘‘۔

چوہدری نثار علی خان نے اہم سرکاری معاملات پر ٹوئیٹس کو جمہوریت اور پاکستان کے نظام اور انصاف کے لئے’’ زہر قاتل‘‘ قرار دیا ۔ وہ صاف طور پر فوجی ترجمان کے ٹویٹ پر تنقید کررہے تھے۔ جس میں میڈیا میں ایک طوفان برپا تھا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کا خط وزارت داخلہ کے لئے ایک ریفرنس سے زیادہ کچھ نہیں۔ انہوں نے ڈان لیکس کی نامکمل رپورٹ کے اجرا ء اور اس پر فوری طور پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ٹویٹ پر ’’ناپسندیدگی‘‘ کا اظہار کیا۔

چوہدری نثار کے پاک فوج کے ترجمان ادارے کے خلاف اس طرز عمل کو بعض آمریت پسند قوتوں نے نامناسب قرار دے دیا ہے۔

یکم مئی پیر کو یوم مزدور پر پاکستان آرڈیننس فیکٹری میں محنت کشوں سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ آج معلوم نہیں کون نادان تھا جس نے مجھے یہاں آنے سے رو کا، پتہ نہیں رات کو کیا تماشا لگایا گیا دو دہشتگرد پکڑے گئے اور خودکش جیکٹس برآمد کی گئیں۔ 

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ اگر ایجنسیاں واہ آرڈیننس فیکٹری جیسے حساس مقامات کی حفاظت نہیں کرسکتیں تو پھر بہت سے سوالیہ نشان پیدا ہو جائیں گے۔ 

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ یکم مئی پر پی او ایف ملازمین کی تقریب سالہاسال سے ہورہی ہے، وہاں کا مزدور خطرے میں ہے تو پھر کوئی بات نہیں ہم بھی ان کے ساتھ ہیں۔ یہ بات انھوں نے مزدوروں کے اجتماع میں شرکت سے پہلے بھی للکار کی صورت میں کہی اور ان سے خطاب کرتے ہوئے بھی ایجنسیوں پر تنقید کی۔

چوہدری نثار کے اس دبنگ للکار اور جرات مندانہ موقف کو عوامی حلقوں نے خاصا پسند کیا۔ عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ آئی ایس پی آر نے دراصل ڈان لیکس کے نوٹیفیکشن کو مسترد نہیں کیا بلکہ عوامی رائے سے منتخب حکمرانوں کا مذاق اڑایا ہے۔ کیا پوری دنیا میں اس طرح کی ایک بھی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ ڈان لیکس پر شور مچانے والے کیا ٹویٹس لیکس پر بھی اتنا ہی شور مچائیں گے اور اس پر بھی جے آئی ٹی بنا کر دم لیں گے یا خاموشی اختیار کریں گے۔ 

بہرحال پاکستانی عوام پاک فوج کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حکومت اور ریاستی اداروں کو چاہئے کہ آپس میں رسہ کشی کے بجائے ملکی اور عوامی مفادات کا خاص خیال رکھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  36313
کوڈ
 
   
مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں