Saturday, 04 July, 2020
مقتدیٰ صدر کا دورہ سعودی عرب: کیا کھویا کیا پایا؟؟؟

مقتدیٰ صدر کا  دورہ سعودی عرب: کیا کھویا کیا پایا؟؟؟
تحریر: ناصر خان

 

بغداد ۔ عراق میں صدر پارٹی کے رہنما سید مقتدی صدر نے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران نئے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں طرفین نے دونوں ملکوں کے درمیان موجود مسائل پر بات چیت کی ۔ 

اخباری ذرائع کے مطابق مقتدی صدر کا یہ دورہ سعودی حکومت کی دعوت کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے تعلقات اعتماد کی فضا قائم نہیں ہے۔ 

2003 سے لیکر اب تک عراق اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گیارہ سال بعد سعودی عرب آمد پر سعودی وزیر امور خلیج فارس ثامرا سبھان نے مقتدیٰ صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔ 

یاد رہے ثامرا سبھان عراق میں سعودی سفیر رہے ہیں۔ وہ رضاکار فورس حشد الشعبی کی تشکیل کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ بغداد سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ عراق کی بعض داخلی اور خارجی پالیسیوں کی مخالفت کی وجہ سے ان کو عراق بدر کیا گیا تھا۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ حشد الشعبی وہی رضاکار فورس ہے جس نے عراقی افواج کے ساتھ ملکر داعش کو موصل اور دیگر علاقوں میں شکست دی ہے۔ مقتدا الصدر کی رضاکار فورس سرایا السلام بھی حشد الشعبی کے ساتھ مل کر دہشتگردوں کا صفایا کرتی رہی ہے۔ 

مقتدا الصدر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ عراق اور ایران کی بعض پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں۔ عراق سے امریکی فوجوں کے انخلا کا مطالبہ بڑے جوش و جذبے کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ یمن پر سعودی جارحیت پر بھی سخت معترض تھے۔ 

سعودی عرب میں شیعہ عالم شہید النمر کی شہادت کے واقع پر عراقی حکومت سے انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات منقطع کئے جائیں۔ شام کے صدر بشار الاسد کے بھی سخت مخالف ہیں اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ 

بہرحال مقتدا الصدر کے دورہ سعودی عرب سے ایک بات تو واضح ہو گئی ہے کہ ان کے اور سعودی عرب کے درمیان اتفاقات اور اختلافات کے باوجود دونوں تعلقات بڑھانے پر متفق ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ مقتدی صدر کے اس دورے کا مقصد کیا ہے، سعودی عرب بھی عراق میں اپنے حصے کاکردار ادا کرنے کا خواہشمند ہے۔ 

سعودی عرب کا عراق سے جارحانہ رویہ، عراق کے اندرونی معاملات میں سعودیہ کی مداخلت اور دوسری طرف مقتدی صدرکا آل سعود خصوصا نئے ولی عہد پر حد سے زیادہ اعتماد عراق کے اندر نئی سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ 

اگر خلیجی ممالک کے قطر کے ساتھ بحران کے حل، یمن جنگ کی روک تھام، بحرین کے بحران کا خاتمہ، ایران سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے مقتدی صدر اپنا کردار ادا کریں تو یہ دورہ مناسب وقت پر مفید دور قرار پائے گا اور اگر ایسا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا تو آئندہ برس ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں مقتدا صدر کو حشد الشعبی کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

بہر حال یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ مقتدا الصدر نے اس دورے میں کیا کھویا اور کیا پایا؟

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  44774
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی عرب کے ایک ایم بی سی چینل پر رمضان کے شروع میں ایک ڈرامہ "ام ہارون" کے نام سے نشر کیا جا رہا ہے، جس میں یہودیت کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
شاہ سلمان کے واحد زندہ بھائی احمد بن عبدالعزیز کا نام بھی سعودی عرب کے آئندہ ممکنہ حکمران کے طور پر سامنے آ رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق احمد بن عبدالعزیز کو شاہی خاندان، دیگر اہم شخصیات اور کچھ مغربی طاقتوں کی بھی ممکنہ طور پر حمایت حاصل ہو سکتی تھی۔
سعودی عرب اس وقت کئی مسائل کا شکار ہے۔ عرب وعجم جنگ، علاقائی بالادستی ، ہمسایہ ملکوں سے خراب تعلقات ہوں یا تیل کی کم ہوتی عالمی قیمتیں, ان سب مسائل نے سعودی عرب کے مفادات کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔
گذشتہ دو سالوں میں یورپ میں رہنے والے تین سعودی شہزادے لاپتہ ہو چکے ہیں۔ یہ تینوں شہزادے ماضی میں سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور ان کی گمشدگی کے بارے میں ایسے شواہد ہیں جن

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم ٹیلی فونک گفتگو میں بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے خطے
ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو برطرف کر دیا ہے۔ ارشد ملک کا اسکینڈل سامنے آنے پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مائنس عمران خان کا مطالبہ غیر جمہوری مطالبہ نہیں۔ حکومت ہٹانے کے لیے کبھی بھی غیر آئینی طریقے کی حمایت نہیں کریں گے۔
تائیوان حکومت کا عجیب و غریب اقدام ،کورونا وائرس میں سفر کے لیے ترسنے والوں کے لیے تائیوان میں ’’جعلی پروازوں‘‘ کا سلسلہ شروع کردیا۔ ابتدائی مرحلے میں اس سفر کے لیے 7 ہزار افراد نے رجوع کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں