Tuesday, 18 December, 2018
’’مجھے مولانا سے نفرت ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔‘‘

’’مجھے مولانا سے نفرت ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔‘‘
تحریر: محمد عمران اسلام آباد

 

بوجہ چند یوم تعطیلات کے سوات میں مقیم ہوں۔ تین دن سے نئے پاکستان کے ضلع سوات میں بجلی ناپید تھی فقط ایک گھنٹہ کے لیے بجلی آتی تھی۔ اسی وجہ سے دو دن تمام عَالم سے منقطع رابطہ تھا۔

لیکن جیسے ہی موبائل آن ہوا تو واٹس ایپ اور فون ایس ایم ایس کا تانتا بندھ گیا۔ جس میں کپتان کے محبین نے شکایات کا انبار لگایا ہے قدر مشترک تمام سوالوں کا یہ تھا کہ مولانا کیوں ان چوروں کا ساتھ دے رہے ہے؟ مجھے تو مولانا سے نفرت ہوگئی اس سے علماء بد نام ہوتے ہیں۔

جواب عرض ہے:

کہ علماء دین میں سے ایک کثیر تعداد نے دعوت وتبلیغ کا میدان سنبھالا ہے اور ایک معتد بہ تعداد نے درس وتدریس کا نظام ہاتھ میں لیا ہے اسی طرح ایک عظیم تعداد نے سیاست کے شعبہ کو اختیار کیا ہے

چنانچہ جمعیت علماء اسلام کی صورت میں ہزاروں علماء کرام میدان سیاست میں موجود ہیں۔ ان علماء کرام نے مولانا فضل الرحمن صاحب کو اپنا لیڈر وقائد چنا ہے۔ مولانا صاحب کی سیاست وسیادت تدبر اور معاملہ فہمی دور اندیشی دوست ودشمن دونوں تسلیم کرتے ہیں۔

مولانا صاحب جمعیت علماء کے منشور کی سیاست کرتے ہیں اور ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ اپنی قلیل تعداد کے ساتھ وہ جمعیت علماء اور مذہبی طبقہ کے تدریجی اہداف کو اقتدار میں رہ کر حاصل کرسکتے ہے یا حزب اختلاف کا حصہ بن کر ہر، دو آپشن پر غور کرتے ہیں اور علماء کے شوری میں اس کا فیصلہ ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں اصل سوال پر کہ مولانا ان چوروں کے ساتھ کیوں کھڑے ہوتے ہیں؟ 
تو یہ جان لیجیے کہ کافر یہ شہباز وزرداری بھی نہیں اور کافر عمران وپرویز الہی بھی نہیں۔ فرشتہ عمران خان بھی نہیں اور زرداری شہباز بھی نہیں۔ کوئی بھی دودھ کا دھلا نہیں اب تین آپشن ہیں

1- اہل اقتدار بد چلن کے ساتھ شریک ہوا جائے

2- حزب اختلاف بد کرداروں کے ساتھ ساتھ ہوا جائے

3- ملک کے اہم فیصلے ان بد چلنوں کے ہاتھ ہونے دیے جائے اور سیاست ہی چھوڑ دی جائے

ظاہر ہے کہ آخری آپشن کا کوئی ذی عقل بھی مشورہ نہیں دے سکتا ورنہ ممکنہ متبادل بتایا جائے۔

لازم ہے کہ اول دو آپشن زیر غور رہیں گے چنانچہ پارلیمنٹ میں ابو بکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما تو موجود نہیں انہی میں سے کسی کے ساتھ چلنا ہوگا۔ سو جس طرح ہم آپ کو سیاسی اختلاف کا حق دیتے ہیں آپ مولانا کو بھی اس اختلاف کا حق دیجیے

جس طرح آپ مذہبی ووٹ کے لیے درگاہ چوم سکتے ہے اس طرح مولانا کو بھی حمایت حاصل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ جس طرح آپ آزاد کلچر کا شو کرکے مغربی اور سیکولر خیال قوتوں کی حمایت لیتے ہیں اسی طرح مولانا بھی مذہبی قوتوں کو جمع کرکے حمایت کا حق دار ہیں۔

جس طرح آپ پیپلز اور نون لیگ سے الیکٹبلز چوروں کو اپنے آشرم میں ساتھ رکھ سکتے ہیں، اسٹبلشمنٹ سے ساز باز کرسکتے ہے، سینٹ میں زرداری کے قدموں میں اپنے ووٹ ڈھیر کرسکتے ہے پرویز الہی جیسے ڈاکو سے اتحاد کرسکتے ہے

تو اسی طرح مولانا کو بھی سیاسی جوڑ توڑ کا حق دیجیے اس پر اس قدر برا فروختہ ہونے اور سیخ پا ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ میرے دوستوا یہ سیاست ہے اس میں نفرت نہیں باہمی حق اختلاف جان کر جیو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  9832
کوڈ
 
   
مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
سابق وزیراعظم نواز شریف کے سیکیورٹی گارڈ نے صحافی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے خلاف صحافیوں نے شدید احتجاج کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے شہباز شریف سے ملاقات کی جس کے بعد ان
ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندوق کی گولیاں آزادی کے غیر مسلح بہادر حریت پسندوں کو کبھی کچل نہیں سکتیں۔
فیصل رضا عابدی نے چیف جسٹس پاکستان کے خلاف ایک ویب چینل کو انٹرویو دیا تھا اور اس معاملے میں ان پر آج فرد جرم عائد کی گئی ہے، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔ باس موقع پر عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرلیا ہے۔
پاکستان کے تعاون سے آج سے شروع ہونے والے امریکا طالبان مذاکرات کا امریکا کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے جب کہ طالبان نے بھی امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کردی۔ ہائی پیس کونسل کے ڈپٹی چیف

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں