Wednesday, 22 January, 2020
جنرل قاسم سلیمانی عراق میں کیا کر رہے تھے؟

جنرل قاسم سلیمانی عراق میں کیا کر رہے تھے؟
تحریر: ابن حسن

 

مغربی ایشیا کے حالات پر نظر رکھنے والے احباب جانتے ہیں کہ داعش نے جب عراق کے دو بڑے شہروں موصل اور تکریت سمیت شمالی عراق کے متعدد علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا تو ۳۱ دسمبر ۲۰۱۴ کو عراقی اور ایرانی حکومتوں کے درمیان داعش کے خلاف جنگ میں باہمی تعاون کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ دونوں حکومتوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کی رو سے ایران عراق کی داعش کے خلاف جنگ میں اسلحے کی فراہمی، عسکری مشاورت، خفیہ معلومات کے تبادلے اور مالی معاونت کے ذریعے مدد کرے گا۔

دونوں حکومتوں کے مابین طے پانے والا یہ معاہدہ اس وقت تک بحال ہے اور ایرانی لفٹیننٹ جنرل اسی معاہدے کے تحت بعض دفاعی امور کے سلسلے میں عراق گئے تھے کیونکہ عراقی حکومت عوامی رضاکار اور سرکاری افواج کی مدد سے داعش کے قبضے میں باقی ماندہ علاقوں کو خالی کروانے کے آپریشن میں مصروف عمل ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس تعاون پر متعدد بار عراقی سیاسی قیادت ایران اور ایرانی حکومت و قیادت کا شکریہ ادا کرچکی ہے کہ اگر ایران ایک ذمہ دار ہمسایہ ہونے کے ناطے بروقت مدد نہ کرتا تو داعش کے ہاتھوں بغداد کا سقوط خارج از امکان نہیں تھا۔

بعض دوستوں کو عراق کی عوامی رضا کار فوج حشد الشعبی کے وجود پر شبہات ہیں اور وہ اسے کسی گروپ پارٹی یا بین الاقوامی طاقت کا کوئی نجی لشکر سمجھ رہے ہیں تو عرض ہے یہ بات بھی اس خطے کے حالات پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ دینی مرجعیت کے داعش کے خلاف فتویٰ کے نتیجے میں بننے والی عوامی رضا کار فوج حشد الشعبی ایک پارلیمانی قانون کے ذریعے عراق کی سرکاری فوج کا درجہ رکھتی اور داخلی کمان کے علاوہ اس کی کمان بھی سرکاری فوج کی طرح عراق کے منتخب سربراہِ حکومت کے پاس ہے۔ لہذا حشد الشعبی عراق میں کسی کی پروکسی نہیں بلکہ عراق کا ریاستی ادارہ ہے جسے قانونی تحفظ حاصل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادار

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  72044
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
چند روز قبل ( ن) لیگ کی ریلی جس وقت اسلام آباد سے راولپنڈی کا سفر طے کررہی تھی اس دوران چند ٹی وی چینلوں کے رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کوریلی میں شریک لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا، عام فہم زبان میں یوں
بلی تھیلے سے باہر آنے کے بعد بٹ بٹ دیکھ رہی ہے اور اپنے آقاؤں کو ڈھونڈ رہی ہے کیونکہ سابق وزیراعظم گیلانی کی بااختیار اور رعب دارپرنسپل سیکریٹری نرگس سیٹھی کے دستخط سے جاری کیا گیا خط منظر عام پر اگیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ
سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کی بنیادی وجہ بننے والے شیخ نمر النمرکون تھے؟ آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ شیخ نمر النمرکون تھے- سعودی عرب میں جن درجنوں افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا ان میں شیخ نمر النمر بھی شامل تھے

مزید خبریں
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
عزیزان۔۔۔! بہت آسان ہے ہر رات ٹی وی ڈرامہ کا انتخاب کرنا یا کسی فلم کو دیکھنے کے لیے دیر تک جاگنا۔۔ بہت مشکل ہے ٹھنڈی اور تاریک رات میں اپنے بچوں اور والدین سے دور برفباری جیسے موسم کے اندر اپنا فرض نبھانا۔۔

مقبول ترین
ماں۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ آپ میرے اس عارضی دنیا میں واپس آنے کے لیے کتنی پرجوش تھیں۔۔۔۔۔یہ لیں، آج آپ کی دیرینہ خواہش پوری کیے دے رہی ہوں۔۔۔۔ارے دیرینہ یوں بولا ہے کہ جب سے میرا آپ کا ساتھ چھوٹا، وہ بندھن ٹوٹا جس نے مجھے آپ کی سانسوں کی ڈور سے باندھ رکھا تھا،تب سے محسوس ہونے لگا کہ اب مجھ میں کچھ باقی نہیں رہا۔
وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور اہم ایشوز پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کی سائیڈ لائنز پر ہونے والی اس اہم ملاقات میں امریکی
حکومت اور اپوزیشن نے نئے چیف الیکشن کمشنر کے لیے سکندر سلطان راجہ کے نام کا اعلان کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن ممبران و چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے چیئرپرسن شیریں مزاری کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی
وزیراعظم عمران خان عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس روانہ ہوگئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں