Monday, 06 July, 2020
جنرل قاسم سلیمانی عراق میں کیا کر رہے تھے؟

جنرل قاسم سلیمانی عراق میں کیا کر رہے تھے؟
تحریر: ابن حسن

 

مغربی ایشیا کے حالات پر نظر رکھنے والے احباب جانتے ہیں کہ داعش نے جب عراق کے دو بڑے شہروں موصل اور تکریت سمیت شمالی عراق کے متعدد علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا تو ۳۱ دسمبر ۲۰۱۴ کو عراقی اور ایرانی حکومتوں کے درمیان داعش کے خلاف جنگ میں باہمی تعاون کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ دونوں حکومتوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کی رو سے ایران عراق کی داعش کے خلاف جنگ میں اسلحے کی فراہمی، عسکری مشاورت، خفیہ معلومات کے تبادلے اور مالی معاونت کے ذریعے مدد کرے گا۔

دونوں حکومتوں کے مابین طے پانے والا یہ معاہدہ اس وقت تک بحال ہے اور ایرانی لفٹیننٹ جنرل اسی معاہدے کے تحت بعض دفاعی امور کے سلسلے میں عراق گئے تھے کیونکہ عراقی حکومت عوامی رضاکار اور سرکاری افواج کی مدد سے داعش کے قبضے میں باقی ماندہ علاقوں کو خالی کروانے کے آپریشن میں مصروف عمل ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس تعاون پر متعدد بار عراقی سیاسی قیادت ایران اور ایرانی حکومت و قیادت کا شکریہ ادا کرچکی ہے کہ اگر ایران ایک ذمہ دار ہمسایہ ہونے کے ناطے بروقت مدد نہ کرتا تو داعش کے ہاتھوں بغداد کا سقوط خارج از امکان نہیں تھا۔

بعض دوستوں کو عراق کی عوامی رضا کار فوج حشد الشعبی کے وجود پر شبہات ہیں اور وہ اسے کسی گروپ پارٹی یا بین الاقوامی طاقت کا کوئی نجی لشکر سمجھ رہے ہیں تو عرض ہے یہ بات بھی اس خطے کے حالات پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ دینی مرجعیت کے داعش کے خلاف فتویٰ کے نتیجے میں بننے والی عوامی رضا کار فوج حشد الشعبی ایک پارلیمانی قانون کے ذریعے عراق کی سرکاری فوج کا درجہ رکھتی اور داخلی کمان کے علاوہ اس کی کمان بھی سرکاری فوج کی طرح عراق کے منتخب سربراہِ حکومت کے پاس ہے۔ لہذا حشد الشعبی عراق میں کسی کی پروکسی نہیں بلکہ عراق کا ریاستی ادارہ ہے جسے قانونی تحفظ حاصل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادار

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  10684
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
سعودی عرب کے ایک ایم بی سی چینل پر رمضان کے شروع میں ایک ڈرامہ "ام ہارون" کے نام سے نشر کیا جا رہا ہے، جس میں یہودیت کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
عالمی یوم آزادیِ صحافت کے حوالے سے خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تیس برس میں انیس صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بھارتی فورسز کے مظالم اجاگر کرنے پر صحافیوں کو گرفتار کیاجاتا ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یکم مئی' یومِ مزدور' وہ دن جسے مزدور کے علاوہ سب مناتے ہیں' اس بار شائد وہ رنگ نہ جما سکے کہ کورونا کے دربار میں سبھی ایک ہوئے ہیں مگر متاثر صرف مزدور۔ مزدور کہ جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوتے تھے اب وقت کی بے رحم موجوں کے سہارے زندگی اور موت کی جنگ سے نبرد آزما ہے۔ خیر یہ قصہ پھر سہی ابھی فی الحال ایک طائرانہ نظر اس دن کی مناسبت سے۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
عراق میں امریکی سفارت خانے اور فوجی تنصیبات پر راکٹ داغے گئے تاہم امریکی ایئر ڈیفنس نے راکٹس کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق کے ریڈ زون ایریا میں واقع امریکی سفارت خانے پر ایک راکٹ داغا گیا جسے
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹوورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) بند نہیں ہوا بلکہ فائدہ مند ادارہ بننے جا رہا ہے۔ اس ادارے نے لاکھوں نوکریاں پیدا کرنی ہیں، ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔
سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین اور اطلاعات ونشریات کے معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ ایم ایٹ پر کام کا آغاز حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سینٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے جنگ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کنٹرول لائن پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی، بٹل سیکٹر میں مارٹروں کی شیلنگ کر کے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کی زد میں آ کر ایک 22 سالہ نوجوان زخمی ہو گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں