Thursday, 19 July, 2018
خواجہ سرا، ہجڑا یا تیسری جنس

خواجہ سرا، ہجڑا یا تیسری جنس
تحریر: زاہد ابراہیم

 

خواجہ سرا کہیں، ہجڑا کہیں یا تیسری جنس: ہم جو بھی کہیں خدا کی اس مخلوق کا وجود ایک حقیقت ہے ۔زمانہ جاہلیت سے ایک رواج چلا جو آج کے اس جدید معاشرے کے عروج کے ماتھے پر کالک کی طرح نمایاں ہے،یہ الگ بات ہے کہ یہ ایک تکلیف دہ بات ہے۔بیٹی اور بیٹا کو ہی اولاد تصور کیا جاتا ہے اور آج بھی یقیناً ہر جوڑا یہی مانگتا ہے۔دنیا بھر میں کروڑوں گھروں میں تیسری جنس کی حامل اولاد ہے جسے کسی نہ کسی صورت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ترقی یافتہ معاشرے میں انسانی اقدار کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے ان کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے معاشرے کا کار آمد شہری بننے کا حق دیا گیا ہے ۔پسماندہ ممالک/ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کی وجہ سے تیسری جنس تشخص آج تک نہیں مل سکا اور انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔پاکستان میں آبادی کا .005% ’تیسری جنس ہے جنہیں پہلی دفعہ مردم شماری 2017ء میں گنا گیا ہے اعداد کے مطابق 10418خواجہ سرا ملک بھر میں آباد ہیں ۔حقوق پر کام کرنے والی تنظیمیں ان اعداد سے کئی گنا زائد تعداد بتاتی ہیں ۔

ایک غیر سرکاری تنظیم کے نمائندے کے مطابق معاشرتی مسائل کی وجہ سے رجسٹریشن نہیں ہو پاتی۔اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں سگنل اور چوراہے پر زنانہ لباس زیب تن کئے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت حقارت اور نفرت سے نوازی جاتی ہے ۔کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ کون ہیں ؟، کیوں ہیں؟ اور ان کا یہ امیج کس نے بنایا ہے اور ان کو اس سٹیج پر لانے والے بھی ہم خود ہیں اور پھر ان کو نفرت اور تضحیک کا نشانہ بھی ہم خود بناتے ہیں ۔بحیثیت مسلمان ہماراقرآن پاک پر یقین کامل ہے ۔قرآن مجید کی سورت شوریٰ کی آیت نمبر49اور50میں اللہ تعالی فرماتے ہیں ’’اللہ ہی کیلئے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت(ف۱۲۶)پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے(ف۱۲۷)اور جسے چاہے بیٹے دے(ف۱۲۸)یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کر دے(ف۱۲۹)بیشک وہ علم اور قدرت والا ہے‘‘جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کردیا ہے کہ اس کا خالق بھی وہی ہے جو دیگر مخلوق کا ہے مگر پھر بھی ہمارا معاشرہ اس حقیقت کو ماننے سے انکاری کیوں ہے؟۔

ہم کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ نے ان کو خواجہ سرا پیدا کیا ہے تو ہم کیوں ان کو زبردستی بیٹا یا بیٹی بننے پر مجبور کرتے ہیں صرف اور صرف اس لئے کہ معاشرے میں ہمیں کوئی تضحیک کا نشانہ نہ بنائے۔ پاکستانی معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو زیر بحث لانا ہی گوارا نہیں کرتے ۔تیسری جنس کی حامل اولاد کو سماجی و معاشی حقوق تو دور ان کو بنیادی انسانی حقوق بھی نہیں دئیے جاتے۔قدرتی طور پر خواجہ سرا ہونے کی وجہ سے والدین فرضی عزت کی خاطر ان کو گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کرتے ہیں جس کے باعث ہمارا معاشرہ ان کو بھیک مانگنے،ناچ گانا کرنے اور جنسی تسکین کا ذریعہ بننے پر مجبور کر دیتا ہے۔اور پھر وہ معاشرتی بے حسی کا نشانہ بنتے ہوئے صرف چوراہوں پر ملتے ہیں یا پھر تیزاب گردی یا پھر کسی گولی کا نشانہ بن کر اپنی اندھیری زندگی سے چھٹکارہ پا لیتے ہیں ۔پاکستان میں جب بھی جنسی امتیاز کی بات کی جاتی ہے توریاست پاکستان ہو یا کوئی بھی ادارہ ہو وہ ہمیشہ عورت کے حقوق کی ہی بات کرتے ہیں مگر خواجہ سراؤں کے حقوق کے حوالے سے کوئی گنجائش نہیں پیدا کی جا سکی۔ 

پاکستان میں خواجہ سراؤں کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے 2009ء میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کا حکمنامہ جاری کیا جس کے بعد ان کو شناختی کارڈ کا اجراء کیا گیا یہ ایک مثبت قدم تھا لیکن ان کے شناختی کارڈ میں جنس کی جگہ صرف x لکھا گیا جس کی وجہ سے نہ تو ان کے بینک اکاؤنٹ کھل سکے اور نہ ہی وہ عرب ممالک میں جانے کے اہل ہیں لیکن ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں پاکستان کو رول ماڈل بناتے ہوئے 2011ء میں بھارت نے بھی خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ جاری کئے ۔پاکستان میں خواجہ سراؤں کو بنیادی حقوق کی آئینی ضمانت پر عمل کرتے ہوئے 3%ملازمتی کوٹہ دینے کا اعلان ہوا مگر عمل نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا کالج،یونیورسٹی جا سکتا ہے بھلا ؟سب کچھ کرے انسان مگر خدا کا نظام کس نے چیلینج کیا ہے اور کون کر سکتا ہے ؟ جس کا جو نصیب ہے وہ ملتا ہے ۔خواجہ سرا صرف شادی بیاہ و بہروپ کی علامت نہیں رہے اور نہ رہیں گے اس کی مثال آج کے معاشرے میں ہیں جو نفرت زدہ اس معاشرے کے مقابلے سے نبرد آزما ہو کر کار آمد شہری بن کر زندگی گزار رہے ہیں.

29سالہ ایشا چوہدری جو کہ تین بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر اور فیصل آباد کی رہائشی ہیں اور انہوں نے گریجویشن پنجاب یونیورسٹی جبکہ ایم بی اے فائنانس جی سی کالج فیصل آباد سے کیا ایشا بتاتی ہیں کہ جب وہ ماسٹر کرنے کے بعد اپنی والدہ کے انتقال کے بعد گھر واپس گئیں تو ان کے والد نے انہیں وارننگ دی کہ اگر آپ نے گھر رہنا ہے تو لڑکا بن کر رہو ورنہ گھر چھوڑ دولڑکا بن کر رہنا میرے لئے خود کو اذیت دینے کے مترادف تھا لوگ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ جب اللہ کی طرف سے میں اس جنس میں پیدا ہوئی تو میں خود کو کیسے لڑکے کی شکل میں ڈھال سکتی تھیکیونکہ یہ تو میں جانتی ہوں کہ میں خود کو کیسا محسوس کرتی ہوں۔میں کیا پہننا چاہتی ہوں۔میں کیسے چلتی ہوں۔ میں کیسے بولتی ہوں ۔میں کیسے ایکٹ کرتی ہوںیا میں لوگوں کے بارے میں کیسا محسوس کرتی ہوںیہ سب وہ سوال ہیں جن کا جواب تو شاید کوئی نہیں جانتا لیکن تنقید کرنا ہرکسی کیلئے آسان ہے۔ اسی لئے مجھے اپنے گھر کو خیر آباد کہنا پڑااورمیں اپنی کمیونٹی کے لوگوں میں چلی گئی ۔تعلیم کی وجہ سے اور دیگر خواجہ سراؤں کے حقوق پر کام کرنے کیلئے میں ایک فلاحی ادارے میں بطور پراجیکٹ کوآرڈینیٹر اپنے فرائض انجام دے رہی ہوں.

ایشا اور اس جیسے اور کئی خواجہ سرا ہیں جو تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے قابل عزت ملازمت کررہے ہیں اور اپنی کفالت خود کر رہے ہیں۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر حکومت خواجہ سراؤں کو ان کے آئینی اور بنیادی حقوق دے خصوصاً ان کو تعلیم یافتہ بنانے کیلئے موثر پالیسی مرتب کرے اور اس کے ساتھ ساتھ والدین ہمارے علماء کرام (INTLECTUALS)اور اجتماعی سطح پر ایک مثبت سوچ ہی ان کو جینے کا حق دے سکتی ہے۔یہی ایک طریقہ ہے جس سے خدا کی یہ مخلوق قابل عزت زندگی گزارسکتی ہے ۔ تیسری جنس انسانی روپ کی ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

تبصرے
نام: Wajahat Hussain
تاریخ: 2018-04-04
تبصرہ: This Article is most informative . pleas publish more articles about transgender
 
 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  77777
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اکثر جب ہم بازار جاتے ہیں تو ہمیں مردانہ آواز مگر زنانہ لباس زیب تن کئے ہوئے کوئی آواز پیچھے سے آتی ہے کہ ’’اے بابو کچھ دے دو‘‘اور جب ہم مڑ کر دیکھتے ہیں تو کوئی خواجہ سرا پیچھے کھڑا ہوتا ہے بعض افراد تو اس تیسری جنس کو کچھ نہ کچھ

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
سینیٹ قائمہ کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے نمائندہ جی ایچ کیو نے بتایا پاک فوج کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں، آرمی صرف امن اومان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لئے کام کر رہی ہے، آرمڈ فورسز ہمیشہ سول اداروں کو سپورٹ دیتی رہی ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نوازشریف اورمریم نواز کی ان کے وکلا سے ملاقات منسوخ کردی گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق نوازشریف اورمریم نواز کا آج اڈیالہ جیل میں چھٹا روزہے جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکو جیل کا مکین ہوئے 11 دن ہوگئے۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں انتخابی امیدواروں پر دہشت گردانہ حملوں سے پاکستان خوفزدہ ہونے والا نہیں ملک میں جمہوری انتخابی عمل جاری رہے گا۔
ترکی کی حکومت نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد لگائی جانے والی ایمرجنسی دو سال بعد ختم کردی۔ 15 جولائی 2016 کو ترک فوج کے ایک دھڑے نے صدر رجب طیب اردوان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہوگئی تھی۔ اس بغاوت میں فوجیوں سمیت تقریب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں