Monday, 17 December, 2018
نظریاتی یا روایتی سیاست ؟؟؟

نظریاتی یا روایتی  سیاست ؟؟؟
تحریر: احمد عباس

 

سیاست میں کچھ بھی حرف آخرنہیں نہیں ہوتا،عمران خان اور پی ٹی آئی والے  پچھلی ایک دہائی سے جن الیکٹ ایبلزلزاوروڈیروں کے خلاف جلسے،جلوس کرتے رہے آج وہی لوگ پی ٹی آئی کے ٹکٹس پہ انتخاب لڑرہےہیں۔سیاسی جماعتوں پر اچھے برے حالات آتے رہتے ہیں، ایسے میں بہت کم لوگ ہوتے ہیں جومشکل وقت میں بھی پارٹی کاساتھ نہیں چھوڑتے۔ پی ٹی آئی جوکہ نظریہ اور تبدیلی کانعرہ لگانے والی جماعت تھی اسکے انتخابی ٹکٹ تقسیم کرنے والی کمیٹی میں دولوگ توعدالت کی وجہ  سے نااہل تھے جوانتخاب بھی نہیں لڑسکتے تھے۔دوسرے ریجنل صدورتھے جودوسری جماعتوں سےآئے ہوئےتھے۔پورے پاکستان سے پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں کو نظراندازکرتےہوئےایسے لوگوں کوانتخابی اکھاڑے میں اتاراگیاہےجوملکی سیاست پہ پچھلے دوتین عشروں سے حکمرانی کررہے ہیں اورتقریبا تمام سیاسی جماعتوں سے ہوتے ہوئےاب بلے کے نشان پہ الیکشن لڑیں گئے۔

عمران خان نے پریس کانفرنس میں فرمایاکہ ہم نے ٹکٹ ان کودیے ہیں جوالیکشن لڑناجانتے ہیں اور میرٹ پہ دیے ہیں۔ تحریک انصاف کامیرٹ کیاہے ؟جس کی بنیاد پہ نظریاتی اور بانی کارکنوں کی بجائے الیکٹ ایبلزکولایاگیا؟صرف اقتدار اور کرسی ہی ہے تو قوم کوکیوں گمراہ کیاجارہاہے۔علامہ اقبال کے پوتے ولیداقبال نے پریس کانفرنس کی اور کہاکہ پیسے دینے والوں اور زندگیاں دینےوالوں میں فرق ہوناچاہیے۔ایسے لوگ جوبیرون ممالک سے اپنا سب کچھ چھوڑکے واپس آئےاور جنہوں نےپچھلے پندرہ بیس سال سے پی ٹی آئی کو اپنا اوڑھنابچھونابنایا ہواتھاان کوکوئی اہمیت نہیں دی گئی۔اسی طرح حامد خان نے بھی نظریاتی کارکنوں کے اجتماع میں اس پالیسی پر تشویش کااظہارکیا۔

وہ لوگ جوپنجاب میں پیپلزپارٹی کی پانچ سالہ حکومت میں وزیر،مشیراورعہدیداران تھے اور جنہوں نے پنجاب میں پیپلزپارٹی کابیڑہ غرق کیاآج وہی لوگ تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔ پی ٹی آئی اگرحکومت میں آتی ہے تو یہی  لوگ وزیر،مشیراورحکومتی عہدیدارہوں  گئے۔ خان صاحب نے اقتدار اور کرسی کی خاطرجن الیکٹ ایبلزکوگلے لگایا ہے کل کویہی لوگ اقتدارکی خاطرخان صاحب اور پی ٹی آئی کوایسے مقام پہ لاکھڑاکریں جہاں سے مایوسی کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ الیکٹ ایبلز کے اپنے مفادات ہوتے ہیں جن کی خاطروہ سیاسی جماعتں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ فرض کریں پی ٹی آئی جیت بھی جاتی ہے تویہ لوگ اپنے مفادات کاتحفظ کریں گے نہ کہ ملک اور پارٹی کا،دوسراجس تبدیلی کوجنون کانام دیاجارہاہےوہ تبدیلی ہرالیکشن سے پہلے آتی ہے،یہی الیکٹ ایبلز چڑھتے سورج کے ساتھ اپناگھونسلابدل لیتے ہیں۔اقتدار اور کرسی بھی مکروہ دھندے کی طرح ہے جس میں سودے بازی ہی سودے بازی ہے،ایسے میں نظریہ، اقدار،تبدیلی اور انصاف کانعرہ لگانے والی جماعت نے بھی اصولوں پہ سودے بازے ہی کی ہے اور اپنے بانی کارکنان اوررہنماوں کونظراندازکرکے ایسی تاریخی غلطی کی ہے جس کےناقابل تلافی نقصان آنے والے وقتوں میں بھگتناھوں گے۔ پی ٹی آئی عوام کو جن بلندوبانگ جذباتی نعروں اور وعدوں سے مرعوب کرنے کی کوشش کررہی ہے اقتدار میں آکے ان کاپوراکرنامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

نظریاتی یا روایتی  سیاست ؟؟؟
صاحب مضمون
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  20807
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
کل پارلیمنٹ میں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا نہایت شرم ناک واقعہ پیش آیا جب حکومتی بنچوں سے ایک غیرمسلم ممبر پارلیمنٹ نے شراب پر پائبندی کا بل پیش کیا جسے پوری پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مسترد کردیا.صرف ایم ایم اے ممبرز نے رامیش
امریکہ روز اول سے ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف ہے ۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے بعد وہ مزید خلاف ہو گیاہے۔ جب ترکی بھی اسلامی ہو گیا ہے۔ تو اس کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور وہ عالم اسلام سے خوف زدہ ہو گیا ۔ عراق میں جنگ کر کے،
دماغ کے سرطان میں مبتلا امریکہ کے سرکردہ سیاست دان سینیٹر جان مکین سے دنیا کو مکتی ملی۔ وہ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ اور سابق صدارتی امیدوار تھے۔ انہوں نے صدر اوباما کے مقابلے میں انتخاب لڑا، تاہم کامیاب نہ ہوسکے۔
بوجہ چند یوم تعطیلات کے سوات میں مقیم ہوں۔ تین دن سے نئے پاکستان کے ضلع سوات میں بجلی ناپید تھی فقط ایک گھنٹہ کے لیے بجلی آتی تھی۔ اسی وجہ سے دو دن تمام عَالم سے منقطع رابطہ تھا۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
جنگ کسی بھی معاشرے کیلئے نہ صرف بربادی کا سامان فراہم کرتی ہے بلکہ جنگ زدہ علاقے معاشی طور پر بھی ترقی اور تعمیر کے عمل میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ جنگوں کی وجہ سے تقسیم ہونے والے خاندانوں کے دل کی کیفیت اور کرب تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں
امریکی کانگریس نے قرارداد منظور کی ہے کہ امریکہ یمن سعودی جنگ میں سعودی عرب کی حمایت سے دستبردار ہو جائے.امریکہ کی وزارت خارجہ کے وزیر پومپیو نے کہا کہ ہم امریکی کانگریس کی منظور کی گئی قرارداد کا احترام کریں گے.
سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ گرفتار ہوا تو کیا ہوگا، جیل دوسرا گھر ہے، ان کو غلط فہمی ہے کہ ہم خوف میں مبتلا ہیں، اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتے۔ سیاست سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے، ان کو کھیلنا آتا ہی نہیں، یہ انڈر 16 کھلاڑی ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا اور والدین کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کو نہیں بھولے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں