Saturday, 08 August, 2020
مسئلہ کشمیر اور بھارت

مسئلہ کشمیر اور بھارت
مصیب منظور ملک

5 اگست کو جب بھارت کی پارلیمنٹ نے کشمیر کی آئینی خود مختیاری کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر منسوخ کیا تقریباً 10 ہزار کشمیری جن میں بچے،بوڑھے اور خواتین سبھی شامل ہیں، کو ریاست سے باہر مختلف جیلوں میی رکھا گیا۔
رواں برس بھارتی درندہ صفت افوج نے اب تک تقریبا ڈیڑھ سو نوجوانوں کو شہید کردیا ہے- صرف جون کے مہینے میں 43 شہادتیں واقع ہوئی ہیں-
 کرونا وائرس کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں خوف و ہراس کا عالم ہے اور لوگ علاج و معالجہ سمیت مالی مسائل سے نمٹ رہے ہیں۔ غریب لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے وہیں مقبوضہ کشمیر میں بدترین قسم کا لاک ڈاؤن ہنوز جاری ہے ساتھ ہی ساتھ بھارتی فوج نے آپریشن آل آؤٹ کو نافذ کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے ابھی تک دوران کرونا وائرس تقریبا 70 نوجوانوں کو شہید کیا گیا ہے۔بھارت جو جمہوریت کا علمبردار بنا پھرتا ہے اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی-
 
عالمی برادری کو چاہیے کہ کشمیر کا جائزہ لیں جہاں ایک چار سالہ بچہ اپنے والدین کے ہمراہ بازار کی طرف نکلتا ہے تو واپس بچے کا تابوت گھر پہنچتا ہے اور جہاں ایک نانا اپنےتین سالہ نواسے کے ہمراہ نکلتا ہے تو واپس نانا کی لاش پہنچتی ہے- 
بھارت نہ صرف قتل وغارت گری کا ماحول گرم کیے ہوئے ہے بلکہ اسرائیلی طرز پر غیر ریاستی باشندگان کے لئے بستیاں قائم کرنا چاہ رہا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف مسلم اکثریت والے علاقوں میں آبادی کے تناسب میں تغیر ہے یا یوں کہہ لیں سيٹلر کولونیل ایجنڈے کے تحت ڈیموگرافی تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ کشمیریوں سے ان کا حق خود ارادیت بھی چھینا جائے ان سے ان کا مال، انکی جائیداد،انکی نوکریاں، اُنکا روزگار بھی چھین لیا جائے۔ الغرض جینے کا حق چھینا جائے-
غیر ریاستی باشندوں کو ڈومیسائل دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں ابھی 25 ہزار غیر ریاستی باشندوں کو کشمیری ڈومیسائل ملا ہے جس کی بنیاد پر وہ کشمیر میں زمین بھی خرید سکتے ہیں اور نوکریاں بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ 
 تمام مسلمان ممالک اور مسلم اورگنائزیشنزکو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کا بھرپور ساتھ دیں اور ان کی بھرپور حمایت کریں اور ساتھ ساتھ بھارت کے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کی مذمت ہرفورم اور پلیٹ فارم پر کی جائے-
 اگر بھارت کو ابھی روکا نہ گیا تو وہ آئندہ غیر ریاستی باشندگان کی بستیوں کی بستیاں آباد کرنے جارہا ہے جو مسئلہ کشمیر کوسبوتاژ کرنے کا حتمی اور کارگر حربہ ہے۔

صبر کا دامن کس قدر تھامے رکھو اب تو
دامن چاک ہونے کو ہے، ہاتھ لہو لہان ہونے کو ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  85316
کوڈ
 
   
مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل نجی ٹی وی چینل پر کشمیر اور مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے متعلق ایک بیان دیا جسے بعدازاں چینل نے سینسر کر دیا گیا۔
احتساب عدالت نے پارک لین ریفرنس میں نیب کے دائرہ اختیار کیخلاف آصف زرداری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پیر کے روز فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تحریری حکم نامہ آج ہی جاری کریں گے جس میں ضروری ہدایات دی جائیں گی۔
اس میں شک نہیں کہ مختلف دینی مسالک کے ماننے والوں کا عمومی رویہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کی بات نہیں سنتے بلکہ اپنی محفلوں میں دوسروں کو آنے کی دعوت تک نہیں دیتے ۔ اس غیر صحت مندانہ رجحان سے غیر صحت مندانہ معاشر ہ تشکیل پاچکا ہے ۔ اس صورت حال کا ازالہ بحیثیت قوم بقا کے لیے ناگزیر ہے ۔ اس سلسلے میں ہم ذیل میں چند معروضات پیش کرتے ہیں :
احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کردی۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا صحت جرم سے انکار کردیا، عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب گواہوں کو طلب کرلیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں