Saturday, 15 August, 2020
مذہبی دھرنے: احتجاجات، ایسے اب نھیں چلے گا

مذہبی دھرنے: احتجاجات، ایسے اب نھیں چلے گا
تحریر: مفتی امجد عباس

 

نجانے کیوں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مجھے ایسے لگتا ہے کہ مذہب ہمارے سماج میں دم توڑتا جا رہا ہے۔ یورپ میں کلیسا کے بڑھتے ہوئے مظالم، مذہبی رہنماؤں کے متشدانہ رویوں اور مذہبی بحث و مناظروں کا نتیجہ سماج سے مذہب کی بے دخلی کی صورت میں نکلا، کچھ ایسی ہی صورت حال یہاں ہمارے ہاں درپیش ہے۔ آئے روز مذہب کے نام پر دہشت گردی، جلاؤ گھیراؤ، جلسے جلوس، مذہبی جدال و مناظرے یہاں بھی معاملات کو اُسی طرف لے جارہے ہیں جس کا نتیجہ شاید یہی نکلے کہ تادیر یہ صورت حال باقی نہ رہ سکے۔

اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر چند روز پہلے ہونے والے دھرنے میں دو ہزار کے لگ بھگ مذہبی علماء و طلباء شریک ہوئے، اِس دھرنے سے خطاب کرنے والے رہنماؤں کی چند منٹ گفتگو سُنی جائے تو سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ کہاں مُعلمِ اخلاق نبی اور کہاں اُن کے نام پر ماں، بہن کی گالیاں دینے والے مولوی صاحبان۔

نبیِ اسلام، عالمین کے لیے رحمت تو اُن کے نام لیواؤں کی ایک تعداد، انسانیت کے لیے زحمت اور مذہب کے لیے باعثِ ننگ و عار بن چکی ہے۔

معروف شاعر افتخار عارف اِسی حوالے سے کیا ہی خوب کہتے ہیں

رحمتِ سیدِؐ لولاک پہ کامل ایماں

امتِ سیدِؐ لولاک سے خوف آتا ہے

اسلام میں عام انسانوں کو آزار دینے، عوامی راستے بند کرنے، لوگوں کے کاروبار میں رکاوٹ ڈالنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ جیسے صحیح مسلم کی روایت دیکھیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا  إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ کہ خبردار رستوں میں مت بیٹھنا۔ علاوہ ازیں قرآن و احادیث میں سب و شتم سے روکا گیا ہے۔

صحیح احادیث میں مسلمان کہا ہی اُسے گیا ہے جس کے ہاتھوں اور زبان سے دیگر انسان محفوظ ہوں۔ یہاں تو صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے کہ اسلام کے نام نہاد علمبرداروں کے ہاتھوں اور زبان سے دوسرے مسلمان ہی محفوظ نھیں، چہ جائیکہ دوسرے انسان۔ دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں مسلمانوں کا نام آنا اب کوئی اچنبھے کی بات نھیں رہی۔

عالمی سطح پر مذہبیت دم توڑتی جا رہی ہے، اس وقت لا دینوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے، مسلم ممالک میں بھی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دین بے زار ہو رہی ہے یا اُن کی دین سے وابستگی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

مشرق میں مذہب بے زاری کے فروغ میں اہلِ مذہب نے خلوص سے حصہ ڈالا ہے،  مذہبی رہنماؤں کی جانب سے آئے روز لوگوں کو “توہینِ  مذہب” کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے، جلاؤ گھیراؤ اور جلسے جلوسوں نے نیز مذہبی انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے باعث یہ سمجھا جارہا ہے کہ مذہب کا کردار کچھ حوصلہ افزا نھیں ہے۔ مسلم ممالک میں ترقی کے لیے مذہب کو رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ریاستی ادارے اور شہری سمجھ چکے ہیں کہ ملکی ترقی اور مذہبیت ایک ساتھ نھیں چل سکتے، ایسے میں یہاں بھی مذہبی انتہاء پسندی کو بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مذہب اپنی شانِ رفتہ کھوتا جا رہا ہے، شاید فیض آباد کے مقام پر مذہبی دھرنا دم توڑتی مذہبیت کے آفٹر شاکس میں سے ہو، آئندہ ایسا ہونابہت مشکل ہے۔

فیض آباد کے مقام پر دیئے گئے دھرنے کے تناظر میں بی بی سی اردو کی صحافی ماہ پارہ صفدر نے یُوں لکھا ” اسلام آباد عدالت کا یہ فیصلہ دیر سے سہی مگرعوام اور جمہوریت کے لیے یقیناً خوش آئند ہے کہ کسی شہری کو یہ حق حاصل نہں کہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے دوسرے شہریوں کے لیے مشکلات کا سبب بنے۔ ایک مہذب معاشرے میں ایسے احتجاج غیر آئینی ہیں ،غیر اخلاقی ہیں اور غیر انسانی بھی۔ عدالت کو خاموش اکثریت کے حقوق کا خیال آیا۔”

میں نے اِس پر حاشیہ آرائی کی کہ یہ افعال غیر شرعی بھی ہیں۔ مذہب تو انسانیت کی بھلائی کے لیے آیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  16740
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عورت اردو کے چار حروف پر مبنی ان لفظوں کا بھی کیا خوب امتزاج ہے، کہ ع،عزت دیتا ہے،تو و،وفا کی علامت بن کر نکھرتا ہے،ر،راحت کا سبب بنتا ہے تورونق بھی بخشتا ہے، ت،تعمیل بجا لا کرتعریف میں پھولے نہیں سماتا، ایسی ہے عورت جو عزت کی مورت ہو تو باوفا کہلاتی ہے اور جب وفا داری کی چمک رونق بخشتی ہے تو خوب تعریف سمیٹتی ہے۔
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
امریکہ کے بعد جرمن حکومت حکومت کی طرف سے بھی مدارس اور سوشل میڈیامیں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے علامہ طاہراشرفی سے 37 لاکھ یوروکے عوض خدمات لیے جانے کاانکشاف ہواہے جس میں 20ہزارمدارس تک رسائی ٹارگٹ رکھاگیاہے

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلئے انتہائی مکاری سے متحدہ عرب امارات پر دباﺅ ڈال کر اسے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔یہ معاہدہ ہمارے حکمرانوں کیلئے بھی ایک سبق ہے جو کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی پر راضی ہوگئے تھے۔
لاک ڈاؤن نے جہاں ہماری زندگی میں معیشت کا پہیہ جام کیا وہیں بہت سارے سبق بھی دے گیا۔ لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو ہم شاید اپنی مصروف زندگی میں اتنے مصروف ہو جاتے کہ رشتوں، ناطوں کی اہمیت اور فیملی سسٹم کی خوبصورتی اور چاشنی سے مزید دور ہوتے چلے جاتے۔ وہ جو اک زندگی ہے نا کہ جس میں بیٹا دفتر جا رہا ہے، بیٹی یونیورسٹی جا رہی ہے، سب گھر والے ادھرادھر بکھرے پڑے ہیں۔
قومی اسمبلی سے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، شرکت داری محدود ذمہ داری سمیت پانچ بلز منظور کرلئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جس میں کمپنیز ترمیمی بل اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کا بل بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ اسرائیل میں موساد کی ایک خاتون جعلی اکاؤنٹ سے فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے۔ یہ خاتون فرقہ وارانہ موادسوشل میڈیا پربھیج دیتی ہے اورپھر آگے شیعہ اور سنی خود سے اسے پھیلاتے ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں