Monday, 16 December, 2019
مذہبی دھرنے: احتجاجات، ایسے اب نھیں چلے گا

مذہبی دھرنے: احتجاجات، ایسے اب نھیں چلے گا
تحریر: مفتی امجد عباس

 

نجانے کیوں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مجھے ایسے لگتا ہے کہ مذہب ہمارے سماج میں دم توڑتا جا رہا ہے۔ یورپ میں کلیسا کے بڑھتے ہوئے مظالم، مذہبی رہنماؤں کے متشدانہ رویوں اور مذہبی بحث و مناظروں کا نتیجہ سماج سے مذہب کی بے دخلی کی صورت میں نکلا، کچھ ایسی ہی صورت حال یہاں ہمارے ہاں درپیش ہے۔ آئے روز مذہب کے نام پر دہشت گردی، جلاؤ گھیراؤ، جلسے جلوس، مذہبی جدال و مناظرے یہاں بھی معاملات کو اُسی طرف لے جارہے ہیں جس کا نتیجہ شاید یہی نکلے کہ تادیر یہ صورت حال باقی نہ رہ سکے۔

اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر چند روز پہلے ہونے والے دھرنے میں دو ہزار کے لگ بھگ مذہبی علماء و طلباء شریک ہوئے، اِس دھرنے سے خطاب کرنے والے رہنماؤں کی چند منٹ گفتگو سُنی جائے تو سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ کہاں مُعلمِ اخلاق نبی اور کہاں اُن کے نام پر ماں، بہن کی گالیاں دینے والے مولوی صاحبان۔

نبیِ اسلام، عالمین کے لیے رحمت تو اُن کے نام لیواؤں کی ایک تعداد، انسانیت کے لیے زحمت اور مذہب کے لیے باعثِ ننگ و عار بن چکی ہے۔

معروف شاعر افتخار عارف اِسی حوالے سے کیا ہی خوب کہتے ہیں

رحمتِ سیدِؐ لولاک پہ کامل ایماں

امتِ سیدِؐ لولاک سے خوف آتا ہے

اسلام میں عام انسانوں کو آزار دینے، عوامی راستے بند کرنے، لوگوں کے کاروبار میں رکاوٹ ڈالنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ جیسے صحیح مسلم کی روایت دیکھیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا  إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ کہ خبردار رستوں میں مت بیٹھنا۔ علاوہ ازیں قرآن و احادیث میں سب و شتم سے روکا گیا ہے۔

صحیح احادیث میں مسلمان کہا ہی اُسے گیا ہے جس کے ہاتھوں اور زبان سے دیگر انسان محفوظ ہوں۔ یہاں تو صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے کہ اسلام کے نام نہاد علمبرداروں کے ہاتھوں اور زبان سے دوسرے مسلمان ہی محفوظ نھیں، چہ جائیکہ دوسرے انسان۔ دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں مسلمانوں کا نام آنا اب کوئی اچنبھے کی بات نھیں رہی۔

عالمی سطح پر مذہبیت دم توڑتی جا رہی ہے، اس وقت لا دینوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے، مسلم ممالک میں بھی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دین بے زار ہو رہی ہے یا اُن کی دین سے وابستگی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

مشرق میں مذہب بے زاری کے فروغ میں اہلِ مذہب نے خلوص سے حصہ ڈالا ہے،  مذہبی رہنماؤں کی جانب سے آئے روز لوگوں کو “توہینِ  مذہب” کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے، جلاؤ گھیراؤ اور جلسے جلوسوں نے نیز مذہبی انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے باعث یہ سمجھا جارہا ہے کہ مذہب کا کردار کچھ حوصلہ افزا نھیں ہے۔ مسلم ممالک میں ترقی کے لیے مذہب کو رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ریاستی ادارے اور شہری سمجھ چکے ہیں کہ ملکی ترقی اور مذہبیت ایک ساتھ نھیں چل سکتے، ایسے میں یہاں بھی مذہبی انتہاء پسندی کو بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مذہب اپنی شانِ رفتہ کھوتا جا رہا ہے، شاید فیض آباد کے مقام پر مذہبی دھرنا دم توڑتی مذہبیت کے آفٹر شاکس میں سے ہو، آئندہ ایسا ہونابہت مشکل ہے۔

فیض آباد کے مقام پر دیئے گئے دھرنے کے تناظر میں بی بی سی اردو کی صحافی ماہ پارہ صفدر نے یُوں لکھا ” اسلام آباد عدالت کا یہ فیصلہ دیر سے سہی مگرعوام اور جمہوریت کے لیے یقیناً خوش آئند ہے کہ کسی شہری کو یہ حق حاصل نہں کہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے دوسرے شہریوں کے لیے مشکلات کا سبب بنے۔ ایک مہذب معاشرے میں ایسے احتجاج غیر آئینی ہیں ،غیر اخلاقی ہیں اور غیر انسانی بھی۔ عدالت کو خاموش اکثریت کے حقوق کا خیال آیا۔”

میں نے اِس پر حاشیہ آرائی کی کہ یہ افعال غیر شرعی بھی ہیں۔ مذہب تو انسانیت کی بھلائی کے لیے آیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  11750
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
امریکہ کے بعد جرمن حکومت حکومت کی طرف سے بھی مدارس اور سوشل میڈیامیں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے علامہ طاہراشرفی سے 37 لاکھ یوروکے عوض خدمات لیے جانے کاانکشاف ہواہے جس میں 20ہزارمدارس تک رسائی ٹارگٹ رکھاگیاہے

مقبول ترین
16 دسمبر 1971ء پاکستان کی تاریخ کا سب سے المناک، عبرتناک اور ہولناک دن تھا۔ جب پاکستانی فوج کے ایک بزدل اور بے غیرت جرنیل نے ڈھاکا کے ریس کورس گرائونڈ میں اپنے بھارتی ہم منصب کے آگے سرنڈر کرتے ہوئے
بھارت میں مسلم مخالف متنازع قانون کے خلاف احتجاج وسیع اور پرتشدد ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 6ہوگئی ہے جس میں ایک طالب علم بھی شامل ہے جو پولیس کی فائرنگ کانشانہ بنا۔احتجاج کے چوتھے روز دارالحکومت
16 دسمبر سال 2014ء کا روز، تاریخ میں سیاہ ترین دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب سفاک دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وحشت اور بربریت کی انتہا کر دی اور 149 گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر لاڑکانہ میں بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکے ہیں۔ بلاول نے کرپشن سے اپنا رشتہ ابھی تک نہیں توڑا۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کے نظریے کو ختم کر دیا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں