Monday, 06 July, 2020
قاسم سلیمانی پر حملہ، عالمی قوانین اور "ہمارے دانشور"

قاسم سلیمانی پر حملہ، عالمی قوانین اور
مفتی امجد عباس

سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر عراق میں حملہ عراقی خود مختاری اور قانونِ جنگ کے منافی ہے یا نہیں؟

بعض صاحبانِ علم نے اس پر عجیب و غریب انداز سے قیاسات فرماتے ہوئے اس سلسلے میں قبائلی علاقوں کی مثال پیش کی ہے، ان سے عرض ہے کہ ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے پرائیوٹ جہادی تھے جن سے ریاستِ پاکستان بھی حالتِ جنگ میں تھی؛ اس کے باوجود اگر ریاستِ پاکستان نے اپنی مرضی کے خلاف حملے روا رہنے دیئے تو یہ یقیناً پاکستان کی ریاستی خودمختاری کے منافی تھا۔

اب بات سمجھیے کہ جنرل قاسم سلیمانی عراق میں عراقی حکومت کی منشا سے موجود تھے- عراق اور ایران، داعش کے خلاف اتحادی ہیں ۔ سلیمانی کے ساتھ قتل ہونے والے تمام افراد عراقی پیرا ملٹری کے افراد تھے۔

یہاں سوال تو یہ بنتا ہے کہ امریکہ اس وقت کس قانونی حیثیت میں عراق میں موجود ہے؟ عراقی حکومت سے اس کا سابقہ معاہدہ عراقی فورسز کی ٹریننگ تک محدود تھا۔

یاد رہے کہ ایک بل فی الوقت عراقی پارلیمان نے منظور کیا ہے جس میں مکمل امریکی انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے- دانشوروں کو پرائیویٹ جہادیوں اور ریاست کے نمائندہ ذمہ داروں میں فرق ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔
دانشورں کو چاہیے کہ مسلکی اپروچ سے بالاتر ہو کر اس واقعے کا اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور جنگی قوانین کے مطابق جائزہ لیں۔

کہا جاتا ہے کہ ان دانشوروں نے بین الاقوامی قانون انسانیت اور دیگر عالمی معاہدات کا مطالعہ کر رکھا ہوتا ہے- اگر انھوں نے مطالعہ نہیں کیا تو پہلے بین الاقوامی قانون انسانیت ہی کا مطالعہ کر لیں؛ اگر پہلے سے مطالعہ کر رکھا ہے تو خوب غور و فکر کریں، معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں ہے-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادار

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  62315
کوڈ
 
   
مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
عراق میں امریکی سفارت خانے اور فوجی تنصیبات پر راکٹ داغے گئے تاہم امریکی ایئر ڈیفنس نے راکٹس کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق کے ریڈ زون ایریا میں واقع امریکی سفارت خانے پر ایک راکٹ داغا گیا جسے
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹوورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) بند نہیں ہوا بلکہ فائدہ مند ادارہ بننے جا رہا ہے۔ اس ادارے نے لاکھوں نوکریاں پیدا کرنی ہیں، ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔
سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین اور اطلاعات ونشریات کے معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ ایم ایٹ پر کام کا آغاز حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سینٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے جنگ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کنٹرول لائن پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی، بٹل سیکٹر میں مارٹروں کی شیلنگ کر کے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کی زد میں آ کر ایک 22 سالہ نوجوان زخمی ہو گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں