Wednesday, 22 January, 2020
قاسم سلیمانی پر حملہ، عالمی قوانین اور "ہمارے دانشور"

قاسم سلیمانی پر حملہ، عالمی قوانین اور
مفتی امجد عباس

سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر عراق میں حملہ عراقی خود مختاری اور قانونِ جنگ کے منافی ہے یا نہیں؟

بعض صاحبانِ علم نے اس پر عجیب و غریب انداز سے قیاسات فرماتے ہوئے اس سلسلے میں قبائلی علاقوں کی مثال پیش کی ہے، ان سے عرض ہے کہ ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے پرائیوٹ جہادی تھے جن سے ریاستِ پاکستان بھی حالتِ جنگ میں تھی؛ اس کے باوجود اگر ریاستِ پاکستان نے اپنی مرضی کے خلاف حملے روا رہنے دیئے تو یہ یقیناً پاکستان کی ریاستی خودمختاری کے منافی تھا۔

اب بات سمجھیے کہ جنرل قاسم سلیمانی عراق میں عراقی حکومت کی منشا سے موجود تھے- عراق اور ایران، داعش کے خلاف اتحادی ہیں ۔ سلیمانی کے ساتھ قتل ہونے والے تمام افراد عراقی پیرا ملٹری کے افراد تھے۔

یہاں سوال تو یہ بنتا ہے کہ امریکہ اس وقت کس قانونی حیثیت میں عراق میں موجود ہے؟ عراقی حکومت سے اس کا سابقہ معاہدہ عراقی فورسز کی ٹریننگ تک محدود تھا۔

یاد رہے کہ ایک بل فی الوقت عراقی پارلیمان نے منظور کیا ہے جس میں مکمل امریکی انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے- دانشوروں کو پرائیویٹ جہادیوں اور ریاست کے نمائندہ ذمہ داروں میں فرق ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔
دانشورں کو چاہیے کہ مسلکی اپروچ سے بالاتر ہو کر اس واقعے کا اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور جنگی قوانین کے مطابق جائزہ لیں۔

کہا جاتا ہے کہ ان دانشوروں نے بین الاقوامی قانون انسانیت اور دیگر عالمی معاہدات کا مطالعہ کر رکھا ہوتا ہے- اگر انھوں نے مطالعہ نہیں کیا تو پہلے بین الاقوامی قانون انسانیت ہی کا مطالعہ کر لیں؛ اگر پہلے سے مطالعہ کر رکھا ہے تو خوب غور و فکر کریں، معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں ہے-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادار

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  42055
کوڈ
 
   
مزید خبریں
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
عزیزان۔۔۔! بہت آسان ہے ہر رات ٹی وی ڈرامہ کا انتخاب کرنا یا کسی فلم کو دیکھنے کے لیے دیر تک جاگنا۔۔ بہت مشکل ہے ٹھنڈی اور تاریک رات میں اپنے بچوں اور والدین سے دور برفباری جیسے موسم کے اندر اپنا فرض نبھانا۔۔

مقبول ترین
ماں۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ آپ میرے اس عارضی دنیا میں واپس آنے کے لیے کتنی پرجوش تھیں۔۔۔۔۔یہ لیں، آج آپ کی دیرینہ خواہش پوری کیے دے رہی ہوں۔۔۔۔ارے دیرینہ یوں بولا ہے کہ جب سے میرا آپ کا ساتھ چھوٹا، وہ بندھن ٹوٹا جس نے مجھے آپ کی سانسوں کی ڈور سے باندھ رکھا تھا،تب سے محسوس ہونے لگا کہ اب مجھ میں کچھ باقی نہیں رہا۔
وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور اہم ایشوز پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کی سائیڈ لائنز پر ہونے والی اس اہم ملاقات میں امریکی
حکومت اور اپوزیشن نے نئے چیف الیکشن کمشنر کے لیے سکندر سلطان راجہ کے نام کا اعلان کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن ممبران و چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے چیئرپرسن شیریں مزاری کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی
وزیراعظم عمران خان عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس روانہ ہوگئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں