Saturday, 04 July, 2020
’’شہزادوں کی گرفتاریاں: کیا شاہ سلمان زندہ ہے؟‘‘

’’شہزادوں کی گرفتاریاں: کیا شاہ سلمان زندہ ہے؟‘‘

 

سعودی حکومت نے ولی عہد کے اہم ترین سیاسی حریفوں کو راستے سے ہٹانے اور بن سلمان کی بادشاہت کا راستہ ہموار کرنے کے لیے دو شہزادوں کو غداری کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق سعودی حکومت نے جمعے کی شب شاہ سلمان کے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز اور سابق ولی عہد محمد بن نائف کو جیل میں بند کردیا ہے۔ 

سعودی حکام نے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بھائی اور بھتیجے سمیت 3 شہزادوں کو بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتاریوں نے شاہی خاندان سے متعلق مختلف خدشات اور افواہوں کو جنم دیا ہے اور عالمی سطح پر مختلف قسم کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ گرفتاری سے قبل شاہی گارڈ کے اہلکاروں نے احمد بن عبدالعزیز اور محمد بن نائف سے ان کے محل میں تفتیش بھی کی تھی۔

شاہ سلمان نے سن 2017 میں اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو محمد بن نائف کی جگہ سعودی ولی عہد مقرر کر کے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔ محمد بن نائف تب سے اب تک عملی طور پر نظر بند تھے اور اُن کی سرگرمیوں کی نگرانی بھی جاری تھی۔

شہزادہ محمد بن سلمان ہی عملی طور پر سعودی عرب پر حکومت کر رہے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق شاہی خاندان نے ان افراد کو محمد بن سلمان کے حکم پر ہی گرفتار کیا گیا ہے۔

وائس آف جرمنی کے مطابق اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہی خاندان کی ان بااثر شخصیات کو اس لیے گرفتار کیا گیا کیوں کہ وہ ولی عہد کے لیے ممکنہ خطرہ ثابت ہو سکتے تھے۔ ولی عہد کے تازہ اقدامات اس بات کا بھی عندیہ ہیں کہ وہ اپنے لیے کسی بھی ممکنہ خطرے کو برداشت نہیں کرتے۔

محمد بن سلمان کی اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کی ایسی ہی کوششوں اور سعودی عرب میں اصلاحات کرنے کے باعث شاہی خاندان کے کئی بااثر طبقے ان سے خوش نہیں ہیں۔ ترکی میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد محمد بن سلمان کی قیادت کرنے کی صلاحتیوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔

اس صورت حال میں شاہ سلمان کے واحد زندہ بھائی احمد بن عبدالعزیز کا نام بھی سعودی عرب کے آئندہ ممکنہ حکمران کے طور پر سامنے آ رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق احمد بن عبدالعزیز کو شاہی خاندان، دیگر اہم شخصیات اور کچھ مغربی طاقتوں کی بھی ممکنہ طور پر حمایت حاصل ہو سکتی تھی۔

عالمی میڈیا مختلف ذرائع کے حوالہ سے  اس خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ سعودی بادشاہ سلمان بن عبد العزیز کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور انکی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے بن سلمان نے اس قسم کے فیصلے کئے ہیں۔ اردن اور بعض دوسرے عرب میڈیا پر  شاہ سلمان کی موت کی خبر جاری کی گئی ہے لیکن ابھی تک  سعودی حکومت یا کسی مستند میڈیا نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ 

میڈیا کے بعض حلقوں کے مطابق شاہ سلمان کی مبینہ موت کے بعد محمد بن سلمان نئے بادشاہ بننے کے لئے راہ ھموار کر رہا ہے اور اس کے لئے محمد بن سلمان نے اپنے حریفوں یعنی شاہ سلمان کے بھائی  جن میں شہزادہ احمد بن عبدالعزیز یا سابق ولی عہد محمد بن نائف اور اسکے چھوٹے بھائی شہزادہ نواف بن نائف کو سیکیورٹی فورسسز کے ذریعے گرفتار کروا لیا ہے تا کہ محمد بن سلمان کی بادشاہت کے اعلان میں مشکل پیش نہ آۓ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ احمد بن عبدالعزیز موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان کے سخت مخالفین میں سے ہے اور احمد بن عبدالعزیز خود ساختہ جلا وطنی پہ لندن میں رہ رہا تھا اور 2018 میں اپنے بھائی سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے کہنے پر لندن سے اِس شرط پر سعودی عرب واپس  آیا تھا کہ اسے کسی قسم کے جانی نقصان نہ پہنچانے کی ضمانت دی جاۓ ۔

مبصرین کے خیال میں ان گرفتاریوں کا واضح مطلب یہ ہے کہ محمد بن سلمان ایک بیان تیار کرنے کی تیاری کر رہے ہیں کہ ان کے والد نے بادشاہت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے یا وہ وفات پا گئے ہیں یا حالت احتضار میں ہیں۔ مبصرین کے خیال میں جب تک بادشاہ سلمان بذات خود دنیا کے سامنے منظرعام پر نہیں آتے تو افواہوں اور خدشات کا یہ بازا اسی طرح گرم رہے گا۔

البتہ اس قسم کی گرفتاریاں سعودی عرب میں پہلی بار نہیں ہو رہی ہیں اور یہ سلسلہ ماضی میں بھی بارہا دہرایا جاتا رہا ہے۔اس سے قبل بھی قبیلۂ آل سعود کے ولیعہد نے دوسو سے زائد شہزادوں کو گرفتار کروایا تھا تاہم سو ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم وصول کرنے کے بعد ان میں سے بعض کو رہا کردیا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  68937
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
یکم مئی' یومِ مزدور' وہ دن جسے مزدور کے علاوہ سب مناتے ہیں' اس بار شائد وہ رنگ نہ جما سکے کہ کورونا کے دربار میں سبھی ایک ہوئے ہیں مگر متاثر صرف مزدور۔ مزدور کہ جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوتے تھے اب وقت کی بے رحم موجوں کے سہارے زندگی اور موت کی جنگ سے نبرد آزما ہے۔ خیر یہ قصہ پھر سہی ابھی فی الحال ایک طائرانہ نظر اس دن کی مناسبت سے۔
امریکہ کی انتہائی خطرناک صورتحال پر مولانا سخاوت سندرالوی کا خصوصی مضمون: نرسنگ ہومز میں جگہ نہیں ہے۔ گھروں میں رکھیں توشودر سا سلوک ہو رہا ہے۔ آج پیارے نہ زندہ کو دیکھ سکتے ہیں نہ مردہ کو ۔لاشوں کیلئے فیونرل ہومز میں فریزرز نہیں ہیں۔ قبرستانوں میں دفنانے کی جگہ نہیں مل رہی۔ مل بھی جائے چار سے پانچ دن کا ویٹنگ پیریڈ ہے ۔مریض کو شفا خانہ نہیں مل رہا ۔ بیمار کو دوا خانہ نہیں مل رہا۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم ٹیلی فونک گفتگو میں بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے خطے
ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو برطرف کر دیا ہے۔ ارشد ملک کا اسکینڈل سامنے آنے پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مائنس عمران خان کا مطالبہ غیر جمہوری مطالبہ نہیں۔ حکومت ہٹانے کے لیے کبھی بھی غیر آئینی طریقے کی حمایت نہیں کریں گے۔
تائیوان حکومت کا عجیب و غریب اقدام ،کورونا وائرس میں سفر کے لیے ترسنے والوں کے لیے تائیوان میں ’’جعلی پروازوں‘‘ کا سلسلہ شروع کردیا۔ ابتدائی مرحلے میں اس سفر کے لیے 7 ہزار افراد نے رجوع کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں