Monday, 17 December, 2018
آئیں! مولانا کو گالی دیتے ہیں۔

آئیں! مولانا کو گالی دیتے ہیں۔
تحریر: غلام مصطفیٰ ملک

 

سوشل میڈیا پر 27 جولائی سے جس شخصیت کو سب سے زیادہ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے یقینا وہ جناب مولانا فضل الرحمان ہی ہیں۔ ہر دوسرا تبدیلی کا دعوے دار، مخالف مسلک کا پیروکار، مولانا کا سیاسی مخالف، بس مولانا پر ہی لعن طعن کر کے ملک کے تمام مسائل حل اور نئی حکومت کو درپیش چیلنجز کا سدباب کر رہا ہے۔
 
مولانا ، مولوی اور ملاں کو گالی دینا کون سا گناہ ہے ؟

یہ کون سا اسلام کے پہرے دار اور مذہب کے ٹھیکدار ہیں ، آپ صرف گالی کیوں دیتے ہیں ،تصویر کیوں بگاڑتے ہیں ، آئیں مل کر انکو اجتماعی گالیاں دیتے ہیں ، وہ ساری گالیاں جو ہم کسی بدترین دشمن اور غلیظ ترین حریف کو نہیں دے سکتے وہ سب کی سب مولانا کو دے دیتے ہیں۔ بلکہ تھوڑی اور ہمت کیوں نہیں کریں ، آئیے نا ، ان کو کنکر ، پتھر اور ڈنڈے مارتے ہیں ۔

لیکن ذرا ٹھریے ، مجھے بتائیے تو سہی آپ مولانا کو جانتے ہی کتنا ہیں ، آپ کو انکے کردار اور گفتار کا علم ہی کتنا ہے ، انکے خلاف دھائی دینے اور انہیں ملامتی ٹھرانے میں آپکے پاس جواز ہی کیا ہے ۔ صرف یہی نا کہ وہ ہمارے سفید کوے کو کالا تسلیم کرنے پر تیار نہیں ، تبدیلی کی لہروں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں 
ہاں صرف یہی نا کہ انکے ایک سیاسی اور مسلکی مخالف جناب خواجہ آصف نے انہیں جذبات میں آکر مولانا ڈیزل کہہ دیا اور آپ سوچے سمجھے ، حقائق جانے بغیر ایمان لے آئے، اگر ایسے ہی سیاسی مخالفین کی باتوں پر ایمان لانا جائز ٹھرتا ہے تو پھر خواجہ صاحب اور انکے ہمنواوں کے " کوئی شرم ، کوئی غیرت ، کوئی حیا جیسے الفاظوں اور ٹریکٹر ٹرالی جیسے الفاظوں کو بھی شرف قبولیت کیوں نہیں بخشتے ؟

ہمارے ہاں سیاسی، مسلکی اختلافات کو قبائلی دشمنی کی طرح پالنا شروع کر دیا گیا ہے۔ ہمارے لیے ہر وہ شخص قابل نفرین ہے جو ہمارے مخالف مسلک اور مخالف نظریات سے تعلق رکھتا ہو، ہمارے لیے اس کی عزت، ناموس، جبہ ، دستار اچھالنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ بس وہ ہمارے خود ساختہ سیاسی افکار کا مخالف ہے ۔

مجھے PTI کے دوستوں کی مولانا پر تنقید کا کوئی ملال نہیں، افسوس تو ان روشن خیالوں پر ہے جو ہجوم دیکھ کر اپنا راستہ بدل بیٹھے اور مولانا پر اس لیے لفظوں کی سنگساری شروع کر دی کہ انہیں اب مطعون ٹھرانا لازم ہو چکا، جو مولانا پر ایسے ہی میں تنقید کر رہے ہیں کہ سبھی تو انکو برا کہہ رہے ہیں، دوچار لفظ ہمارے بھی ہو جائیں تو ہرج ہی کیا ہے ۔

میں مولانا کا نہ پیروکار ہوں اور نہ انکے سیاسی افکار سے متفق ، لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ میں انہیں اس لیے مولانا ڈیزل، مولانا کرپشن اور دوسرے القابات سے نوازنا شروع کر دوں کہ وہ میرے سیاسی اور نظریاتی مخالف ہیں۔
 
جب معاشرے میں، تعلیم، شعور دلیل اور سچائی ختم ہو جاتی ہے تو پھر آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے، ہمیں وہی اچھا لگتا ہے جو ہم سوچتے ہیں، لوگوں کی اکثریت کہتی ہے یا پھر ہمارے قائدین کی زبانوں سے جو موتی جھڑتے ہیں۔
 
مخالفت کرنا، تنقید کرنا آپکا معاشرتی حق ہے لیکن کسی کو گالی دینا اور شکلیں بگاڑنے کا حق آپ کو کسی نے نہیں دیا۔آپ کبھی ٹھنڈے دماغ سے سوچیے گا ضرور کہ مولانا نے اس ملک اور قوم کا بگاڑا کیا ہے، اگر جواب نہ ملے تو ان آپشنز پر جواب ضرور تلاش کرنا جن پر مولانا کو مطعون ٹھرایا جاتا ہے۔ میری نظر میں مولانا پر انکے ناقدین کا پہلا الزام کرپشن اور ہر حکومت سے مالی منفعت کا ہے۔

میں بصد احترام پوچھنا چاہوں گا کون سی عدالت نے مولانا کو مجرم ٹھرایا ہے، اور مولانا کا کون سا کرپشن کا کیس کسی عدالت میں زیر التوا ہے، کون سے پانامہ پیپرز میں انکی کرپشن کے قصے ہیں، کون سے ڈیزل سے انکے، بلاول ہاوس، رائے ونڈ اور بنی گالا جیسے محلات بنے ہیں؟
 
یہ سب مخالفین کے سیاسی الزام ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔

میری دلیل کے باوجود آپکا ذہن یہ بات تسلیم نہیں کرے گا کہ مولانا کرپٹ نہیں ہیں کیونکہ آپ کا لیڈر اور آپکا میڈیا آپ کو یہی بتاتا ہے کہ مولانا کرپٹ ہیں، آپ میری دلیل مانیں یا مانیں، لیکن آپ ایک بار اپنے عظیم المرتبت راہنماء جناب اعظم سواتی کا وہ ویڈیو بیان ضرور سرچ کر کے سن لیں کہ جس میں حلفیہ بیان دے رہے ہیں کہ مولانا نے مجھے سنیٹر بنانے کے لیے نہ رقم لی تھی اور نہ چندہ۔

ان کے مخالفین کا دوسرا اعتراض ہے کہ مولانا نے کشمیر کمیٹی کے چیرمین کی حثیت سے کچھ نہیں کیا اور ملک و قوم کا پیسہ ضائع کیا، کیا آپ جانتے ہیں کہ قومی اسمبلی اور سینٹ کی بیسووں کمیٹیاں ہوتی ہیں بلکہ ہر محکمہ کے لیے ایک اسٹینڈنگ کمیٹی ہوتی ہے، جو حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں نمائندگی کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہیں، ہر کمیٹی کا ایک چیرمین ہوتا ہے، جسے صرف PS، PA ، آفس بوائے دیا جاتا ہے جبکہ ہر چیرمین کو سرکاری گاڑی اور ڈرائیور بھی ملتا ہے، اسی طرح اراکین اسمبلی ہر کمیٹی کی طرح ہر وزارت کا پارلیمانی سیکرٹری بھی بنتے ہیں اور انہیں بھی یہی مراعات حاصل ہوتی ہیں ، دونوں ایونوانوں پر مشتمل بعض اوقات پارلیمانی کمیٹی بھی بنا دی جاتی ہے، لیکن ان کمیٹیوں کے پاس کوئی انتظامی اختیار نہیں ہوتا، بلکہ یوں کہہ لیں کہ یہ نمائشی عہدے ہوتے ہیں، بطور پارلیمانی رپورٹر اور ایک سیاسی جماعت کے میڈیا ایڈوائزر کے طور پر بہت ساری کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت کا موقع ملا، جہاں ممبران اور چیرمین حضرات کا رونے دھونے کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ مولانا کے پاس کشمیر کمیٹی تو تھی پر فوج نہیں تھی کہ جسے وہ ریاست کی منشاء و مرضی کے بغیر لے کر جب چاہتے انڈیا پر چڑھ دوڑتے اور آج ہم سب کشمیر کی آزادی کے شادیانے بجا رہے ہوتے۔

مولانا پر تیسرا بڑا اعتراض یہ ہے کہ یہ ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں، کاش ہم نے سیاسی بیان بازی پر کان دھرنے اور اینکروں کی باتیں سننے کی بجائے تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا تو ہمیں معلوم ہوتا کہ مولانا نے اپنی سیاست کی ابتدا ہی جناب ذولفقار علی بھٹو کی اپوزیشن سے کی تھی۔ جماعت اسلامی کی طرح جنرل ضیاء شہید کے اقتدار کا حصہ بننے کی بجائے MRD کی تحریک میں قید و بند کاٹی تھی، آئی جے آئی کی بجائے اپنے تیں ایک مظلوم خاندان کا ساتھ دیا تھا، انکی جماعت مسلک دیوبند کی نمائندگی کرتی ہے اور وہ اتنی تعداد میں نہیں تھے کہ اپنی علیحدہ حکومت بناتے، جو بندہ یا پارٹی الیکشن لڑتا ہے وہ ہمیشہ اپوزیشن کرنے کے لیے سیاست میں نہیں آتا، سیاست کا اپنا مزاج ہوتا ہے، انکے اپنے علاقائی ، جماعتی مسائل ہوتے ہیں، حکومت کا اتحادی ہی بن کر وہ اپنے حلقے کی خدمت اور اپنی جماعت کے منتخب اراکین کو قابو رکھ سکتا ہے ورنہ دوسری بار اسے کونسلری جتنے ووٹ ملتے ہیں اور الیکٹیبلز بھی اڑن چھو ہو جاتے ہیں۔ رہی بات مولانا کی تو اتنی نمائندگی لے آتے ہیں کہ منتخب حکومتوں کی مولانا کو ساتھ ملانا مجبوری بن جاتی ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ مولانا اگر مرکز میں اتحادی تو صوبے میں بھی ہوں گے، ہو سکتا صوبہ بلوچستان میں وہ اپوزیشن میں ہوں اور KP میں کسی اور جماعت کے اتحادی۔

ان اعتراضات کے بعد مولانا کی ذات پر آپ کوئی دھبہ تلاش نہیں کر سکتے، جبکہ دیگر سیاستدانوں پر مالی، اخلاقی الزامات کی طویل فہرستیں ہیں۔ موجودہ سیاستدانوں کی کھیپ میں مولانا ایک بہترین اور مدبر سیاستدان ہیں وہ حالات و واقعات کے مطابق کھیلتے ہیں اور سیاسی حالات جو بھی ہوں ان کی پاکستانی سیاست میں اہمیت ختم نہیں ہوتی۔ اور پاکستان کے تمام سیاسی اکابرین انکی عزت کرتے ہیں، ایک بار کسی نے جناب چوہدری شجاعت حسین سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک بڑا سیاست دان کون ہے تو انہوں نے برجستہ جواب دیا کہ مولانا فضل الرحمان۔

آپ کو مولانا کا مخالف میڈیا اور ان کے مخالف سیاستدان انکے امت اور پاکستان پر احسان کبھی نہیں بتائیں گے ۔ مولانا مسلک دیوبند سے تعلق رکھتے ہیں ، جن کی سب سے بڑی جماعت جمیعت علامائے ہند قیام پاکستان کی مخالف تھی، جب مسلمانوں کی اکثریت نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تو مولانا کے بزرگوں نے اسے دل و جان سے قبول کر لیا اور جو لوگ پاکستان میں تھے وہ دل و جان سے اس کے شہری بن کر خدمت کرنے لگے، کوئی ایک عالم یا انکا پیروکار پاکستان چھوڑ کر نہیں گیا۔ یہ لوگ حکومتوں کا حصہ بھی بنے، اپوزیشن بھی کی، تحریک ختم نبوت میں کلیدی کردار بھی ادا کیا۔

مولانا کا مذہب کے حوالے سے سب بڑا کردار بین المسالک ہم آہنگی ہے، بریلوی مسلک کے مولانا شاہ احمد نورانی رحمت اللہ علیہ کو مذہبی سیاست کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھانے والے مولانا ہی تھے اور بریلوی علماء اور پیران عظام کی تعظیم و تکریم کا عملی درس دینے والے بھی مولانا کی ذات ٹھری۔ یہی نہیں جب شیعہ مسلک جس پر کفر اور تکفیر کے فتووں کا اتنا زور تھا کہ انکے کفر میں شک کرنے والوں کو بھی کافر قرار دے کر انکے قتل کو عین اسلام قرار دیا جا رہا تھا تب جناب علامہ ساجد نقوی کو گلے لگانے والے بھی مولانا فضل الرحمان ہیط تھے۔

آپکو یہ ماننا پڑے گا کہ مولانا فضل الرحمان کے مسلک کی ایک بڑی تعداد شدت پسند ہے، جہادی تنظیموں کی اکثریت بھی انہی کی ہے، ان میں اکثر افغانستان اور کشمیر میں حکومتی حمایت سے جہاد میں مصروف ہیں، نائن الیون کے بعد جب عالمی منظر نامہ بدلا تو ریاست کو حکومتی حمایت یافتہ مجاہدین کو دہشت گرد ماننا پڑا، امریکی دباؤ پر پاکستان میں تمام تربیتی مراکز بند کر دیے گئے اور امریکی ایماء پر ان کی گرفتاریوں اور امریکہ حوالگی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا، ان میں اکثریت پاکستانی ریاست کی باغی ہو گئی اور وہ پاکستان کو دارلحرب قرار دینے لگے، ان کے مسلک کی سب بڑی تنظیم جمیعت علمائے اسلام ہی تھی ان مسلح گروپوں نے مولانا کو بھی اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی لیکن وہ ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کو جائز نہیں سمجھتے تھے اور مولانا نے مسلح جدوجہد کی بجائے جہموریت کا راستہ چنا، جس کی پاداش میں عسکریت پسندوں نے مولانا کو مغربی ایجنٹ سمجھ کر ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا، ان پر اور انکے ساتھیوں پر کئی خود کش حملے ہو چکے ہیں جس میں سینکڑوں، علماء اور طلباء جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ اگر مولانا بھی انکے ہمنوا بن جاتے تو آج سوات جیسی عدالتیں اور سزائیں آپ کو پاکستان کے تمام گلی محلوں میں نظر آتیں، مولانا اور انکے ساتھی اس شدت پسندی کے خلاف ایک توانا آوز بن کر ابھرے، جس کی سزا وہ وقتا فقتا وصول کرتے رہتے ہیں۔
 
پاکستان میں دو طرح کے طبقے مولانا کے شدید مخالفین ہیں، ایک ان کے مسلکی احباب جو خونی انقلاب کی راہ میں مولانا کو رکاوٹ سمجھتے ہیں اور دوسری وہ سیکولر قوتیں جو مولانا کو مذہبی جماعتوں کا نمائندہ سمجھ کر انکی شخصیت اور کردار کو مسخ کرتے رہتے ہیں، کیا آپ بھی شدت پسندوں کی طرح مولانا کو مسلح جارحیت پر دھکیلنا چاہتے ہیں یا پھر لادینوں کی طرح مولانا کو گالی دے اسلام پر اپنا غصہ نکال کر انکے ہمنوا بننا چاہتے ہیں؟

آئیے سیاست کو سیاست رہنے دیں اسے گالی نہ بنائیں اور ان منبر و محراب کے وارثوں چاہے وہ جناب مولانا فضل الرحمان ہوں، چاہے شیخ الحدیث جناب علامہ خادم رضوی ہوں یا عالی مرتبت جناب حافظ سعید کو رسوا کرنا چھوڑ دیں جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ قال اللہ اور قال الرسول کی آواز مسجد، مدرسہ اور خانقاہ کے ساتھ حکومتی ایوانوں سے بھی آنی چاہیے اور محمد عربی ؐ کے دین کو تخت نشین ہونا چاہیے۔

یاد رکھیے !!! مولانا پاکستان کی بقا اور سلامتی پائیدار جموری نظام میں سمجھتے ہیں، انہوں نے کشت و خون اور تلوار کی جگہ تعلیم اور کتاب کا راستہ چنا ہے، وہ اگر سمجھتے ہیں کہ انکے ساتھ سازش اور زیادتی ہوئی ہے تو احتجاج انکا حق ہے، انہیں اس کا حق حاصل ہونا چاہیے، وہ ایک زیرک سیاستدان ہیں، انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ملک اب احتجاجی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا، کل اگر جناب عمران خان کی احتجاجی سیاست غلط تھی تو آج انکا بھی یہ عمل قابل ستائش نہیں ہو گا۔ انہیں تدبر، حکمت اور دانائی سے اپنا راستہ نکالنا چاہیے۔

آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ میرا مذہب، مسلک اور میری معاشرتی اقدار یہ تعلیم نہیں دیتے اور نہ میرے ماں باپ کی تربیت، اساتذہ کا شعور اور سیاسی قائدین کی آگہی یہ سبق دیتی ہے کہ میں کسی مخالف کو گالی دوں۔ اگر آپ کے ہاں اسکی اجازت ہے تو ۔۔۔۔۔۔ آئیں ۔۔۔۔ مولانا کو گالی دیتے ہیں۔۔۔ !!! 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  74896
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
کل پارلیمنٹ میں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا نہایت شرم ناک واقعہ پیش آیا جب حکومتی بنچوں سے ایک غیرمسلم ممبر پارلیمنٹ نے شراب پر پائبندی کا بل پیش کیا جسے پوری پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مسترد کردیا.صرف ایم ایم اے ممبرز نے رامیش
’’اختلاف‘‘ کا لفظ اتنا منفی مفہوم اختیار کر گیا ہے کہ بہت سے لوگ ہر قسم کا اختلاف ختم کرنے کے درپے ہوگئے ہیں حالانکہ اختلاف کے بعض خوبصورت اور اچھے پہلو بھی ہیں۔ تاہم بعض اختلافات ایسے ہوتے ہیں کہ جنھیں ختم کرنا چاہیے یا پھر جنھیں برداشت کرنا چاہیے۔
پروردگار کا احسان عظیم ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو قیام میں آئے 71برس ہو رہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کی اساس ان گنت قربانیوں پر استوار ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے لہو سے بنائی ہے اور ان قربانیوں کے ضمن میں مرد و خواتین دونوں نے
بلوچستان بیک وقت قدرتی، ساحلی، صحرائی اور پہاڑی معدنیات کے تحفظ کی دعویدار ہے۔ جہاں پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہنگول نیشنل پارک بھی موجود ہے اورنایاب ہونے والے جنگلی جانوروں کی متعدد اقسام پائے جاتے ہیں۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
سابق وزیراعظم نواز شریف کے سیکیورٹی گارڈ نے صحافی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے خلاف صحافیوں نے شدید احتجاج کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے شہباز شریف سے ملاقات کی جس کے بعد ان
ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندوق کی گولیاں آزادی کے غیر مسلح بہادر حریت پسندوں کو کبھی کچل نہیں سکتیں۔
فیصل رضا عابدی نے چیف جسٹس پاکستان کے خلاف ایک ویب چینل کو انٹرویو دیا تھا اور اس معاملے میں ان پر آج فرد جرم عائد کی گئی ہے، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔ باس موقع پر عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرلیا ہے۔
پاکستان کے تعاون سے آج سے شروع ہونے والے امریکا طالبان مذاکرات کا امریکا کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے جب کہ طالبان نے بھی امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کردی۔ ہائی پیس کونسل کے ڈپٹی چیف

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں