Monday, 21 October, 2019
یہ (اردو) کیا کرے گی؟؟؟

یہ (اردو) کیا کرے گی؟؟؟
تحریر: پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

 

(8 ستمبر کو منعقد ہونے والی "کل پاکستان نفاذ اردو کانفرنس" کے موقع پر احباب کے لئے خاص الخاص تحفہ)


آب روان کبیر تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
(اقبال)

کہاں علامہ اقبال اور کہاں میں، چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک، کوئی نسبت ہی نہیں، علامہ اقبال وہ ہستی کہ جو ایک ولی کامل تھے ، جنہوں نے غلامی کی دبیز تہوں میں دبی ہوئی قوم کو بیدار کیا، جگایا، اٹھایا اور پھر اس کے سینے کو منور اور دل کو زندہ کر دیا، اقبال جس کی فکر، جس کی سوچ اور جس کی دانائی کا ایک عالم معترف ہے، اقبال جس نے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کادنیا کے نقشے پر ابھرنے کا خواب دیکھا۔

اک ولولہ تازہ دیا تو نے دلوں کو
لاہور سے تا خاک بخارا و سمرقند

مگر ایک خوبی ہے جو مجھے اقبال کے قریب لے جاتی ہے، وہ خوبی اس سے میرا عشق ہے،اب یہی خوبی ہے جو کبھی راتوں کی نیند اڑا دیتی ہے، کبھی دن کا چین لوٹ لیتی ہے، اور جب میں اس ذلتوں اور پستیوں میں ڈوبی ہوئی قوم کو دیکھتا ہو تو یہ خوبی مجھے خون کےآنسو رلا دیتی ہے۔

پھر ایک اور بات ہے خواب میں بھی دیکھتا ہوں، خواب ایک آزاد قوم کا، ایک ایسی قوم کا جو دنیا کی امام ہوگی، ایک ایسی قوم جو دریوزہ گری کے فن سے نا آشنا ہوگی، ایک ایسی قوم جو دنیا میں سر اٹھا کر جئے گی،ایک ایسی قوم جو دنیا کی رہبری کا کام کرے گی۔

اب جو کچھ پچھلے 70 سال سے ہم کر رہے ہیں، ہمارے ساتھ ہورہا ہے، اس میں تو ہم وہ سب کچھ حاصل نہیں کر سکے جو خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کی تعبیر دیتے ہوئے قائد اعظم نے اپنی زندگی کی بازی ہار دی تھی اور جس نقشے میں میں اب رنگ بھرنا چاہتا ہوں۔ 

اب یہ کام کب ہوگا، کیسے ہوگا، میں اس کا جواب دیتا ہوں۔ یہ کام جب ہوگا جب اس ملک میں ہر شعبہ زندگی میں ہر سطح پر اردو نافذ ہوگی۔ 

قائداعظم نے فرمایا 
" میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو- جو کوئی آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ پاکستان کا دشمن ہے"۔

کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا۔ یہ قائداعظم کی سوچ تھی۔ وہی قائداعظم جس نے کہا تھا کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے" قائداعظم کوئی معمولی انسان نہ تھے، وہ صدیوں کے انسان تھے، ایسے انسان جن کی نظر صدیوں پر تھی گذشتہ ادوار پر بھی اور آنے والے ادوار پر بھی، بھلا بتائیں جب 1947 میں آپ نے یہ الفاظ کہے تھے (کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے) تو کیا ساری دنیا میں کل کائنات میں کوئی ایسا شخص تھا جس نے ایسی بات سوچی ہو کہ آنے والے زمانے میں جنگیں پانی کے مسئلے پر ہوں گی۔ تو یہ قائد اعظم تھے جنہوں نے کہا کہ جو اردو کا مخالف ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ اب قائد اعظم کی بات کو دیکھیں پاکستان کے حکمرانوں اور حاکم طبقوں کو دیکھیں اور سوچیں کہ یہ کس کی زبان بول رہے ہیں، کیا یہ قائد اعظم کے وارث ہیں اور قائداعظم کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں یا یہ قائد اعظم اور پاکستان کے دشمنوں کے ایجنڈے پر کام کرنے والے لوگ ہیں۔ 

70 سال ہو گئے پاکستان جو دنیا کے نقشے پر ایک آزاد، باوقار اور عظیم ملک کی حیثیت سے ابھرا تھا، آج ایک خائب و خاسر، ناکام، درماندہ، بدعنوانی، بد انتظامی، ذلت ، رسوائی، اندھیروں اور پستیوں کا مارا ہوا ملک ہے اور ہم تو اب یہ بھول ہی چکے ہیں کہ 

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت نے 
کچل ڈالاتھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا۔ 

یہ تو وہ رونا ہے جو میں گذشتہ کئی سالوں سے رو رہا ہوں اور جس کا ماتم کرتے کرتے میرے ہاتھ شل ہو چکے ہیں اور سینہ ادھڑ چکا ہے۔ اس بات کو یہی چھوڑتے ہوئے آئیے اب بات کریں کہ جب اس ملک میں اردو نافذ ہوگی تو وہ اپنے جلو میں کیا کیا لے کر آئے گی۔ 

آب روان کبیر تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب 

سب سے پہلے تو اس قوم کو وہ علم ملے گا جو ایک اجنبی اور غیر ملکی زبان کے تسلط کی وجہ سے اس ملک سے روٹھ چکا ہے۔ ہمارے بچے جب تعلیمی اداروں کا رخ کریں گے تو وہ علم حاصل کریں گے نا کہ وہ ایک اجنبی اور غیر ملکی زبان کی گتھیاں سلجھاتے سلجھاتے ان وادیوں کی طرف جا نکلیں گے جہاں اندھیرے رقص کرتے ہیں اور ویرانیاں چڑیلوں اور جنوں کا روپ دھارے بچوں کو دہشت زدہ کرتی نظر آتی ہیں۔

اس ملک میں سکالر جنم لیں گے، سائنس دان تجربہ گاہوں کو رونق بخشتے نظر آئیں گے، ہمارے ملک کا ماتھا بھی نت نئی ایجادات کی روشنی سے جگمگائے گا اور ماہرین معیشت دنیا بھر کی فکری رہنمائی کرتے نظر آئیں گے۔ 

جب اس ملک میں اردو نافذ ہوگی، لوگوں کو علم کے صدقے شعور اور آگہی کی دولت ملے گی جب ایسا ہوگا تو اس ملک میں جمہوریت کی وہ روح نظر آئے گی جو اسلام کے زریں اصولوں اور علامہ اقبال اور قائداعظم کی تعلیمات کی روشنی میں جنم لینے والی ایک حقیقی اسلامی جمہوریت ہوگی۔

دنیا بھر کے اہل علم پاکستان کی درس گاہوں کا رخ کرتے نظر آئیں گے، پاکستانی تعلیمی ادارے دنیا بھر کے لئے علم اور تحقیق کا مرکز بنیں گے اور اس طرح پاکستانی نوجوان کو اپنے ملک میں ہی وہ علم حاصل ہو جائے گا جس کے لئے وہ دنیا بھر میں مارا مارا پھرتا ہے۔

جب پاکستان کے تعلیمی ادارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تعلیم کی روشنی سے منور کریں گے تو اس کے نتیجے میں پاکستان میں جگہ جگہ صنعتی ادارے اور کارخانے قائم ہوں گے، وہ جب دن رات اپنی پیداوار دیں گے تو پاکستانی اہل ہنر اور اہل علم کو اپنے ملک میں وہ سب کچھ میسر ہو جائے گا جس کے لئے وہ دنیا بھر کے مہاجنوں، ساہوکاروں ، صنعتکاروں اور تاجروں کے لئے سستی لیبر کا درجہ رکھتے ہیں۔

پاکستان کے ہسپتال اور شفاخانے علاج کی بہترین سہولتیں مہیا کریں گے اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں علاج کی وہ سہولتیں حاصل ہوں گی جو دنیا بھر کے لئے ایک مثال کا درجہ رکھیں گی اور پاکستان سے کسی مریض کو کسی بھی مرض کے علاج کے لئے دنیا میں کہیں نہیں جانا پڑے گا۔

جب ہر پاکستانی کو اپنے ہی ملک میں تعلیم، علاج اور ملازمت کی بہترین سہولتیں اور مواقع میسر ہوں گے تو انہیں معمولی معمولی باتوں کے لئے دنیا بھر میں در بدر نہیں بھٹکنا پڑے گا، در در کی ٹھوکریں نہیں کھانا پڑیں گی، اور اس طرح پاکستانیوں کا وہ کھویا ہوا وقار بحال ہو جائے گا جو کہ کب کا لٹ چکا ہے۔ غیر ملکی ائرپورٹز پر پاکستانیوں کی جس طرح تذلیل ہوتی ہیے اس کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا اور دنیا بھر میں ایک بار پھر سبز پاسپورٹ عزت اور احترام کی علامت بن جائے گا۔ 

طالب علموں کی علمی قتل گاہیں یعنی اکیڈمیاں اور ٹیوشن سنٹرز بند ہو جائیں گے۔ رنگ برنگی گائیڈز، ٹیسٹ پیپرز،کیز اور اس طرح رٹے اور نقل کا مواد چھپنا بند ہو جائے گا اور اس سے بچوں کا جو وقت بچے گا وہ مطالعہ میں، سیر و تفریح میں اور کھیل کود میں صرف ہوگا۔ ہمارے کھیل کے میدان اور لائیبریریاں بھی آباد نظر آئیں گی ، اور ایک وقت آئے گا جب پاکستان فٹبال میں ، ہاکی میں، باسکٹ بال میں، والی بال میں، بیڈ منٹن میں، ٹیبل ٹینس میں ، کرکٹ میں، اسکواش میں، ٹینس میں اور اتھلیٹکز میں دنیا کے بہترین کھلاڑی پیدا کرے گا، اولمپکز میں تمغے جیتنے والے ملکوں میں سرفہرست ہوگا اور اس طرح کھیل کے شعبے میں بھی دنیا کا قائد بن جائے گا۔ 

فنون لطیفہ میں شاعری میں ادب میں موسیقی میں اور ڈرامہ میں اور پھر فلم کے میدان میں بھی دنیا کی قیادت پاکستان کے ہاتھ میں ہی ہوگی۔ 

پاکستان میں سڑکوں، موٹر ویز، ڈیمز اور صنعتوں کے جال بچھیں گے اور پاکستان اس ذلت سے نکل جائے گا کہ بھلے ڈیم بنانے ہوں، موٹرویز بنانی ہوں، تعلیمی نظام وضع کرنا ہو، اور ذلت کی انتہا یہ کہ شہروں کی صفائی کرنا ہو، ماہرین اور انجینئرز دوسرے ملکوں سے بلائے جاتے ہیں۔ پاکستان کے تعلیم یافتہ افراد اس قابل ہوں گے کہ وہ ہر معاملے میں پاکستان کو ہر وہ سہولت اور فنی و تکنیکی مہارت دے سکیں گے جس کا ابھی صرف خواب دیکھا جا سکتا ہے، یا پھر جس کے لئے ہر پھر کر ہماری نظریں کسی نہ کسی یورپی یا پھر ترقی یافتہ ایشیائی ملک کی جانب اٹھتی ہیں۔ 

ہمیں اس فریب سے نکلنا ہوگا کہ علم، دانائی اور مہارت کا سر چشمہ صرف انگریزی زبان ہے اس سے گھٹیا، پست ذہنیت اور ذہنی دیوالیہ پن کی بات ہو ہی نہیں سکتی۔ اس ملک میں اپنی زبان (اردو) کو ترقی دی جائے، نافذ کیا جائے اور پھر صوفی برکت علی رحمۃاللہ علیہ کی بات پوری ہوتی دیکھیں۔"میں دیکھ رہا ہوں کہ آنے والے چند سالوں میں قوموں کی تقدیروں کے فیصلے پاکستان کی ہاں اور نہ پر منحصر ہوں گے"۔ 

آب روان کبیر تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  72269
کوڈ
 
   
مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں