Thursday, 24 May, 2018
’’کرپشن فری پاکستان کا خواب حکمرانوں کا احتساب‘‘

’’کرپشن فری پاکستان کا خواب حکمرانوں کا احتساب‘‘
تحریر: مبصر دانش

 

پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں کرپشن کو زہر قرار دیا تھا جب کہ آسٹریلیا کے مشہور دانشور’’کارل کراؤس‘‘ نے کرپشن کو جسم فروشی سے بھی بدترین قرار دیا ہے۔ جسم فروشی سے ایک انسان کی اخلاقیات تباہ ہوتی ہیں جب کہ کرپشن پوری قوم کا اخلاق تباہ کر ڈالتی ہے۔

ویسے توبانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت کے ساتھ ہی پاکستان میں کرپشن نے پنجے گاڑنا شروع کردیے تھے لیکن گذشتہ دو تین ہائیوں نے کرپشن اور لوٹ مار نے پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع کردیا ہے۔

پاکستان میں وسیع پیمانے پر کرپشن، لوٹ مار، بھوک،افلاس،بیماری، مایوسی، محرومی، نا انصافی اور بے چینی پیدا کر رہی ہے جب کہ دوسری طرف انتہا پسند دہشت گرد تنظیمیں بھی بھرپور فائدہ اٹھاتی ہیں۔ بنیادی اور جدید حقوق سے محروم اور مایوس نوجوان ان دہشت گرد تنظیموں کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف’’کرپشن اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ‘‘ پر توجہ دلاتے رہے۔

حکمرانوں سے لے کر ملکی اداروں اور ملکی اداروں سے لے کر ایک معمولی سرکاری ملازم تک کرپشن میں ملوث نظر آتے ہیں۔ ایک انداز کے مطابق پانچ ہزار ارب کی سالانہ کرپشن ہو رہی ہے۔ یعنی یومیہ دس سے بارہ ارب روپے کرپشن ہوتی ہے۔ اس سے آپ معاشرتی انحطاط اور ذمہ داروں کی غفلت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

ویسے تو پاکستان میں کرپشن اور لوٹ مار کے تدارک کے لیے کئی ادارے موجود ہیں لیکن ان تمام اداروں کے باوجود احتساب کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان میں احتساب کے قوانین کا اطلاق محض معمولی سیاستدانوں اور سرکاری اہلکاروں تک محدود ہیں اور ان قوانین کا اطلاق عملاً حکمران اور بااثر اشرافیہ پر نہیں ہوتا۔

2016ء کے دوران پانامہ لیکس کے سکینڈل نے پاکستانی اشرافیہ کے کرپشن کو مزید بے نقاب کردیا بلکہ پہلی بار سیاسی اورعوامی حلقوں نے بھی ’’پانامہ لیکس‘‘ کے سکینڈل کو آڑے ہاتھوں لیا لیکن یہاں بھی جب پاکستانی قوم کو امید ہو چلی کہ اس بار کے عدالتی اور مقتدر حلقوں کے اقدامات سے ضروری کوئی نہ کوئی نتیجہ نکلے گا۔ کرپشن اور لوٹ مار کا خاتمہ ہو گا اور پاکستان حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ پاکستانی اشرافیہ اور کرپٹ قوتوں نے ’’احتسابی عمل‘‘ کو متنازعہ بنانا شروع کردیا۔ستم ظریفی دیکھیے کہ کھلے عام عدالتی فیصلوں کا تمسخر اڑانے اور تنقید کی آڑ میں عدلیہ مخالف مہم کے ذریعے اپنے آپ کو احتساب سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔

پاکستان میں اگر ’’کرپشن اور لوٹ مار‘‘ کو حقیقی معنوں میں ختم کرنا ہے تو بلا خوف و خطر’’حقیقی احتساب‘‘ کا آغاز کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے حکمران اشرافیہ کو قانون کے گرفت میں لانا ہوگا کیونکہ ’’کرپشن اور لوٹمار‘‘ کا خاتمہ تب تک ممکن نہیں جب تک ’’احتساب‘‘ کا آغاز ’’اوپر‘‘ سے نہ کیا جائے۔ عام سرکاری ملازم اور سیاستدانوں کے خلاف’’کارروائیوں‘‘ کا تب تک کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب تک کرپشن کے حقیقی مراکز کے گرد گھیرا تنگ نہ کیا جائے۔

پانامہ میں نااہلی کے بعد حکمران طبقہ جس طرح قومی اداروں اور منصفوں کو للکار رہے ہیں، یہ کہاں کا انصاف ہے۔ کیا عوام حکمرانوں کے لیے ’’ووٹ‘‘ کرپشن کرنے کے لیے دیتے ہیں یا قانون کے حکمرانی کے لیے۔

لہٰذا ضرورت اس امرکی ہے کہ جس نے چیخنا ہے بے شک چیختا رہے لیکن احتساب کے اس عمل کو نہیں چاہیے اور نہ ہی قومی اداروں کو کسی ’’دباؤ‘‘ میں آنا چاہتے کیونکہ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح فیصلے انہی عدالتوں اور قومی اداروں نے کرنے ہیں۔ ہاں احتساب کے عمل کو اطمینان بخش بنانے کے لیے تمام مقتدر قوتوں کو بھی چاہیے کہ ’’احتسابی عمل‘‘ کو صاف اور شفاف رکھا جائے۔ کسی بھی قسم کی اقرباء پروری اور عدالتی فیصلوں میں پسند و ناپسند کے تاثر کو عوام پسند نہیں کریں گے۔ ’’قانون سب کے لیے ‘‘ کے مصداق سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے تو ’’کرپشن فری پاکستان‘‘ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  66068
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
فلسطین کی ستر سالہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو فلسطینیوں پر گزرنے والا ہر دن ہی یوم نکبہ سے کم نہیں ہے، یوم نکبہ فلسطینیوں کے لئے ایک ایسا دن ہے جسے فلسطین کی گزشتہ اور موجودہ نسل کسی طور فراموش کر ہی نہیں سکتی
تعلیم اور تربیت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اگر صرف اعلیٰ تعلیم ہو اور اس سے مطابقت رکھنے والی اور معاشرتی تربیت نہ ہو تو اس تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں، مگر ایک فرد کی اگر صرف تربیت اچھی ہو، اس کو معاشرے میں رہنے کا ڈھنگ آتا ہو
ان دنوں بعض ایسے مضبوط اور ٹھوس شواہد سامنے آ رہے ہیں، جن کی بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ شاید پاکستان اور افغانستان کے مابین برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم افغان صدر اشرف غنی کی وہ
بلوچستان رقبے کے لحاظ ملک کا آدھا حصہ ہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ قدرتی، معدنی اور ساحلی وسائل سے مالا مال بلوچستان کو سایسی حوالے سے بھی کافی اہمیت حاصل ہے۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فوزیہ قصوری نے پارٹی سے استعفٰی دے دیا۔ فوزیہ قصوری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین عمران خان اور دیگر پارٹی قائدین کو بھیج دیا ہے۔ فوزیہ قصوری نے سوشل میڈیا پر اپنے استعفے
گوگل کمپنی نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے 'گوگل نیوز ایپ' کو اَپ ڈیٹ کر دیا ہے جس سے صارفین کو خبروں کے حصول میں مزید آسانی ہوگی۔
ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا اور غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ میں 5 ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں کی مد میں ادا کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طورپر رواں مالی سال
دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں جہاں رمضان المبارک کا استقبال مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے وہیں بعض ممالک میں اس ماہ مقدس کو لے کر کچھ روایتیں بھی عام ہیں جس کے تحت سعودی عرب میں برتنوں کو دھونی دینے کی ایک خاص روایت ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں