Sunday, 26 May, 2019
سعودی بادشاہ اور ولی عہد کے درمیان اختلافات کی افواہیں

سعودی بادشاہ اور ولی عہد کے درمیان اختلافات کی افواہیں

برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے بیٹے اور ملک کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مابین یمن میں جنگ سمیت دیگر اہم مسائل پر ’شدید اختلافات‘ جنم لے چکے ہیں۔

'دی گارجین' کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’دونوں اہم شخصیات کے درمیان اختلافات کی فضا ترکی میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پیدا ہوئی‘۔

واضح رہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی 'سی آئی اے' نے الزام لگایا تھا کہ ’ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حکم پر جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا‘۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’رواں برس فروری کے اواخر میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب 83 سالہ شاہ سلمان نے مصر کا دورہ کیا، جہاں ان کے مشیروں نے انہیں خبردار کیا کہ ’ولی عہد کے خلاف اقدامات کی صورت میں انہیں غیر معمولی خطرہ ہے‘۔

اس حوالے سے مزید انکشاف کیا گیا کہ ’سعودی عرب کے بادشاہ کے مصاحبین نے انہیں ممکنہ طور پر خطرے سے آگاہ کیا جس کے بعد وزارت داخلہ نے 30 سے زائد وفادار سیکیورٹی اہلکاروں کو مصر روانہ کر کے پہلے سے موجود سیکیورٹی اہلکاروں کو واپس بلا لیا‘۔

ذرائع کے مطابق ’سیکیورٹی اہلکاروں کی فوری تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بادشاہ کی سیکیورٹی کے لیے تعینات بعض افسران شہزادہ محمد بن سلمان کے انتہائی وفادار تھے‘۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’شاہ سلمان کے مشیروں نے مصر کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی اہلکاروں کی خدمات بھی واپس کردی تھی‘۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ باپ اور بیٹے کے مابین کشیدگی کو اس طرح بھی محسوس کیا جا سکتا ہے کہ شاہ سلمان کی وطن واپسی پر استقبال کے لیے افراد کی فہرست میں شہزادہ محمد بن سلمان کا نام شامل نہیں تھا۔

واضح رہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے، جو بادشاہ کی عدم موجودگی میں ’نائب بادشاہ‘ کے عہدے پر فائز ہوئے، والد کی غیر موجودگی میں دو اہم فیصلے کیے جس میں سے ایک امریکا کے لیے ریما بنت بندر السعود کو سعودیہ کا سفیر مقرر کیا اور اپنے حقیقی بھائی خالد بن سلمان کو نائب وزیر دفاع کا عہدہ تفویض کیا۔

اس حوالے سے واشنگٹن میں موجود سعودی سفارتخانے نے موقف دیا کہ ’شہزادہ محمد بن سلمان نے بطور نائب بادشاہ اپنے اختیارات کا استعمال کیا جو انہیں شاہ سلمان نے تفویض کیا اور اس ضمن میں کوئی بھی خیال محض بے بنیاد ہے‘۔

سعودی حکام نے مصر میں بادشاہ کی سیکیورٹی تفصیلات سے متعلق تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ رپورٹ کے مطابق مصری وزارت خارجہ سمیت سعودی عرب میں سینٹر فار انٹرنیشنل کمیونیکشن نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ بشکریہ ڈان ویب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  87394
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
کل پارلیمنٹ میں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا نہایت شرم ناک واقعہ پیش آیا جب حکومتی بنچوں سے ایک غیرمسلم ممبر پارلیمنٹ نے شراب پر پائبندی کا بل پیش کیا جسے پوری پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مسترد کردیا.صرف ایم ایم اے ممبرز نے رامیش
’’اختلاف‘‘ کا لفظ اتنا منفی مفہوم اختیار کر گیا ہے کہ بہت سے لوگ ہر قسم کا اختلاف ختم کرنے کے درپے ہوگئے ہیں حالانکہ اختلاف کے بعض خوبصورت اور اچھے پہلو بھی ہیں۔ تاہم بعض اختلافات ایسے ہوتے ہیں کہ جنھیں ختم کرنا چاہیے یا پھر جنھیں برداشت کرنا چاہیے۔
ترکی کے میڈیا نے ان 15 سعودی باشندوں کے نام جاری کر دیے ہیں جن کے بارے میں ترک حکام کو شبہ ہے کہ وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے مبینہ قتل میں ملوث ہیں۔
سعودی عرب کے معروف صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو شادی کی دستاویزات لینے کے لئے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں گئے اور ترکی کی پولیس کے مطابق وہ وہاں سے باہر نہیں نکلے۔ استنبول میں حکام کا کہنا ہے

مقبول ترین
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی آڈیو ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی کرداروں کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا گیا۔ نیب کی طرف سے دائر کیا جانے والا ریفرنس 630 صفحات پر مشتمل ہے جس میں آڈیو
لاڑکانہ میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے رتو ڈیرو میں بچوں سمیت سیکڑوں افراد کے ایڈز مبتلا ہونے کے مسئلے پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی اور ایڈز میں بہت فرق ہے، ایچ آئی وی کا علاج نہ ہو تو دس
اسلام آباد میں وفاقی وزراء اور چیئرمین ایف بی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ موجود حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معاشی حالت بہت بری تھی، جب حکومت آئی تو قرضہ 31 ہزار ارب روپے سے زیادہ تھا، برآمدات گر رہی تھیں
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں