Tuesday, 16 October, 2018
عدم برداشت کے بڑھتے واقعات

عدم برداشت کے بڑھتے واقعات
تحریر: احمد عباس

ادارہ امن و تعلیم اسلام آباد 

ہمارے سماج میں تمام مذاہب کے لوگ تقسیم سے قبل پرامن انداز میں رہاکرتےتھے۔ہمارے گاوں میں بھی کچھ ہندو گھرانے آباد تھے جوتقسیم کےبعدانڈیاچلے گئے۔ گاؤں کے بزرگوں سے جب بھی اس موضوع پہ گفتگو ہوئی تو وہ ماضی کویادکرکے آبدیدہ ہوجاتے تھے ۔اپنے دوستوں کے ساتھ گزراوقت بتاتے کس طرح مختلف مذاہب کے باوجود مل کرکھیلتے،کھاناکھاتےاوراستعمال کی اشیاء اور اشیائے خردونوش کاتبادلہ کرتے تھے۔کبھی بھی ذات،رنگ،نسل اورعقیدہ کی بنیاد پر کوئی تفریق ہوئی اور نہ ہی مذہبی تعصب برتاگیا۔ سب مل جل کرامن اور سکون کی زندگی گزارتے تھے،یہ وہی زمانہ ہے جب لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے،مذہبی اور دنیاوی تعلیم  زیادہ  نہ تھی۔

زمانہ جدید میں جہاں لوگ پڑھے لکھے ہیں۔عصری تعلیم کی ڈگریوں کی  بہتاب ہے اور مذہبی تعلیم میں بھی ہر آدمی مفتی و پاسٹر اور پنڈت بنا ہوا ہے، وہیں آئے روز کوئی نہ کوئی مذہبی تفریق اور عدم برداشت کاواقعہ سننے کومل جاتا ہے۔ جس میں دو مختلف نظریات رکھنے والے باہم  دست و گریباں نظر آتے ہیں۔کچھ واقعات کونقل کناچاہوں گاتاکہ مضمون کوسمجھاجاسکے۔

کچھ دن پہلے سیالکوٹ میں ایک غیرمسلم لڑکی کورشتے اورمذہب  کی  تبدیلی سے انکار پر نوجوان نے دلبرداشتہ ہو  تیزاب پھینکا اور بعض لوگوں  کے مطابق مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش کی۔اس کے نتیجے میں لڑکی  اسی فیصد سے زیادہ  جل گئی اور اب زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
بوریوالہ کے ایک سکول میں استاد کے نفرت امیز رویہ کی وجہ سے طلباء نے مل کر ایک غیر مسلم طالبعلم کواس لیے قتل کرڈالاکہ اسنے گھڑے سے پانی کیوں پیا؟

کچھ عرصہ قبل فیصل آباد کے علاقے الہی آباد میں جھگڑاھواجس کوبعد میں مزہبی رنگ دے دیاگیااس سے علاقے میں فساد برپا ہو گیا۔

یہ چند واقعات بطور مثال پیش کیے ورنہ اردگرد پر تھوڑی سے  نگاہ ڈالنے پر آپ کو ایسے  کئی واقعات  مل جائیں گے جس میں   صرف مسلک  یا مذہب کی اختلاف کی وجہ سے  لوگوں کو تشدد کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور بہت سارے ایسے واقعات ہوتے ہیں جس میں مدمقابل کو قتل تک کر دیا جاتا ہے۔اللہ تعالی  قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
جس نے کسی انسان کو قتل کیا بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو، یا زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی ایک جان کو بچا لیا، تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا۔

اس آیت  میں یہ کہیں بھی نہیں ہے کہ کسی سنی،شیعہ،مسیحی یاھندو کوقتل کیا نہ کیا جائے،اس میں انسان کالفظ استعمال ہواہے، چاہے وہ کسی بھی مذ ہب یاعقیدے کاہوبطور انسان اس کی جان کو تحفظ حاصل ہے اور اسی کسی  بھی طرح قتل نہیں کیا جا سکتا ۔اس کے ساتھ ساتھ آیت سب انسانوں میں موجود  انسانی رشتہ  کی تعلیم بھی دے رہی ہے۔ اسلام  امن و سلامتی کا دین ہے ،جو نبی کریم کے اخلاق حسنہ کی بدولت پھیلا۔زور زبردستی اورطاقت کا استعمال اسلام  میں ممنوع ہے۔

مذہبی علماء،اساتذہ ،میڈیا،سول سوسایٗٹی  اورگورنمنٹ کوچاہیے کہ نوجوانوں کی تعلیم وتربیت   کامناسب بندوبست کرین تاکہ وہ معاشرے   میں مثبت اور تعمیری کام کریں۔یہی وہ معاشرہ ہے جس میں مسلمان، ہندو،سکھ اور مسیحی سب لوگ مل جل کر رہتے تھے۔ہم سب پاک وطن کے شہری ہیں،سب کی مال جان عزت آبرو   محفوظ ہے۔ہمیں سب کے نظریات کا احترام کرنا ہے اور ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جس میں  بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔

عدم برداشت کے بڑھتے واقعات
مضمون نگار
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  61642
کوڈ
 
   
مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
لندن کی وارک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دنیا میں القاعدہ کو کبھی بھی پاکستان کی مددکے بغیر شکست نہیں ہوسکتی تھی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دنیا کو پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں لگائے گئے بجلی کے تمام منصوبوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے جب کہ 2 منصوبے کے آڈٹ کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے
بین الاقوامی برادری میں یہ تاثر عام ہے کہ بھارتی قیادت علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے زعم میں یوں مبتلا ہو چکی ہے کہ اس پر کسی نفسیاتی غلبہ اور سیاسی و سفارتی عارضہ کا گمان ہوتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے دور حکومت میں نیپال، بنگلہ دیش
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کے شمالی علاقے ٹریب میں سیلاب کے باعث 13 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں محض چند گھنٹوں کے دوران اتنی بارش ہوئی جو عام طورپر3 ماہ سے زائد

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں