Friday, 23 August, 2019
جرنیلی سڑک اور بدلتا پاکستان

جرنیلی سڑک اور بدلتا پاکستان
فائل فوٹو
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

 

ہر دور میں انسان نے باہمی رابطے اور آنے جانے  کی آسانی کے لیے سڑکیں بنائیں ۔بادشاہ  فوجوں کی نقل و حمل اور  رسل و رسائل  کے لیے بھی سڑکیں تعمیر کراتے تھے ۔جنریلی  روڑ  جو عرف عام میں جی ٹی روڑ کے نام سے معروف ہے وطن  عزیز کی  ایک معروف  سڑک ہے ۔اس سڑک کی ایک تاریخی حیثیت ہے شیر شاہ نے اگرچہ اسے اپنی ضرورت کے لیے بنایا تھا مگر آنے والے وقت میں یہ  اس علاقے کی تعمیر و ترقی کی علامت بھی  بن گئی ۔بہت سے شہر اس کے کنارے پر  آباد ہوئے ،اس سے دور شہروں کی اہمیت کم ہوتی چلی گئی ۔پنجاب کے نقشے کو بغور دیکھیں تو سب سے گنجان آباد علاقہ اسی جرنیلی سڑک کے  اردگرد ہے۔ پاکستان کے صنعتی شہر بھی اس کے آس پاس میں واقع ہیں۔

اس سڑک کی پاکستانی سیاست میں خاص اہمیت ہے پاکستان کے قومی اسمبلی  کے بہت سے حلقے اسی جنریلی سڑک کے اردگرد  واقع ہیں۔اس لیے ہر سیاسی جماعت  کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ یہاں اپنی  موجودگی کو یقینی بنائے اور اس علاقے کے لوگوں  کو اپنے ساتھ ملائے رکھے۔

اس علاقے کی اقتصادی اہمیت کے ساتھ ساتھ  فوجی اہمیت بھی ہے   پورا پوٹھوہار ریجن جو پاک فوج کے لیے  سب سے زیادہ سپاہی فراہم کرتا ہے یہ سڑک اسی گزرتی ہے۔جہلم  اور چکوال جیسے  علاقے اسی سڑک کے دائیں بائیں ہیں ۔پاکستان کی فوجی قیادت  کی اکثریت بھی اسی علاقے سے ہے ۔ ایک لحاظ سے  یہ علاقہ  فوجی علاقہ ہے یہاں کے جوان فوج میں،بزرگ فوج سے ریٹائرڈ  اور بچے فوج میں بھرتی کی آرزو لیے   سکول و کالج میں جا رہے ہوتے ہیں۔

جنریلی سڑک کے اطراف پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اگرچہ  جب سے میاں نواز شریف نے اسلام آباد سے لاہور موٹروے بنائی ہے اس کی پر ٹریفک کا بوجھ کم ہو گیا ہے مگر اس کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے ۔ یہ علاقہ فوج،سیاستدانوں اور تاجروں ہر ایک کے لیے انتہائی اہم ہے اس لیے ہر ایک  نے مل کر اس کی تعمیر  کی ہے۔

ایوب خان نے موسم اور روز روز کے سیاسی احتجاج سے تنگ آ کر ماگلہ کی پہاڑیوں میں اسلام آباد  کو تعمیر کیا  تاکہ آئے روز کے سیاسی معاملات سے مکمل آزاد ہو کر حکومتی معاملات نمٹائے جائیں ۔ اسی لیے کافی عرصے تک حکومت کا مرکز اسلام آباد تھا اور سیاست کا مرکز لاہور رہا  ۔ ا بھٹو نے اپنی سیاست کا مرکز لاہور کو قرار دیا اور اپنی سٹریٹ پاور کا مظاہرہ بھی ادھر ہی کیا۔

سیاسی قوت کا  مرکز اسلام آباد منتقل ہونے سے   سیاسی جماعتوں کی توجہ بھی اسلام آباد کی طرف ہونے لگی لیکن  تربیت یافتہ کارکن اور  بڑی تعداد میں عوامی حمایت  سرکاری ملازمین کے شہر سے میسر نہیں آ سکتی تھی۔ اسی لیے سیاسی جماعتیں جب کسی بھی حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے مظاہرے کرتیں تو وہ لاہور سے براستہ جی ٹی روڑ اسلام آباد آتیں ۔اس سے ایک طرف کارکنوں کا مسئلہ حل ہو جاتا دوسرا اتنا بڑا مارچ عوامی سطح پر بہت بڑی بیداری کا باعث بن جاتا تھا ۔اسی لیے نوابزادہ نصراللہ خان، قاضی حسین احمد، محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے  لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ کیے ۔

ہر مارچ لاہور سے اسلام آباد آیا مگر  یہاں میاں نواز شریف  اسلام آباد سے لاہور جا رہے ہیں ۔جی ٹی روڑ مسلم لیگ کا گڑھ ہے اسی لیے اسے  جی ٹی روڑ کی جماعت کا طعنہ بھی دیا جاتا ہے ۔میاں صاحب نے آرام دہ موٹروے کو چھوڑ کر جی ٹی روڑ سے جانے کا فیصلہ اسی لیے کیا ہے کہ وہ اپنا مقدمہ ان لوگوں کے سامنے پیش کرے  جنہوں نے انہیں  ووٹ دیے ہیں۔میاں صاحب دسیوں جگہ خطاب کریں گے جس میں  وہ اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کا  اظہار کریں گے۔میرے خیال میں اب  براہ راست  اسٹبلشمنٹ کو چیلنج کریں گے  اور ان کی کوشش  ہو گی کہ  تمام جمہوری قوتوں کو بھی اپنے ساتھ ملائیں۔

تحریک انصاف  نواز شریف صاحب کی نااہلی کو اپنی ایک بڑی کامیابی گردان رہی ہے  شائد پی ٹی آئی نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد والے  پاکستان کا نہیں سوچا تھا یا کم از کم انہوں نے اتنی کمزور بنیاد پر نا اہلی کا نہیں سوچا تھا جو  نواز شریف کو کمزور کرنے کی بجائے طاقتور بنا دے گی۔چار سال تک حکومت کی ،مرکز اور صوبے میں اپنی مرضی کے حکمران ہیں اور خود کو زیادتی کا شکار  قرار دیکر عوام کے پاس  جانے کو پورا سال پڑا ہے۔ جس میں وہ پوری رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر دیں گے۔

نواز شریف  نے اگلے الیکشن کے لیے  کمپین کا  آغاز کر دیا ہے  اب وہ کھل کر کھیلیں گے اور  خوب کھیلیں گے  جی ٹی روڑ  سے لاہور جانے کے  اعلان  کے ساتھ ہی عمران خانصاحب اور پی ٹی آئی  کے ردعمل سے لگتا ہے کہ  انہیں آنے والے الیکشن کی دھندلی سے تصویر  نظر آنی شروع ہو گئی ہے  ۔سیاست بڑی حکمت کا کام ہے اور بڑے تجربے کا تقاضا کرتا ہے ذرا سی غلطی کامیابی کو سالوں دور لے جاتی ہے۔

کل کا سفر اتنا آسان نہیں ہے ۔ جن لوگوں نے  پورا پلان تشکیل دیا ہے انہوں نے یقینا اس وقت کے لیے بھی سوچا ہوگا ۔اقتدار   کا لالچ بہت بری بلا ہے  جو باپ سے بیٹے اور بیٹوں سے باپ  قتل کر وا دیتا ہے ۔ اس بار اقتدار کے اصل مالکوں سے اقتدار واپس کرنے کا مطالبہ ہو رہا ہے تو یہ بڑی قربانی اور جدوجہد کا متقاضی بھی ہے۔جمہور کا حق ہے  کہ اس کے ووٹ کی عزت کی جائے  ان کے منتخب نمائندوں کو رسوا کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔مری اور بہارہ کہو کے عوامی موڈ نے بہت کچھ واضح کر دیا ہے۔

جی ٹی روڑ جرنیلوں کی گزر گاہ ہے پاکستانی  سیاست کے کئی مارچ اسی کے سینے پر ہوئے ہیں۔ یہ بات تو وقت بتائے گا کہ  مارچ روٹین کا مارچ ہے یا کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے،اس کی کامیابی اور ناکامی نواز شریف کا مستقبل بھی طے کرے گی۔یہ اس لحاظ سے یقینا   مختلف ہے کہ  پہلے عوام کا رخ اسلام آباد کی طرف ہوتا تھا اور اب   اسلام آباد سے لاہور کی طرف ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  45454
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
روس کے ساتھ تعلقات دوستانہ، خوشگوار اور پائیدار بنانے کے سلسلے میں عوامی اور سیاسی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے کہ عالمی سیاسی حلقوں اور تزویراتی موضوع پر قائم تھنک ٹینکس
پاکستان میں کسی بھی زبان میں سادہ خط پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کے حامل افراد کو خواندہ کہتے ہیں خواندگی کے حوالے سے ریاست پاکستان کی آئینی ذمہ داریاں اور حکومتی عزم ہے کہ کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر ناخواندگی کا خاتمہ کرے گی
کہاں علامہ اقبال اور کہاں میں، چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک، کوئی نسبت ہی نہیں، علامہ اقبال وہ ہستی کہ جو ایک ولی کامل تھے ، جنہوں نے غلامی کی دبیز تہوں میں دبی ہوئی قوم کو بیدار کیا، جگایا، اٹھایا اور پھر اس
شاہد خاقان عباسی 27 دسمبر 1958 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ عباسی کا تعلق حکمران جماعت مسلم لیگ نون سے ہے اور وہ نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے

مقبول ترین
صدر آزاد کشمیر مسعود خان کا کہنا ہے کہ امیت شاہ اور راج ناتھ سنگھ سن لو ہم کشمیر میں تمہارا اور بھارتی فوجیوں کا قبرستان بنادیں گے۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا دعوے کررہا ہے کہ افغانستان سے کچھ دہشت گرد مقبوضہ وادی میں داخل ہوئے ہیں، بھارتی دعویٰ ہے کہ دہشت گرد جنوبی علاقوں میں بھی داخل ہوئے ہیں
وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ بھارت سے مزید بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ اس کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر
ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان آرمی کے زبردست سپہ سالار ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ اس حوالے سے پاکستان کے دیرینہ دوست

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں