Wednesday, 29 January, 2020
جرنیلی سڑک اور بدلتا پاکستان

جرنیلی سڑک اور بدلتا پاکستان
فائل فوٹو
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

 

ہر دور میں انسان نے باہمی رابطے اور آنے جانے  کی آسانی کے لیے سڑکیں بنائیں ۔بادشاہ  فوجوں کی نقل و حمل اور  رسل و رسائل  کے لیے بھی سڑکیں تعمیر کراتے تھے ۔جنریلی  روڑ  جو عرف عام میں جی ٹی روڑ کے نام سے معروف ہے وطن  عزیز کی  ایک معروف  سڑک ہے ۔اس سڑک کی ایک تاریخی حیثیت ہے شیر شاہ نے اگرچہ اسے اپنی ضرورت کے لیے بنایا تھا مگر آنے والے وقت میں یہ  اس علاقے کی تعمیر و ترقی کی علامت بھی  بن گئی ۔بہت سے شہر اس کے کنارے پر  آباد ہوئے ،اس سے دور شہروں کی اہمیت کم ہوتی چلی گئی ۔پنجاب کے نقشے کو بغور دیکھیں تو سب سے گنجان آباد علاقہ اسی جرنیلی سڑک کے  اردگرد ہے۔ پاکستان کے صنعتی شہر بھی اس کے آس پاس میں واقع ہیں۔

اس سڑک کی پاکستانی سیاست میں خاص اہمیت ہے پاکستان کے قومی اسمبلی  کے بہت سے حلقے اسی جنریلی سڑک کے اردگرد  واقع ہیں۔اس لیے ہر سیاسی جماعت  کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ یہاں اپنی  موجودگی کو یقینی بنائے اور اس علاقے کے لوگوں  کو اپنے ساتھ ملائے رکھے۔

اس علاقے کی اقتصادی اہمیت کے ساتھ ساتھ  فوجی اہمیت بھی ہے   پورا پوٹھوہار ریجن جو پاک فوج کے لیے  سب سے زیادہ سپاہی فراہم کرتا ہے یہ سڑک اسی گزرتی ہے۔جہلم  اور چکوال جیسے  علاقے اسی سڑک کے دائیں بائیں ہیں ۔پاکستان کی فوجی قیادت  کی اکثریت بھی اسی علاقے سے ہے ۔ ایک لحاظ سے  یہ علاقہ  فوجی علاقہ ہے یہاں کے جوان فوج میں،بزرگ فوج سے ریٹائرڈ  اور بچے فوج میں بھرتی کی آرزو لیے   سکول و کالج میں جا رہے ہوتے ہیں۔

جنریلی سڑک کے اطراف پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اگرچہ  جب سے میاں نواز شریف نے اسلام آباد سے لاہور موٹروے بنائی ہے اس کی پر ٹریفک کا بوجھ کم ہو گیا ہے مگر اس کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے ۔ یہ علاقہ فوج،سیاستدانوں اور تاجروں ہر ایک کے لیے انتہائی اہم ہے اس لیے ہر ایک  نے مل کر اس کی تعمیر  کی ہے۔

ایوب خان نے موسم اور روز روز کے سیاسی احتجاج سے تنگ آ کر ماگلہ کی پہاڑیوں میں اسلام آباد  کو تعمیر کیا  تاکہ آئے روز کے سیاسی معاملات سے مکمل آزاد ہو کر حکومتی معاملات نمٹائے جائیں ۔ اسی لیے کافی عرصے تک حکومت کا مرکز اسلام آباد تھا اور سیاست کا مرکز لاہور رہا  ۔ ا بھٹو نے اپنی سیاست کا مرکز لاہور کو قرار دیا اور اپنی سٹریٹ پاور کا مظاہرہ بھی ادھر ہی کیا۔

سیاسی قوت کا  مرکز اسلام آباد منتقل ہونے سے   سیاسی جماعتوں کی توجہ بھی اسلام آباد کی طرف ہونے لگی لیکن  تربیت یافتہ کارکن اور  بڑی تعداد میں عوامی حمایت  سرکاری ملازمین کے شہر سے میسر نہیں آ سکتی تھی۔ اسی لیے سیاسی جماعتیں جب کسی بھی حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے مظاہرے کرتیں تو وہ لاہور سے براستہ جی ٹی روڑ اسلام آباد آتیں ۔اس سے ایک طرف کارکنوں کا مسئلہ حل ہو جاتا دوسرا اتنا بڑا مارچ عوامی سطح پر بہت بڑی بیداری کا باعث بن جاتا تھا ۔اسی لیے نوابزادہ نصراللہ خان، قاضی حسین احمد، محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے  لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ کیے ۔

ہر مارچ لاہور سے اسلام آباد آیا مگر  یہاں میاں نواز شریف  اسلام آباد سے لاہور جا رہے ہیں ۔جی ٹی روڑ مسلم لیگ کا گڑھ ہے اسی لیے اسے  جی ٹی روڑ کی جماعت کا طعنہ بھی دیا جاتا ہے ۔میاں صاحب نے آرام دہ موٹروے کو چھوڑ کر جی ٹی روڑ سے جانے کا فیصلہ اسی لیے کیا ہے کہ وہ اپنا مقدمہ ان لوگوں کے سامنے پیش کرے  جنہوں نے انہیں  ووٹ دیے ہیں۔میاں صاحب دسیوں جگہ خطاب کریں گے جس میں  وہ اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کا  اظہار کریں گے۔میرے خیال میں اب  براہ راست  اسٹبلشمنٹ کو چیلنج کریں گے  اور ان کی کوشش  ہو گی کہ  تمام جمہوری قوتوں کو بھی اپنے ساتھ ملائیں۔

تحریک انصاف  نواز شریف صاحب کی نااہلی کو اپنی ایک بڑی کامیابی گردان رہی ہے  شائد پی ٹی آئی نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد والے  پاکستان کا نہیں سوچا تھا یا کم از کم انہوں نے اتنی کمزور بنیاد پر نا اہلی کا نہیں سوچا تھا جو  نواز شریف کو کمزور کرنے کی بجائے طاقتور بنا دے گی۔چار سال تک حکومت کی ،مرکز اور صوبے میں اپنی مرضی کے حکمران ہیں اور خود کو زیادتی کا شکار  قرار دیکر عوام کے پاس  جانے کو پورا سال پڑا ہے۔ جس میں وہ پوری رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر دیں گے۔

نواز شریف  نے اگلے الیکشن کے لیے  کمپین کا  آغاز کر دیا ہے  اب وہ کھل کر کھیلیں گے اور  خوب کھیلیں گے  جی ٹی روڑ  سے لاہور جانے کے  اعلان  کے ساتھ ہی عمران خانصاحب اور پی ٹی آئی  کے ردعمل سے لگتا ہے کہ  انہیں آنے والے الیکشن کی دھندلی سے تصویر  نظر آنی شروع ہو گئی ہے  ۔سیاست بڑی حکمت کا کام ہے اور بڑے تجربے کا تقاضا کرتا ہے ذرا سی غلطی کامیابی کو سالوں دور لے جاتی ہے۔

کل کا سفر اتنا آسان نہیں ہے ۔ جن لوگوں نے  پورا پلان تشکیل دیا ہے انہوں نے یقینا اس وقت کے لیے بھی سوچا ہوگا ۔اقتدار   کا لالچ بہت بری بلا ہے  جو باپ سے بیٹے اور بیٹوں سے باپ  قتل کر وا دیتا ہے ۔ اس بار اقتدار کے اصل مالکوں سے اقتدار واپس کرنے کا مطالبہ ہو رہا ہے تو یہ بڑی قربانی اور جدوجہد کا متقاضی بھی ہے۔جمہور کا حق ہے  کہ اس کے ووٹ کی عزت کی جائے  ان کے منتخب نمائندوں کو رسوا کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔مری اور بہارہ کہو کے عوامی موڈ نے بہت کچھ واضح کر دیا ہے۔

جی ٹی روڑ جرنیلوں کی گزر گاہ ہے پاکستانی  سیاست کے کئی مارچ اسی کے سینے پر ہوئے ہیں۔ یہ بات تو وقت بتائے گا کہ  مارچ روٹین کا مارچ ہے یا کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے،اس کی کامیابی اور ناکامی نواز شریف کا مستقبل بھی طے کرے گی۔یہ اس لحاظ سے یقینا   مختلف ہے کہ  پہلے عوام کا رخ اسلام آباد کی طرف ہوتا تھا اور اب   اسلام آباد سے لاہور کی طرف ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  88457
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وفا اور جفا کی عجب کشمکش میں ہچکولے کھاتا دانش بالآخر اپنی محبت کا لاشہ اٹھائے جہان فانی سے کوچ کر گیا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
برطانیہ کے عام انتخابات میں 15 پاکستانی نژاد امیدوار اپنی نشستوں پر کامیاب ہو گئے ہیں، جن میں سے زیادہ تعداد ہارنے والی جماعت لیبر پارٹی سے ہے۔ میڈیا کے مطابق برطانیہ میں پانچ سال کے عرصے میں

مزید خبریں
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
عزیزان۔۔۔! بہت آسان ہے ہر رات ٹی وی ڈرامہ کا انتخاب کرنا یا کسی فلم کو دیکھنے کے لیے دیر تک جاگنا۔۔ بہت مشکل ہے ٹھنڈی اور تاریک رات میں اپنے بچوں اور والدین سے دور برفباری جیسے موسم کے اندر اپنا فرض نبھانا۔۔

مقبول ترین
عرب میڈیا کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے امریکی صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے امن منصوبہ ’ ڈیل آف سینچری‘ پیش کرنے اور فریقین کے درمیان امریکی سرپرستی میں
فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے کو ’’صدی کا تھپڑ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کے اعلان کے بعد سے غزہ
دفتر خارجہ نے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ متشدد بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی انتہا پسند بیانیہ
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جسے امن منصوبے کا نام دے رہے ہیں وہ دراصل” امن کے خلاف جنگ“ (War Against Peace )ہے ۔اسے عالمی قوانین کی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں