Saturday, 19 September, 2020
تکفیر کرنا اکابر اور آئین پاکستان کیخلاف ہے، ڈاکٹر قبلہ ایاز

تکفیر کرنا اکابر اور آئین پاکستان کیخلاف ہے، ڈاکٹر قبلہ ایاز
جامعۃ المصطفیٰ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب

اسلام آباد۔ اتحاد امت کمزوری اور قوت دونوں صورتوں میں ضروری ہے،اسے ضرورت کے بجائے عبادت و فریضہ سمجھ کر انجام دیا جائے۔ ایک دوسرے کے مسلک کو کافر کہنا اکابر اور آئین پاکستان کیخلاف ہے، ان خیالات کا اظہار چئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے جامعۃ المصطفیٰ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے کیا۔

انھوں نے کہا کہ امام جعفر صادقؑ کی تعلیمات پوری امت کے لیے سرمایہ افتخار ہیں۔ پاکستان میں اکثریت فقہ حنفی کے ماننے والوں کی ہے اور امام ابوحنیفہ امام جعفر صادق کے شاگرد ہیں ،بد قسمتی سے امام ابو حنیفہ اور امام جعفر صادقؑ کا یہ تعلق ہمارے نصاب کا حصہ نہیں ہے جس کی وجہ سے مدارس،یونیورسٹیز،کالجز اور سکول کے طلبہ اس تعلق سے آگاہ نہیں ہوتے ۔

انہوں نے تاریخ پاکستان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے کے مسلمان ہمیشہ مل جل کر رہے ہیں۔ تحریک پاکستان شیعہ سنی اکابرنے ملکر چلائی اور وطن عزیز کے حصول کے لیے مشترکہ جدو جہد کی ،اسی طرح جب ختم نبوت کا مسئلہ پیش آیا تو ختم نبوت کی تاریخ ساز جدو جہد میں تمام مسالک کے علمائے کرام شریک رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل جیسے تاریخ ساز اتحادوں میں بھی تمام مسالک کے علمائے کرام شریک رہے ۔ جب ۱۹۷۳ء کے آئین کو بنانے میں تمام مسالک کا حصہ رہا ہے۔ اس میں ختم نبوت کا اقرار نہ کرنے پر قادیانیوں کو اتفاق رائے سےغیر مسلم قرار دیا  گیا ۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ آئین پاکستان میں تمام موجود مسالک کو مسلمان مانا گیا ہے ۔ آج اگر کوئی گلی  یاچوراہے  پر کھڑا ہو کر کسی دوسرے مسلک کو کافر کہتاہے تو یہ جہاں ان اکابر کے طریقے کے خلاف ہے وہیں آئین پاکستان کے بھی خلاف ہے۔ہم سب ایک جسم و جان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعۃ المصطفیٰ معاشرے میں  ہم آہنگی لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ایک امت کی تشکیل میں کوشاں ہے۔

تقریب سے ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر ثاقب اکبر نے امام جعفر صادقؑ کی سیرت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی علمی خدمات انسانیت کا عظیم ورثہ ہیں اور انہوں نے ہر شعبہ میں نامور شخصیات تربیت کیں۔ انہوں نے کہا کہ جابر بن حیان جن کو علم کیمیا کا باپ کہا جاتا ہے، اسی طرح فقہ و حدیث ،فلسفہ و کلام میں بھی آپ کے شاگرد ید طولی رکھتے تھے ۔بعض لوگوں نے کہا کہ امام ابوحنیفہ امام جعفر صادقؑ کے ہم عصرہیں وہ ان کے شاگرد کیسے ہو سکتے ہیں؟ ان کو مولانا شبلی نعمانی نے جواب دیا کہ فضل و کمال میں کسوئی امام جعفر وصادق ؑ کے ہم پلہ نہیں ہے حدیث و فقہ بلکہ تمام مذہبی علوم اہلبیتؑ کے گھر  سے نکلے ہیں اور گھر والے ہی گھر کی بات کو بہتر جانتے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کل مسالک علماء بورڈ کے مولانا تحمید جان ازہری  نے کہا کہ مسائل کی وجہ باہمی دوریاں ہیں انہوں نے بتایا کہ وہ چند روز پہلے اہلسنت علما کا ایک وفد لیکر  پارا چنار گئے تھے، اور وہاں پہنچنے پر شیعہ علماء نے ہمارا فقید المثال استقبال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں پر خطاب کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مدینہ میں نبی اکرم (ص) کی آمد سے پہلے اوس خزرج کی دشمنیاں تھیں اسلام آیا تو یہ لوگ باہم شیر و شکر ہو گئے ایک یہود ی کو یہ بات کھٹکتی تھی اس نے ایک منصوبے کے تحت پہلے والی دشمنی کو بھڑکایا  اوس خزرج  سے تعلق رکھنے والے صحابہ جب آپس میں لڑنے کے لیے آمادہ ہو گئے  تو نبی اکرم (ص) کو پتہ چلا آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں اور تم جاہلیت کی طرف پلٹ گئے نبی اکرم (ص) کا خطبہ سن کر اوس و جزرج سے تعلق رکھنے والے صحابہ کرام ایک دوسرے کو گلے لگا کر رو رہے تھے آج ہمارے لیے بھی وہی مقام ہے کہ ہمیں اللہ کے نبی (ص)نے ایک امت بنایا تھا مگر ہم آپس میں لڑ رہے ہیں آج ہمیں بھی  صحابہ کرام کی طرح ایک دوسرے کے گلے لگا کر رونا چاہیے۔

سیمینار سے ڈاکٹر ساجد سبحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سب سے پہلے نبی اکرم (ص) کی معرفت کو حاصل کرنا ضروری ہے کیونکہ کسی بھی شخصیت کی بلندی کو جاننے کے لیے پہلے مرحلے پر اس کی پہچان ضروری ہوتی ہے اور جب پہچان ہو جاتی ہے تو دوسرے مرحلے میں اس شخصیت کی محبت پیدا ہو جاتی ہے یہاں پر بھی معرفت کے بعد نبی اکرم (ص) کی محبت ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی جزء ہے اور محبت کا دعوی اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک آپ  کی  پیروی نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ میں اطاعت رسول کا فقدان ہے اس لیے  سیرت کے اس پہلو کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

جامعۃ المصطفیٰ اسلام آباد کے مدیر علامہ انیس الحسین خان نے کہا کہ آج وقت آ گیا ہے کہ ہم اتحاد امت کو ایک اسلامی اصول کے طور پر قبول کریں اور امت کو عملی طور پر  ایک بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای نے اہلسنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے اور عراق کے نامور فقیہ آیۃ اللہ سید علی حسینی سیستانی نے کہا کہ اہلسنت ہمارے بھائی نہیں ہمارے وجود کا حصہ ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ان بزرگان کی تعلیمات کے مطابق عمل کرنا چاہیے جو امت کو جوڑنے کا کام کر رہے ہیں

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  87381
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
آن لائن ایجوکیشن سسٹم تقریباً پوری دنیا میں رائج ہے ۔پاکستان میں بھی دو بڑی یونیورسٹیاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اورورچوئل یونیورسٹی اس وقت ہزاروں اسٹوڈنٹ کو آن لائن ایجوکیشن فراہم کر رہی ہیں۔
بچے کسی بھی ملک کا سرمایہ اور مستقبل ہوتے ہیں ،لیکن اس کے باوجود بچوں کی ایک بڑی تعداد سکول کے بجائے ورکشاپس، کارخانوں اور لوگوں کے گھروں میں کام کرتی نظر آتی ہے ،
دھوپ میں چھاؤں دینے والا، زمانے کے سخت تھپیڑوں سے بچانے والا، زندگی کے اتار چڑھاؤ کے باوجود آپ کو سکھی رکھنے والا.. ایسا ہوتا ہے باپ.
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ امریکی رپورٹ میں پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو متنازع بنایا گیا ہے۔ القاعدہ کی خطے میں ناکامی کو تو تسلیم کیا گیا لیکن اس کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان میں
رینٹل پاور کیس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت 10 ملزمان نے بریت کی درخواست دائر کر رکھی تھی اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت تمام درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ جس پر احتساب عدالت اسلام آباد نےفیصلہ محفوظ کر رکھا تھا تاہم آج احتساب
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم سے جواب مانگا جارہا ہے جواب ان سے مانگا جائے جو ملک کو اس حال میں چھوڑ کرگئے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد
سپریم کورٹ میں کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوان چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم کہتےہیں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہوگی؟ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں