Monday, 18 November, 2019
روہنگیا مظلوم ہیں، اُن کی حمایت لازم ہے:

روہنگیا مظلوم ہیں، اُن کی حمایت لازم ہے:
تحریر: مفتی امجد عباس

 

اِس میں کوئی شک نھیں کہ میانمار کے روہنگیا مُسلمان مظلوم ترین کمیونٹی ہیں، وہ شناخت کے ساتھ دیگر بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں، اُنھیں میانمار کی حکومت اپنا شہری تسلیم نھیں کرتی۔ اُن پر مدت سے عرصہءِ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ روہنگیا کا مسئلہ بڑا انسانی المیہ ہے۔ اِس ایشو کو جس طرح اُٹھایا جانا چاہیے تھا، ویسے نھیں اُٹھایا گیا۔ ماضی میں اقوامِ متحدہ، عالمی قوتیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مُسلم اُمہ کی خاموشی تکلیف دہ رہی ہے۔

رُوہنگیا کا مسئلہ نسلی اور سیاسی نوعیت کا تھا جو اب مذہبی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ یہیں سے اِس مسئلے میں شدت آئی ہے۔ اب اِس ایشو کو مذہبی پہلو سے ہی دیکھا جا رہا ہے جس سے پیچیدگی بڑھ گئی ہے۔
یہ امر بھی مُسلم ہے کہ رُوہنگیا قبیلے سے نفرت کی ایک وجہ اُن کا مُسلمان ہونا بھی ہے۔ اُن کی بڑھتی ہوئی تعداد سے مقامی قبائل پریشان ہیں۔

دنیا بھر میں رُوہنگیا کے مسئلے کو مذہبی بنا کر اُٹھایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں مذہبی قوتوں مل کر اِس ایشو کو نمایاں کر رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں بڑی مذہبی جماعتوں کے سربراہوں نے میانمار میں بدھ مذہب کے پیرو کاروں اور میانماری فوج کی جانب سے روہنگیا کمیونٹی پر مظالم کی شدید مذمت کی ہے، اکثر کا کہنا تھا کہ پاکستان میانمار سے اپنے سفارتی تعلقات فوری ختم کرے۔

کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نھیں ہوتا۔ دنیا کے کسی مذہب میں دہشت گردی کا جواز نھیں ہے۔ اِسی تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ مظلوم کا بھی کوئی مذہب نھیں ہوتا یعنی بلا امتیازِ مذہب، مظلوم کی حمایت کرنا چاہیے۔ عصرِ حاضر میں دیکھیے تو ایک مدت سے عراق اور شام میں مُسلمان، داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں، مُسلمان ممالک میں اِن کے لیے کسی نے آواز نھیں اُٹھائی۔ یمن میں ایک عرصے سے نہتے شہریوں پر بمباری جاری ہے، اُس پر عالمی ضمیر، مسلم ممالک اور عوام خاموش ہیں۔

کشمیر و فلسطین میں ہر دن قیامت ڈھائی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی دہشت گردوں کی کاروائیوں میں ایک لاکھ سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے بہیمانہ حملوں میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ بچے مارے گئے۔

آج رُوہنگیا کے خلاف مظالم پر بڑھ چڑھ کر بولنے والے مذہبی رہنماؤں کی اکثریت پاکستان اور دیگر ممالک میں دہشت گردوں کے مظالم پر چُپ رہی ہے۔ ایسے میں صرف روہنگیا مسلمانوں کے حق میں آواز اُٹھانا اور دیگر مسلمان مظلوموں کے بارے میں خاموش رہنا درست رویہ نہ ہوگا۔ اِس سے یہ تاثر اُبھر رہا ہے کہ مُسلمان کو مُسلمان مارے تو قبول ہے، بس کوئی غیر مُسلم نہ مارے۔، اب چونکہ میانمار کے علاوہ زیادہ تر جگہوں پر مُسلمان ہی مُسلمانوں کو مار رہے ہیں، اِس لیے اسلامی ممالک میں خاموشی ہے لیکن میانمار میں بدھوں اور برمی فوج کا نام ظلم کرنے والوں میں شامل ہے اس لیے اِس پر احتجاج کیا جارہا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی رُو سے ہمیں دنیا بھر کے مظلوم و محروم انسانوں کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مفتی امجد عباس صاحب مبصر ڈاٹ کام کے سٹاف ممبر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  94751
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ہم سے اربوں ڈالر لیتے ہیں اور اس کے بعد بھی ہمارے خلاف ووٹ دیتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں اس ووٹنگ کو، انھیں ہمارے خلاف ووٹ دینے دیں، ہم بہت سے پیسے بچا لیں گے، ہمیں پروا نہیں۔
بیروت میں قائم امریکی سفارت خانے کے باہر فلسطین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے، جنہیں روکنے لیے فورسز نے آنسو گیس کا آزادانہ استعمال کیا۔
امریکا کے بیت المقدس کے حوالے سے فیصلے پر 8 ممالک کی جانب سے طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں پانچ یورپی ممالک نے فیصلے کی مخالفت کرے ہوئے واضح طور پر کہا کہ ٹرمپ کا یہ قدم 'اقوام متحدہ کی سلامتی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان،سعودی عرب، فلسطین، اردن، مراکش،ترکی، مصر اور عرب لیگ کے علاوہ یورپی یونین اور امریکی محکمہ خارجہ کے کئی عہدیداروں

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں