Monday, 18 November, 2019
ظلم و تشدد کی لپیٹ میں آئے روہنگیا مسلمان

ظلم و تشدد کی لپیٹ میں آئے روہنگیا مسلمان
فائل فوٹو
تحریر: ضرغام عباس

 

ظلم، جبر، تشدد و بربریت کی لپیٹ میں آئے ہوئے روہنگیا مسلمان ملک (میانمار) کے بدھ مت قوم پرستوں کے ہاتھوں انسانیت سوز مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں، ہزاروں گھر راکھ کے ڈھیر میں بدل گئے ہیں اور لاکھوں افراد جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، محفوظ پناہ کی تلاش میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں، اس ظلم و بربریت کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ پوری دنیا بشمول اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں، اور مسلم ممالک کے حکمران اس المیے کے مقابل خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ 

روہنگیا مسلمانوں کی تاریخ کیا ہے، اس ظلم کا آغاز کب اور کیوں ہوا، عالمی رد عمل اور عالمی تنظیموں کا کیا کردار رہاہے اور اس کا راہ حل کیا ہے؟ 

میانمار- جغرافیہ:
میانمار ایک خود مختیار ریاست ہے جو جنوب مشرقی ایشیا کی سرحد بنگلہ دیش، بھارت، چین اور تھائی لینڈ کے ساتھ واقع ہے۔ میانمار کا دارالحکومت میپداو ہے اور اس کا سب سے بڑا شہر یانگون ہے۔

تاریخی پس منظر:
1937 سے قبل برما برصغیر کا حصہ تھا اور یہاں مسلمان اسلام کے اول دور میں آکر اباد ہوئے ۔ شروع میں آٹھویں صدی عیسوی میں عرب مسلمان تجارت کی غرض سے چین آئے اور چین سے برما پہنچے، یہاں آ کر کچھ خاندانوں نے مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ 1937 سے 1947 تک برما برطانوی حکومت کے زیر تسلط رہا، 4 جنوری 1948 سے برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور ایک آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آیا ۔1962 سے 2011 تک برما کا طرز حکومت فوجی جنتا رہا ہے اور حکومتی معاملات فوج کے زیر اثر ہوتے رھے۔

2012 میں جمہوری تبدیلیاں آئیں اور نومبر 2015 میں انتخابات ہوئے جس میں آنگ سان سوچی کو صدر منتخب کیا گیا ۔ 

سات صوبوں پر مشتمل برما کی کل آبادی 51 ملین ہے(2014 مردم شماری) جس میں 89 فیصد بدھ مت، 4 فیصد عیسائی، 4 فیصد مسلمان، 1 فیصد ہندو اور 2 فصد باقی اقوام اور مذاہب کے لوگ ہیں۔برما میں مسلمانوں کی سب سے ٰزیادہ آبادی راکھین (رخائین) میں آباد ہے ان کی تعداد آٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہے اور انہیں روہنگیا مسلمان کہا جاتا ہے۔ 

روہنگیا میانمارکے علاقہ اراکان اور بنگلہ دیش کے علاقہ چٹاگانگ میں بسنے والے مسلمانوں کا نام ہے۔ روہنگیا مسلمان انیسیوں صدی کے اوائل سے راکھین میں آباد ہیں۔

روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کی تاریخ :
برما کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھا جائے تو یہاں مسلمانوں پر ظلم و بربریت کی قیامتیں ٹوٹنے کے کئی واقعات ملتے ہیں، 1559ء میں مذہبی عقائد کی آڑ میں جانور ذبح کرنے پر پابندی لگا دی گئی حتیٰ کہ عید الاضحی پر بھی کسی مسلمان کو اجازت نہیں تھی کہ وہ کسی جانور پر چھری چلا سکے۔ 1782 ء میں بادشاہ "بودھاپایہ" نے پورے علاقے کے مسلمان علماء کو سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا اور انکار پر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 1938 کی جنگ آزادی میں برمی بودھ برطانوی فوج کی گولیوں سے بچنے کےلیے مسلمانوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے رہے ۔

برطانیہ ے آزادی کے بعد مسلمانوں کا پہلا قتل عام 1962 میں ہوا جب فوجی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلمانوں کق باغی قرار دے کر ان کے خلاف آپریشن شروع کردیا جو وقفہ وقفہ سے 1982تک جاری رہا اور اس میں کم و بیش ایک لاکھ مسلمان قتل ہوئے اور سات ، آٹھ لاکھ مسلمان بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی طرف ہجرت کر گئے۔

برما کی فوجی حکومت نے 1882 کے Citizenahip Law کے تحت روہنگیا نسل کے آتھ لاکھ مسلمانوں کو شہریت دینے سے انکار کر دیا اور ان مسلمانوں کو اپنے علاقوں سے باہر جانے پر بھی پابندی لگا دی۔

12 جولائی 2001 کو بدھوؤں نے ایک مسجد پر حملہ کر کے عبادت میں مصروف نمازیوں کو قتل کردیا اور اس فساد کے نتیجہ میں 11 مساجد شہید، 400 سے زائد گھروں کو نظر آتش اور کم و بیش 200 مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ 2011 میں جب طالبان نے بامیان(افغانستان کا شہر) میں مہاتما بدھ کے مجسموں کو نشانہ بنایا تو اس وقت بھی رونگیا مسلمانوں پر حملے کی خبریں آتی رہیں اور بدھ بھکشوؤں کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ برمی حکومت کو اس کے ردعمل میں برما میں موجود تمام مساجد کو ڈھا دینا چاہیے۔

3 جون 2012 کو بدھ بھکشوؤں نے زائرین کی ایک بس روکی اور اس میں عمرہ کی ادائیگی سے واپس آنے والے 10 افراد کو قتل کر دیا، ساتھ بس کو بھی نزر آتش کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی مسلم اکثریتی علاقوں پہ دھاوا بول دیا گیا، گھروں کو آگ لگا دی گئی اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی اس پر قتل عام پر واویلا کیا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ 

مقامی حکومت نے صحافیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی اور اس سارے واقعے کو جھٹلا کر حیلے بہانے کیے جاتے رہے مگر اگست 2012 میں برطانوی ٹی وی چینل "چینل فور" نے ایک رپورٹ نشر کی جس میں دکھایا گیا کہ کس طرح مسلمان، کیمپوں میں جانوروں کی طرح زندفی گزار رہے ہیں۔

رپورٹ میں تقریباً 10 ہزار مکانات کا ملبہ بھی دکھایا گیا جس پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے اپنی رپورٹ جاری کی جس کے مطابق تشدد کی اس لہر میں 80،000 مسلمان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ 

2012 میں ہی عیدالاضحٰی کے موقع پر جانوروں کے ذبح کرنے پر پابندی لگائی گئی جس کے نتیجہ میں عید کے روز ہونے والے فسادات میں 50 مسلمان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس سارے قتل و غارت میں عالمی برادری کی طرف سے کوئی خاطر خواہ رد عمل نہ آیا اور نہ ہی روہنگیا مسلمانوں کے پرسکون مستقبل کےلیے کوئی راہ حل نکالا گیا ۔ 

میانمار کے صدر نے جولائی 2012 میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ " اس سارے مسئلہ کا حل صرف اسی میں ہے کہ مسلمانوں کو یا تو ملک بدر کیا جائے یا انہیں مہاجر کیمپوں میں منتقل کیا جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ نے حکومت سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا مگر برما کی حکومت ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیتی رہی۔ پھر کچھ عرصہ کےلیے ان فسادات میں ٹھہراؤ آگیا لیکن بعد میں ثابت ہوا یہ ٹھہراؤ عارضی تھا اور ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ۔ 

ظلم و بربریت کی نئی لہر:
2012 میں برما میں پولیٹیکل ریفارمز آئیں، فوجی حکومت کا خاتمہ ہوا اور جمہوری دور کا آغاز ہوا ۔اس فوجی حکومت کے خاتمہ پر میانمار کی موجودہ صدر "سوچی" کو امن کا نوبل انعام دیا گیا۔ لیکن بدقسمتی سے میانمار میں یہ سیاسی تبدیلی بھی روہنگیا مسلمانوں کےلیے بے رحم ثابت ہوئی اور ان مسمانوں پر ظلم و تشدد جاری رہا۔ 

حکومت کا موقف تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کو یا تو ملک بدر کیا جائے یا انہیں مہاجر کیمپوں میں منتقل کیا جائے۔2012 تک یہ ظلم و بربریت اراکان تک محدود تھی لیکن اس کے بعد 2013 میں مزید صوبوں میں پھیلنا شروع ہوئی، اراکان کے علاوہ دو صوبوں میں ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔

ایک رپورٹ کے مطابق 2016 تک ایک لاکھ روینگیا مختلف ممالک میں ہجرت کر گئے جس میں آسٹریلیا، ملائیشیا، اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔

25 اگست 2017 سے 30 اگست 2017 تک ظلم و تشدد کی ایک نئی لہر کا آغاز ہوا جس میں تقریباً 100 کلومیٹر تک کی پٹی میں آگ لگائی گئی جس سے 1500 مکانات راکھ کا ڈھیر بن گئے اور تقریبا" 1400 مسلمان لقمہ اجل بن گئے۔ 

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق تقریباً 700 مکانات کو آگ لگائی گئی۔ اس سارے ظلم میں بدھ بکشوؤں کے ساتھ ساتھ میانمار کی پولیس اور فوج بھی شریک کار رہی، علاقے میں کرفیو نافذ کیا گیا اور صحافیوں اور عالمی تنظیموں کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔

عالمی رد عمل اور کردار:
بنگلہ دیش : روہنگیا مسلمانوں کی نزدیک ترین مملکت بنگلہ دیش ہے، جولائی 2017 میں تقریبا" 73،000 روہنگیا مسلمان اراکان سے نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں پر آ مقیم ہوئے، بنگلہ دیش اب تک تقریبا" 3 لاکھ پناہ گزینوں کو لے چکا ہے اور مزید پناہ گزین لینے سے انکاری ہے۔ بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کےلیے اب تک اسے کوئی مالی امداد نہیں دی گئی۔

سعودی عرب: سعودی حکومت اور او آئی سی کی جانب سے مزمتی بیان جاری کیا گیا اس مسئلہ کے راہ حل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ 

ترکی: ترکی کی حکومت گزشتہ 5 سال سے تقریبا" 70 ملین ڈالرز کی امداد دے چکا ہے اور ترک صدر رجب اردگان کا بیان آیا ہے کہ اگر بنگلہ دیش روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دیتا ہے تو اس کے تمام اخراجات ترکی برداشت کرے گا۔

پاکستان: پاکستان میں تقریباً 2 لاکھ روہنگیا مسلمان کراچی میں آباد ہیں لیکن ان کو پاکستان کی شہریت حاصل نہیں ہے، موجودہ حالات میں دفتر خارجہ کی طرف سے مذمتی بیان جاری کیا گیا ہے اور قومی اسمبلی میں بھی قرار داد مذمت منظور کی گئی لیکن روہنگیا مسلمانوں کے پرسکون اور روشن مستقبل کےلیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ مختلف مذہبی تنظیموں کی طرف سے آج جمعہ کے بعد احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں۔

ایران: ایران کے وزیر خارجہ نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کرے، جبکہ ایران کے سپریم لیڈر اور ولی امر مسلمین آیت اللہ علی خامنہ ای نے عالمی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ روہنگیا کی مظلوم عوام کےلیے اقدام کرے۔

راہ حل: 
میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات کا مستقبل قریب میں کوئی آسان حل نظر نہیں آ رہا ، بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ہاں تعلیم کی کمی ہے، سیاسی وابستگی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مستقبل بین قیادت ہے جو خود روہنگیا مسلمانوں کو اس ظلم سے نکال سکے، باہر سے کچھ نام نہاد جہادی تنظیموں جزباتی تقریروں اور نعروں کے ذریعے ان کو اشتعال میں لاتی ہیں اور اس کے رد عمل میں مخالفین گروہ اور ریاستی جبر کے اشتراک سے ان کے آلام و مصائب میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ 

ضرورت اس بات کی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ جلد از جلد حل ہونا چاہیے، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ میانمار کی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دیں اور انہیں اپنا شہری تسلیم کریں، کیونکہ عالمی قوانین کے مطابق ایک لمبے عرصہ سے مقیم روہنگیا مسلمان میانمار کےشہریت کے حامل ہوسکتے ہیں۔ 

OIC اور اسلامی ملک کو سفارتی سطح پر احتجاج کرنا چاہیے اور میانمار کی حکومت کو روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد کو بند کرنے اور ان کو شہریت دینے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

چین واحد ملک ہے جو میانمار کی پالیسیوں پر صیحیح طور پر اثر انداز ہوسکتا ہے، لہذا پاکستان چین سے اس معاملے میں بات کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جو پناہ گزین بنگلہ دیش، پاکستان یا دوسرے ممالک میں ہے ان کے بہتر مستقبل کےلیے تمام مسلم ممالک کو مل کر کردار ادا کرنا چاہیے۔

خدا کا وعدہ ہے کہ وہ مظلوم کو ظالم پر ایک دن غلبہ عطا کرے گا، روہنگیا کو ان کا حق مل کر رہے گا لیکن اس کے لیے صیحیح راہ و راہنما کا انتخاب ضروری ہے کیونکہ غلط راستہ پر چل کر سینکڑوں سال کے سفر سے بھی منزل حاصل نہیں کی جاسکتی۔ پروردگار عالم سے دعا ہے کہ وہ مظلومینِ روہنگیا و بالخصوص مظلومین جہاں کو ظالم کے چنگل سے آزاد فرمائے اور ظالم کو بشمول اس کے ظلم کے نیست و نابود فرمائے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  87635
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
چند روز قبل ( ن) لیگ کی ریلی جس وقت اسلام آباد سے راولپنڈی کا سفر طے کررہی تھی اس دوران چند ٹی وی چینلوں کے رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کوریلی میں شریک لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا، عام فہم زبان میں یوں
بلی تھیلے سے باہر آنے کے بعد بٹ بٹ دیکھ رہی ہے اور اپنے آقاؤں کو ڈھونڈ رہی ہے کیونکہ سابق وزیراعظم گیلانی کی بااختیار اور رعب دارپرنسپل سیکریٹری نرگس سیٹھی کے دستخط سے جاری کیا گیا خط منظر عام پر اگیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں