Wednesday, 17 October, 2018
سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی اور امریکی ردعمل

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی اور امریکی ردعمل
تحریر: ثاقب اکبر

 

سعودی عرب کے معروف صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو شادی کی دستاویزات لینے کے لئے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں گئے اور ترکی کی پولیس کے مطابق وہ وہاں سے باہر نہیں نکلے۔ استنبول میں حکام کا کہنا ہے کہ سفارتخانے کی چار دیواری میں انہیں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔ دوسری طرف سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ صحافی خاشقجی سفارتخانے سے نکل گئے تھے۔ خاشقجی کی ترک منگیتر خدیجہ چنگیز کا کہنا ہے کہ انہوں نے 11 گھنٹے تک قونصل خانے کے باہر جمال کا انتظار کیا لیکن وہ باہر نہیں نکلے۔ جمال خاشقجی سعودی شاہی خاندان کے بہت قریب رہے ہیں۔ 2012ء میں انہیں سعودی عرب کی پشت پناہی میں چلنے والے العرب نیوز چینل کی سربراہی کے لئے منتخب کیا گیا۔ اس چینل کو قطری نیوز چینل الجزیرہ کا حریف کہا جاتا ہے، لیکن بحرین میں قائم کیا جانے والا نیوز چینل 2015ء میں اپنے آغاز کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی بحرین میں حزب اختلاف کے ایک معروف رہنما کو مدعو کرنے کے سبب بند کر دیا گیا۔

2017ء کے موسم گرما میں وہ سعودی عرب کو چھوڑ کر امریکہ منتقل ہوگئے تھے۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کے اپنے پہلے کالم میں لکھا کہ کئی دوسرے لوگوں کے ساتھ انہوں نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کی ہے، کیونکہ انہیں گرفتار کئے جانے کا خوف ہے۔ یہ وہی دور تھا کہ جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر سعودی عرب نے دھڑا دھڑ گرفتاریاں کی جا رہی تھیں، ان میں شاہی خاندان کے بہت سے شہزادے بلکہ شہزادیاں بھی شامل تھیں۔ علماء، اساتذہ اور صحافیوں کی ایک بڑی کھیپ بھی دھر لی گئی تھی۔ جمال خاشقجی تو بہت سی حکومتی پالیسیوں کو ناپسند کرتے تھے اور اس سلسلے میں انہیں بھی ناقدین میں سمجھا جاتا تھا۔ ایسے میں انہوں نے اگر خود ساختہ جلاوطنی کا فیصلہ کیا تو وہ قابل فہم ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ درجنوں افراد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں بظاہر مخالفین پر کریک ڈاﺅن کے نتیجے میں حراست میں لئے گئے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان ملک میں اقتصادی اور سماجی اصلاح کے اپنے ویژن پر کاربند ہیں اور اس راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ہٹا دینا چاہتے ہیں۔
 
جمال نے اپنے مذکورہ کالم میں سعودی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے عربی اخبار ”الحیات“ میں ان کا کالم بند کروا دیا اور انہیں اپنے 18 لاکھ ٹوئٹر فالوورز کے لئے ٹویٹ کرنے سے اس وقت روک دیا گیا، جب انہوں نے 2016ء کے اواخر میں اپنے ملک کو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ”والہانہ طور پر گلے لگانے“ کے جذبے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ انہوں نے لکھا: میں نے اپنا گھر، اپنی فیملی، اپنا کام سب چھوڑا اور میں اپنی آواز بلند کر رہا ہوں۔ اس کے برخلاف کام کرنا ان لوگوں کے ساتھ غداری ہوگی، جو جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں بول سکتا ہوں جبکہ بہت سے لوگ بول بھی نہیں سکتے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ ہم سعودی شہری اس سے بہتر کے حقدار ہیں۔ کالم میں یمن پر سعودی عرب کے حملے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اپنی تحریروں میں انہوں نے سعودی حکومت پر کریک ڈاﺅن میں اصل انتہا پسندوں کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا اور ولی عہد محمد بن سلمان کا روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے موازنہ کیا۔ ان کا آخری کالم 11 ستمبر کو شائع ہوا تھا اور 5 اکتوبر 2018ء بروز جمعہ کو اخبار نے ان کی گمشدگی کو اجاگر کرنے کے لئے ایک خالی کالم کی اشاعت کی ہے۔

امریکہ کی ریپلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر لینزی گریم نے سعودی نژاد امریکی شہری اور صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب کا ہاتھ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی، معاشی بھی اور دوسری بھی۔ چند روز اس معاملے پر خاموش رہنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی خاموشی توڑتے ہوئے جمال خاشقجی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاﺅس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے اس مسئلے پر تشویش ہے، میں اس بارے میں کوئی بری خبر نہیں سننا چاہتا، امید ہے صورت حال جلد واضح ہو جائے گی۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکی صدر ابھی انتظار میں ہیں کہ صورت حال مزید واضح ہو جائے، تاکہ وہ سعودی عرب پر زیادہ دباﺅ ڈال سکیں۔

جیسا کہ ہم نے اس سے قبل اپنے ایک کالم ”ٹرمپ دودھ ختم ہونے کے بعد گائے کا کیا کریں گے“ میں واضح کیا تھا کہ امریکی مختلف حیلوں بہانوں سے سعودی عرب سے پیسہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے لئے ان کے پاس دیگر موضوعات کے علاوہ 9/11 کے واقعے میں سعودی شہریوں کی شرکت ہے۔ یہ مقدمہ تیار ہے اور اس کے ذریعے امریکہ کئی سو ارب ڈالر سعودی عرب سے نکالنا چاہتا ہے۔ سعودی صحافی کے حوالے سے بھی امریکی سینیٹر نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب کا ہاتھ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی، معاشی بھی اور دوسری بھی۔ امریکہ ایسے واقعات کو اکٹھا کرتا رہے گا، تاکہ ان کے ذریعے سے سعودی عرب سے زیادہ سے زیادہ مفادات حاصل کرسکے۔ سعودی عرب کو نچوڑنے کے لئے امریکی صدر اپنے صدارتی انتخاب سے پہلے سے لے کر حالیہ دنوں تک جو کچھ کہہ چکے ہیں، وہ ان کے دل میں چھپے ارادوں کو جاننے کے لئے کافی ہونا چاہیئے۔

نومبر 2014ء میں انہوں نے کہا تھا کہ سعودی ایسے ڈرپوک ہیں کہ جن کے پاس پیسہ تو ہے شجاعت نہیں۔ مئی 2015ء میں انہوں نے سعودیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم نے دنیا کے مختلف ملکوں میں جو دہشتگرد بنائے ہیں اور ان سے تقاضا کیا ہے کہ وہ جہالت، درندگی، انسانوں کے سروں کو کاٹنے اور انسانوں کی زندگی کو تباہ کرنے کے سلسلے کو رواج دیں، ان کے بارے میں یہ گمان نہ کرنا کہ وہ تمھاری حمایت کریں گے اور وہ تمھارے ساتھ رہیں گے، وہ پوری دنیا سے سمیٹ کر آخر تمھارے پاس پہنچیں گے اور تمھارے اوپر مسلط ہو جائیں گے اور تمھیں ہی چبا جائیں گے۔ انہوں نے اگست 2015ء میں کہا تھا کہ ہم پسند کریں یا نہ کریں، ہمارے درمیان جو لوگ سعودی عرب کی حمایت کرنا چاہتے ہیں، میں ان کے مخالف نہیں ہوں، لیکن ہم نے سعودی عرب کی حمایت میں بہت مخارج برداشت کئے ہیں، جبکہ اس کے بدلے میں ہم نے اس سے کچھ نہیں لیا۔ انہیں یہ مخارج ادا کرنا چاہئیں۔ اب اگر ٹرمپ کے تازہ ترین بیانات کو سامنے رکھا جائے، جن میں انہوں نے شاہ سلمان کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ شاید تم اپنے ہوائی جہازوں کی حفاظت بھی نہیں کرسکتے، لیکن اگر ہمارے ساتھ رہو گے تو پرسکون رہو گے، البتہ اس کے بدلے میں ہمیں جو کچھ ملنا چاہیے تھا نہیں مل رہا۔
 
ان تمام بیانات اور واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ دن بدن سعودی عرب سے اس کے وسائل لوٹنے کے لئے گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یقینی طور پر امریکہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے واقعے سے بھی اپنے استعماری مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ترکی کے اندر اس کے لئے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ابھی تک یہ بات واضح ہوئی ہے کہ سعودی قونصل خانے سے گاڑیاں تو آتی جاتی رہی ہیں، لیکن سعودی صحافی پیدل باہر نکلتے دکھائی نہیں دیئے، جبکہ انہیں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر اس سلسلے میں کوئی نئے حقائق سامنے نہ آئے تو ترک حکام کی اس رائے کو تقویت پہنچے گی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو قتل کر دیا گیا ہے۔
 
اس اندیشے کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ سعودی عرب اس سے پہلے بھی ایسے بہت سے کام کرچکا ہے۔ بیرون ملک سے منحرف شہزادوں کو سعودی عرب واپس لا کر قتل کیا جا چکا ہے۔ ملک سے باہر بھی حکومت مخالف سعودیوں کے قتل کے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ خود ترکی کے اس وقت امریکہ سے کچھ ایسے تعلقات نہیں ہیں کہ وہ اس واقعے پر پردہ ڈالنے کے لئے سعودی عرب کی حمایت کرے۔ ترک حکومت بھی اپنا دامن بچانے کی کوشش کرے گی۔ ایسے میں نتائج جو کچھ بھی نکلیں گے، ان کا سامنا سعودی حکومت کو تنہا ہی کرنا پڑے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے نزدیک سعودی عرب کی نہ تو کوئی عزت ہے اور نہ خادم الحرمین شریفین کا احترام، وہ سعودی عرب کو ایک دودھ دینے والی گائے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، رحم کی کوئی نظر اس پر نہیں ڈالتے۔ گائے کے ان کے نزدیک دو ہی فائدے ہیں، جیسے کہ وہ متعدد مواقع پر بیان کر چکے ہیں۔ بشکریہ اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  93885
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی عرب کے نامور عالم دین اور مشہور مبلغ شیخ سلمان عودہ کو حراست میں لئے آج ایک سال مکمل ہوگیا۔ شیخ عودہ کے بعد گرفتاریوں کا یہ سلسلہ تسلسل سے جاری ہے۔ گزشتہ ماہ امام حرم شیخ صالح کو حق گوئی کی پاداش میں پسِ زندان دھکیلا گیا۔
کئی روز سے پاکستان کا میڈیا بیلوں، اونٹوں، دنبوں اور بکروں کی طرح طرح کی ویڈیوز اورتصویریں دکھا رہا ہے۔ بیلوں نے کیسے کیسے اپنے خریداروں پر جمپ مارے، کیسے کیسے رسیاں تڑوا کر بھاگے اور خریداروں کو روندتے ہوئے ہوش ربا منظر بناتے چلے گئے
قبل ازیں ہم نو منتخب وزیراعظم عمران خان کی 26جولائی 2018ء کی وکٹری سپیچ کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کر چکے ہیں۔ ہم نے خاص طور پر وکٹری سپیچ میں خارجہ امور کے جن خطوط کا ذکر کیا گیا انھیں اپنا موضوع سخن بنایا تھا۔ اس سپیچ کے بعد
سعودی عرب اس وقت کئی مسائل کا شکار ہے۔ عرب وعجم جنگ، علاقائی بالادستی ، ہمسایہ ملکوں سے خراب تعلقات ہوں یا تیل کی کم ہوتی عالمی قیمتیں, ان سب مسائل نے سعودی عرب کے مفادات کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
لندن کی وارک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دنیا میں القاعدہ کو کبھی بھی پاکستان کی مددکے بغیر شکست نہیں ہوسکتی تھی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دنیا کو پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں لگائے گئے بجلی کے تمام منصوبوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے جب کہ 2 منصوبے کے آڈٹ کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے
بین الاقوامی برادری میں یہ تاثر عام ہے کہ بھارتی قیادت علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے زعم میں یوں مبتلا ہو چکی ہے کہ اس پر کسی نفسیاتی غلبہ اور سیاسی و سفارتی عارضہ کا گمان ہوتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے دور حکومت میں نیپال، بنگلہ دیش
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کے شمالی علاقے ٹریب میں سیلاب کے باعث 13 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں محض چند گھنٹوں کے دوران اتنی بارش ہوئی جو عام طورپر3 ماہ سے زائد

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں