Friday, 23 August, 2019
’’پیر شاہ جیونہ‘‘ کی تین روزہ سالانہ عُرس تقریبات کا آغاز

’’پیر شاہ جیونہ‘‘ کی تین روزہ سالانہ عُرس تقریبات کا آغاز
تحریر: ڈاکٹر سید قلب نواز

 

حضرت سید محبوب عالم المعروف حضرت پیر شاہ جیونہ کروڑیہ کے 459 سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کا آغازبدھ کے روز سے دربار عالیہ حضرت شاہ جیونہ تحصیل و ضلع جھنگ میں شروع ہو گئیں جبکہ حضرت شاہ جیونہ کے دربار پر ان کے پوتے پیر لدھن امام شاہ کے 459 ویں عرس کی رسومات چار مئی سے شروع ہو چکی ہیں جو کہ  رسم چراغ کی ادائیگی کے بعد اختتام پذیر ہو جائیں گی۔

حضرت شاہ جیونہ کا اصل نام پیر محبوب عالم شاہ تھا۔ آپ کے جد امجد مخدوم شیر شاہ جلال الدین شاہ بخاری خاندان غلاماں کے دور میں بخارہ سے برصغیر تشریف لائے اور یہاں اسلام کی تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا۔آپ کے والد سید صدر الدین شاہ بخاری جید عالم تھے جن کا شمار سکندر لودھی کے مشاہیر میں ہوتا تھا اور انھی کے حکم پیر محبوب عالم جھنگ منتقل ہوئے اور یہیں مدفون ہوئے۔ان کی وفات کے بعد آنے والی نسلوں نے دعوتِ اسلام کا کام جاری رکھا اور دین کے لیے ان بزرگوں کی خدمات کے اعتراف میں ہر سال اس جگہ میلہ لگایا جاتا ہے۔دس سے بارہ مئی تک جاری رہنے والے اس تین روزہ میلے میں ملک بھر سے زائرین شرکت کرتے ہیں جسے اپنی رسومات کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل ہے۔

دربار کی روایات کے مطابق عرس کی تقریبات سے قبل سات روز تک سجادہ نشین دربار پر رسم کڑی کی ادائیگی کے دوران عبادت الہی میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ رسم حجرے میں بند ہو کر ادا کی جاتی ہے اور اس دوران گدی نشین کسی بھی شخص سے کوئی بات چیت نہیں کرتے ہیں۔

رسم کڑی شاہ جیونہ خاندان کی شناخت ہے جو ان کے علاوہ کوئی اور ادا نہیں کر سکتا تاہم اس مرتبہ دربار کے گدی نشین مخدوم سید فیصل صالح حیات تین مئی کو پیش آنے والے ٹریفک حادثے میں زخمی ہونے کے باعث عرُس شاہ جیونہ کی رسومات میں شریک نہیں ہیں۔      

مخدوم سید فیصل صالح حیات کے پر سنل سیکرٹری غلام محمد نے ٹیلی فونک رابطہ کرنے پر مبصر ڈاٹ کام کو بتا یا کہ جو رسومات مخدوم فیصل صالح حیات نے ادا کر نی تھیں وہ رسومات کسی نے ادا نہیں کی ہیں لیکن رسم چراغ آج شام دربار کے گدی نشین مخدوم سید فیصل صالح حیات کے صاحبزادے مخدوم زادہ سید خضر حیات شام 7بجے ادا کریں گے اور اس موقع پر ان کے چچا مخدوم سید اسد حیات ان کے ہمراہ ہو نگے۔

میلہ شاہ جیونہ کی روایتی رسومات میں کڑی کی رسم:
عرس کی تقریبات سے قبل سات روز تک سجادہ نشین دربار پر رسم کڑی ادا کرتے ہیں اور عبادت الہی میں مشغول رہتے ہیں۔یہ رسم حجرے میں بند ہو کر ادا کی جاتی ہے اور اس دوران گدی نشین کسی بھی شخص سے کوئی بات چیت نہیں کرتے۔

رسمِ چراغ:
میلے کا آغاز دس مئی کو مغرب کی اذان کے وقت دربار کے گدی نشین چراغ کی رسم ادا کر کے کرتے ہیں۔چراغ جلانے کے لیے دیسی گھی کا استعمال کیا جاتا ہے اور پھر اسے ڈولی میں رکھ کر دربار کے احاطے میں موجود ایک سو بیس فٹ بلند بانس تک لے جایا جاتا ہے۔اس موقع پر مکمل خاموشی چھائی رہتی ہے اور جب چراغ اپنی منزل پر پہنچ جائے تو زبردست آتش بازی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جبکہ رسم کی تکمیل پر دربار کے ملنگ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے ہیں۔

چراغ سے منسوب روایت:
مریدین میں روایت مشہور ہے کہ اگر چراغ بلندی پر بغیر بجھے چڑھ جائے تو میلہ کا آغاز ہو جاتا ہے لیکن اگر چراغ درمیان میں ہی بجھ جائے تو میلہ روک دیا جاتا ہے اور دربار کا گدی نشین انتقال کر جاتا ہے۔اس حوالے سے پیر سید مخدوم غوث محمد خضر کا ذکر کیا جاتا ہے جو 1988ء میں دربار کے گدی نشین تھے تو چراغ درمیان میں ہی بجھ گیا اور اس کے اگلے روز ہی ان کا انتقال ہوگیا جس کے بعد میلہ منسوخ کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ رسمِ چراغ ادا کرنے سے پہلے خصوصی دعا مانگی جاتی ہے۔

رسم چکی چونگ:
یہ رسم حضرت شاہ جیونہ کے بیٹے حضرت شیخ حبیب اللہ سے منسوب ہے جو ہر وقت سورۃ المزمل کا ورد کرتے رہتے تھے اور اسی وجہ سے انھیں شاہ کروڑیہ بھی کہا جاتا ہے۔شاہ کروڑیہ سنت نبوی کے مطابق خود چکی پیسا کرتے تھے اور آج بھی چکی چونگ کے نام سے یہ رسم دربار کی روایات میں شامل ہے اور میلہ کے دوران سجادہ نشین خود لنگر کے لیے چکی پیس کر آٹا بناتے ہیں۔

لنگر کی تقسیم:
حضرت شاہ جیونہ کے پوتے پیر لدھن امام شاہ بہت بڑے سخی بزرگ تھے جو ہر خاص و عام کو اپنے ہاتھ سے کھانا دیا کرتے تھے اور یہ لنگر چوبیس گھنٹے جاری رہتا تھا جس میں مریدین شوق اور عقیدت سے شرکت کرتے تھے۔آج بھی میلے کے دوران پیر لدھن امام شاہ کی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے گدی نشین اپنے ہاتھ سے عام لوگوں میں لنگر تقسیم کرتے ہیں۔عرس مبارک کا اختتام ختم شریف کے بعد ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

’’پیر شاہ جیونہ‘‘ کی تین روزہ سالانہ عُرس تقریبات کا آغاز
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  57385
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
شہید بینظیربھٹو ہیومن رائٹس سینٹر فار وومن سے گزشتہ 10 سال کے دوران 43سوسے زائد خواتین نے رابطہ کیا اور 3707 خواتین کو گھریلو تشدد،جسمانی ہراساں کرنے، پراپرٹی میں حصہ نہ دینے کی شکایات پرریلیف
حکومتِ پاکستان نے ایک بریگیڈ فوج سعودی عرب بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک بہت بڑی اور غیر متوقع پیش رفت ہے ۔ خاموشی سے ہونے والی بات چیت کے بعد اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر ایک تجویز ریاض سے موصول ہو گئی ہے۔
نظریہ حرکت اور انسانی منفعت فکر اقبال کے دو بنیادی اصول ہیں ۔علامہ اقبال کہتے ہیں کہ جو شے حرکت نہیں کرتی وہ کچلی جاتی ہے اسی طرح جو بھی چیز انسانی منفعت سے متصادم ہے خواہ مذہب ہی کیوں نہ ہو ختم ہو جاتا ہے۔
خواتین کے حقوق کو سمجھنے سے پہلے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ دور جدید میں ہم خواتین کے حقوق کو کس تناظر میں دیکھنا چاہتے ہیں، حقوق نسواں کے حوالے سے دنیا بھر میں 8 مارچ کو "خواتین کا عالمی دن" بھی منایا جاتا ہے، پہلے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں

مقبول ترین
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا دعوے کررہا ہے کہ افغانستان سے کچھ دہشت گرد مقبوضہ وادی میں داخل ہوئے ہیں، بھارتی دعویٰ ہے کہ دہشت گرد جنوبی علاقوں میں بھی داخل ہوئے ہیں
وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ بھارت سے مزید بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ اس کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر
ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان آرمی کے زبردست سپہ سالار ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ اس حوالے سے پاکستان کے دیرینہ دوست
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سفاک مودی سرکار تمام انسانی و بین الاقوامی قوانین و ضوابط روند رہی ہے اور کشمیریوں کو نشانہ ستم بنانے کی تیاریوں میں ہے۔ میڈیا کے مطابق تحریک انصاف نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے اور اہل کشمیر

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں