Wednesday, 22 August, 2018
نرسنگ ایک معزز پیشہ

نرسنگ ایک معزز پیشہ
ہمایون خان ... بٹخیلہ

 

نرسنگ ایک نہایت معزز پیشہ ہے ۔ نرسنگ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانیت کی۔ ہر سال 12 مئی کو نرسز کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد مریضوں کی بے لوث خدمت کرنے والے نرسز کوخراج تحسین پیش کرنا ہے۔  نرسنگ کا شعبہ ہر دور میں دکھی انسانیت کی ہمہ وقت خدمت کے لئے وجود میں آیا۔ اسلام میںبھی نرسنگ کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ رفیدہ بنت سعد کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی کہ وہ  مسجد نبوی کے باہر خیمہ قائم کرے اور مریضوں کی تیمارداری کے ساتھ ساتھ مسلمان لڑ کیوں کی تربیت بھی کرے- رفیدہ بنت سعد کے والد طب کے شعبے سے وابستہ تھے، جن سے انہوں نے تربیت حاصل کی- رفیدہ بنت سعد  نے دوسری مسلمان خواتین کے ساتھ مل کر کئی غزوات میں شرکت کی اور مریضوں کی تیمار داری کی۔ غزوہ خندق میں رفیدہ بنت سعد نے  سعد بن معاذ (رض) کے جسم سے تیر نکالا تھا جن کو رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کے خیمے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ آپ  نے خود بھی  دن میں کئی مرتبہ حضرت سعد کی عیادت کی تھی۔

شروع شروع میں نرسنگ کی کوئی خاص  تربیت کا نظام نہیں تھا لیکن آج کل دنیا میں نرسنگ میں چار سالہ ڈگری،ایم ایس ، ایم فل، پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈائرکٹریٹ کے لوگ موجود ہیں۔ نرسنگ کو موجودہ مقام دلانے  میں فلورنس نائٹ انگیل کا نام نمایاں ہیں۔ فلورنس  نے کریمن وار میں زخمی فوجیوں کی ہمہ وقت تیمار داری اور خدمت کر کے نرسنگ کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ آپ رات کو لالٹین لے لے کر زخمی فوجیوں کی خدمت کرتی تھی جس کی وجہ سے آپ کا نام  لیڈی ود لیمپ پڑ گیا۔

 1860 میں  فلورنس نے  لندن میں دنیا کی پہلی نرسنگ سکول کی بنیاد رکھی۔ ان کی دیکھا دیکھی باقی دنیا میں بھی کئی سکول کھل گئے۔ بر صغیر پاک و ہند میں کام کرنے کے لئے برطانیہ سے نرسز کو نوکری دی جاتی تھی۔1871 میں   بر صغیر میں پہلی نرسنگ سکول مدراس میں قائم ہوئی۔ان سکولوں میں صرف ہندؤوں اور مسیحی لڑکیوں کو داخلہ ملتا تھا۔ انگریز نرسز مسلمان لڑکیوں کو داخلہ نہیں دیتے تھے۔تقسیم ہند کے بعد برطانوی نرسز اپنے وطن کو واپس چلی گئی اور زیادہ تر نرسز ہندوستان میں ہی رہ گئی۔ 

تقسیم ہند کے بعدپاکستان میں صرف 500 نرسز تھی۔ مادر ملت فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کی اپیل پر ان نرسز کی قیادت میں خواتین نے پاکستان آنے والے مہاجرین کی خدمت کی۔بیگم رعنا لیاقت علی خان نے پاکستانی لڑکیوں سے اپیل کی کہ پاکستان میں موجود تین نرسنگ سکولز میں داخلہ لیں اورقوم کی خدمت لئے  تیار ہوجائیں۔بیگم رعنا نے 28 نرسز کو برطانیہ تربیت کے لئے بھیجا-1948 میں پاکستان میں سنٹرل نرسنگ کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا جو بعد میں پاکستان نرسنگ کونسل میں تبدیل ہو گیا- نرسنگ پاکستان میں بھی ترقی کرتا گیا اور یہاں ڈگری  پروگرام بھی متعارف کرائے گئے۔آج الحمد للہ پاکستان میں ڈپلومہ کے ساتھ ساتھ ڈگری پروگرام بھی چل رہا  ہے اور کئی لوگ ایم فل اور پی ایچ ڈی کر کے انسانیت کی خدمت  پاکستان میں  اور ساری  دنیا  میں زیادہ بہتر انداز سے کر رہے ہیں۔

پاکستان میں ڈپلومہ کے بعد کئی شعبوں میں سپیشلائزیشن کے پروگرامز بھی رائج ہیں  جن میں کارڈیک، چائلڈ، انستھیزیا، آپریشن تھیٹر، کمیونٹی ہیلتھ، سائکاٹری نرسنگ، ایمرجنسی، ڈیزاسٹرمنیجمنٹ  وغیرہ قابل ذکر ہیں۔پاکستانی نرسز  نرسنگ کے ساتھ ساتھ پبلک ہیلتھ، ہاسپٹل منیجمنٹ ، ہ اور میڈیکل ریسرچ میں اعلی تعلیم حاصل کر کے  مختلف جگہوں پر اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہوئے ہیں۔ان میں دو زندہ مثالیں  بیگم بلقیس ایدھی  اور میجر جنرل۔۔۔۔۔ ہیں۔ لڑکوں کے اس شعبے میں آنے کے بعد  یہ شعبہ زیادہ مضبوط ہو رہا ہے۔ -پاکستانی نرسز مختلف عہدوں پر کامیابی سے کام کر رہی ہیں جو کہ پہلے صرف ڈاکٹرز کے لئے مختص تھیں۔ نرسنگ کے شعبے کی کارکر دگی کو جانچنے کے لئے مختلف سائنسی جائزے استعمال ہو رہے ہیں  جن سے ان کی کار کردگی  ار مریضوں کی دیکھ بھال میں مسلسل بہتری آرہی ہیں۔


مریض کی زندگی کی پہلی سانس سے لے کر آخری دم تک نرسز کا کردار نہایت اہم ہے۔ نرسز نہایت  ہی نا گفتہ با حالات میں بھی  مریضوں کی خدمت نہایت جانفشانی سے کر رہے ہیں جن کا اقرار کئی پاکستانی لیڈر بہت مواقع پر کر چکے ہیں۔ پاکستانی نرسز کو  جدید دنیا  کے ہم پلہ رہنے کے لئے  اپنے آپ کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔نرسز کو دور جدید کے علوم کو حاصل کر کے مریضوں کی بہتری کے لئے استعمال کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں نرس ایجوکیٹر کا کردار مرکزی ہے تاکہ وہ آنے والے طالب علموں کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق  تیار کریں۔

پاکستان میں نرسنگ کے شعبےکو کئی مسائل کا سامنا ہے جن میں مرکزی مسئلہ محکمہ صحت کو ان کی تعداد کی کمی کا ہے۔پاکستان میں تقریبا ایک لاکھ کے قریب رجسٹرڈ نرسز ہیں جو کہ  نہایت کم ہے۔عالمی ادارصحت کے مطابق  پاکستان ان 57 ممالک میں شامل ہیں جن کو نرسز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ یہ صورت حال سند ھ میں شدید، بلوچستان اور پنجاب میں خراب  جبکہ خیبر پختونخواہ میں نسبتا بہتر ہیں۔پاکستان میں نرسز کے ترقی کے مواقع نہایت کم ملتے ہیں نرسز کو اپنا  ڈگری مکمل کرنے کے بعد 16 سکیل دیا جاتا ہے۔ جبکہ ہیلتھ کے بقیہ ڈگری مکمل کرنے پر 17 سکیل مل جاتا ہے جیسا کہ فزیو تھیراپی، فارمیسی، انستھیزیا وغیرہ۔  نرسز کو عام طور پر   کئی کئی سال ترقی کے مواقع نہیں ملتے ۔صرف چند ایک کو بڑی مشکل سےپروموشن ملتی ہے۔نرسنگ کے کئی عہدوں پر غیر متعلقہ لوگ براجمان ہے جن کی مثال پاکستان نرسنگ کونسل کی رجسٹرار ہے جو کہ ڈاکٹر ہے۔ 

وفاقی وزیر صحت کی بھتیجی ہونے کی ووجہ سے نرسنگ کونسل پر مسلط ہے۔یہ تمام حالات  نا امیدی کی صورت حال پیدا کرکے مریضوں کی دیکھ بھال پر اثر انداز ہوتی ہیں۔پنجاب میں میل نرسز کو نوکری نہیں دی جا رہی جن سے وہاں کے میل نرسز میں نا امیدی پائی جاتی ہے۔ پاکستان کے نرسنگ سکولز میں معیار میں ہم آہنگی کا فقدان ہے جو کہ زیر تربیت نرسز کے لئے زہر انگیز ہے۔ نجی شعبہ کے نرسنگ میں آگے آنے کے بعد جو امید پیدا ہو گئی تھی وہ بھی دم توڑ رہی ہے۔ اب ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان میں تمام سکولوں کو  سال 2019 سے صرف ڈگری پروگرام شروع کرنے کا کہا ہے جن پر پاکستان نرسنگ کونسل عمل کرتا ہو نظر نہیں آرہا۔ اب حکومت خیبر پختونخواہ اپنے 9 نرسنگ سکولوں کو کالجز میں اپ گریڈ کر کے احسن اقدام اٹھا رہی ہے ۔  جن سے نہ صرف نرسز کے ترقی کے مواقع میسر ہونگے بلکہ نرسنگ میں نئے آنے والے طالب علموں کو بھی دور جدید کی تعلیم حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ اب انصاف کا تقاضہ ہے کہ ان کالجز میں میل اور فیمیل کو برابر کوٹے کے حساب سے داخلہ دیا جائے جبکہ پاکستان نرسنگ کونسل نے یہ کوٹہ لڑکوں کے لئے صرف دس فیصد رکھا ہے۔

پاکستان میں خواتین نرسز کو ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور دیگر مرد حضرات سے جنسی حراسگی کا بھی سامنا ہے۔جنسی ہراسگی کے واقعات  اول تو رپورٹ نہیں ہوتےیا پھر ذمہ داروں کو بچایا جاتا ہے۔ اس طرح کے واقعات میں ملوث لوگوں کو کڑی سے کڑی سزائیں دیکر مریضوں کی مسیحائیں  دلجوئی سے مریضون کی دیکھ بھال کر سکیں۔

دنیا بھر میں کوالیفائیڈ نرسز مریضوں کا چیک بھی کرتے ہیں جن کو نرس پریکٹیشنر کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس ماڈل کو متعارف کرا کے ہسپتالوں کا غیر ضروری بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے حالیہ رپورٹ برائے غیر متعدی امراض میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ شوگر ، بلڈ پریشر وغیرہ کی بیماریوں کی روک تھام اور بہتر علاج میں نرسز کو شامل کر کے دنیا  کو اس خطرے سے بچایا جا سکتا ہے۔
میڈیا میں عام طور پر نرس کو کم علم اور گلیمر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو کہ حقائق کے سراسر منافی ہے۔ اس شعبے کے وابستہ افراد بھی دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں اور کئی لوگ پیشہ چھوڑ جاتے ہیں۔  اس لئے معاشرے کے تمام افراد اور اس شعبے سے وابستہ تمام افراد پر لازم ہے کہ نرسنگ کے مثبت پہلو کو اجاگر کریں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس شعبے میں آئیں۔

آخر میں اس شعبے سے واستہ تمام افراد پر یہ بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اپنے علم اور کردار کو اس نہج پر پہنچائیں کہ پاکستان میں نرسنگ کو حقیقی معنوں میں عزت ملیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔

نرسنگ ایک معزز پیشہ
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  49463
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
حضرت سید محبوب عالم المعروف حضرت پیر شاہ جیونہ کروڑیہ کے 459 سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کا آغازبدھ کے روز سے دربار عالیہ حضرت شاہ جیونہ تحصیل و ضلع جھنگ میں شروع ہو گئیں جبکہ حضرت شاہ جیونہ کے دربار
حکومتِ پاکستان نے ایک بریگیڈ فوج سعودی عرب بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک بہت بڑی اور غیر متوقع پیش رفت ہے ۔ خاموشی سے ہونے والی بات چیت کے بعد اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر ایک تجویز ریاض سے موصول ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر صحافت اتنا خطرناک پیشہ بن چکا ہے کہ گزشتہ ربع صدی کے دوران دنیا کو جنگوں، انقلابات، جرائم اور کرپشن سے آگاہ کرنے کی کوشش میں مختلف ملکوں میں قریب ڈھائی ہزار صحافی اور میڈیا کارکن مارے جا چکے ہیں۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
وزیر اعظم عمران خان نے نجم سیٹھی کے استعفے کے بعد احسان مانی کو نیا چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نامزد کردیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے احسان مانی کو چیئرمین پی سی بی کے طور
مسجد نبویؐ کے امام ڈاکٹر شیخ حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرو ٗ تمام انبیاء نے کہا صرف اللہ کی عبادت کرو ٗاسلام کی حقیقی تصویر اعلیٰ اخلاق اور بہترین سلوک و برتاؤ ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی 16 رکنی ٹیم نے حلف اٹھالیا، اسد عمر خزانے کے وزیر، شاہ محمود وزیرخارجہ اور فواد چودھری وزیراطلاعات بن گئے، شیخ رشید ریلوے، فروغ نسیم قانون اور پرویز خٹک نے وفاع کی کمان سنبھال لی۔
ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کرانے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کیا گیا۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کرانے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں