Tuesday, 11 August, 2020
آئی ایس او کے درخشاں ماضی کی ایک جھلک

آئی ایس او کے درخشاں ماضی کی ایک جھلک
فائل فوٹو

مشترکہ و متفقہ اعلامیہ

از سابق مرکزی صدور آئی ایس او پاکستان

الحمداللّٰہ آئی ایس او پاکستان  امامیہ نوجوانوں کی وہ متعہد اور پرعزم تنظیم ہے ،جس نے ایسے وقت علماء کرام کے ساتھ مل کر نوجوانوں کی فکری و نظریاتی تربیت کا آغاز کیا جب کوئی ملی تنظیم تو کجا خود انقلاب اسلامی بھی ابھی کامیابی سے ہم کنار نہ ہوا تھا۔ یہ وہ دور تھاجب  دولخت ہوئے  پاکستان کی سیاسی  قیادت سے مایوس نوجوان طبقہ سوشلزم، کیمونزم اور لادینیت کا تر نوالہ ثابت ہورہا تھا ،جنھیں اس الہی تنظیم نے علماء حق کی ہمراہی میں سیرت محمد و آل محمد علیھم السلام  کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی دعوت دی۔ یہ الہی قافلہ جب انقلاب اسلامی اور ولایت فقیہ سے منسلک ہوا تو گویا اس کی روش اور حکمت عملی کو ایک نئی جہت، حیات اور منزل مل گئی۔زندانوں، اسارتوں اور مقتلوں سے گزرتے اس خون رنگ قافلے نے ولایت فقیہ اور علمائے حق کا دامن تھامتے ہوئے تعلیم و تربیت کا سفر جاری رکھا۔ قومی اور ملکی سطح پر اجتماعی کردار کے ساتھ ساتھ  لسانی،قومی، نسلی اور ملک دشمن  تعصبات کے خلاف عملی اقدامات انجام دئیے۔ ملی مشکلات اور بحرانوں میں اگر  کوئی سر بکف اور صف اول میں رہا  تو اسی تنظیم سے منسلک  افراد ہی تھے۔

 

آئی ایس او کی ملک و ملت کے لیے خدمات اور ولایت فقیہ سے تمسک

 

الحمدللہ!آج جب اس الہی سفر کی نصف صدی مکمل ہونے کو ہے تو ایک سرسری نگاہ بھی اس   تنظیم کی کارکر دگی پہ ڈالی جائے تو وطن عزیز پاکستان میں بیشتر تعلیمی ، تربیتی، ،تبلیغی ،فلاحی،صحافتی اور میڈیکل وغیرہ  کے شعبہ جات میں تربیت سے مزین امامیہ جوانوں کے قدموں کی دھمک تمام سماعتوں سے ٹکرا رہی ہے۔اس تنظیم سے منسلک یونیورسٹیوں اور پروفیشنل اداروں کے اعلی تعلیم یافتہ اذہان دین شناسی کی تعلیم کے لیے قم تشریف لے گئے اور واپس آکر اپنا لازوال اور مثالی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان اور بیرونی دنیا میں بیشتر منصوبہ جات کی بنیادیں آئی ایس او کی  تربیت سے بہرہ ور جوانوں نے فراہم کیں۔سینکڑوں اور ہزاروں پراجیکٹس میں امامیہ جوان بالواسطہ یا بلا واسطہ شامل ہیں۔پاکستان اور دیگر ممالک میں میگا پراجیکٹس کے خواہاں علماء کرام کو بھی اپنے بازوؤں کی توانائی انہی جوانوں نے فراہم کی۔ علمی مراکز،مرجعیت اور ولایت فقیہ سے تعلق و عقیدت تنظیم اور اس سے مربوط افراد کے خون  میں شامل ہے۔ واضح رہے کہ ولایت و رہبریت کی جانب سے آئی ایس او پاکستان کو سراہنا ان کی ستائش کرنا نیز محبت والفت کا اظہار کرنا یقینا تنظیم کی  گراں قدر خدمات اور غیر مشروط وغیر متزلزل تمسک کا بین ثبوت ہے جس کو روشن قلوب ہی درک اور قبول کرسکتے تھے۔ الحمداللہ یہاں آئی ایس او کی روش فتح مکہ سے قبل دین اسلام کے لیے سختیاں اور مصائب برداشت کرنے والوں جیسی ہے۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے علماءحق کے ساتھ مل کر تشیع کے عقائد میں انحرافات اور اصلاح کے لئے بھی شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں جلوس ہائے عزا داری میں نماز باجماعت کی صفیں بچھانا۔امام حسین علیہ السلام کے نام پر خون کے عطیات کی جمع آوری اور پھر علمائے حق کو کسی شمع کی طرح  پروانہ وار اپنے حصار میں لے کر منبر ومحراب تک پہنچانا تاکہ تشیع کے حقیقی روشن  چہرے سے عوام الناس کو روشناس کروایا جائے چند ادنی مثالیں ہیں۔ آج اسی تیارشدہ نظریاتی سرزمین پر بڑی بڑی عمارات کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔

 

عقائد تشیع، مرجعیت اور ولایت فقیہ کے تحفظ کے لئیے جدوجہد

 

تنظیم نے مسلمہ عقائد تشیع، مرجعیت، مرکزیت اور ولایت فقیہ کے خلاف اٹھنے والے سازشی اور دشمن کے آلہ کار عناصر کے خلاف تو سخت انداز اختیار کیا لیکن عامۃ الناس کو کسی تحقیر، توہین اور تقسیم سے دوچار کیے بغیر تحمل اور حکمت سے اصلاح ملت کا عمل جاری رکھا۔ اس جذبے کی حقانیت اور صداقت کو کسی ایک واقعے پر ردعمل یا حکمت عملی کا کسی دوسرے گروہ سے مختلف ہونا  بلا شبہ طویل تنظیمی تجربے کے پیش نظر حکمت ہی کی دلیل ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ لاہور میں رہبریت اور مرکزیت کی شان میں بدزبانی کرنے والوں کے خلاف بھی میدان خالی نہیں چھوڑا گیا تھا  اور آئی ایس او کے دور اندیشی پر مبنی اقدامات کے  نتائج جلد یا بدیر ضرور سامنے آئیں گے البتہ  آئی ایس او  اب بھی کسی صلے یا ستائش کی متمنی نہیں ھے۔ہم آئی ایس او پاکستان کے نوجوانوں کومشکل ملی وقومی حالات میں استقامت خصوصاً وبائی عفریت میں شاندار فلاحی کردار ادا کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور پر امید ہیں کہ وہ تنظیم اور اداروں کو مضبوط کر کے  ماضی کی طرح اپنی آزادانہ شناخت کو قائم رکھتے ہوئے اپنا شاندار سفر جاری و ساری رکھیں گے نیز جائز اور مثبت تنقید کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں کی طرف متوجہ رہیں گے تاکہ بہتری کا یہ سفر آگے بڑھتا رہے کیونکہ پوری دنیا کی اصلاح سے قبل اپنی طرف متوجہ ہونا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بقول شاعر مشرق

 

کبھی اپنا بھی نظارہ کیا ہے تو نے اے مجنوں

کہ لیلی کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں

 

نظریاتی گروہوں کی آپسی چپقلش دشمن کی تقویت کا باعث ہے

 

ہم نظریاتی ہونے کے دعویدار گروہوں کی چپقلش ،طعن و تشنیع کو ملی اتحاد اور مرکزیت کے ضعف اور موقع پرست منحرف دشمن کی آلہ کار قوتوں کی تقویت کا باعث سمجھتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ 

نظریاتی قوتیں مطلوبہ باہمی روابط اور اعتماد سازی سےحالات کو  بہتر بنائیں۔سوشل میڈیا کو میدان جنگ بنا کر  ایک دوسرے کو فتح و شکست سے دو چار کرنے والے بھی سادگی اور خود فریبی کا شکار نہ ہوں بلکہ سنجیدگی اور متانت کا مظاہرہ کریں۔

 

اللّٰہ پاک محمد و آل محمد علیھم السلام کے صدقے میں ہمیں خالصتاً خدا کیلیے الہی سفر جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین

 

زندہ یہ بیداری رہے یہ سلسلہ جاری رہے

ہم ہوں نہ ہوں اس بزم میں قائم عزاداری رہے

 

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

سابق مرکزی صدور آئی ایس او پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  16773
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
نواز شریف کی نااہلی کے بعد ملکی سیاست خاص طور پر ن لیگی سیاست ایک ہیجان کا شکار ہے۔ وزارت عظمی سے بے دخلی کے بعد نواز شریف نے اپنی مزاحمتی تحریک شروع کی اور اسلام آباد سے لاہور جاتے
کیا وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے غلط کہا ہے کہ اداروں میں ٹوئیٹس کے ذریعے ایک دوسرے کو مخاطب نہیں کیا جاتا،ادارے ٹویٹس کے ذریعے نہیں چل سکتے۔ ٹوئٹس پاکستانی جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہیں۔
انصاف کے چئرمین اور سابق کرکٹرعمران خان بیچارے سے میڈیا اور سوشل میڈیا بلاوجہ ہی ناراض ہوگیا ہے۔ انھوں نے پاکستان سپر لیگ میں کھیلنے والے پاکستان کے مہمان کھلاڑیوں کو ’پھٹیچر‘ اور ’ریلو کٹّا‘ کیا کہا لگا
عوام کو نعرے لگانے سے کون روک سکتا ہے، ان کی مرضی ہے، کسی کے حق میں نعرہ لگائیں یا کسی کے خلاف۔ پی ایس ایل کا فائنل تو ہر لحاظ سے خیروعافیت سے ہو گیا اور عوام نے جوش وخروش سے شرکت کرکے اسے کامیاب بنا دیا۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
ادارہ التنزیل اور خادمان قرآن کے زیر اہتمام قرآنی ویبینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے قرآنی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ ویبینار میں قرآنی معاشرے کی تشکیل اور اس کے خدوخال کے موضوع پہ مقررین نے خطاب کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے کہا ہے کہ دنیا کو کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس سے نمٹنا دنیا بھر کےممالک کے لیے چیلنج ہے۔
شہر قائد میں مسلسل تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے جب کہ اس دوران پیش آنے والے حادثات و واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد ۹ ہوگئی ہے۔ کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل نجی ٹی وی چینل پر کشمیر اور مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے متعلق ایک بیان دیا جسے بعدازاں چینل نے سینسر کر دیا گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں