Sunday, 16 June, 2019
قائد اہل سنت شاہ احمد نورانی نور اللہ مرقدہ

قائد اہل سنت شاہ احمد نورانی نور اللہ مرقدہ
تحریر: گلزار احمد نعیمی

 

حضرت شاہ احمد نورانی رحمتہ اللہ علیہ کو ہم سے بچھڑے تقریبا پندرہ سال ہوگئے ہیں لیکن آج بھی آپکی نشست خالی ہے.اہل سنت میں آپ جیسا کوئی رہنما منظر عام پر نہ آسکا جو آپ کی چھوڑی ہوئی نشست کو پر کرتا.آپ عالمی مبلغ اسلام حضرت علامہ عبدالعلیم میرٹھی علیہ الرحمہ کے گھر 31 مارچ 1926 کو میرٹھ(ہند) میں پیدا ہوئے.چار سال کی عمر میں قران مجیدحفظ کر لیا تھا.آپ قرآن مجید کے عاشق تھے رمضان شریف میں اپنی تمام سیاسی اور غیر سیاسی سرگرمیاں معطل کر کے قرآن کریم کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے.نماز تراویح میں قرآن مجید سنانے کا زندگی بھر معمول رہا.ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل.آپ کے والد مولانا عبد العلیم میرٹھی عالم اسلام کے نامور مبلغ تھے.آپ میرٹھ کے مشہور عالم اور قلم کار مولانا اسمعیل میرٹھی کے نواسے تھے.آپ کے والد جب اس دنیا سے گئے تو تقریبا اٹھائیس لاکھ مرید چھوڑ کے گئے۔

مولانا شاہ احمد نورانی کو کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا.ان زبانوں کے ذریعے آپ نے دنیا کے کئی ممالک میں دین متین کی تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیا.آپ کے ہاتھ پر ہزاروں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا.آپ ورلڈ اسلامک مشن کے سربراہ تھے.آپ نے اس فورم کے سربراہ کی حثیت سے امریکہ برطانیہ ہالینڈ ساوتھ افریقہ ملیشیا ماریش اور سری لنکا کے علاوہ متعدد ممالک کے نہ صرف دورے کیے بلکہ وہاں دین اسلام کی مستقل نشرو اشاعت کے لیے ادارے بھی قائم کیے.آپ نے عالمی مبلغ اسلام کی حثیت سے بیرون ملک کئی نامور تعلیمی اداروں میں خطابات کیے.کیلفورنیا یونیورسٹی میں جب آپ نے حقانیت اسلام پر معرکتہ الآراء لیکچر دیا تو اس سے متاثر ہوکر اس یونیورسٹی سے 27 پروفیسرز نے اسلام قبول کیا.

آپ کی پاکستان میں بھی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں آپ ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے اہل سنت کی تبلیغی جماعت کے بارے میں سوچا اور دعوت اسلامی کی بنیاد رکھنے میں آپکی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا.اس جماعت کی بنیاد آپکے گھر پر ہی رکھی گئی تھی.اسی طرح جامعہ ضیاء العلوم سٹلائیٹ ٹاوں کا پلاٹ بھی آپ نے ہی اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے منظور کروایا تھا.علاوہ ازیں دیگر کئی مدارس کی آپ خاموشی سے خدمت کیا کرتے تھے.

آپکی سیاسی جدوجہد بے لوث اور نہایت ملخصانہ تھی.آپ نے ساری زندگی ایک مسجد کے دوکمروں والے گھر میں گزار دی. آپ نے یہ بات عملا ثابت کی کہ دولت کی چمک ودمک کے بغیر بھی بیدار ضمیر لوگ باعزت سیاست کر سکتے ہیں.وہ کوئی سرمایہ دار نہ تھے چاہتے تو اربوں کی دولت اکٹھی کرسکتے تھے.وہ کوئی جاگیردار نہ تھے چاہتے تو وہ ہزاروں کنال زمیں کے مالک بن سکتے تھے.لیکن وہ خوب خوب سمجھتے تھے کہ اگر میں نے دولت اور جاگیر بنانے کی طرف توجہ کی تو سحر کے وقت اپنے رب کے سامنے سربسجود ہونے کی ذلت سے محروم ہوجاوں گا.انہوں نے دولت دنیا پر سحر خیزی کو ترجیح دی.جب انہوں نے 1974 میں قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف ریزولوشن ٹیبل کی تو لاہوری گروپ نے آپ کو اس وقت ایک کروڑ روپئے کی آفر کی کہ قرارداد سے صرف لاہوری گروپ خارج کر دیا جائے.آپ نے فرمایا میں بازار مصطفے میں بک چکا ہوں اب مجھے کوئی نہیں خرید سکتا.یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قادیانیوں کے خلاف اسمبلی میں قرارداد آپ ہی نے پیش کی تھی.اس لیے برائے کرم اس اعزاز کو کسی اور کے نام کے ساتھ لگا کر تاریخی دجل نہ پیدا کیا جائے.اس فتنہ کے خلاف جن جن مکاتب فکر کے علماء نے کام کیا سب عند اللہ ماجور ہونگے.اللہ سب کی قبروں کو اپنی رحمت سے سیراب فرمائے.لیکن اس اعزاز کو حضرت نورانی کے نام کے ساتھ ہی رہنے دیا جائے .برائے مہربانی.حق اور سچ یہی ہے.

آپ نے ایک پارلیمنٹیرین کی حثیت سے پارلیمنٹ کے دواخانے سے کبھی ایک گولی تک مفت نہ لی اور نہ کبھی پارلیمنٹ سیکری ٹیریٹ میں کوئی میڈیکل بل جمع کرایا.نہ کبھی ممبر پارلیمٹ کی حثیت سے کوئی مراعات طلب کیں.آپ کے ایک اشارے کی دیر پر آپ کے پاس سب کچھ حاضر ہوسکتا تھا مگر آپ نے وطن عزیز کے لیے اور اسلام کی سربلندی کے لیے سب کچھ قربان کر دیا.آپ اتحاد بین المسلمیں کے نہ صرف حامی تھے بلکہ اس کے لیے عملی جدوجہد کے راستے پر گامزن رہے.آپ ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کے بانیوں میں سے تھے.سیدساجد علی نقوی اورقاضی حسین احمد علیہ الرحمہ کے ساتھ آپ کے بہت گہرے تعلقات تھے.

راقم پر حضرت کی خصوصی شفقتیں تھیں.مجھے انکا اتنا زیادہ قرب نصیب نہ ہوسکا لیکن جب بھی ملاقات ہوئی میری بات کو نہایت توجہ اور شفقت سے سنا.میرے غریب خانے پر بھی تشریف لائے.ایک دفعہ جہلم سے ایک ڈی ایچ او آپ سے ملنے کے لیے آئے ہم بھی اس وقت قبلہ کے پاس موجود تھے.میں نے ڈی ایچ او کے ساتھ جو گفتگو کی اس پر آپ بہت ہی خوش ہوئے اور آپ نے بعد میں جو مجھے تعریفی کلمات سے نوازا یقین جانیے میرا سر آپ کے سامنے جھک گیا.

عالم اسلام کا یہ تابندہ ستارہ 11 دسمبر 2003 کو ہم سے جدا ہوگیا.نورانی صاحب کیا گئے کہ اصولوں کی سیاست بھی ان کے ساتھ دفن ہوگئی.ان کی موجودگی میں آج کے بڑے بڑے نام بے بس ہوتے تھے جو نورانی میاں فرما دیتے سب اسی کو حق سمجھ کر قبول کر لیتے تھے کیونکہ وہی حق ہوتا تھا۔ آپکو اپنی والدہ کے قدموں میں دفن کیا گیا.اللہ آپکے مزار پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے.(آمین)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  32882
کوڈ
 
   
مقبول ترین
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جتنے کیس بنانے ہیں بنا لیں، میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ، سول کورٹس اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم کو طلب کر لیا ہے، انھیں کل احتساب عدالت میں پیش
سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا وقت پورا ہوچکا ہے اور وہ جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر رہنماؤں سے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اننت ناگ سے گزرنے والے بھارتی سیکیورٹی فورس (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) کے قافلے پر 2 مسلح افراد نے فائرنگ کردی، ملزمان فائرنگ کے بعد فورسز کی گاڑی پر دستی بم بھی پھینک گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں