Friday, 18 January, 2019
قائد اہل سنت شاہ احمد نورانی نور اللہ مرقدہ

قائد اہل سنت شاہ احمد نورانی نور اللہ مرقدہ
تحریر: گلزار احمد نعیمی

 

حضرت شاہ احمد نورانی رحمتہ اللہ علیہ کو ہم سے بچھڑے تقریبا پندرہ سال ہوگئے ہیں لیکن آج بھی آپکی نشست خالی ہے.اہل سنت میں آپ جیسا کوئی رہنما منظر عام پر نہ آسکا جو آپ کی چھوڑی ہوئی نشست کو پر کرتا.آپ عالمی مبلغ اسلام حضرت علامہ عبدالعلیم میرٹھی علیہ الرحمہ کے گھر 31 مارچ 1926 کو میرٹھ(ہند) میں پیدا ہوئے.چار سال کی عمر میں قران مجیدحفظ کر لیا تھا.آپ قرآن مجید کے عاشق تھے رمضان شریف میں اپنی تمام سیاسی اور غیر سیاسی سرگرمیاں معطل کر کے قرآن کریم کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے.نماز تراویح میں قرآن مجید سنانے کا زندگی بھر معمول رہا.ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل.آپ کے والد مولانا عبد العلیم میرٹھی عالم اسلام کے نامور مبلغ تھے.آپ میرٹھ کے مشہور عالم اور قلم کار مولانا اسمعیل میرٹھی کے نواسے تھے.آپ کے والد جب اس دنیا سے گئے تو تقریبا اٹھائیس لاکھ مرید چھوڑ کے گئے۔

مولانا شاہ احمد نورانی کو کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا.ان زبانوں کے ذریعے آپ نے دنیا کے کئی ممالک میں دین متین کی تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیا.آپ کے ہاتھ پر ہزاروں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا.آپ ورلڈ اسلامک مشن کے سربراہ تھے.آپ نے اس فورم کے سربراہ کی حثیت سے امریکہ برطانیہ ہالینڈ ساوتھ افریقہ ملیشیا ماریش اور سری لنکا کے علاوہ متعدد ممالک کے نہ صرف دورے کیے بلکہ وہاں دین اسلام کی مستقل نشرو اشاعت کے لیے ادارے بھی قائم کیے.آپ نے عالمی مبلغ اسلام کی حثیت سے بیرون ملک کئی نامور تعلیمی اداروں میں خطابات کیے.کیلفورنیا یونیورسٹی میں جب آپ نے حقانیت اسلام پر معرکتہ الآراء لیکچر دیا تو اس سے متاثر ہوکر اس یونیورسٹی سے 27 پروفیسرز نے اسلام قبول کیا.

آپ کی پاکستان میں بھی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں آپ ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے اہل سنت کی تبلیغی جماعت کے بارے میں سوچا اور دعوت اسلامی کی بنیاد رکھنے میں آپکی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا.اس جماعت کی بنیاد آپکے گھر پر ہی رکھی گئی تھی.اسی طرح جامعہ ضیاء العلوم سٹلائیٹ ٹاوں کا پلاٹ بھی آپ نے ہی اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے منظور کروایا تھا.علاوہ ازیں دیگر کئی مدارس کی آپ خاموشی سے خدمت کیا کرتے تھے.

آپکی سیاسی جدوجہد بے لوث اور نہایت ملخصانہ تھی.آپ نے ساری زندگی ایک مسجد کے دوکمروں والے گھر میں گزار دی. آپ نے یہ بات عملا ثابت کی کہ دولت کی چمک ودمک کے بغیر بھی بیدار ضمیر لوگ باعزت سیاست کر سکتے ہیں.وہ کوئی سرمایہ دار نہ تھے چاہتے تو اربوں کی دولت اکٹھی کرسکتے تھے.وہ کوئی جاگیردار نہ تھے چاہتے تو وہ ہزاروں کنال زمیں کے مالک بن سکتے تھے.لیکن وہ خوب خوب سمجھتے تھے کہ اگر میں نے دولت اور جاگیر بنانے کی طرف توجہ کی تو سحر کے وقت اپنے رب کے سامنے سربسجود ہونے کی ذلت سے محروم ہوجاوں گا.انہوں نے دولت دنیا پر سحر خیزی کو ترجیح دی.جب انہوں نے 1974 میں قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف ریزولوشن ٹیبل کی تو لاہوری گروپ نے آپ کو اس وقت ایک کروڑ روپئے کی آفر کی کہ قرارداد سے صرف لاہوری گروپ خارج کر دیا جائے.آپ نے فرمایا میں بازار مصطفے میں بک چکا ہوں اب مجھے کوئی نہیں خرید سکتا.یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قادیانیوں کے خلاف اسمبلی میں قرارداد آپ ہی نے پیش کی تھی.اس لیے برائے کرم اس اعزاز کو کسی اور کے نام کے ساتھ لگا کر تاریخی دجل نہ پیدا کیا جائے.اس فتنہ کے خلاف جن جن مکاتب فکر کے علماء نے کام کیا سب عند اللہ ماجور ہونگے.اللہ سب کی قبروں کو اپنی رحمت سے سیراب فرمائے.لیکن اس اعزاز کو حضرت نورانی کے نام کے ساتھ ہی رہنے دیا جائے .برائے مہربانی.حق اور سچ یہی ہے.

آپ نے ایک پارلیمنٹیرین کی حثیت سے پارلیمنٹ کے دواخانے سے کبھی ایک گولی تک مفت نہ لی اور نہ کبھی پارلیمنٹ سیکری ٹیریٹ میں کوئی میڈیکل بل جمع کرایا.نہ کبھی ممبر پارلیمٹ کی حثیت سے کوئی مراعات طلب کیں.آپ کے ایک اشارے کی دیر پر آپ کے پاس سب کچھ حاضر ہوسکتا تھا مگر آپ نے وطن عزیز کے لیے اور اسلام کی سربلندی کے لیے سب کچھ قربان کر دیا.آپ اتحاد بین المسلمیں کے نہ صرف حامی تھے بلکہ اس کے لیے عملی جدوجہد کے راستے پر گامزن رہے.آپ ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کے بانیوں میں سے تھے.سیدساجد علی نقوی اورقاضی حسین احمد علیہ الرحمہ کے ساتھ آپ کے بہت گہرے تعلقات تھے.

راقم پر حضرت کی خصوصی شفقتیں تھیں.مجھے انکا اتنا زیادہ قرب نصیب نہ ہوسکا لیکن جب بھی ملاقات ہوئی میری بات کو نہایت توجہ اور شفقت سے سنا.میرے غریب خانے پر بھی تشریف لائے.ایک دفعہ جہلم سے ایک ڈی ایچ او آپ سے ملنے کے لیے آئے ہم بھی اس وقت قبلہ کے پاس موجود تھے.میں نے ڈی ایچ او کے ساتھ جو گفتگو کی اس پر آپ بہت ہی خوش ہوئے اور آپ نے بعد میں جو مجھے تعریفی کلمات سے نوازا یقین جانیے میرا سر آپ کے سامنے جھک گیا.

عالم اسلام کا یہ تابندہ ستارہ 11 دسمبر 2003 کو ہم سے جدا ہوگیا.نورانی صاحب کیا گئے کہ اصولوں کی سیاست بھی ان کے ساتھ دفن ہوگئی.ان کی موجودگی میں آج کے بڑے بڑے نام بے بس ہوتے تھے جو نورانی میاں فرما دیتے سب اسی کو حق سمجھ کر قبول کر لیتے تھے کیونکہ وہی حق ہوتا تھا۔ آپکو اپنی والدہ کے قدموں میں دفن کیا گیا.اللہ آپکے مزار پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے.(آمین)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  57567
کوڈ
 
   
مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
حکومت نے پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بلاول
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر کی ہونے والی ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے شہر لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس نے دیکھتے دیکھتے شدت اختیار کرلی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کی زندگی میں ڈرکی کوئی گنجائش نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار آج ریٹائر ہورہے ہیں، ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ میں ریفرنس

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں