Monday, 23 April, 2018
قصور کی زینب کے قصوروار کون!!

قصور کی زینب کے قصوروار کون!!
تحریر: ارباب جہانگیر ایدھی

 

تخلیق کائنات کے وقت اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا مگر ان میں سب سے اشرف انسان کو ٹھہرایا گیا جس کی بنیادی وجہ انسان میں دوسری مخلوقات کی نسبت زیادہ عقل و شعور، فہم و فراست، حکمت و دانائی ،صبر و شکر، تہذیب و تمدن اور تمیز کا مادہ ڈال دیاگیاکہ انسان ان کو بروئے کا ر لا کر دنیا میں بلاامتیازتمام انسانوں کے ساتھ امن و سلامتی، اخوت و مساوات اورحیاء و لحاظ کے ساتھ اچھا برتاؤ کر کے اپنے اندر اشرف المخلوقات کے مادے کو صیحح ثابت کرے۔

دنیا کے ہر معاشرے میں انسان کی زندگی چند مذہبی ، اخلاقی، روایتی اقدار پر قائم ہے جس کی بنیادی اساس انسانیت ہے ۔ ان اقدار پر عمل پیرا ہوکر کوئی بھی انسان کسی دوسرے انسان کے حقوق کا استحصال نہیں کر سکتا لیکن جب انسان اپنی اخلاقی قدریں کھوبیٹھتا ہے تو وہ اپنے بنیادی اشرف والے درجے سے خود کو گراکرانسان کی شکل میں حیوان بن کر معاشرے کیلئے ناسور بن جاتا ہے اور یہ ناسور اپنی ہوس و بدحواسی کے عالم میں بلاتعطل استحصال کی سطحیں پار کرتاچلاجاتاہے جس کانشانہ زینب جیسی معصوم بیٹیاں بن جاتی ہیں اور انسان کاانسان پرسے ہمیشہ کیلئے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

گزشتہ روز قصور میں ایک معصوم بچی کے ساتھ پیش آنیوالے ہولناک واقعہ نے پوری انسانیت کیلئے ایک سوالیہ نشان چھوڑ دیا ہے کہ کیا انسان کے اندر اتنی حیوانیت بڑھ گئی کہ اسے اپنی ہوس کیلئے ایک ننھی سی معصوم جان ہی ملی ؟ کیا اسے اپنی ہوس کیلئے کوئی قحبہ خانہ نظر نہ آیا؟ کیا اسے معصوم بچی میں اسکے والدین کا عکس نظر نہ آیا جو خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے؟کیا اسے معصوم بچی کو جنجھوڑتے ہوئے ذرا سا بھی ترس نہ آیا کہ میں ننھی سی جان پر کتنا بڑا ظلم کر رہا ہوں پھر قہر خدا کا کہ پھر اسے بے ہیہمانہ طریقے سے قتل کر کے کوڑاکرکٹ پر پھینک دیا ۔ افسوس صد افسوس کہ انسان کے اندر انسانیت تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے۔

ہمارا ملک آزادی و خودمختاری اور امن و سلامتی کے نام پر سات دہائیاں گزار چکا ہے مگر اس واقعے کے بعد حکومتی ادارے فوری تحفظ فراہم کرنے کی بجائے حسب معمول و روایت واقعہ سمجھ کر بھول گئے جس پر عوام کو سوشل میڈیا پر زینب کے ساتھ ہوئے ظلم پر انصاف کیلئے بھرپورآواز بلند کرنا پڑی جس میں مختلف طبقات نے بغیر تحقیق کے اس کو مختلف تناظر میں پیش کیا لیکن افسوس کہ عوام کچھ دن پوسٹس لگا کر نئے واقعہ درپیش ہونے پر اس کو بھی بھلا دیں گے۔

تحقیقی بنیادو ں پر اس واقعے کا جائزہ لیا جائے تو یہ ہوس سے کہیں زیادہ کسی خاص خاندانی رنجش یا دشمنی کا پیش خیمہ لگ رہی ہے کیونکہ ننھی جان سے زیادتی ، قتل اور اس کے بعد کوڑا کرکٹ پر پھینک دینا کسی دشمنی کا اندیشہ ظاہر ہوتا ہے جس پر تحقیقات جاری ہیں مگر عوام بھی بھیڑ چال کا شکار ہے کہ بغیر تحقیق کے سماجی ویب سائیٹس پر ایسی پوسٹس شئیر کرنا جس سے معاشرے میں ایک عجب خوف پھیل جاتا ہے اور عالمی دنیا میں پاکستان کے منفی امیج کو بڑھاوا دیا جاتا ہے۔

سوال کہ زینب کے ساتھ ہوئے ہولناک واقعہ کے ذمہ دار کون ہیں تو اس کے ذمہ دارہم سب، ہمارا معاشرہ اور ہماری حکومت ہیں۔ ہم بذات خودذمہ دار ہیں کہ ہم اپنی اخلاقی قدریں کھوچکے ہیں ہم انسانیت سے حیوانیت کی طرف تیزی سے تبدیل ہوتے جارہے ہیں ۔ ہم زینب جیسی پیاری بیٹی کے ساتھ ہوئے ظلم کے خلاف صرف چند دن آوازاٹھاکر بھول جاتے ہیں ۔

ہمارا معاشرہ اس لیے ذمہ دار ہے کہ معاشرہ نفسا نفسی میں پیار و اخلاق اور تہذیب و تمدن سے دور ہوتا جا رہاہے جس سے لوگوں میں بے حسی بڑھتی جارہی ہے اور کسی بھی المناک واقعے کا درد چند دن میں ہی ختم ہو جاتاہے۔بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہے اور غریب کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ سرمایہ دارنہ نظام کا دور دورہ ہے۔ 
؎
ہماری حکومت اس لیے ذمہ دار ہے کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کے جان ومال کو تحفظ فراہم کرنا ہے جبکہ قصور جیسے ایک شہر میں ایک سال میں یکے بعد دیگرے ایسے ہی گیارہ واقعات رونما ہوتے ہیں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور سب معمول کی طرح سر سے گزار دیتے ہیں۔

ابھی بھی زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ہم زینب جیسی اور کئی بیٹیوں کو ایسے درندوں کے شر سے بچا سکتے ہیں مگر ہم سب کو ، معاشرے کو اور حکومت کومل کرسوچنا ہوگا کہ ہم کس طرح اپنے معاشرے کو ایسے ناسوروں سے پاک کر سکتے ہیں ۔ ہمیں مشورہ کرنا ہوگا کہ کیسے ہم اپنے پیارے بچوں کی تربیت کریں کہ جس سے بچے ایسے درندہ صفت شکاریوں کے جال میں نہ آئیں۔ ہمیں تہیہ کرنا ہوگا کہ آئیندہ کسی زینب کے ساتھ ایسا دردناک واقعہ درپیش نہ ہوکہ ساری قوم کے سر شرم سے جھک جائیں۔ ہمیں پالیسی بنانی ہوگی کہ ایسے حیوان نما انسانوں کو ایسی عبرت ناک سزا دی جائے کہ آئیندہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہوئے سو بار اس عبرت ناک سزا کا سوچے۔ہمیں معاشرے میں بٹی طبقاتی تقسیم کو ختم کرنا ہوگا کہ جس کے بعد غریب کی زینب اور امیر کی زینب میں فرق نہیں رہے گااور ہر زینب کی پکار پر پوری قوم اس کے ساتھ ہوگی۔

خدا کیلئے سب اپنے اپنے مقام پر اپنا کردار کریں وگرنہ ہزاروں زینب ، ملیحہ ، مریم جیسی قوم کی بیٹیوں کے خون کا قرض آپ پر رہے گا ۔آگے بڑھیں اپنے بچوں اور معاشرے کو اخلاقی اقدار میں ڈھالیں جس سے ایک محفوظ و مہذب معاشرے پروان چڑھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  37352
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
خواتین کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے انھوں نے ہی اولاد کی تربیت کرنی ہے جو کہ آگے بڑھ کر ایک مفید معاشرے کی بنیاد بنتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی کی راہنما عابدہ راجہ نے علمی وتحقیقی ادارے البصیرہ کے شعبہ خواتین کے زیر اہتمام منعقدہ جناب زینب سلام اللہ علیہا افتخار اسلام مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا
یورپی یونین اور تہران کے مابین مذاکرات اسی موسم خزاں میں ہوں گے لیکن ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال میں بہتری کی کوششوں کے حوالے سے ابھی تک ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہو گا بھی، تو کب تک؟
1540ء کے بعد سال 2003ء یورپ کی تاریخ کا گرم ترین سال تھا۔ بارہ سال پہلے گزرنے والے اِس غیر معمولی گرم موسم میں اگست میں درجہ حرارت 47.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور یہ درجہ حرارت اِس براعظم کے لیے ایک ریکارڈ تھا۔ اِس ریکارڈ ساز گرمی کے نتیجے
نیو یارک ٹائمز نے سترہ مئی کو پاکستان کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی ایکس ایکٹ کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ شائع کرکے ملکی میڈیا میں طوفان برپا کردیا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ایف آئی اے اس معاملے کی مکمل چھان بین کر ہی ہے۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
کابل کے علاقے ’پولیس ڈسٹرکٹ 6‘ میں خود کش بمبار نے ووٹر رجسٹریشن مرکز کے اندر داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اُڑالیا جس کے نتیجے میں 52 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا
پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی ریلی کا آغاز پنجاب حکومت کی جانب سے اجازت نہ دیے جانے کے باوجود لاہور کے موچی گیٹ سے ہوگیا جہاں تحریک کا اگلا جلسہ 12 مئی کو کراچی میں کرنے کا اعلان کیا گیا تاکہ شہر میں 2007 میں ہونے والے قتل وغارت کی مذمت کی جاسکے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ قبائلیوں کے مسائل یہیں رہتے ہوئے حل کرنے ہیں، ملک دشمنوں کی نذر نہیں ہونے دینا۔ یہ بات انہوں نے میرانشاہ میں تاجروں کے جرگے
نیویارک۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدہ ختم کیا گیا تو ایران یورینئم کی افزودگی دوبارہ شروع کردے گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں