Wednesday, 17 October, 2018
قصور کی زینب کے قصوروار کون!!

قصور کی زینب کے قصوروار کون!!
تحریر: ارباب جہانگیر ایدھی

 

تخلیق کائنات کے وقت اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا مگر ان میں سب سے اشرف انسان کو ٹھہرایا گیا جس کی بنیادی وجہ انسان میں دوسری مخلوقات کی نسبت زیادہ عقل و شعور، فہم و فراست، حکمت و دانائی ،صبر و شکر، تہذیب و تمدن اور تمیز کا مادہ ڈال دیاگیاکہ انسان ان کو بروئے کا ر لا کر دنیا میں بلاامتیازتمام انسانوں کے ساتھ امن و سلامتی، اخوت و مساوات اورحیاء و لحاظ کے ساتھ اچھا برتاؤ کر کے اپنے اندر اشرف المخلوقات کے مادے کو صیحح ثابت کرے۔

دنیا کے ہر معاشرے میں انسان کی زندگی چند مذہبی ، اخلاقی، روایتی اقدار پر قائم ہے جس کی بنیادی اساس انسانیت ہے ۔ ان اقدار پر عمل پیرا ہوکر کوئی بھی انسان کسی دوسرے انسان کے حقوق کا استحصال نہیں کر سکتا لیکن جب انسان اپنی اخلاقی قدریں کھوبیٹھتا ہے تو وہ اپنے بنیادی اشرف والے درجے سے خود کو گراکرانسان کی شکل میں حیوان بن کر معاشرے کیلئے ناسور بن جاتا ہے اور یہ ناسور اپنی ہوس و بدحواسی کے عالم میں بلاتعطل استحصال کی سطحیں پار کرتاچلاجاتاہے جس کانشانہ زینب جیسی معصوم بیٹیاں بن جاتی ہیں اور انسان کاانسان پرسے ہمیشہ کیلئے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

گزشتہ روز قصور میں ایک معصوم بچی کے ساتھ پیش آنیوالے ہولناک واقعہ نے پوری انسانیت کیلئے ایک سوالیہ نشان چھوڑ دیا ہے کہ کیا انسان کے اندر اتنی حیوانیت بڑھ گئی کہ اسے اپنی ہوس کیلئے ایک ننھی سی معصوم جان ہی ملی ؟ کیا اسے اپنی ہوس کیلئے کوئی قحبہ خانہ نظر نہ آیا؟ کیا اسے معصوم بچی میں اسکے والدین کا عکس نظر نہ آیا جو خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے؟کیا اسے معصوم بچی کو جنجھوڑتے ہوئے ذرا سا بھی ترس نہ آیا کہ میں ننھی سی جان پر کتنا بڑا ظلم کر رہا ہوں پھر قہر خدا کا کہ پھر اسے بے ہیہمانہ طریقے سے قتل کر کے کوڑاکرکٹ پر پھینک دیا ۔ افسوس صد افسوس کہ انسان کے اندر انسانیت تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے۔

ہمارا ملک آزادی و خودمختاری اور امن و سلامتی کے نام پر سات دہائیاں گزار چکا ہے مگر اس واقعے کے بعد حکومتی ادارے فوری تحفظ فراہم کرنے کی بجائے حسب معمول و روایت واقعہ سمجھ کر بھول گئے جس پر عوام کو سوشل میڈیا پر زینب کے ساتھ ہوئے ظلم پر انصاف کیلئے بھرپورآواز بلند کرنا پڑی جس میں مختلف طبقات نے بغیر تحقیق کے اس کو مختلف تناظر میں پیش کیا لیکن افسوس کہ عوام کچھ دن پوسٹس لگا کر نئے واقعہ درپیش ہونے پر اس کو بھی بھلا دیں گے۔

تحقیقی بنیادو ں پر اس واقعے کا جائزہ لیا جائے تو یہ ہوس سے کہیں زیادہ کسی خاص خاندانی رنجش یا دشمنی کا پیش خیمہ لگ رہی ہے کیونکہ ننھی جان سے زیادتی ، قتل اور اس کے بعد کوڑا کرکٹ پر پھینک دینا کسی دشمنی کا اندیشہ ظاہر ہوتا ہے جس پر تحقیقات جاری ہیں مگر عوام بھی بھیڑ چال کا شکار ہے کہ بغیر تحقیق کے سماجی ویب سائیٹس پر ایسی پوسٹس شئیر کرنا جس سے معاشرے میں ایک عجب خوف پھیل جاتا ہے اور عالمی دنیا میں پاکستان کے منفی امیج کو بڑھاوا دیا جاتا ہے۔

سوال کہ زینب کے ساتھ ہوئے ہولناک واقعہ کے ذمہ دار کون ہیں تو اس کے ذمہ دارہم سب، ہمارا معاشرہ اور ہماری حکومت ہیں۔ ہم بذات خودذمہ دار ہیں کہ ہم اپنی اخلاقی قدریں کھوچکے ہیں ہم انسانیت سے حیوانیت کی طرف تیزی سے تبدیل ہوتے جارہے ہیں ۔ ہم زینب جیسی پیاری بیٹی کے ساتھ ہوئے ظلم کے خلاف صرف چند دن آوازاٹھاکر بھول جاتے ہیں ۔

ہمارا معاشرہ اس لیے ذمہ دار ہے کہ معاشرہ نفسا نفسی میں پیار و اخلاق اور تہذیب و تمدن سے دور ہوتا جا رہاہے جس سے لوگوں میں بے حسی بڑھتی جارہی ہے اور کسی بھی المناک واقعے کا درد چند دن میں ہی ختم ہو جاتاہے۔بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہے اور غریب کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ سرمایہ دارنہ نظام کا دور دورہ ہے۔ 
؎
ہماری حکومت اس لیے ذمہ دار ہے کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کے جان ومال کو تحفظ فراہم کرنا ہے جبکہ قصور جیسے ایک شہر میں ایک سال میں یکے بعد دیگرے ایسے ہی گیارہ واقعات رونما ہوتے ہیں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور سب معمول کی طرح سر سے گزار دیتے ہیں۔

ابھی بھی زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ہم زینب جیسی اور کئی بیٹیوں کو ایسے درندوں کے شر سے بچا سکتے ہیں مگر ہم سب کو ، معاشرے کو اور حکومت کومل کرسوچنا ہوگا کہ ہم کس طرح اپنے معاشرے کو ایسے ناسوروں سے پاک کر سکتے ہیں ۔ ہمیں مشورہ کرنا ہوگا کہ کیسے ہم اپنے پیارے بچوں کی تربیت کریں کہ جس سے بچے ایسے درندہ صفت شکاریوں کے جال میں نہ آئیں۔ ہمیں تہیہ کرنا ہوگا کہ آئیندہ کسی زینب کے ساتھ ایسا دردناک واقعہ درپیش نہ ہوکہ ساری قوم کے سر شرم سے جھک جائیں۔ ہمیں پالیسی بنانی ہوگی کہ ایسے حیوان نما انسانوں کو ایسی عبرت ناک سزا دی جائے کہ آئیندہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہوئے سو بار اس عبرت ناک سزا کا سوچے۔ہمیں معاشرے میں بٹی طبقاتی تقسیم کو ختم کرنا ہوگا کہ جس کے بعد غریب کی زینب اور امیر کی زینب میں فرق نہیں رہے گااور ہر زینب کی پکار پر پوری قوم اس کے ساتھ ہوگی۔

خدا کیلئے سب اپنے اپنے مقام پر اپنا کردار کریں وگرنہ ہزاروں زینب ، ملیحہ ، مریم جیسی قوم کی بیٹیوں کے خون کا قرض آپ پر رہے گا ۔آگے بڑھیں اپنے بچوں اور معاشرے کو اخلاقی اقدار میں ڈھالیں جس سے ایک محفوظ و مہذب معاشرے پروان چڑھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  19349
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ادارہ التنزیل نے استقبال ماہ رمضان کے سلسلے میں’’معرفت قرآن کریم‘‘کے عنوان سے ایک عظیم الشان کانفرنس کا اہتمام کیا ،جس میں تمام مکاتب فکر کے دانشوروں اور علماء کرام نے اپنے خیالات کا اظہار کیا
خواتین کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے انھوں نے ہی اولاد کی تربیت کرنی ہے جو کہ آگے بڑھ کر ایک مفید معاشرے کی بنیاد بنتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی کی راہنما عابدہ راجہ نے علمی وتحقیقی ادارے البصیرہ کے شعبہ خواتین کے زیر اہتمام منعقدہ جناب زینب سلام اللہ علیہا افتخار اسلام مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا
یورپی یونین اور تہران کے مابین مذاکرات اسی موسم خزاں میں ہوں گے لیکن ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال میں بہتری کی کوششوں کے حوالے سے ابھی تک ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہو گا بھی، تو کب تک؟
1540ء کے بعد سال 2003ء یورپ کی تاریخ کا گرم ترین سال تھا۔ بارہ سال پہلے گزرنے والے اِس غیر معمولی گرم موسم میں اگست میں درجہ حرارت 47.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور یہ درجہ حرارت اِس براعظم کے لیے ایک ریکارڈ تھا۔ اِس ریکارڈ ساز گرمی کے نتیجے

مزید خبریں
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
لندن کی وارک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دنیا میں القاعدہ کو کبھی بھی پاکستان کی مددکے بغیر شکست نہیں ہوسکتی تھی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دنیا کو پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں لگائے گئے بجلی کے تمام منصوبوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے جب کہ 2 منصوبے کے آڈٹ کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے
بین الاقوامی برادری میں یہ تاثر عام ہے کہ بھارتی قیادت علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے زعم میں یوں مبتلا ہو چکی ہے کہ اس پر کسی نفسیاتی غلبہ اور سیاسی و سفارتی عارضہ کا گمان ہوتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے دور حکومت میں نیپال، بنگلہ دیش
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کے شمالی علاقے ٹریب میں سیلاب کے باعث 13 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں محض چند گھنٹوں کے دوران اتنی بارش ہوئی جو عام طورپر3 ماہ سے زائد

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں