Monday, 24 September, 2018
سوچ بدلیں.... حالات بدل جائیں گے...

سوچ بدلیں.... حالات بدل جائیں گے...
تحریر: ارباب جہانگیر ایدھی

 

کائنات کی تخلیق کے ساتھ ہی قدرت کی طرف سے انسانی تولید کا ایک بہترین و مکمل نظام وضع کردیا گیا. اس کے بعد اس نظام پر مختلف مذاہب، ثقافتوں اور ممالک کا روایتی غلاف چڑھایا جاتا رہا اور آج بھی  اکیسویں صدی میں بھی بنیادی نظام وہی ہے مگر لوگوں کے آپسی میل ملاپ کا تہزیب و تمدن مختلف ہے.

دین اسلام میں انسانی نسل کی بڑھوتری کیلئے اسلامی معاشرےمیں موجود بلاامتیاز بالغ لڑکا لڑکی کے درمیان اسلامی قواعد و ضوابط کے مطابق ایک نکاح لازمی ہوتا ہے جس کے بعد روایتی طور طریقے سے ان کی اذدواجی زندگی رواں دواں ہوجاتی ہے اور ایسے ہی نسل در نسل یہ سلسلہ پہلے دن سے تا قیامت جاری ہے اور رہے گا.

دنیا بھر کے مذاہب میں اسلام ایک پرامن، آسان اور بہترین مرتب کردہ مکمل مذہب ہے جو انسان کیلئے ہر لحاظ سے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے. اسلام میں انسان کیلئے جہاں باقی چیزوں میں آسانی ہے وہاں نکاح کیلئے بھی بالکل آسان سُنت طریقہ بتایاگیا اور پیغمبروں کے ذریعے عمل کر کے بھی دکھایا گیا تاکہ ہر مسلمان والدین بغیر کسی معاشی تنگی یا دکھ کے آسانی سے اپنے بچوں کو وضع کیے گئے نظام کی تسبیح میں پرو کر اپنا فرض ادا کر سکیں. بلکہ ایک حدیث میں یہ بھی فرمایا گیا کہ "سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچہ سب سے کم ہو".

مگر بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ نکاح کے عمل میں سُنت نبوی پر عمل پیرا ہونے کی بجائے اس نکاح کو مختلف معاشرتی غلافوں میں لپیٹ کر معاشرے کو ایک غلط رواج پر لگا دیا ہے جس سے معاشرے میں موجود اوسط و نچلے طبقے کے لوگ معاشی بدحالی کی وجہ سے اپنے بچوں کی شادیوں کےفرائض کی بروقت ادائیگی میں بے بس و مجبور ہوجاتے ہیں. 

اس صورتحال میں جہاں لڑکے والے خاندان کا شکار لڑکی کے ساتھ جہیز کی مانگ کی صورت میں لڑکی والا خاندان ــــ وہیں لڑکی کے خاندان والوں کا شکار لڑکے کے ساتھ بیرون ملک جاب، لاکھ تنخواہ وغیرہ کی مانگ کی صورت میں لڑکے کا خاندان ہوتاچلا آرہا ہے.

ان معاشی مانگوں کی کشمکش میں لڑکا لڑکی کے بالغ عمری میں شادی کا عرصہ بیس سال سے بڑھ کر تیس سے پینتیس سال تک چلا جاتا ہے جس سےجہاں ان کے والدین کو اولادکے فرائض کی دیر سے ادائیگی کا دکھ ہوتا ہے وہاں لڑکے اور لڑکی کا جسمانی استحصال ہوتا رہتا ہے اور لڑکا لڑکی قدرتی طور پر پیدا شدہ جسمانی خواہشات کے استحصال کے خاتمے کیلئے اپنی مزہبی و اخلاقی اقدار کو ٹھوکر مارکر  شادی سے بہت پہلے اپنے تئیں حدیں پار کر چکے ہوتے ہیں. جس سے جہاں مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچتی وہیں معاشرتی برائیاں جنم لے کر معاشرے میں غلط رواجوں کو تقویت پہنچاتی ہیں اور پھر معاشرہ احساس کی محرومیوں کی جانب دوڑتا چلا جاتا ہے.
 
لڑکا لڑکی کی زندگی کے استحصال کے ذمہ دار دونوں خاندان ہوتے ہیں جو ان کی معاشی خوشحالی کے چکر میں ان کی جسمانی بدحالی کو نظرانداز کردیتے ہیں اور اس کے نتائج شادی کے بعد میاں بیوی کو دیر سے شادی ہونے میں مختلف طبی پیچیدگیوں کے پیدا ہونے کی صورت میں سامنے آتے ہیں جو میاں بیوی کے نکاح کے خوبصورت بندھن کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں. 

بعض اوقات تو نوبت طلاق، خودکشی یا قتل تک جاپہنچتی ہے جس سے مزید مسائل و خاندانی رنجشیں پیدا ہوجاتی ہیں.

جہاں لڑکے والوں کی طرف سےمخصوص جہیز کی مانگ غلط ہے وہاں لڑکی والوں کی طرف سے مخصوص جاب، تنخواہ کی مانگ بھی غلط ہے کیونکہ یہ دونوں مانگیں آج کل شادی کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہیں.

ہم سب کو سوچنا ہوگا کہ ہم قدرت کے بنائے اصولوں کو چھوڑ کر اپنے بچوں کیلئے معاشی خوشحالیوں کے چکر میں ان کیلئےکتنی بدحالیوں کا جال بُن رہے ہیں.

اگر ہم سب جہیز اور جاب والی روایتی سوچ بدلیں گے تو معاشرے کا ہروالدین اپنی بیٹی کے پیدا ہونے پر جہیز کو سوچ کر افسردہ نہیں ہوگا.وہیں بیٹے والوں کیلئے بھی اپنوں سے رشتہ داریاں بڑھانے یا مضبوط کرنے کیلئے جاب یا تنخواہ کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی. 

مسلمان کا نکاح مرتے دم تک کا ہوتا ہے اور نکاح کے دیرپا ہونے کیلئے مخصوص جہیز یا جاب کوئی ضمانت نہیں ہوتی بلکہ یہ رشتے تو احساس، پیار، برداشت اور اخلاق سے مضبوط ہوتے ہیں اور تامرگ قائم رہتے ہیں جبکہ جن رشتوں کی بنیاد ہی شرطوں پر قائم ہو وہ احساس و پیار کے پیدا کرنے کی بجائے نفرتوں کو پیدا کر دیتے ہیں جن سے رشتوں میں برداشت ختم ہوجاتی اور شادی کا بندھن کمزور پڑجاتا ہے.

اگر آپ مسلمان ہیں تو اللہ پر توکل رکھیں کہ اس نے  ہم.سب کو پیدا کیا ہے تو وہ ہم سب کو رزق بھی دے گا جیسا کہ قرآن میں آیت ہے. "واللّہُ خَیرُالرَازِقِین... (اور اللّہ تعالٰی بہتر رزق دینے والا ہے)

سوچ بدلیں.... حالات بدل جائیں گے...

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  24662
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سوشل میڈیا پر 27 جولائی سے جس شخصیت کو سب سے زیادہ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے یقینا وہ جناب مولانا فضل الرحمان ہی ہیں۔ ہر دوسرا تبدیلی کا دعوے دار، مخالف مسلک کا پیروکار، مولانا کا سیاسی مخالف، بس مولانا پر ہی لعن طعن کر کے ملک کے تمام مسائل حل اور نئی
پروردگار کا احسان عظیم ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو قیام میں آئے 71برس ہو رہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کی اساس ان گنت قربانیوں پر استوار ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے لہو سے بنائی ہے اور ان قربانیوں کے ضمن میں مرد و خواتین دونوں نے
سیاست میں سونامی کو عمران خان نے متعارف کروایا۔ وہ کئی برسوں سے تحریک انصاف کے سونامی کا ذکر کررہے ہیں اور ہم بھی کئی برسوں سے سونامی کا انتظار کررہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ سیاسی تقریبات اور اجتماعات کو
بلوچستان بیک وقت قدرتی، ساحلی، صحرائی اور پہاڑی معدنیات کے تحفظ کی دعویدار ہے۔ جہاں پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہنگول نیشنل پارک بھی موجود ہے اورنایاب ہونے والے جنگلی جانوروں کی متعدد اقسام پائے جاتے ہیں۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
سپریم کورٹ نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ کا نام تبدیل کرنے کی منظوری دے دی۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دادو سندھ میں نائی گچ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیامربھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ اکاونٹ کا ٹائٹل
گوگل نے اس بات کی تصدیق امریکی قانون دانوں کو لکھے گئے ایک خط میں کی ہے جس میں گوگل نے وضاحت کی ہے کہ تھرڈ پارٹی ڈیولپرز جی میل اکاؤنٹس تک رسائی اور شئیرنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آج دانیال چوہدری کی درخواست پر سماعت کی۔
جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے بتایا کہ مزید 33 مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے جن کی چھان بین جاری ہے، اب تک کی تحقیقات میں 334 افراد کے ملوث ہونے کا پتہ چلا ہے، یہ تمام ملزمان جعلی اکاؤنٹس میں ٹرانزیکشنر کرتے رہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں