Monday, 23 April, 2018
’’مرد، خواتین یا تیسری جنس: حقوق سب کیلئے‘‘

’’مرد، خواتین یا تیسری جنس: حقوق سب کیلئے‘‘
تحریر: قاضی وجاہت حسین

 

اکثر جب ہم بازار جاتے ہیں تو ہمیں مردانہ آواز مگر زنانہ لباس زیب تن کئے ہوئے کوئی آواز پیچھے سے آتی ہے کہ ’’اے بابو کچھ دے دو‘‘اور جب ہم مڑ کر دیکھتے ہیں تو کوئی خواجہ سرا پیچھے کھڑا ہوتا ہے بعض افراد تو اس تیسری جنس کو کچھ نہ کچھ پیسے دے دیتے ہیں مگر کچھ افراد ان کو ہتک آمیز رویے سے مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جاؤ معاف کرو یا پھر کچھ منچلے انہیں دھتکارنا شروع کر دیتے ہیں اور تو اور کچھ افراد گالم گلوچ پر بھی اتر آتے ہیں اور ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے خواجہ سرا کوئی عجیب مخلوق ہیں یہی چیز خواجہ سراؤں کو احساس کمتری کا شکار کرتی ہے ۔

خواجہ سراؤں کو صرف بنیادی سہولیات کے حصول کیلئے ہی نہیں جدوجہد کرنا پڑتی بلکہ وہ لوگوں کو یہ سمجھانے میں ہی اپنی عمر گزار دیتے ہیں کہ انہیں بھی انسان تسلیم کیا جائے۔گذشتہ کچھ عرصہ میں خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی گئی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے خواجہ سراؤں کے تحفظ کا بل بھی پاس کر لیا گیا \۔

تیسری جنس کے ساتھ اگر ظلم کی بات کی جائے تو اس کی روشن مثال سیالکوٹ میں خواجہ سرا پر وحشیانہ تشدد تھا جس میں با اثر شخص نے محض اپنی ضد کیلئے خواجہ سرا کو برہنہ کر کے پیٹا تھا اور خواجہ سرا بیچارا واسطے دیتا رہ گیا کہ خدا کیلئے مجھے چھوڑ دو مگر ظالم شخص نے اس کی ایک بھی نہ سنی اور وحشیانہ تشدد کرتا رہا ۔ خیبرپختونخواہ میں ایک خواجہ سرا کو قتل کیا گیا جسے ہسپتال لایا گیا تو ہسپتال انتظامیہ اس کو زخمی حالت میں مردوں والے وارڈ سے عورتوں والے وارڈ میں اور عورتوں والے وارڈ سے بالآخر پرائیویٹ وارڈ میں لے گئی جہاں پر ڈاکٹر حضرات علاج شروع کرنے کی بجائے دیگر خواجہ سراؤں سےعجیب و غریب سوال پوچھتے رہے ۔ایک بات تمام افراد کو تسلیم کر لینی چاہئے کہ خواجہ سرا بھی انسان ہی ہیں اور جس طرح سے تحفظ عام افراد کا حق ہے بالکل اسی طرح سے یہ بھی تحفظ کا حق رکھتے ہیں کیونکہ یہ بھی ہمارے ملک کے ہی باشندے ہیں اور ان کے پاس بھی شناختی کارڈ موجود ہے. 

حکومت پاکستان نے خواجہ سراؤں کی بہتری کیلئے نہ صرف قوانین بنائے ہیں بلکہ ان کیلئے ملازمتوں کا کوٹہ بھی رکھا ہے جس کے ذریعے تعلیم یافتہ خواجہ سرا ملازمت حاصل کرکے اپنا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں ۔کچھ سال قبل خواجہ سراؤں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیسے جمع کر کے ایک مسجد کی بنیاد رکھی جس پر لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ان کو مسجدبنانے کی کیا ضرورت ان کی تو چال ڈھال ہی مختلف ہے تو اس پر خواجہ سراؤں نے جواب دیا کہ ’’خدا ہمارا بھی ہے‘‘ہم سمجھتے ہیں کہ خواجہ سراؤں کی محرومیوں کو بڑھانے کی بجائے ان کیلئے تمام افراد سہولیات پیدا کریں تاکہ ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام باشندے بطریق احسن زندگی بسر کر سکیں ۔

گذشتہ سال کی بات ہے کہ سعودی عرب میں خواجہ سراؤں کی ایک میٹنگ جاری تھی جسے ’’گروچیلہ چلن پارٹی ‘‘کا نام دیا جاتا ہے اس میں خواجہ سرا اپنے گرو کا انتخاب کرتے ہیں مگر اس پر سعودی پولیس نے چھاپہ مارا اور خواجہ سراؤں کو گرفتار کر لیا مگر بات صرف گرفتاری تک ہی محدود نہ رہی بلکہ انہیں تھانے لا کر بوریوں میں بند کر کے لوہے کے راڈوں سے مارا گیا جس سے خواجہ سرا نہ صرف زخمی ہو گئے بلکہ دو خواجہ سرا تو جان کی بازی ہی ہار گئے ۔ 

سعودی پولیس کے اس فعل پر پاکستان میں خواجہ سراؤں نے پر زور احتجاج کیا مگر سعودی پولیس نے متوفی خواجہ سراؤں کی لاشوں کی پاکستان واپسی کیلئے بھی شدید سست روی کا مظاہرہ کیا اور بھاری جرمانے ادا کرنے کے بعد متوفی خواجہ سراؤں کی لاشوں کو واپس پاکستان بھیجا گیا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ خواجہ سراؤں کے تحفظ کیلئے محض قوانین بنا دینا ہی کافی نہیں بلکہ ان کے تحفظ کیلئے بنائے گئے قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ خدا کی یہ تخلیق بھی مکمل تحفظ کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکے جبکہ عام افراد میں یہ شعور اجا گر کیا جائے کہ وہ تیسری جنس کا تمسخر اڑانے کی بجائے ان کے مسائل حل کرنے میں ان کا ساتھ دیں تاکہ احساس کمتری کا شکار ہو کر تیسری جنس ایسے افعال انجام نہ دے جو کہ معاشرے کیلئے قابل قبول نہ ہوں۔

 ضرورت اس امر کی ہے کہ سنجیدگی سے خواجہ سراؤں کی تعلیم و تربیت کیلئے ادارے قائم کئے جائیں جہاں پر انہیں ہنر بھی سکھائے جائیں تاکہ خواجہ سرا معاشرے میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے باعزت روزگار حاصل کریں اور انہیں عام افراد کی طرف سے ہتک آمیز رویے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔  (ذراسوچئے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  21299
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
خواتین کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے انھوں نے ہی اولاد کی تربیت کرنی ہے جو کہ آگے بڑھ کر ایک مفید معاشرے کی بنیاد بنتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی کی راہنما عابدہ راجہ نے علمی وتحقیقی ادارے البصیرہ کے شعبہ خواتین کے زیر اہتمام منعقدہ جناب زینب سلام اللہ علیہا افتخار اسلام مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا
خواجہ سرا کہیں، ہجڑا کہیں یا تیسری جنس: ہم جو بھی کہیں خدا کی اس مخلوق کا وجود ایک حقیقت ہے ۔زمانہ جاہلیت سے ایک رواج چلا جو آج کے اس جدید معاشرے کے عروج کے ماتھے پر کالک کی طرح نمایاں ہے
مسلم لیگ (ن) نے چوہدری نثار کو ایک طلاق دی ہے یا ایک ہی نشست میں تین طلاقیں دے دی ہیں اور نون لیگ کے قائد کے نزدیک ایک نشست کی تین طلاقیں نافذ ہو جاتی ہیں۔ چوہدری نثار کی ”حرکتیں“ ایسی ہی تھیں کہ آخر کار نوبت طلاق ت
خواتین کے حقوق کو سمجھنے سے پہلے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ دور جدید میں ہم خواتین کے حقوق کو کس تناظر میں دیکھنا چاہتے ہیں، حقوق نسواں کے حوالے سے دنیا بھر میں 8 مارچ کو "خواتین کا عالمی دن" بھی منایا جاتا ہے، پہلے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
کابل کے علاقے ’پولیس ڈسٹرکٹ 6‘ میں خود کش بمبار نے ووٹر رجسٹریشن مرکز کے اندر داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اُڑالیا جس کے نتیجے میں 52 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا
پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی ریلی کا آغاز پنجاب حکومت کی جانب سے اجازت نہ دیے جانے کے باوجود لاہور کے موچی گیٹ سے ہوگیا جہاں تحریک کا اگلا جلسہ 12 مئی کو کراچی میں کرنے کا اعلان کیا گیا تاکہ شہر میں 2007 میں ہونے والے قتل وغارت کی مذمت کی جاسکے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ قبائلیوں کے مسائل یہیں رہتے ہوئے حل کرنے ہیں، ملک دشمنوں کی نذر نہیں ہونے دینا۔ یہ بات انہوں نے میرانشاہ میں تاجروں کے جرگے
نیویارک۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدہ ختم کیا گیا تو ایران یورینئم کی افزودگی دوبارہ شروع کردے گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں