Monday, 24 September, 2018
’’مرد، خواتین یا تیسری جنس: حقوق سب کیلئے‘‘

’’مرد، خواتین یا تیسری جنس: حقوق سب کیلئے‘‘
تحریر: قاضی وجاہت حسین

 

اکثر جب ہم بازار جاتے ہیں تو ہمیں مردانہ آواز مگر زنانہ لباس زیب تن کئے ہوئے کوئی آواز پیچھے سے آتی ہے کہ ’’اے بابو کچھ دے دو‘‘اور جب ہم مڑ کر دیکھتے ہیں تو کوئی خواجہ سرا پیچھے کھڑا ہوتا ہے بعض افراد تو اس تیسری جنس کو کچھ نہ کچھ پیسے دے دیتے ہیں مگر کچھ افراد ان کو ہتک آمیز رویے سے مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جاؤ معاف کرو یا پھر کچھ منچلے انہیں دھتکارنا شروع کر دیتے ہیں اور تو اور کچھ افراد گالم گلوچ پر بھی اتر آتے ہیں اور ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے خواجہ سرا کوئی عجیب مخلوق ہیں یہی چیز خواجہ سراؤں کو احساس کمتری کا شکار کرتی ہے ۔

خواجہ سراؤں کو صرف بنیادی سہولیات کے حصول کیلئے ہی نہیں جدوجہد کرنا پڑتی بلکہ وہ لوگوں کو یہ سمجھانے میں ہی اپنی عمر گزار دیتے ہیں کہ انہیں بھی انسان تسلیم کیا جائے۔گذشتہ کچھ عرصہ میں خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی گئی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے خواجہ سراؤں کے تحفظ کا بل بھی پاس کر لیا گیا \۔

تیسری جنس کے ساتھ اگر ظلم کی بات کی جائے تو اس کی روشن مثال سیالکوٹ میں خواجہ سرا پر وحشیانہ تشدد تھا جس میں با اثر شخص نے محض اپنی ضد کیلئے خواجہ سرا کو برہنہ کر کے پیٹا تھا اور خواجہ سرا بیچارا واسطے دیتا رہ گیا کہ خدا کیلئے مجھے چھوڑ دو مگر ظالم شخص نے اس کی ایک بھی نہ سنی اور وحشیانہ تشدد کرتا رہا ۔ خیبرپختونخواہ میں ایک خواجہ سرا کو قتل کیا گیا جسے ہسپتال لایا گیا تو ہسپتال انتظامیہ اس کو زخمی حالت میں مردوں والے وارڈ سے عورتوں والے وارڈ میں اور عورتوں والے وارڈ سے بالآخر پرائیویٹ وارڈ میں لے گئی جہاں پر ڈاکٹر حضرات علاج شروع کرنے کی بجائے دیگر خواجہ سراؤں سےعجیب و غریب سوال پوچھتے رہے ۔ایک بات تمام افراد کو تسلیم کر لینی چاہئے کہ خواجہ سرا بھی انسان ہی ہیں اور جس طرح سے تحفظ عام افراد کا حق ہے بالکل اسی طرح سے یہ بھی تحفظ کا حق رکھتے ہیں کیونکہ یہ بھی ہمارے ملک کے ہی باشندے ہیں اور ان کے پاس بھی شناختی کارڈ موجود ہے. 

حکومت پاکستان نے خواجہ سراؤں کی بہتری کیلئے نہ صرف قوانین بنائے ہیں بلکہ ان کیلئے ملازمتوں کا کوٹہ بھی رکھا ہے جس کے ذریعے تعلیم یافتہ خواجہ سرا ملازمت حاصل کرکے اپنا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں ۔کچھ سال قبل خواجہ سراؤں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیسے جمع کر کے ایک مسجد کی بنیاد رکھی جس پر لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ان کو مسجدبنانے کی کیا ضرورت ان کی تو چال ڈھال ہی مختلف ہے تو اس پر خواجہ سراؤں نے جواب دیا کہ ’’خدا ہمارا بھی ہے‘‘ہم سمجھتے ہیں کہ خواجہ سراؤں کی محرومیوں کو بڑھانے کی بجائے ان کیلئے تمام افراد سہولیات پیدا کریں تاکہ ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام باشندے بطریق احسن زندگی بسر کر سکیں ۔

گذشتہ سال کی بات ہے کہ سعودی عرب میں خواجہ سراؤں کی ایک میٹنگ جاری تھی جسے ’’گروچیلہ چلن پارٹی ‘‘کا نام دیا جاتا ہے اس میں خواجہ سرا اپنے گرو کا انتخاب کرتے ہیں مگر اس پر سعودی پولیس نے چھاپہ مارا اور خواجہ سراؤں کو گرفتار کر لیا مگر بات صرف گرفتاری تک ہی محدود نہ رہی بلکہ انہیں تھانے لا کر بوریوں میں بند کر کے لوہے کے راڈوں سے مارا گیا جس سے خواجہ سرا نہ صرف زخمی ہو گئے بلکہ دو خواجہ سرا تو جان کی بازی ہی ہار گئے ۔ 

سعودی پولیس کے اس فعل پر پاکستان میں خواجہ سراؤں نے پر زور احتجاج کیا مگر سعودی پولیس نے متوفی خواجہ سراؤں کی لاشوں کی پاکستان واپسی کیلئے بھی شدید سست روی کا مظاہرہ کیا اور بھاری جرمانے ادا کرنے کے بعد متوفی خواجہ سراؤں کی لاشوں کو واپس پاکستان بھیجا گیا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ خواجہ سراؤں کے تحفظ کیلئے محض قوانین بنا دینا ہی کافی نہیں بلکہ ان کے تحفظ کیلئے بنائے گئے قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ خدا کی یہ تخلیق بھی مکمل تحفظ کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکے جبکہ عام افراد میں یہ شعور اجا گر کیا جائے کہ وہ تیسری جنس کا تمسخر اڑانے کی بجائے ان کے مسائل حل کرنے میں ان کا ساتھ دیں تاکہ احساس کمتری کا شکار ہو کر تیسری جنس ایسے افعال انجام نہ دے جو کہ معاشرے کیلئے قابل قبول نہ ہوں۔

 ضرورت اس امر کی ہے کہ سنجیدگی سے خواجہ سراؤں کی تعلیم و تربیت کیلئے ادارے قائم کئے جائیں جہاں پر انہیں ہنر بھی سکھائے جائیں تاکہ خواجہ سرا معاشرے میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے باعزت روزگار حاصل کریں اور انہیں عام افراد کی طرف سے ہتک آمیز رویے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔  (ذراسوچئے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  47859
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پروردگار کا احسان عظیم ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو قیام میں آئے 71برس ہو رہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کی اساس ان گنت قربانیوں پر استوار ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے لہو سے بنائی ہے اور ان قربانیوں کے ضمن میں مرد و خواتین دونوں نے
پاکستان میں تو تیل کو ویسے بھی آگ لگی ہوئی ہے جس میں ملک کی مقتدر اشرافیہ کے علاوہ ’’سب‘‘ ہی جل رہے ہیں۔ جلے، کٹے جسموں سے بدبو اورتعفن کے سرانڈ اٹھ رہے ہیں جو مملکت خداداد کے بوسیدہ نظام ریاست کو آشکارا کر رہے ہیں۔
خواتین کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے انھوں نے ہی اولاد کی تربیت کرنی ہے جو کہ آگے بڑھ کر ایک مفید معاشرے کی بنیاد بنتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی کی راہنما عابدہ راجہ نے علمی وتحقیقی ادارے البصیرہ کے شعبہ خواتین کے زیر اہتمام منعقدہ جناب زینب سلام اللہ علیہا افتخار اسلام مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا
خواجہ سرا کہیں، ہجڑا کہیں یا تیسری جنس: ہم جو بھی کہیں خدا کی اس مخلوق کا وجود ایک حقیقت ہے ۔زمانہ جاہلیت سے ایک رواج چلا جو آج کے اس جدید معاشرے کے عروج کے ماتھے پر کالک کی طرح نمایاں ہے

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
سپریم کورٹ نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ کا نام تبدیل کرنے کی منظوری دے دی۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دادو سندھ میں نائی گچ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیامربھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ اکاونٹ کا ٹائٹل
گوگل نے اس بات کی تصدیق امریکی قانون دانوں کو لکھے گئے ایک خط میں کی ہے جس میں گوگل نے وضاحت کی ہے کہ تھرڈ پارٹی ڈیولپرز جی میل اکاؤنٹس تک رسائی اور شئیرنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آج دانیال چوہدری کی درخواست پر سماعت کی۔
جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے بتایا کہ مزید 33 مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے جن کی چھان بین جاری ہے، اب تک کی تحقیقات میں 334 افراد کے ملوث ہونے کا پتہ چلا ہے، یہ تمام ملزمان جعلی اکاؤنٹس میں ٹرانزیکشنر کرتے رہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں