Tuesday, 16 October, 2018
ٹرمپ کا اپنے اتحادیوں کیخلاف تجارتی جنگ کا آغاز

ٹرمپ کا اپنے اتحادیوں کیخلاف تجارتی جنگ کا آغاز
تحریر: ثاقب اکبر

 

مارچ 2018ء کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سٹیل اور ایلومینیم کی درآمد پر 10 سے 25 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد سے آہستہ آہستہ صورت حال تندی اور شدت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے اور اس وقت جی سیون کے تمام ممالک امریکہ کے سامنے صف آراء ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ جی سیون میں امریکہ کے علاوہ برطانیہ جرمنی، فرانس، اٹلی، جاپان اور کینیڈا شامل ہیں۔ اس سے پہلے عالمی اداروں جن میں ایم آئی ایف بھی شامل ہے، کی طرف سے امریکی فیصلوں پر تنقید کی جا چکی ہے۔ میکسیکو، چین اور برازیل بھی امریکہ کو جوابی اقدامات کی دھمکی دے چکے ہیں۔ تازہ ترین دھماکہ 9 جون کی شام کو کینیڈا میں ختم ہونے والے جی سیون کے سربراہی اجلاس کے بعد ہوا۔ اس اجلاس میں مختلف ممالک کے سربراہوں کا لہجہ امریکہ کے مقابلے میں بہت تلخ تھا۔ بہرحال آخر میں ایک مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق ہوگیا لیکن کینیڈا سے سنگاپور کی طرف جاتے ہوئے راستے میں امریکی صدر نے اس اعلامیے کی حمایت سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔ جس کے بعد جرمنی اور فرانس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذمت کی ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکوماز نے کہا کہ امریکی صدر نے یورپ اور امریکہ کے مابین اعتمادکو تباہ کر دیا ہے۔ فرانس کے صدر نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون کا انحصار غصے اور زبانی حملوں پر نہیں ہوتا۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے یورپ اور کینیڈا کی مصنوعات پر امریکہ کی طرف سے نئی محصولات کے اقدام کو قطعی ناقابل قبول قرار دیا۔
 
کینیڈا کے وزیراعظم کے بیانات پر امریکی صدر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈین وزیراعظم نے ان کی پیٹھ پر وار کیا ہے اور وہ شمالی کوریا کے راہنما سے ملاقات سے قبل کمزور دکھائی نہیں دینا چاہتے۔ انہوں نے جسٹن ٹروڈو کو کمزور اور بددیانت کے القاب سے نوازا۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ملک امریکہ کی جانب سے درآمدی محصولات کے فیصلے کی مزاحمت کرے گا اور کینیڈا یکم جولائی سے امریکہ کی 13 ارب ڈالر کی برآمدات پر 25 فیصد محصولات عائد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈین لوگ نرم اور معقول ہیں لیکن ہمیں ادھر ادھر دھکیلا نہیں جاسکتا۔ سربراہی اجلاس سے پہلے کینیڈا میں جی سیون کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں بھی یورپی یونین اور کینیڈا نے امریکی فیصلے کے خلاف جوابی اقدامات کی دھمکی دی تھی۔ فرانس کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تجارتی جنگ چند دنوں میں شروع ہوسکتی ہے۔ اس اجلاس کے موقع پر بھی مشترکہ بیان جاری نہیں ہوا تھا، جو اس امر کی طرف واضح اشارہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مابین سخت اختلافات موجود ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخوان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کال کرکے امریکہ کی طرف سے عائد کی گئی محصولات کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں۔ قبل ازیں یورپی یونین کی ٹریڈ کمشنر سیلسیلیا مالمسٹورم کہہ چکی ہیں کہ امریکہ نے مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے جون کے آغاز میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی صدر کے اقدام کے یورپ کی اقتصادی بحالی اور خود امریکی صارفین کے لئے خطرناک نتائج ہوں گے۔ برطانیہ کے انٹرنیشنل ٹریڈ سیکرٹری لائن فوکس بھی کہہ چکے ہیں کہ سٹیل پر 25 فیصد محصول صاف طور پر مضحکہ خیز ہے۔

یہ امر دلچسپ ہے کہ اب امریکہ اپنے اتحادیوں کے احتجاج اور جوابی اقدامات کو اپنی قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دینے لگا ہے۔ تاریخی طور پر امریکہ جب کسی ملک کے کسی اقدام کو اپنی قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ اس ملک کے خلاف ہر طرح کے ممکنہ اقدام کی توقع کی جانا چاہیے۔ شاید امریکہ کے نزدیک اس کا سب سے زیادہ حقدار اب کینیڈا ہوگیا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب امریکہ ایک ایک کرکے اپنے اتحادیوں کے خلاف یلغار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اس امریکی دعوے کو مسترد کیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر امریکی صدر کی ذہنی حالت کے حوالے سے بحث ایک مرتبہ پھر گرم ہوگئی ہے کیونکہ امریکی صدر جس کے خلاف چاہتے ہیں، الل ٹپ بیان جاری کر دیتے ہیں، جسے چاہتے ہیں، دھمکی دیتے ہیں اور جس وعدے سے جب چاہتے ہیں، مکر جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ میڈیا کے افراد اور اداروں تک کو اپنے غضب کا نشانہ بنانے سے بھی نہیں چوکتے۔ اس سلسلے میں حال ہی میں جی سیون کے اجلاس کے بعد انہوں نے سی این این کے نمائندے کو جس طرح سے ڈانٹا اور خود سی این این کے خلاف جس طرح کے الفاظ استعمال کئے، اس سے ان کی ذہنی کیفیت کا کچھ مزید اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
 
واشنگٹن ایگزامینر کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 9 جون ہفتے کے روز سی این این کے نمائندے سے جی سیون کے اجلاس کے موقع پر کہا کہ سی این این کی رپورٹیں جعلی ہوتی ہیں اور یہ ایک بدترین نیوز چینل ہے۔ سی این این کے خبر نگار نے امریکی صدر ٹرمپ سے کہا کہ یہ خیال تقویت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے کہ امریکہ کے قریبی ترین اتحادی بھی آپ سے ناامید اور مایوس ہوگئے ہیں اور آپ کے اقدامات پر غصے میں ہیں، جبکہ آپ سنگاپور جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ شمالی کوریا کے راہنما سے دوستانہ مذاکرات کرسکیں۔ سی این این کے خبر نگار نے مزید کہا کہ کیا آپ کو بھی اس کا کچھ احساس ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکی اتحاد کا نظام تبدیل ہو رہا ہے؟ سی این این کے نامہ نگار کی بات کاٹتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: میں تم سے پوچھتا ہوں تم کس چینل سے تعلق رکھتے ہو، جب خبر نگار نے کہا کہ میں سی این این کے لئے کام کرتا ہوں تو ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سی این این کی خبریں جعلی اور بدترین ہوتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ طرز عمل امریکی اتحادیوں کو آخر کار کن فیصلوں پر پہنچائے گا؟ کیا وہ صدر ٹرمپ کی دھونس کے سامنے سر جھکا دیں گے یا داخلی طور پر امریکہ کے تھینک ٹینکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر قائل کرسکیں گے؟ اگر ان میں سے کوئی ایک کام نہ ہوسکا اور طرفین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو دنیا بہت جلد نئے معرکوں کا تماشا دیکھے گی۔ بہ شکریہ اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  68662
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
بوجہ چند یوم تعطیلات کے سوات میں مقیم ہوں۔ تین دن سے نئے پاکستان کے ضلع سوات میں بجلی ناپید تھی فقط ایک گھنٹہ کے لیے بجلی آتی تھی۔ اسی وجہ سے دو دن تمام عَالم سے منقطع رابطہ تھا۔
سیاست میں کچھ بھی حرف آخرنہیں نہیں ہوتا،عمران خان اور پی ٹی آئی والے پچھلی ایک دہائی سے جن الیکٹ ایبلزلزاوروڈیروں کے خلاف جلسے،جلوس کرتے رہے آج وہی لوگ پی ٹی آئی کے ٹکٹس پہ انتخاب لڑرہےہیں۔سیاسی جماعتوں پر اچھے برے حالات آتے رہتے ہیں
اسرائیلی فوج مظلوم اور نہتے فلسطینیوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھارہی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔عالم اسلام میں اس حوالے شدید غم وغصہ پایاجاتاہے۔امت مسلمہ کو اتحادویکجہتی کامظاہرہ کرتے ہوئے سیسہ پلائی ہوئی
فلسطین کی ستر سالہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو فلسطینیوں پر گزرنے والا ہر دن ہی یوم نکبہ سے کم نہیں ہے، یوم نکبہ فلسطینیوں کے لئے ایک ایسا دن ہے جسے فلسطین کی گزشتہ اور موجودہ نسل کسی طور فراموش کر ہی نہیں سکتی

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
لندن کی وارک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دنیا میں القاعدہ کو کبھی بھی پاکستان کی مددکے بغیر شکست نہیں ہوسکتی تھی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دنیا کو پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں لگائے گئے بجلی کے تمام منصوبوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے جب کہ 2 منصوبے کے آڈٹ کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے
بین الاقوامی برادری میں یہ تاثر عام ہے کہ بھارتی قیادت علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے زعم میں یوں مبتلا ہو چکی ہے کہ اس پر کسی نفسیاتی غلبہ اور سیاسی و سفارتی عارضہ کا گمان ہوتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے دور حکومت میں نیپال، بنگلہ دیش
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کے شمالی علاقے ٹریب میں سیلاب کے باعث 13 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں محض چند گھنٹوں کے دوران اتنی بارش ہوئی جو عام طورپر3 ماہ سے زائد

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں