Monday, 27 May, 2019
”آزادی اظہار کو درپیش خطرات اور آئندہ انتخابات“

”آزادی اظہار کو درپیش خطرات اور آئندہ انتخابات“

 

اسلام آباد . پاکستان کی موجودہ صورتحال میں نادیدہ قوتوں نے آزادی صحافت کو خاموشی سے جبر کے پنجوں میں جکڑ لیا ہے یہ صورتحال ماضی کے مارشل لاؤں سے مختلف ہے یہ جو سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے علاہ نان سٹیٹ ایکٹرز کی پیدا کردہ ہے آج حکومت تو ہے لیکن اسکے پاس اختیار نہیں ہے جبکہ صحافت تو ہے لیکن آزادی نہیں ہے۔ 

ان خیالات کا اظہار مقررین نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام ”آزادی اظہار کو درپیش خطرات اور آئندہ انتخابات“ کے موضوع پر نیشنل پریس کلب میں سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانہ فضل الرحمن،پاکستان لیگ (ن)کے سینیٹر پرویز رشید، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز،سینئر صحافیوں حامد میر، ضیاء الدین،پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ،نیشنل پریس کلب کے صدر طار ق محمود چوہدری اورآر یو جے کے صدر مبارک زیب نے خطاب کیا۔جبکہ سیمینار میں سیکرٹری نیشنل پریس کلب شکیل انجم، سیکرٹری آر آئی یو جے علی رضا علوی سمیت کثیر تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی،سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں نے آزادی صحافت کو درپیش خطرات، آزادی صحافت اور آزادی اظہار کو لاحق خطرات پر تفصیلی گفتگو کی۔ 

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانہ فضل الرحمن نے کہا کہ سیاست،صحافت اور جمہوریت کاچولی دامن کا ساتھ ہے،دنیا میں جہاں بھی جمہوریت ہے وہاں صحافت فروغ پاتی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ ہماری آواز میڈیا ورکر ز کے ساتھ ہے۔حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے تنقید برائے اصلاح کرے،فاٹا سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈٹ کر اختلاف کیا۔ ایک ایسا معاملہ جس پر پانچ سال قانون سازی نہیں سوسکی اسے 45منٹ میں پاس کردیا گیا۔صدارتی ریگولیشن نے ایف سی آر کی جگہ لی ہے۔ فضل الرحمن نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کے سیاستدان میں خود اعتمادی ختم ہوچکی ہے۔ 


ن لیگ کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آراور عدالت عظمیٰ سے بھی سیمینار نمائندگی ہونی چاہئے تھی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مسئلہ آزادی صحافت کا نہیں بلکہ جمہور کی آزادی کا مسئلہ ہے،جمہور نے وطن حاصل کیا لیکن وطن میں رہنے والوں کو آزادی نہ مل سکی۔سیاست اور صحافت میں اتحاد نہیں ہوسکتا۔ وقت آگیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر یونائیٹڈ فرنٹ تشکیل دیں۔یونائیٹڈ فرنٹ میں سیاستدان، صحافی، عدالت، محنت کش طبقات کو شامل ہونا ہوگا۔ پی پی پی کے رہنمافرحت اللہ بابر نے کہا کہ جمہوری حکومتیں کو مدت پورا کرنے کے لئے ایک ایک وزیر اعظم کی قربانی دینی پڑ گئی۔2018انتخابا ت سے قبل سول اتھارٹی کے خلاف خفیہ آواز اٹھائی گئی ہے۔ یہ ماضی کے مارشل لاء سے مختلف ہے، ملک میں سولین حکومت تو ہے لیکن اس کے پاس اختیار نہیں۔صحافت ہے لیکن آزادی نہیں۔وزیر اعظم کے بیان کو ٹوئیٹ کے ذریعے رد کیا گیا۔میڈیا کو ہاتھ میں لیا گیا۔سول میڈیا ایکٹوسٹ لاپتہ ہوئے۔سب سے زیادہ پابندی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہے۔نان اسٹیٹ ایکٹرز اور میڈیا کے مالکان بھی آزادی صحافت کے سامنے دیوار بنے ہوئے ہیں۔ڈان لیکس کے حوالے سے کہا گیا کہ خبر سے قومی سلامتی خطرے میں پڑ گئی۔لیکن دوسری جانب اسی سال برطانوی اخبار میں ایک گیریزن اجلاس کی خفیہ خبر چھپی لیکن اس خبر پر کوئی ایکشن نہیں ہوا۔فرحت اللہ بابر نے مزید کہا کہ پاکستان میں میڈیا کے اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس بلائے۔ پارلیمان سے رابطہ کریں کہ وہ اس موضوع پر پبلک ہیرنگ کروائے۔ سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں انسانی حقوق کے ساتھ آزادی اظہار رائے اور صحافیوں کے تحفظ کا روڈ میپ دیں۔ملک میں سول اور ملٹری قیادت ایک پیج پر نہیں،انہوں نے کہا کہ توہین عدالت اور سائیبر کرائم ایکٹ میں مناسب ترامیم کی جائیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا کہ آزادی حق رائے پر یقین رکھتے ہیں۔ پارٹی کے منشور میں بھی آزادی صحافت اور میڈیا ورکر زسے متعلق پالیساں وضع کریں گے۔انہوں آرآئی یو جے اور پریس کلب کا شکریہ ادا رکرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کی حقو ق سے متعلق صحافتی تنظیمیں اپنی آوازیں اٹھارہی ہیں۔ پاکستان فیڈر ل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ کا کہناتھا کہ میڈیا مالکان کا رویہ میڈیا ورکرز کے ساتھ ٹھیک نہیں۔ تین، چار ماہ کی تنخواہیں نہ دینا میڈیا مالکان کا میڈیا ورکر ز پر سب سے بڑا ظلم ہے۔

جیو نیوز کے اینکر حامد میر نے کہا کہ ہم بڑی لڑائی کی طر ف بڑھ رہے ہیں۔آرٹیکل 19کے تحت صحافت کو محدود سی آزادی دی گئی ہے، میڈیا مالکان کی جبر اور ظلم سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں چیف جسٹس نے میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کی عدم عدائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ جس کی خبر کسی بھی چینل پر بریک نہیں کی۔وانا میں پی ٹی ایم اور طالبان کے درمیان تصادم کی خبر میڈیا پر نہیں چلی،میڈیا پر کاروباری طبقے کا راج ہے۔ اپنی مرضی کے مطابق کام کرواتے ہیں۔ایسے میں 2018کے ہونے والے انتخابات پر بھی سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ملک میں نازک ترین صورتحال حالا ت سے گزررہا ہے۔ 

صدر مبارک زیب نے کہاکہ آرآئی یو جے آزادی صحافت اور صحافیوں سے متعلق اپنی آوا زاٹھائیں گی۔ صدر نیشنل پریس کلب طارق محمو د چوہدری اور سیکرٹری این پی سی نے معزز مہمان گرامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلب کا پلیٹ فارم اسطر ح کے سیمینار کے لئے ہر وقت تیار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  15030
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
نرسنگ ایک نہایت معزز پیشہ ہے ۔ نرسنگ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانیت کی۔ ہر سال 12 مئی کو نرسز کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد مریضوں کی بے لوث خدمت کرنے والے نرسز کوخراج تحسین پیش کرنا ہے۔
حضرت سید محبوب عالم المعروف حضرت پیر شاہ جیونہ کروڑیہ کے 459 سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کا آغازبدھ کے روز سے دربار عالیہ حضرت شاہ جیونہ تحصیل و ضلع جھنگ میں شروع ہو گئیں جبکہ حضرت شاہ جیونہ کے دربار
حکومتِ پاکستان نے ایک بریگیڈ فوج سعودی عرب بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک بہت بڑی اور غیر متوقع پیش رفت ہے ۔ خاموشی سے ہونے والی بات چیت کے بعد اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر ایک تجویز ریاض سے موصول ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر صحافت اتنا خطرناک پیشہ بن چکا ہے کہ گزشتہ ربع صدی کے دوران دنیا کو جنگوں، انقلابات، جرائم اور کرپشن سے آگاہ کرنے کی کوشش میں مختلف ملکوں میں قریب ڈھائی ہزار صحافی اور میڈیا کارکن مارے جا چکے ہیں۔

مقبول ترین
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر مسلح افراد کے حملے میں 5 اہلکار زخمی ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق محسن جاوید اور علی وزیر کی قیادت میں ایک گروہ نے شمالی وزیرستان
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی آڈیو ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی کرداروں کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا گیا۔ نیب کی طرف سے دائر کیا جانے والا ریفرنس 630 صفحات پر مشتمل ہے جس میں آڈیو
لاڑکانہ میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے رتو ڈیرو میں بچوں سمیت سیکڑوں افراد کے ایڈز مبتلا ہونے کے مسئلے پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی اور ایڈز میں بہت فرق ہے، ایچ آئی وی کا علاج نہ ہو تو دس
اسلام آباد میں وفاقی وزراء اور چیئرمین ایف بی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ موجود حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معاشی حالت بہت بری تھی، جب حکومت آئی تو قرضہ 31 ہزار ارب روپے سے زیادہ تھا، برآمدات گر رہی تھیں

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں